ویلنٹائن ڈے: میری اولیور کی نظم کا ترجمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھو، درخت
بدل رہے ہیں
اپنے جسموں کو
میناروں میں

روشنی کے!
وہ پھیلا رہے ہیں
دارچینی کی مہک
اور تکمیل!

لمبی بیلیں
دمدار پودوں کی!
پھوٹ رہی ہیں اور بہتی جا رہی ہیں
نیلے کاندھوں کے اوپر سے

تالابوں کے!
اور ہر تالاب
چاہے کچھ بھی ہو
اس کا نام ہے

بے نام اب!
برسوں میں
سب کچھ
جو بھی میں نے سیکھا

میری زندگی میں
وہ واپس اسی طرف مڑتا ہے : آگ!
اور کھو دینے کا کالا دریا!
جس کا دوسرا کنارہ

نجات ہے!
جس کے معنی
ہم میں سے کوئی بھی کبھی نہیں جان پائے گا!
اس دنیا میں جینے کے لیے

تمہارے لیے لازمی ہے
کہ تین کام کر سکو!
محبت کرو اس سے جو فانی ہے!
اس کو تھامے رہو

اپنی ہڈیوں کے مقابل یہ جانتے ہوئے
کہ تمہاری اپنی زندگی کا دار و مدار ہے اس پر
اور جب اس کو جانے دینے کا وقت آ جائے
تو اس کو جانے دو!

Look, the trees
are turning
their own bodies
into pillars

of light,
are giving off the rich
fragrance of cinnamon
and fulfillment,

the long tapers
of cattails
are bursting and floating away over
the blue shoulders

of the ponds,
and every pond,
no matter what its
name is, is

nameless now.
Every year
everything
I have ever learned

in my lifetime
leads back to this: the fires
and the black river of loss
whose other side

is salvation,
whose meaning
none of us will ever know.
To live in this world

you must be able
to do three things:
to love what is mortal;
to hold it

against your bones knowing
your own life depends on it;
and, when the time comes to let it
go,
to let it go.

Mary Oliver
In Blackwater Woods

Mary Oliver
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply