یوسف گیلانی کی پیش گوئی جو سچ ثابت ہوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید یوسف رضا گیلانی سیاست کا بہت بڑا نام ہے، پہلی مرتبہ سید یوسف رضا گیلانی کو 1990 کی الیکشن مہم میں دیکھا، بوسن روڈ پر ہماری رہائش تھی جو ان کے حلقہ میں آتی تھی، باوقار شخصیت، عام لوگوں کو گلے لگ کر ملتے تھے، پہلا تأثر ہی اچھا پڑا اس لئے ہمیشہ ان کو لیڈر مانا اور جب تک ملتان رہا ووٹ یوسف رضا گیلانی کو ہی دیا۔

اکثر چھوٹی موٹی تقریبات میں گیلانی صاحب کا دیدار ہو جاتا، پھر صحافت میں آ گیا تو اکثر تقریبات میں جانا ہو جاتا تھا جہاں گیلانی صاحب سے بھی سلام دعا ہو جاتی، یوسف رضا گیلانی نے ملتان کی سیاست میں بہت عزت بنائی، مرکزی حکومت میں بھی اہم عہدوں پر رہے وہاں بھی اپنا وقار بنایا یہی وجہ ہے کہ آج پھر سیاست کو سید یوسف رضا گیلانی کی ضرورت پڑ گئی ہے اور اس وقت سینٹ الیکشن میں سب سے ہاٹ ایشو سید یوسف رضا گیلانی کی انٹری ہی ہے۔

سید یوسف رضا گیلانی اپنے شہر کے لوگوں کا بہت خیال رکھتے ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت میں سپیکر قومی اسمبلی رہے، آمریت میں غیر قانونی ملازمتیں دینے کے الزام میں کئی سال جیل میں بھی رہے مگر عوام سے رشتہ نہ توڑا، پیپلز پارٹی سے جتنی بھی مخالفت ہو مگر یہ بات ماننا پڑے گی کہ جتنا روزگار پیپلز پارٹی عوام کو دیتی ہے اتنی کوئی جماعت نہیں دیتی، یہی وجہ ہے عوام کے دلوں میں بھٹو آج بھی زندہ ہے

جن گھروں کے بچوں کو سرکاری ملازمتیں مل گئیں جس سے ان کے گھر کے چولہے آج بھی جل رہے ہیں ، کوئی ان سے پوچھے تو وہ یہی کہیں گے کہ زندہ ہے بھٹو۔ سید یوسف رضا گیلانی پر بھی قومی اسمبلی سکریٹریٹ میں غیرقانونی اور خلاف میرٹ ملازمتیں دینے کا کیس بنا، جیل بھی بھگتی، مجھے ان کا بیان آج بھی یاد ہے کہ اگر ملازمتیں دینا جرم ہے تو ہر بار کروں گا۔

سید یوسف رضا گیلانی کی سیاسی بصیرت کا اس وقت قائل ہو گیا اور اندازہ ہوا کہ وہ سیاست پر کتنی گہری نظر رکھتے ہیں، 1997ء میں نواز شریف کو بہت ہی بھاری بھرکم مینڈیٹ دلایا گیا، وہ مینڈیٹ اتنا بھاری تھا کہ وہ اس کا بوجھ نہ اٹھا سکے، میرے دیرینہ دوست سجاد جہانیہ نے فون کیا کہ سابق سپیکر قومی اسمبلی سید یوسف رضا گیلانی کا اخبار کے سنڈے میگزین کے لئے انٹرویو کرنا ہے میرے ساتھ چلو، میں نے پوچھا گیلانی صاحب سے وقت لے لیا ہے تو جواب ملا خواجہ رضوان نے یہ مسئلہ حل کر دیا ہے کل 11 بجے جانا ہے۔

اگلے دن 11 بجے چونگی نمبر ایک کے قریب گیلانی ہاؤس پہنچ گئے، خواجہ رضوان ہمارے منتظر تھے، ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا، کچھ دیر بعد گیلانی صاحب تشریف لے آئے، ہمیں دیکھ کر کچھ دیر حیران ہوئے اور پھر مسکرا دیے، بیٹھنے کو کہا اور ساتھ ہی بولے میں آپ کو دیکھ حیران ہوا کہ آپ تو نوجوان صحافی ہیں، میرا خیال تھا کہ بابے ہوں گے اور مسکرایا اس لئے ہوں کہ خوشی ہوئی کہ نوجوان بھی صحافت میں آرہے ہیں۔

خیر انٹرویو شروع کیا، سوالات کچھ لکھ کر لے گئے تھے کچھ موقع پر کر رہے ہیں، ایک موقع پر نواز شریف کا ذکر ہوا تو گیلانی صاحب نے تاریخی الفاظ کہے کہ ”نواز شریف کو لانے والے ہی اسے نکالیں گے“ ، میں نے فوراً سوال داغ دیا کہ جناب آپ نے جو کہا اس کے مطابق تو کہا جا رہا ہے اسٹیبلشمنٹ ان کو لے کر آئی ہے جس پر گیلانی صاحب نے جواب دیا تو اور آپ کا کیا خیال ہے عوام کے ووٹوں سے آئے ہیں؟ آپ میری یہ بات نوٹ کر لیں جو میں نے کہی، 12 اکتوبر 1999ء کو جب جنرل پرویز مشرف نے نواز حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوائے وقت کے نیوز روم میں جب یہ خبر پہنچی تو مجھے فوراً سید یوسف رضا گیلانی کا وہی جملہ یاد آ گیا۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں جیل کاٹنے کے بعد ملتان میں یوسف رضا گیلانی کے مخالفین کا خیال تھا کہ اب ان کی سیاست ختم ہو گئی مگر قسمت ایک بار پھر یوسف رضا گیلانی پر مہربان ہو گئی اور وہ وزیراعظم بن گئے، نواز شریف کی سیاست کے باعث یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ سے 5 سال کے لئے نا اہل قرار پائے مگر وقت کا انتقام دیکھیں آج پھر قومی سیاست میں یوسف رضا گیلانی اہم کردار بن گئے ہیں اور سینیٹ کے امیدوار کے طور پر نون لیگ کے ہی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ان کے تائید کنندہ ہیں۔

سید یوسف رضا گیلانی بہت وضع دار انسان ہیں، سیاسی اختلاف ہونے کے باوجود مخالفین کی عزت اور زیادہ کرنا شروع کر دیتے ہیں، ان کے انداز سیاست کے مخالفین بھی قائل ہیں، ان کی رشتہ داریاں جنوبی پنجاب اور سندھ میں بھی ہیں جس سے ان کی کامیابی کے امکانات بہت روشن نظر آرہے ہیں۔

سیاست میں ”سب سے بھاری“ نے جو چال چلی ہے ، وہ اگر کامیاب ہو گئی تو بات دور تلک جائے گی، اس چال سے پی ڈی ایم کی تمام قیادت متفق ہو چکی ہے، موجودہ حالات میں یوسف رضا گیلانی کو اگر کامیابی نہ بھی ملی تو ایک بار تو انہوں نے حکومتی ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا، اگر یوسف رضا گیلانی سینیٹر منتخب ہو گئے تو یہ حکومت کے منہ پر طمانچہ ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply