تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس طرح دو ہاتھیوں کی لڑائی میں چیونٹیاں بے قصور پس جاتی ہیں، بالکل اسی طرح دو پہلوانوں کی باہمی لڑائی میں کوئی تیسرا فریق بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ فرض کریں کہ دو فریقوں کی آپس میں نہیں بنتی۔ اچانک ایک تیسرے فریق کی پہلے فریق سے ٹکر ہو جاتی ہے۔ اس لڑائی میں دوسرا فریق پہلے فریق سے اپنا حساب بے باق کر لیتا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تیسرا فریق دوسرے فریق کی دیدہ و دانستہ نہ تو مدد کر رہا تھا اور نہ ہی اس کے اشارے پر اس نے پہلے فریق سے لڑائی چھیڑی تھی۔

بالکل یہی معاملہ تحریک لبیک پاکستان کے پہلے دھرنے میں پیش آیا۔ یہ بات عیاں ہے کہ نواز شریف اور مقتدرہ کی آپس میں نہیں بن رہی تھی۔ ہم فرض کر لیتے ہیں کہ مقتدرہ پہلا فریق، نواز شریف دوسرا فریق جبکہ تحریک لبیک تیسرا فریق تھا۔ پہلے اور دوسرے فریق کی آپس میں چپقلش تھی۔ دوسرا فریق سویلین بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے بعض اقدامات کر رہا تھا جس سے پہلا فریق خوش نہیں تھا۔ پہلا فریق یعنی مقتدرہ حکومت کا تختہ الٹنے کی پوزیشن میں بھی نہیں تھا لہٰذا سوچا گیا کہ کسی اور طریقے سے دوسرے فریق (نواز شریف) کا راستہ روکتے ہیں۔

اس مقصد کے لیے بعض دوسرے اقدامات کے علاوہ لندن پلان طے پایا اور دو کزن (عمران اور طاہر القادری) میدان میں اتارے گئے۔ لیکن نواز حکومت اعصاب کی مضبوط نکلی۔ اسی دوران ناموس رسالت ایکٹ میں ترمیم کا مسئلہ ”پیدا“  ہوا۔ خادم حسین رضوی ایک بھرپور قوت بن کر میدان میں اترے۔ انہوں نے لاہور سے لانگ مارچ کیا اور فیض آباد میں دھرنا دے دیا۔ ان کا مطالبہ وفاقی وزیر قانون کا استعفا تھا جو پورا بھی کیا گیا۔

لیکن اس مطالبے سے پہلے کیا ہوا؟ تحریک لبیک کا دھرنا منتشر کرنے کے لیے ایک بھرپور آپریشن کیا گیا۔ ٹی وی چینلز نے جس کی لائیو کوریج کی، لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا اور یوں فیض آباد کا دھرنا منتشر کرانے کے چکر میں پورے پاکستان میں دھرنے شروع ہو گئے جس سے پورا پاکستان جام ہو گیا۔ اس دھرنے اور حکومت کے خلاف بھرپور جاندار مزاحمت کرنے سے تحریک لبیک پاکستان ایک بڑی جماعت بن کر ابھری۔ حکومت کو سرنڈر کر کے معاہدہ کرنا پڑا جس سے ایک طرف حکومت کی سبکی ہوئی اور دوسری طرف تحریک لبیک پاکستان کے کارکن اس تفاخر میں مبتلا ہو گئے کہ وہ جب چاہیں حکومت کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔

بعض لوگوں نے اس ضمن میں یہ کہا کہ تحریک لبیک پاکستان کو مقتدرہ کی حمایت حاصل تھی اور خادم حسین رضوی انہی کے اشارے پر تشریف لائے تھے۔ لیکن میرے خیال میں یہ بات حقیقت سے دور ہے لیکن اس بات میں شک نہیں مقتدرہ نے تحریک لبیک اور نواز حکومت کی لڑائی سے فائدہ اٹھایا اور نواز شریف کو خوب سبق سکھایا۔ اس دور میں پنجاب کے زیادہ تر اضلاع میں ڈی سی حضرات کی پروفائل چیک کی جائے تو معاملے کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ پنجاب میں پولیس نے ایسا برائے نام آپریشن کیا جس کا مقصد یہ تھا کہ لکھا جائے کہ آپریشن تو ہوا لیکن ہر شہر کی پولیس تحریک لبیک کے آگے بے بس ہو گئی۔ یعنی مقصد حکومت کی سبکی کرانا تھا۔

اس تأثر کی ایک مضبوط دلیل بھی ہے کہ عمران حکومت کے خلاف وہی پنجاب پولیس تھی اور وہی تحریک لبیک لیکن لانگ مارچ اور دھرنا تو کجا ان کی پوری قیادت کو باہر نکلنے سے پہلے ہی جیلوں میں بندکر دیا گیا۔ بلکہ کچھ واقعات کا میں عینی شاہد ہوں کہ ایسے لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا جن کا تحریک لبیک پاکستان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اگر کوئی یہ بات کرتا تو کہا جاتا تھا کہ بندہ دے جاؤ اور ان کو لے جاؤ۔

بڑے بڑے لوگ جو نواز حکومت میں تحریک لبیک سے تعلق کو باعث فخر سجھتے تھے ، وہ بیان حلفی جاری کرنے لگے کہ ہمارا تحریک سے کوئی تعلق نہیں۔ کیوں اور کیسے نواز دور میں پولیس ہار گئی اور عمران دور میں جیت گئی؟ کیونکہ اس وقت پہلا فریق دوسرے فریق کے ساتھ تھا۔ یہی پوائنٹ ان حضرات کی بات کو رد کرنے کے لیے بھی کافی ہے جو کہتے ہیں کہ فیض آباد دھرنا مقتدرہ کے اشارے پر پوا تھا کیونکہ اگر ان کے اشارے پر ہوتا تو عمران حکومت میں ان کو جیلوں میں بند کر کے ظلم و ستم کا نشانہ نہ بنایا جاتا۔ تین مہینے کے بعد انہیں جیلوں سے رہا کر دیا گیا۔

تحریک لبیک اور عمران حکومت ایک بار پھر فرانس کے سفیر کی بے دخلی کے معاملے پر آمنے سامنے آئے۔ فیض آباد میں دھرنا دیا گیا۔ جو لوگ مقتدرہ کے نزدیک ختم نبوت کے محافظ اور ملک کا سب سے بڑا طبقہ تھا وہی لوگ فسادی اور چھوٹا طبقہ قرار پایا۔ عمران حکومت نے بھی صبح تین بجے سے لے کر دس بجے بدترین شیلنگ کی بلکہ نوے فیصد ایکسپائر شیل داغے گئے لیکن ایک بار پھر تحریک لبیک نے تاریخی مزاحمت کر کے اپنا لوہا منوایا۔ مذاکرات ہوئے اور سولہ فروری تک سفیر کی بے دخلی کا وعدہ کر کے حکومت نے جان چھڑائی۔

امکان یہ تھا کہ سترہ فروری کی صبح حکومت کے لیے ایک کٹھن امتحان لے کر طلوع ہو گی لیکن حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدے میں توسیع ہو گئی ہے۔ باخبر لوگوں کا کہنا ہے کہ تحریک لبیک کی لچک کا سبب مفتی منیب الرحمن صاحب کا (معاصر اخبار میں ) ایک کالم تھا جس میں انہوں نے رخصت اور عزیمت کے عنوان سے سعد حسین رضوی کے لیے ایک راہ متعین کی۔ لیکن میرے خیال میں حکومت نے بڑی چالاکی سے فرانسیسی سفیر کی بے دخلی کو پارلیمنٹ کی اجازت سے مشروط کر دیا ہے۔

پارلیمنٹ کبھی اس کی اجازت نہیں دے گی اور یوں تحریک کو اس معاہدے کی رو سے اپنے مطالبے سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ یعنی تحریک لبیک سے ہاتھ ہو گیا ہے اور مستقبل میں کچھ ہونے والا نہیں ہے کیونکہ پہلا اور دوسرا فریق فی الحال ایک پیج پر ہیں اور کوئی کسی کو نیچا نہیں دکھانا نہیں چاہتا۔ لہٰذا تحریک لبیک کو بھی یہ خیال دل سے نکال دینا چاہیے کہ وہ جب  چاہیں ملک بند کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply