پشتو ڈراموں کے نام پر کیا چل رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ کافی دیر سے میری توجہ کا مرکز تھا۔ اس کی حرکتیں ایسی تھیں کہ چاہتے ہوئے بھی میں اسے نظر انداز نہیں کر پا رہا تھا۔ اس کے ساتھ میں نے رش کی وجہ سے آدھ گھنٹہ تک سفر کیا۔ اس دوران وہ مسلسل بڑبڑاتا رہا اور اس کی بڑبڑاہٹ پشتو فلموں اور ڈراموں کے گانوں اور مکالموں پر مشتمل تھی۔ کبھی ترنگ میں آ کر انڈین گانے کے ادھورے بول بھی گنگنا لیتا۔

پشتو میں دو ڈائیلاگ وہ بے حد جارحانہ انداز میں ادا کر رہا تھا۔ زہ پختون یم۔ مخے لہ مے مہ رازہ۔ یعنی میں پشتون ہوں میرے سامنے مت آؤ۔ د پختون یوہ خبرہ وی اوکہ بیائے سر ہم زی پروا نہ لری۔ یعنی پشتون کی ایک بات ہوتی ہے پھر اگر ان کی جان بھی جائے پروا نہیں کرتا۔ اس کے بعد وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو بندوق کے انداز میں تھام کر خیالی نشانہ باندھ لیتا اور ڈز۔ ڈز۔ ڈز۔ کی آوازیں نکالتا۔ یہ سوزوکی پک اپ کا کنڈکٹر تھا جس کی عمر کوئی بارہ سال ہو گی۔ وہ سوزوکی کے ساتھ لگے ڈنڈے پر کنارے کھڑا تھا اور وہ دونوں ہاتھ چھوڑ کر چھت پر اپنی خیالی بندوقوں سے نشانہ لیتا۔

یہ بذات خود ایک خطرناک عمل تھا جسے وہ اردگرد سے بے خبر بڑی یکسوئی و گرمجوشی سے دہرا رہا تھا۔ معمولی سی لغزش سے وہ نیچے گر سکتا تھا۔ بظاہر تو اس کے ڈائیلاگ میں شاید کسی کو کوئی مسئلہ نظر نہ آئے لیکن ڈائیلاگ کے بعد خیالی بندوقوں سے لوگوں کا نشانہ لینا یقیناً کسی شعوری، لاشعوری یا نفسیاتی عمل کی طرف اشارہ ضرور دیتا ہے۔ بچے کی ان حرکتوں سے میرا ذہن سوئی کی طرح گردش کرتے ہوئے موجودہ حالات، افراتفری و انتشار سے گزرتے ہوئے پشتو زبان میں بننے والے ڈراموں اور فلموں کی طرف منتقل ہو گیا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبر پختونخوا میں بچوں، نوجوانوں اور بڑوں کی اکثریت کا رجحان مادری زبان میں پیش ہونے والے تفریحی پروگراموں، ڈراموں اور فلموں کی طرف ہے۔ اکثر انٹرٹینمنٹ کمپیوٹر کی دکانوں میں یہ مشاہدہ کیا ہے کہ سولہ تا بتیس جی بی میموری کارڈز میں یہی پشتو ڈرامے اور فلمیں ڈالتے نظر آتے ہیں۔ اب ایک بچہ یا نوجوان جب سولہ جی بی میموری کارڈ میں بتیس گھنٹے سے زائد یہی سستے ڈائیلاگ اور ڈز ڈز دیکھے گا تو ظاہر ہے ان کے دل دماغ پر ہر جگہ ایسے ہی مناظر حاوی ہوں گے اور اس کا اظہار شعوری اور لاشعوری طور پر وہ کرتا رہے گا۔

پشتو زبان میں آج کل کس قسم کی فلمیں اور ڈرامے بنتے ہیں۔ ڈرامے کے عناصر ترکیبی میں موضوع، کہانی، پلاٹ، کردار، مکالمہ نگاری، منظر کشی اور زبان وبیان وغیرہ ضروری ہیں لیکن موجودہ دور میں جن لوگوں کا پشتو ڈراموں پر قبضہ ہے وہ اس سے واقفیت تک نہیں رکھتے ، ورنہ ایسے بے تکے اور فضول پروگرام دیکھنے کو نہ ملتے۔ ان کے پاس کوئی اسکرپٹ نہیں ہوتا نہ ہی کہانی اور واقعات میں کوئی تسلسل ہوتا ہے۔

سوائے چند گھسے پٹے ڈائیلاگ، دو گروہوں کا تصادم، طوائف اور شراب وغیرہ کے۔ مجھے اکثر اس بات کا دکھ ہوتا ہے کہ پشتون کلچر کو ”لچر“ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس کے خلاف کوئی بھی آواز نہیں اٹھا تا۔ کیا پشتو زبان میں لکھنے والوں کا فکری ارتقا رک چکا ہے؟ کیا تخلیقی صلاحیتیں رکھنے والوں کے قلم کو زنگ لگ گیا ہے کہ کہیں بھی ہمیں ایک معیاری اور مقصدیت سے بھر پور کہانی دیکھنے کو نہیں مل رہی؟

ایک بار فلم سٹار عجب گل سے میں نے یہی گلہ کیا تو انھوں نے کہا کہ یہاں تین مقامی گروہ ہیں۔ ان میں سے ایک وہ گروہ ہے جو زیادہ تر پی ٹی وی کے لیے کام کرتا ہے۔ ان کے موضوعات سنجیدہ اور معیاری ہوتے ہیں۔ باقی دو گروہوں کے بارے میں انھوں نے انکشاف کیا کہ وہ آپس میں مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کے معیارکا یہ حال ہے کہ ڈراما پچیس سے پچاس ہزار روپے خرچ کر کے بناتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ بناتے وقت بھی کماتے رہتے ہیں وہ یوں کہ ان پڑھ اور عیاش لوگ جو کسی گانے یا منظرمیں آنے کے خواہش مند ہوتے ہیں، یہ ان سے باقاعدہ اسی حساب سے رقم لے کر شامل کرتے رہتے ہیں۔

اب جو سب سے خطرناک ٹرینڈ چل نکلا ہے کہ ہندوستانی فلموں کی نقالی کر کے جو بے ہودہ ڈانس اور حرکتیں ہوتی ہیں وہ معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے کافی ہیں۔ منشیات کا کھلے عام استعمال، جبر استبداد، خان کے مظالم، طوائف کا کوٹھا، بے دریغ قتل و غارت، مونچھ و کلاشنکوف کی نمائش، پشتونوں سے منسوب جاہلانہ روایات و اقوال اور دوسری واہیات و فضولیات اور غلاظت سے بھرے ہوئے ڈراموں و فلموں سے یہ توقع رکھنا تو عبث ہے کہ اس سے کسی معاشرتی برائی کا خاتمہ یا کم سے کم اس کو اجاگر کیا جائے گا اور نہ ہی ذوق سلیم کو اس سے تفریح مل سکتی ہے۔

اصلاح اور مثبت سوچ کا پہلو تو ان میں سرے سے ہی مفقود ہوتا ہے۔ ان سے تو ٹیرھی ٹوپی، اٹھے ہوئے پائینچوں، لڑھکتی ہوئی چادر، مجروں، منفی مکالموں، عیاشیوں اور دوسری واہیات کو فروغ مل سکتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ معاشرہ ابتذال کا شکار ہو رہا ہے۔ معاشرتی برائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور نئی نسل انہی فلم نما ڈراموں کو دیکھتے ہوئے پروان چڑھ رہی ہے جو ناسور کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انہی مافیاز کی وجہ سے اچھے لکھنے والے اس شعبے سے دور رہتے ہیں۔ لیکن یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ ہم اپنی نسل کو الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے وہ مواد دیکھنے کو دیتے ہیں جو اخلاقی و تہذیبی قدروں کے نہ صرف منافی بلکہ ان کے خاتمے کا باعث ہے۔

اگر ان سے جان چھڑانا ہو تو دو کام کرنے ہوں گے ۔ ایک یہ کہ اچھے لکھاری، ڈائریکٹرزاور پروڈیوسرز کو میدان میں آنا ہو گا اور حکومت کو ان بے ہودہ سی ڈی ڈراموں اور فلموں پر پابندی لگا کر اچھے فن کاروں اور قلم کاروں کی بھرپور مالی معاونت اور حوصلہ افزائی کرنی ہو گی تاکہ پرانے زمانے کے پی ٹی وی ڈراموں کی یاد ایک بار پھر تازہ کی جا سکے۔ پھر ہمیں بچے خیالی بندوقوں دے نشانہ باندھتے ہوئے نہیں بلکہ امن و آشتی کے ترانے کے گاتے ہوئے نظر آئیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply