ناروے میں آزادی رائے کی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آزادی رائے اور جمہوریت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اظہار کی آزادی کے بغیر جمہوریت پنپ تو کیا زندہ بھی نہیں رہ سکتی۔ آزادی رائے وہ آزادی ہے کہ جو آپ کہنا چاہتے ہیں وہ کہہ سکیں۔ جو لکھنا چاہیں لکھ سکیں۔ کسی بھی موضوع پر اپنے خیال کا اظہار کر سکیں اور اپنا بیان دے سکیں۔ اتفاق اور اختلاف کا بھی آپ کو حق ہو اور آپ اس کا اظہار بھی کر سکیں۔ ناروے میں آزادی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ اس کی کوششیں 17ویں صدی سے شروع کی جا چکی تھیں۔ اس کی ابتدا برطانیہ میں ہوئی اور ناروے نے بھی اپنی آواز اس میں شامل کی۔ 1814 کا دستور بنا تو اس میں اظہار آزادی کے حق کا قانون بھی شامل کیا۔

یہ حق وہ ہے کہ ایک اکیلا شخص بھی اپنی رائے کا اظہار کرسکے اور گروپ کی شکل میں بھی۔ اپنی سوچ، اپنے آئیڈیا، اپنے جذبات اور اپنی وابستگی کو کھل کر بغیر کسی ڈر کے بیان کر سکے اور دوسروں تک پہنچا سکے۔ اور ان خیالات پر حکومت کی سنسر شپ نہ ہو۔ آزادی رائے جمہوریت کی شہ رگ ہے۔ یہ ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔ اور انسانی حقوق فرد یا گروپ کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنی بات کہنے کی آزادی رکھتے ہوں۔ آزادی رائے آپ کو یہ حق بھی دیتا ہے کہ اگر آپ کچھ نہ کہنا چاہیں تو کوئی آپ کو مجبور نہ کر سکے۔ چپ رہنا بھی آپ کا حق ہے۔

آزادی رائے صرف انہی موضوعات پر نہیں جو مقبول ہوں اور ان پر اکثریت کا اتفاق ہو بلکہ ان موضوعات پر بھی بحث کا موقع ملتا ہے جو غیر مقبول، چونکا دینے والے، متنازعہ اور نا پسندیدہ ہیں۔ ناروے میں اس پر باقاعدہ قانون بنے اور ان میں گاہے بگاہے تبدیلیاں بھی لائی گیں۔ رائے کی آزادی کے ساتھ ہی افراد کو اس بات کا بھی حق ہے کہ وہ سچ جانیں اور اس پر بغیر کسی ڈر و خوف کے اپنی رائے بھی دے سکیں۔

سچ جاننے کے لیے میڈیا کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ آزاد، غیرجانبدار، سچا اور خود مختار میڈیا جمہوریت کا جزو ہے۔ ورنہ اصلی بات کا لوگوں کو علم نہیں ہوگا جو ان کا حق ہے۔ میڈیا کو تحفظ دینے کے لئے واضح قوانین ہیں جن میں انہیں اپنا سورس بتائے بغیر خبر دینے کی آزادی ہے۔ کسی بھی قسم کی سنسر شپ پورے نظام کی ٹوٹ پھوٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ میڈیا کو بھی پوری ذمہ داری، سچائی اور غیر جانبداری سے اپنا کام کرنا چاہیے۔

Kurt Westergaard

لیکن کیا رائے کی آزادی مطلق ہے؟ بلا کسی روک ٹوک کے جس کے جو دل میں آئے کہہ ڈالے؟ کسی کا دل دکھے، کسی کی توہین ہو کسی کو بغیر کسی ثبوت کے بدنام کر دیا جائے کیا یہ سب آزادی رائے میں آتا ہے؟ اس بارے کچھ قوانین بنے ہیں۔ ناروے نے بھی بین الاقوامی قوانین اپنائے ہیں۔ تنگ نظری اور نفرت پر مبنی تقاریر اور تحاریر کی اجازت نہیں۔ کسی کو دھمکی دینا یا ڈرانا بھی سزا کے زمرے میں آتا ہے۔ ناروے کے آزادی رائے پر قانون میں ایک شق توہین مذہب کی تھی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ خدا، مذہب اور مذہب کے ماننے والوں کی توہین نہیں کی جا سکتی۔ یہ شق ایک مدت تک نہ کبھی استعمال کی گئی اور نہ ہی اسے چیلنج کیا گیا

حق رائے دہی کی جب بات آتی ہے تو اس کے ساتھ تحمل کا ذکر بھی لازمی ہے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے کے ساتھ دوسرے کی بات سننے کی برداشت بھی ہونی چاہیے۔ اختلاف رائے بھی دلیل اور تحمل کے ساتھ ہو۔ حقوق کے ساتھ فرائض بھی ہوتے ہیں۔

2005 میں ایک ڈینیش آرٹسٹ کرٹ ویسٹرگورد نے پیغمبر اسلام کے خاکے بنائے اور ایک اخبار میں چھپے۔ اس سے ایک بے چینی پھیل گئی۔ ڈنمارک کی مسلم تنظیموں اور کئی اماموں نے ایک امام احمد آکاری کی قیادت میں اس پر بھرپور احتجاج کیا اور حکومت سے درخواست کی کہ ویسٹرگورد کے خلاف ایکشن لیا جائے۔ احمد آکاری اماموں کا ایک وفد لے کر مختلف عرب ممالک گئے اور انہیں اپنا مدعا بیان کیا۔ انہیں انہوں نے اخبار کے خلاف عدالت میں پٹیشن بھی دائر کی جو 2006 میں خارج ہو گئی۔

ڈنمارک میں ایک فلم ڈایرکٹر تھیو وان گوف نے ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی تھی فلم میں اسلام پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایک مشتعل مسلمان نے اسے قتل کر دیا تھا اس قتل سے ڈنمارک میں پہلے ہی شدید غم و غصہ تھا اس لیے ان خاکوں پر کوئی اعتراض نہیں اٹھا۔ لیکن دنیا میں اور خاص طور پر مسلم ممالک میں احتجاج شدت پکڑتا گیا۔ دوسری طرف بہت سے ممالک نے خاکوں کے خالق سے اپنی یکجہتی کے اظہار میں ان خاکوں کو اپنے اخبارات میں چھاپا۔ ان ملکوں میں ناروے، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، اسپین اور انڈیا بھی شامل تھے۔ انڈیا نے اپنے ملک میں بسنے والے 17 کروڑ سے بھی اوپر مسلمانوں کے جذبات کا بھی خیال نہیں کیا۔ 2005 میں خاکے بنانے والے کے گھر میں ایک شخص کلہاڑی اور چاقو سے لیس داخل ہوا۔ اس کا تعلق صومالیہ سے تھا۔ وہ چیخ رہا تھا  “ہم انتقام لیں گے” کرٹ نے باتھ روم میں چھپ کر جان بچائی۔

اسلامی ممالک میں مظاہرے بڑھتے گئے۔ ڈینش اور نارویجین جھنڈے جلائے گئے اور کئی جگہ پہ پرتشدد احتجاج بھی ہوا اور ایک سو پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے۔ پاکستان میں ناروے کی ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی ٹیلی نور پر حملہ ہوا۔ توڑ پھوڑ ہوئی۔

ان ہنگاموں نے پھر ایک بحث چھیڑ دی کی کیا حق رائے کی کیا کوئی حد مقرر ہونی چاہیے؟ ناروے کے ایک اخبار نے جب ان خاکوں کو شائع کیا تو اس کے اڈیٹر کو قتل کی دھمکیاں ملیں اور اسے روپوش ہونا پڑا۔ فروری 2006 میں ایڈیٹر کا معافی نامہ آیا۔ اس نے کہا کہ  ‘خاکوں سے مسلم کمیونیٹی کے جذبات مجروح ہوئے جس کا مجھے دکھ ہے۔ ایڈیٹر کی حیثیت سے میں اس بات کی ذمہ داری لیتا ہوں کہ میں ناروے کے مسلمانوں کے غم کا باعث بنا۔’ اس کے بعد ناروے کے چند امام اور مذہبی اسکالرز نے پریس کانفرنس کی اور اس معذرت کو سراہا اور کہا کہ اس معذرت سے دنیا میں ناروے کی عزت اور احترام میں اور بھی اضافہ ہو گیا۔ ناروے کے اس وقت کے وزیر اعظم ینس اسٹولٹن برگ نے جو اب نیٹو کے سربراہ ہیں کہا کہ انہیں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے ہر افسوس ہے لیکن وہ ان خاکوں پر کوئی معذرت نہیں کریں گے۔ لیکن 2006 میں جب ناروے کے وزیر خارجہ ایک دورے پر فلسطین گئے تو وہاں انہوں نے اس پر معافی مانگ لی اس طرح یہ حکومتی موقف مان لیا گیا۔ یہ خاکے دنیا کے کئی اخباروں میں چھپے۔ فروری 2006 میں فرانس کے ایک اخبر چارلی ایبڈو نے ان خاکوں کو چھاپا اور اس کے بعد ہنگاموں میں تیزی آ گئی

2013 میں ڈینیش امام احمد آکاری کے خیالات تبدیل ہوئے۔ ان کا ایک بیان آیا کہ وہ اب حق آزادی رائے کے حامی ہیں۔ اس پر قدغن نہیں لگانی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلامی تنظیمیں منافقت سے کام لیتی ہیں جس سے اسلام کی کوئی خدمت نہیں ہوتی۔ انہوں نے ایک کتاب  “مائی فیر ویل ٹو اسلام ازم” لکھی جس میں وہ اظہار کے حق کی پوری حمایت کرتے ہیں۔ انہیں دکھ ہے کہ ڈنمارک میں پیدا اور پلنے والے بچے اپنے ہی ملک کے خلاف کیوں ہیں۔ اس کا قصوروار وہ ان اماموں کو سمجھتے ہیں جو ان نوجوانوں کی صحیح رہنمائی کرنے کے بجائے انہیں اکساتے رہے ہیں۔ انہوں نے ناروے کو بھی خبردار کیا کہ وہ اپنی مساجد اور اسلامی اسکولوں پر نظر رکھیں جہاں انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے اور نوجوانوں کو اکسا کر انہیں شدت پسند بنا دیا جاتا ہے۔ امام اکاری کے بیان اور خیالات کی تبدیلی کا خیر مقدم کیا گیا۔

2015 میں فرانس کے اخبار چارلی ایبدو پر حملہ ہوا اور 12 لوگ مارے گئے۔ اسے آزادی رائے پر حملہ تصور کیا گیا اور اس کی شدید مذمت ہوئی۔ اور مئی 2015 میں ناروے نے اپنے بلاسفیمی قانون کی شق منسوخ کردی۔ گو کہ یہ شق کبھی کام میں نہیں لائی گئی لیکن اس پر بحث ضرور ہوتی رہی۔ خاص طور پر خاکوں کے چھپنے کے بعد سے اسے موضوع بنایا گیا۔ اور آخر کار اس شق کو دفن کر دیا گیا۔

ذرا پیچھے جایں تو ہمیں ایک اور واقعہ نظر آتا ہے جہاں اظہار کی آزادی اور مسلم آبادی کے جذبات کا ٹکراو ہوتا ہے۔ 1988 میں ایک بھارتی نژاد برطانوی لکھاری سلمان رشدی نے ایک کتاب سٹیانک وورسز لکھی۔ اس کے اپنے کہنے کے مطابق یہ ایک فکشن تھی۔ لیکن مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ وہ کوئی بڑا لکھاری نہیں تھا۔ ناول بھی بہت لوگوں نے نہیں پڑھا۔ لیکن ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ خمینی نے کتاب کے مصنف پر قتل کا فتوی صادر کر دیا۔ اس سے لکھاری کی زندگی میں دو بڑی تبدیلیاں آئیں۔ ایک یہ کہ کتاب راتوں رات شہرت پا گئی دوسرے یہ کہ رشدی کو خوف نے آ لیا۔ وہ زیر زمین جا چھپا اور ایک محدود اور سہمی سہمی زندگی گزارنے پو مجبور ہو گیا۔ اس نے دس، بارہ سال اس روپوشی میں گزارے۔ یہ ناول حد درجہ متنازعہ تھا اور اسے اسلام، پیغمبر اسلام اور ان کے خانوادہ پر ہرزہ سرائی اور توہین آمیز مانا گیا۔ کتاب پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا۔ کتاب پر مکمل پاندی اور رشدی کے قتل کا مطالبہ کیا جانے لگا۔ کچھ ملکوں نے اس پر پابندی لگائی۔

کتاب کی شہرت بڑھی تو اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔ ان میں ناروے بھی شامل تھا۔ ناروے کی مسلم آبادی نے شدید احتجاج کیا، بہت بحث ہوئی کہ کیا اظہار کی آزادی کی کوئی حد ہونی چاہیے؟ ناروے کے ایک بلاسفیمی قانون کی ایک شق 1902 تھی اس کا سیکشن 142 زیر بحث آیا۔ لیکن یہ شق استعمال نہیں ہوئی۔ جن ملکوں نے رشدی کی کتاب کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کیا اور پبلش کیا اس میں کئی دوسرے ملکوں کے علاوہ جاپان، اٹلی اور ناروے کا پبلشر ولیم نی گورد بھی شامل تھا۔ ان تینوں پر قاتلانہ حملے ہوئے۔ جاپانی پبلشر گاراشی مارا گیا جب کہ اٹلی کے کاپیرا اور ناروے کے پبلشر ولیم نی گورد حملے میں بچ گئے۔ 1993 میں نارویجین پبلشر کو اس کے گھر کے باہر تین گولیاں ماری گئں۔ وہ بال بال بچے۔ قاتلانہ حملہ کرنے والے کا کوئی سراغ نہ لگ سکا۔ لیکن انگلیاں ایران کی طرف اٹھیں۔ کئی مشکوک لوگوں سے پوچھ گچھ ہوئی لیکن نتیجہ نہ نکل سکا۔ ناروے کی پولیس نے اب بھی یہ کیس کھلا رکھا ہوا ہے۔ 1998 میں ایرانی حکومت نے بیان دیا کہ سلمان رشدی کے قتل کا فتوی اب منسوخ کیا جاتا ہے۔ اس سے رشدی کی زندگی قدرے آسان ہو گئی اور اس نے کئی ملکوں کے دورے کرنے شروع کر دیے۔ ناروے بھی آیا۔

ناروے میں آزادی رائے کی اہمیت کی یہ دو بڑی مثالیں ہیں اور ان سے ثابت ہوتا ہے کہ اظہار کی آزادی پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔ آپ کو سے اختلاف کی گنجائش بھی ہے اور آزادی بھی۔ اس کی حدود یہی ہیں کہ نفرت انگیز تحریر اور تقریر نہ ہو، کسی کی ذاتی زندگی پر حملہ، کسی کو ستانا، کسی پر بلا جواز الزام لگانا اور فحش مواد رکھنا منع ہے۔ اور نہ ہی کسی کو قتل کی دھمکی دی جا سکتی ہے۔

اوسلو میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر ہر روز ہی کوئی نہ کوئی مظاہرہ ہوتا ہے۔ لوگ پلے کارڈ اٹھائے کھڑے ہوتے ہیں جن پر اپنے مطالبات یا کسی مسئلے پر اپنی اختلاف رائے لکھ کر لاتے ہیں۔ یہ مظاہرے پرامن ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے ارکان آتے جاتے انہیں دیکھتے ہیں۔ کوئی رک کر ان سے بات بھی کرتے ہیں۔ مظاہرین اپنے مطالبات کی یادداشت پیش کرتے ہیں اپنا احتجاج یا مطالبہ ریکارڈ کرواتے ہیں اور اس کے بعد واپس چلے جاتے ہیں۔ مہذب دنیا کی یہی روایت ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply