کاسا بلانکا کی سیر اور ایئر پورٹ پر ایک رات کی قید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کہ دعا سیاق و سباق کے ساتھ مانگنی چاہیے اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں روح فرسا نتائج کی تصویر کشی مرزا غالبؔ نے اسی شعر کے پہلے مصرعہ میں کر دی ہے۔ ہماری کاسا بلانکا جانے کی شدید خواہش نے جب انگڑائی لی تو فرط جذبات میں غالب کی نصیحت طاق نسیاں ہو گئی۔ یہ خواہش بچپن سے ہی ذہن میں سمائی ہوئی تھی ، جب یہ نام تیسری جماعت کی اردو کی کتاب میں پڑھا تھا۔ کہانی نے ایسے سحر میں مبتلا کیا تھا کہ وہاں جانے کا ارادہ کر لیا۔

خیر وہ دن بھی آ پہنچا کہ میں میڈرڈ سے کاسا بلانکا کے لئے روانہ ہوا۔ میں خوش تھا مدتوں بعد خواہش کی تکمیل ہونے والی تھی۔ اب کی بار بھی بحیرۂ روم کو عبور کرنا تھا۔ اگر صحیح کہوں تو عبور نہیں بلکہ پھلانگنا تھا کیونکہ جہاز کی پرواز جبرالٹر کے اوپر سے تھی۔ یہاں پر سمندر کی چوڑائی صرف چودہ کلومیٹر رہ جاتی ہے۔ یہ چودہ کلومیٹر کا آبنائے شمالاً جنوباً براعظم یورپ اور براعظم افریقہ کے درمیان ایک قدرتی رکاوٹ جبکہ شرقاً غرباً بحیرۂ روم اور بحر اوقیانوس کو ملا رہا ہے۔

گویا سمندری راستے سے سپین اور مراکش کے درمیان صرف چودہ کلومیٹر کی دوری ہے۔ جہاز نے کاسا بلانکا ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو خوشی اور بے یقینی کا ملا جلا احساس غالب تھا۔ خوشی تو پرانی آرزو پوری ہونے کی تھی مگر بے یقینی کی بظاہر کوئی وجہ نہ تھی۔ نفسیاتی طور پر البتہ بعض اوقات من چاہی چیز ملنے سے اندیشے جنم لینے لگتے ہیں۔ شاید اسی طرح کے اندیشے ذہن میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ تمام مسافر دستی سامان سمیٹتے ہوئے امیگریشن کاؤنٹرز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ میں بھی ایک لائن میں شامل ہو گیا۔

سفر شروع کرنے سے پہلے میں نے کسی بھی ملک کے لئے ویزا کا اہتمام نہیں کیا۔ ہمیشہ موقع پر ٹرانزٹ ویزا مل جاتا تھا سوائے الجیریا اور سپین کے، جہاں کے لئے قبل از سفر محض اس لئے ویزا لیا تھا کہ تعطیلات کے دوران اسلام آباد میں فارغ ہوتا تھا، سوچا یہ کام بھی نمٹا دیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ سپین کے سفارت خانے والوں نے پچیس روپے ویزا فیس بھی وصول کی تھی۔ گویا اس زمانے میں یہ معقول رقم ہوا کرتی تھی۔

امیگریشن کاؤنٹر پر کچھ زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ میری باری آ گئی۔ میں نے پاسپورٹ بڑھاتے ہوئے ٹرانزٹ ویزا کے لئے استدعا کی۔ متعلقہ اہلکار نے غور سے پاسپورٹ پر لگی ہوئی دوسرے ممالک کی ویزا سٹیمپس دیکھیں اور پوچھا کہ الجیریا اور سپین میں کتنا قیام کیا وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد پاسپورٹ لے کر کہیں چلا گیا۔ کچھ دیر میں واپس آ کر اہلکار نے مجھے لائن سے باہر ہو کر انتظار کرنے کا کہا اور دوسرے مسافروں کے ساتھ مصروف ہو گیا یہاں تک کہ تمام مسافر امیگریشن کاؤنٹر کی دوسری جانب جا چکے۔

میرے استفسار پر وہ پھر ٹال مٹول کرنے لگا۔ انگریزی صحیح طرح نہیں بول سکتا تھا۔ میں نے کہا کسی ایسے اہلکار سے بات کرا دو جو انگریزی زبان سمجھتا ہو۔ اسی دوران اس کے ساتھی بھی آ گئے جن میں سے ایک انگریزی سمجھتا تھا۔ اس نے بتایا کہ میرا پاسپورٹ ضروری کارروائی کے لئے دفتر میں بھیجا ہے ، اس لئے انتظار کریں۔ میں نے کہا اگر مجھے ویزا نہیں مل سکتا تو مجھے پاسپورٹ واپس دے دیں ، کارروائی کا کیا مقصد ہے۔ بہر حال صحیح بات وہ نہیں بتا رہے تھے۔

میں واپس لاؤنج میں آیا اور قریب ہی ایک جگہ بیٹھ گیا۔ گھنٹہ بھر انتظار کے بعد رجوع کیا تو جواب ملا کہ دفتری اوقات ختم ہو گئے ہیں۔ اس لئے اگلے روز پتہ چلے گا۔ عملے کی شفٹ بھی تبدیل ہو چکی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بحث سے کچھ حاصل نہیں۔ کل ہی فیصلہ ہو گا۔ ناچار میں لاؤنج میں آ گیا۔ کچھ دیر بعد یونہی میں لاؤنج کی دوسری جانب جانے لگا تو دو اہلکاروں نے مجھے روک دیا اور کہا کہ یہیں کاؤنٹر والی نزدیکی جگہ پر بیٹھے رہو۔

ابھی تک میں اس معاملے کو عربی النسل لوگوں کی روایتی بے حسی اور اوج انسانیت سے تنزلی پر محمول کر رہا تھا مگر اب میں کسی حد تک معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا تھا۔ مجھے وہ مشتبہ سمجھتے ہوئے زیر نگرانی رکھے ہوئے تھے۔ اب میں نے اگلی صبح تک وہیں ٹھہرنے کے لئے خود کو ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا۔ نئی شفٹ کے مرد و خواتین اہلکار ایک ایک کر کے مجھے دیکھ گئے تھے جیسے میری پہچان کو ذہن میں محفوظ کر رہے ہوں۔ ایک خاتون اہلکار نے دو تین دفعہ بات کرنے کی کوشش کی جیسے وہ کچھ بتانا چاہ رہی ہو مگر ہر دفعہ اس کی ساتھی اسے بازو سے پکڑ کر ساتھ لے جاتی تھی۔

میں نے اپنے طور پر ذہن میں کڑیاں ملانے کی کوشش کی تو یہی سمجھ میں آیا کہ کچھ عرصہ سے مراکش اور الجیریا کے مابین مغربی صحارہ پر تنازع چلا آ رہا تھا اور اس تنازع میں پاکستان نے الجیریا کی حمایت کی تھی۔ شاید ان کو شبہ گزرا ہو کہ پاکستانی فوجی ہفتہ بھر الجیریا میں قیام کے بعد مراکش میں کیوں داخل ہو رہا ہے۔ و اللہ اعلم۔

قریب ہی ریستوران تھا۔ جس کا ویٹر مجھے حسب ضرورت کھانے کی اشیاء دے جاتا تھا۔ رات کے کھانے کے بعد میں نے ویٹر سے کہا کہ کہیں سے کمبل کا انتظام کر دے جس پر اس نے معذرت کر لی۔ اس نے بتایا کہ کمبل یا چادر وغیرہ نہیں مل سکتی۔ میں نے کہا کھانے کی میزوں کے میز پوش لا دے۔ پہلے اس نے انکار کیا لیکن میری طرف سے انعام کی پیشکش پر راضی ہوا اور بیس ڈالر کے عوض دو غیر استعمال شدہ میز پوش مجھے لا دیے ، وہ بھی اس شرط پر کہ صبح ہوتے ہی واپس کرنے ہوں گے۔ میں نے شکر کیا کہ شب بسری کا کچھ تو انتظام ہوا جبکہ شہر میں ایئر لائن کی طرف سے ہوٹل میں میرے قیام کا انتظام تھا۔ بہر حال صعوبات سفر ہر دور میں سفر کا جزو رہی ہیں ، البتہ زمانے کے لحاظ سے نوعیت بدلتی رہی ہے۔

ایئرپورٹ پر وقت گزارنا زیادہ مشکل نہیں ہوتا۔ فلائٹس کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ رات کے کچھ حصے میں نیند بھی لے لی۔ صبح معلوم کیا تو جواب ملا کہ جب ان کے سینیئر افسر آئیں گے تو پتہ چلے گا۔ دس بجے کے قریب مجھے بلایا گیا۔ میں آفس کے اندر داخل ہوا تو ایک ادھیڑ عمر کے سینیئر افسر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے بیٹھنے کو کہا اور گویا ہوئے۔ کیپٹن مجھے بہت افسوس ہے آپ کے ساتھ جو ہوا، ہم مجبور تھے ہمیں یہ کرنا ہی تھا، میں پھر معذرت کرتا ہوں۔ یہ آپ کا ویزا ہے اور آپ کو کاسا بلانکا میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ میں نے پاسپورٹ پکڑتے ہوئے کہا کہ اب کیا فائدہ شام کو میری واپسی کی فلائٹ ہے۔ کہنے لگے شام تک کافی وقت ہے ، آپ شہر جا کر گھوم سکتے ہیں۔ میں پاسپورٹ لے کر باہر نکلا اور شہر کی طرف روانہ ہوا۔

ایئرپورٹ شہر سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ ایئرپورٹ سے نکلتے ہی ایک چوراہے پر ایک بورڈ دارالبیضاء کی سمت بتا رہا تھا جس سے معلوم ہوا کہ کاسا بلانکا کو عربی زبان میں دارالبیضاء بھی کہا جاتا ہے۔ شروع کا آدھا راستہ تو ویران تھا اور شجر کاری سے یکسر محروم بھی۔ لیکن بعد میں آبادی کے آثار نظر آنے لگے اور زندگی کے بھی۔ بتدریج با رونق علاقے میں داخل ہوئے اور ایک گنجان آباد جگہ پر ہمارا سفر ختم ہوا۔

یہ شہر کا وسطی علاقہ معلوم ہوتا تھا۔ ہر طرف گہما گہمی اور کاروبار حیات رواں دواں۔ میرے ذہن میں کاسا بلانکا کا تصور ایک طلسماتی شہر کا سا تھا جو کافی حد تک مجھے صحیح لگا۔ مقامی لوگ سادہ اور کام سے کام رکھنے والے رویوں کے حامل دکھائی دیے۔ دکاندار سادہ اور دکانوں کا انداز اور طور طریقے پرانے ، غرض کہ ہر چیز طرز کہن پر۔ گمان ہوتا تھا کہ اڑن کھٹولے پر گزرتی ہوئی سواری اچانک کسی سمت سے نمودار ہو گی اور کہیں سے کوئی جادو گر آ ٹپکے گا جو چشم زدن میں سارا منظر تبدیل کر دے گا۔ خیر یہ تو پرانی بات ہے۔ دور حاضر میں چپ ٹیکنالوجی اور کمپیوٹر و جدید ذرائع مواصلات کے ثمرات نے وہاں بھی چار چاند لگا دیے ہوں گے۔

ایک اور علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا جو کہ جدید تو نہیں مگر پہلے والے سے بہتر اور صاف ستھرا تھا۔ یہ ایک کشادہ بازار تھا جہاں چہل پہل کم تھی۔ یہاں پر حلویات (مٹھائی) کی دکانیں بہت زیادہ تھیں اور اس کے علاوہ حمام بہت زیادہ تھے۔ وقت کی قلت سر پر سوار تھی اور دن بھی سمٹنے لگا تھا۔ چند ایک اشیاء سوغات کے طور پر خریدیں اور ایئرپورٹ کے لئے واپسی اختیار کی۔ ایئرپورٹ پہنچنے کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد اگلی فلائٹ کی بریفنگ شروع ہو گئی۔

اسلام آباد سے روانگی کے وقت کاسا بلانکا تک سفر کے لئے میری تمام پروازیں کنفرمڈ تھیں۔ کاسا بلانکا سے لاگوس جانے کے لئے پرواز کنفرم نہیں ہو سکی تھی۔ غرناطہ سے میڈرڈ واپسی پر آئبیریا کے دفتر میں جا کر کاسا بلانکا سے لاگوس کے لئے جب سیٹ کنفرم کرنے کا کہا تو جواب سن کر میرے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔ کرسمس کی تعطیلات کی وجہ سے جنوری سے پہلے سیٹ کنفرم نہیں ہو سکتی تھی جبکہ میری چھٹی اس سے دو ہفتے قبل ختم ہو رہی تھی۔

میں نے اپنی مجبوری بتاتے ہوئے کہا کہ کچھ بھی کریں ، مجھے ہر صورت لاگوس پہنچنا ہے۔ آئبیریا کے اہلکار نے گھنٹہ بھر کی عرق ریزی کے بعد بتایا کہ اگر وہ ٹکٹ کا روٹ تبدیل کر دے تو بات بن سکتی ہے۔ میں نے کہا ٹھیک ہے ، کچھ بھی کریں مجھے لاگوس پہنچا دیں۔ کاسا بلانکا سے لاگوس چار گھنٹے کی پرواز ہے جسے ری روٹ کروانے سے میرا سفر نہ صرف طویل ہو گیا بلکہ کئی پروازوں پر محیط ہوا اور ٹکٹ کی قیمت میں بھی اضافے کا باعث بنا جو کہ میں نے ایم سی او کی شکل میں ادا کر دیا۔

ایم سی او ایئر لائن کی ٹکٹ کی شکل کا واؤچر ہوا کرتا تھا جس میں مسافر کے کریڈٹ پر کچھ رقم ہوتی تھی جو مقررہ حد سے زائد سامان کے چارجز کی ادائیگی کے لئے یا ری روٹنگ کی صورت میں مزید ادائیگی کے لئے استعمال کیا جا سکتا تھا۔ ٹکٹ کی طرح اس میں بھی کوپن ہوتے تھے جس پر مطلوبہ رقم کا اندراج کر کے اہلکار اپنے پاس رکھتا اور اس رقم کو منہا کر کے بقیہ رقم کا اندراج اس پر کر دیتا۔ اس طرح متعلقہ ملک کی کرنسی کے حصول کے بغیر آسانی سے ادائیگی ہو جاتی۔

دور حاضر میں کریڈٹ و ڈیبٹ کارڈز کی موجودگی میں ایم سی او کی سہولت متروک ہو چکی ہے۔ دلچسپی کے لئے اس کی تصویر شیئر کر رہا ہوں۔ ہر ایئر لائن کے لئے یہ واؤچر قابل قبول ہوتا تھا۔ اب میری پہلی پرواز کاسا بلانکا سے ڈاکار کے لئے تھی۔ راستے میں موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوٹ میں سٹاپ اوور تھا ، جہاں ٹرانزٹ والے مسافر جہاز کے اندر ہی بیٹھے رہے تھے۔ نواکشوٹ کے بارے میں خاص بات یہ ہے کہ موریطانیہ کی آزادی سے دو سال قبل تک یہ درمیانے درجے کا گاؤں ہوا کرتا تھا ، پھر دارالحکومت بنانے کے لئے اسے ایک شہر کی شکل دی گئی۔ نواکشوٹ سے ڈاکار تک مزید ایک گھنٹے کا سفر تھا۔

رات کے پچھلے پہر جہاز نے ڈاکار ایئرپورٹ پر لینڈ کیا۔ یہاں سے چند گھنٹے کے بعد اگلی فلائٹ پر سوار ہونا تھا۔ مغربی افریقہ کے ممالک بحر اوقیانوس کے ساحل پر واقع ہیں اور زیادہ تر فرانس کی کالونی رہے ہیں۔ ڈاکار غلاموں کی مشہور منڈی ہوا کرتی تھی۔ سترہویں صدی کے آخر میں جب فرانسیسیوں کا قبضہ ہوا تو انہوں نے غلاموں کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی۔ سینیگال کی آزادی کے بعد ڈاکار اس کا دارالحکومت بنا۔ یہاں ایک چھوٹا سا ایئرپورٹ ہے۔

میرا خیال تھا کہ یہیں پر اگلی فلائٹ کا انتظار کر لیا جائے مگر امیگریشن والوں کا اصرار تھا کہ میں ویزا لے لوں۔ میں نے کہا مجھے شہر میں نہیں جانا کچھ دیر بعد میری فلائٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ویزا لیں بیشک کاؤنٹر کراس کر کے واپس آ جائیں۔ میں نے ویزا کی سٹیمپ لگوائی اور باہر آیا۔ کچھ دیر میں صبح کا اجالا رات کی سیاہی پر غالب آ گیا۔ ایئرپورٹ کے باہر کی فضاء کے خدوحال نمایاں ہونے لگے۔ باہر نکل کر میں نے ایئرپورٹ کی حدود میں کچھ دیر چہل قدمی کی۔ زیادہ دور نہیں جا سکا کیونکہ اگلی فلائٹ کا وقت ہوا چاہتا تھا۔

کچھ دیر بعد آبید جان کے لئے فلائٹ نے ٹیک آف کر لیا۔ بماکو میں سٹاپ اوور تھا۔ یہاں بھی ٹرانزٹ والے مسافر جہاز کے اندر ہی بیٹھے رہے تھے۔ بماکو مالی کا دارالحکومت ہے اور ٹمبکٹو کے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ میرے اختیار میں ہوتا تو ان تمام جگہوں میں ضرور کچھ دیر قیام کرتا۔ دریائے نائیجر کے کنارے آباد بماکو میں گھوم پھر کر وقت گزارتا۔ مجھے ان ممالک میں خصوصی دلچسپی ہے جو صحرائے صحارا کا حصہ ہیں مگر میرے لئے ایک روز کا قیام بھی ممکن نہیں تھا کیونکہ اگلی صبح مجھے دفتر پہنچنا تھا۔

آبید جان ایئرپورٹ پر اس فلائٹ کا اختتام ہوا اور مجھے ایک دفعہ پھر دو گھنٹے ٹرانزٹ میں رہ کر اگلی فلائٹ پر سوار ہونا تھا۔ ساحل کے کنارے واقع آبید جان آئیوری کوسٹ کا ایک بڑا شہر ہے۔ بہت پہلے آئیوری کوسٹ میں ہاتھیوں کی تعداد مغربی افریقہ کے ممالک میں سب سے زیادہ ہوا کرتی تھی اور ہاتھی دانت کے کاروبار کے لئے مشہور تھا۔ آبید جان ایئرپورٹ پر دو گھنٹے لاؤنج کے اندر ہی گزارے۔ وقت گزارنے کے لئے ڈیوٹی فری شاپ میں گیا جہاں سے میں نے ایک اومیگا گھڑی خریدی تھی۔

لاؤنج میں بیٹھے کچھ اور وقت گزارنے کے بعد بالآخر میں لاگوس کی فلائٹ میں سوار ہوا اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں لاگوس پہنچ گیا۔ بین الاقوامی ٹرمینل کی کارروائی سے فارغ ہو کر قریب ہی اندرون ملک پرواز کے لئے دوسرے ٹرمینل سے جاز کے لئے فلائٹ لی اور اس پر پیچ سفر کا اختتام ہوا۔ میں آئبیریا کے اہلکار کا شکر گزار ہوں جس کی کاوش سے میرا بر وقت ڈیوٹی جائن کرنا ممکن ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply