سینیٹ انتخابات 2021: جیت کر بھی ہار جانے کا خوف، آخر کیوں؟

محمود جان بابر - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان

Reuters

قریباً ایک سال قبل خیبر پختونخوا کے سینیئر وزیر عاطف خان کو دو دیگر وزرا شہرام خان اور شکیل خان کے ہمراہ ’پارٹی کے خلاف سرگرمیوں‘ کے الزام میں صوبائی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔

ان تین لوگوں کی صوبائی کابینہ سے فراغت کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے ہر رہنما کی زبان پر ایک ہی بات تھی اور وہ یہ کہ ’دو تہائی سے زیادہ اکثریت کے ہوتے ہوئے تین لوگوں کے جانے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘

لیکن کچھ تو وجہ ہے کہ سینیٹ کے انتخابات قریب آتے ہی فارغ کیے گئے عاطف خان کو صوبے کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کی برابر کی کرسی پر بٹھا دیے گئے؟ اور ایسی کیا مجبوری آن پڑی کہ برسراقتدار پاکستان تحریک انصاف کو ’دو تہائی سے زیادہ اکثریت‘ بھی اب ناکافی لگنے لگی۔

144 ارکان کے صوبائی ایوان میں سو سے زائد نشستیں رکھنے والی پی ٹی آئی کی پوزیشن بظاہر خیبر پختونخوا میں ہر لحاظ سے مضبوط دکھائی دے رہی ہے اور اپوزیشن جماعتوں کو اتحاد کی صورت میں بھی کوئی راہ سجھائی نہیں دے رہی۔

مگر سوال بدستور اپنی جگہ موجود ہے کہ ایک اکیلے ایم پی اے (عاطف خان) کو وزیراعظم کے سامنے کرسی پر بٹھانے کے لیے گورنرسندھ عمران اسماعیل کو کردار ادا کرنے کی ضرورت کیوں پڑ گئی؟

عمران اسماعیل کو سندھ ہاؤس میں عاطف خان اورگورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان سے کیوں ملنا پڑا؟ اس کا مطلب تو یہی نکلتا ہے کہ حکومتی پارٹی میں معاملات اتنے بھی قابو میں نہیں جتنے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ الیکشن: ڈر کاہے کو

فیصل واوڈا اور یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے ٹکٹ دینے پر تنقید کیوں؟

’پیسے کے بل بوتے پر کامیابی کے خواہشمند‘ بلوچستان کا رخ کیوں کرتے ہیں؟

راضی نامے اور جرگے صرف ووٹ کے حامل ایم پی ایز کے ساتھ کیوں ہو رہے ہیں، ایسی ہی بنیادوں پر تو صوبے میں حکومت کے ترجمان اجمل وزیر بھی ہٹائے گئے تھے ان سے بات کیوں نہیں کی جا رہی؟ اس کا ایک تو سیدھا سا مطلب ہے کہ ووٹ اہم ہے نا کہ پارٹی کے اندراتفاق کی فضا پیدا کرنا۔ سوال ہیں کہ ختم ہونے کا نہیں آ رہے۔

عاطف خان اتنے اہم کیوں ہیں؟

عاطف خان

Getty Images

ایک سال قبل صوبائی کابینہ سے بیدخل کیے جانے والے سینیئر صوبائی وزیر عاطف خان کا اب تک جو سب سے بڑا قصور اور ڈس ایڈوانٹیج سامنے آیا ہے وہ یہی ہے کہ وہ خود عمران خان اور پارٹی قیادت کی نظر میں کسی بھی موقع پر خیبر پختونخوا کی وزارت اعلی کے لیے موزوں امیدوار ہو سکتے ہیں۔

اس کا ثبوت سنہ 2018 کے انتخابات کے دوران ملا بھی۔ جب عاطف خان کو وزیر اعلیٰ بنانے کی کوشش کی گئی، مگر اس کوشش کے ردعمل میں پارٹی کے اندر سے ہی سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور ان کے گروپ کی جانب سے سخت اعتراض آیا۔

اس اندرونی چپقلش کا نتیجہ یہ نکلا کہ عمران خان نے فریقین کو مطمئن کرنے کے لیے تیسرے امیدوار، محمود خان، کو وزیراعلیٰ بنا دیا۔

وزارت اعلیٰ کے متوقع منصب سے محروم ہو کر صوبے میں سینیئر وزیر بننے کے باوجود بھی عاطف خان کے بہی خواہوں کے دل سے یہ داغ نہ دھل سکا۔

اسی دوران پارٹی کے اندر سینیئر قائدین کی جانب سے مستقبل میں عاطف خان کا راستہ روکنے کے لیے بعض بااثر پارٹی رہنماؤں کی مستقبل کے وزیر اعلیٰ کے طور پر تیاری شروع کر دی گئی جن میں سب سے مضبوط امیدوار صوبے کے موجودہ وزیر خزانہ اوروزیر صحت تیمورسلیم جھگڑا ہیں۔

سینٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی کے اندرونی انتشار یا دباؤ سے پریشان پارٹی قیادت کو اس وقت ہر اس شخص کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے جو کسی بھی موقع پر ’کچھ بھی‘ کر کے پارٹی کو مشکل میں ڈال سکتے ہیں۔

پرویزخٹک کہاں ہیں؟

پرویز

BBC

ماضی میں سینیٹ کا الیکشن ’جیت کر دینے والے‘ اور 20 سے زائد اپنے ایم پی ایز کو ووٹ بیچنے کے الزام میں پارٹی سے نکالنے والے پرویز خٹک اس ساری منصوبہ بندی کے دوران کیوں پس منظرمیں ہیں؟

ماضی کی اُن کی کارکردگی کو کیش کر کے صوبے اور وفاق میں حکومت بنانے والے عمران خان کی سینیٹ الیکشن کی منصوبہ بندی کے سیشنز میں وہ کیوں نظر نہیں آ رہے ہیں؟

ان کا یہ بیان حال ہی میں میڈیا کی زینت بنا کہ اگر وہ چاہیں تو عمران خان کی حکومت ایک دن بھی نہیں چل پائے گی۔ ان کے سیاسی مخالف عاطف خان کو عمران خان تک اتنی آسانی سے پہنچنا کیسے نصیب ہوا؟

کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ عاطف خان کے کہنے پر سینیٹ کے ایک امیدوار سے ٹکٹ واپس لیا جائے گا اور خود پرویز خٹک ہی کا نامزد کردہ وزیراعلیٰ محمود خان بھی اس موقع پر موجود ہوں گے۔

سینیٹ کا ٹکٹ حاصل کرنے والے فیصل سلیم الرحمان، جو عاطف خان کے خالہ زاد بھائی ہیں، کی ٹکٹ سے محرومی کو کیوں عاطف خان کی کامیابی سے تعبیر کیا جا رہا ہے؟

عمران خان کی پریشانی کی بڑی وجہ کون؟

31 اکتوبر 2011 میں لاہور کے جلسے کے بعد پارٹی میں جہاں دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کے رہنما جوق در جوق شامل ہوتے رہے وہیں خیبر پختونخوا میں گذشتہ کافی عرصے سے مختلف حکومتوں کا حصہ رہنے والے پرویز خٹک نے بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کی اور عمران خان کا اعتماد حاصل کر کے پارٹی کے سیکریٹری جنرل بن گئے۔

اس کے بعد جب سنہ 2013 میں پارٹی کو خیبرپختونخوا میں حکومت بنانے کا موقع ملا تو وزارت اعلیٰ کا تاج بھی پرویز خٹک کے سر سج گیا، انھی کی کارکردگی کے حوالے دے دے کر عمران خان نے ملک بھر سے ووٹ حاصل کیے لیکن بہت کم لوگوں کو یاد ہوگا کہ پرویز خٹک کی وزارت اعلیٰ کے دنوں میں عمران خان کو بھی بعض فیصلے منوانے میں مشکل پیش آئی۔

بعض واقفان حال یہ کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے وزیراعظم عمران خان کو پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ’شریف‘ وزرائے اعلیٰ لگانے پڑے تاکہ مستقبل میں انھیں پارٹی ڈسپلن کو نافذ کرنے میں مشکل پیش نہ آئے؟

پارٹی میں پرویز خٹک کے ناقدین کہتے ہیں کہ وہ سب سے زیادہ تجربہ کار سیاستدان ہیں جن کی وجہ سے جہاں ایک وقت میں پارٹی کے مخالفین کے منصوبے کامیاب نہیں ہوئے وہیں پر اب خود پارٹی کے اندر بھی کسی نہ کسی لیول پر بے چینی کے ڈیرے ہیں۔

جہانگیر ترین بھی آوٹ ہیں، ان کے بیٹے کو بھی ٹکٹ نہیں مل سکا۔ ایسے میں کون ہے جو وزیراعظم کے دائیں اور بائیں رہ کر انھیں احساس دلائے کہ پارٹی سینیٹ انتخابات سے سرخرو ہو کر ہی نکلے گی۔

جہانگیر ترین

AFP

شاید یہی وہ وجوہات ہیں کہ عمران خان کو لوگوں کو سمیٹنا پڑ رہا ہے اور وہ کسی بھی سیاسی چوکی کو خالی نہیں چھوڑنا چاہتے۔

پیپلزپارٹی اورمریم نواز کی جانب سے عدم اعتماد کے نعرے!

وزیرِ اعظم عمران خان کی بعض پریشانیوں میں پیپلز پارٹی اور مریم نواز کی جانب سے عین سینیٹ انتخابات کے دوران عدم اعتماد کی تحریک لائے جانے کے بیانات نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔

تحریک انصاف کی رہی سہی دانش اس چیلنج کو بھی حل کرنے کی کوشش میں مصروف ہے کہ آخر وہ کون ہو سکتا ہے جن کے ساتھ رابطوں کی بدولت یہ اپوزیشن جماعتیں بظاہر اتنی پُراعتماد ہیں اور کہیں سینیٹ میں ٹکٹوں کے معاملے پر ناراض ہونے والے اور سائیڈ لائن کیے جانے والے اپنے لوگ اپوزیشن کے ان نعروں کو تقویت دینے کا باعث نہ بن جائیں۔

مسلم لیگ ن کے ایک رہنما کا یہ بیان بھی سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے جس میں وہ کہہ چکے ہیں کہ نظرنہ آنے والی کچھ قوتیں عمران خان کی پشت پر تھیں تو وہ اب ان کا ساتھ بھی دے سکتی ہیں۔

ایک کو مناؤں تو دوجا روٹھ جاتا ہے

مریم نواز

BBC

ماضی کے انتخابات سے کئی گنا زیادہ اس بار سینٹ کے ٹکٹوں کے لیے دوڑ دھوپ اور لابنگ کا جو طوفان تحریک انصاف کے اندر سے اٹھا ہے اس نے کم از کم یہ بات تو ثابت کر دی ہے کہ اس جماعت پر ’ٹیپیکل پی ٹی آئی‘ کی جو مُہر لگی تھی وہ بالکل ٹھیک تھی۔

پارٹی کے اقتدار کا عرصہ شروع ہونے کے بعد سے اب تک ہر انتخابات کے دوران ٹکٹوں کے حصول کا بُخار مسلسل بڑھ رہا ہے اور وہ جو کہتے تھے ہم صرف تبدیلی کے لیے پارٹی میں ہیں وہ بھی اب شرطوں پر اُتر آئے ہیں، حالت یہ ہے کہ ایک کو مناؤں تو دوجا روٹھ جاتا ہے۔ پارٹی قیادت کی حالت جاننی ہو تو یہ بات بالکل صادق آتی ہے کہ وہ اس وقت مینڈک تول رہے ہیں، دو کو پکڑ کر پلڑے میں ڈالتے ہیں تو تین کود کر بھاگ چکے ہوتے ہیں۔

ملک کا ریگولر میڈیا، ٹی وی سکرینز اور اخبارات کے علاوہ سوشل میڈیا پر ہر دوسری پوسٹ پارٹی کے مختلف گروپوں کی جانب سے ’اپنے بندے‘ کوسینیٹ کا ٹکٹ دلانے کے لیے ہے۔ بات پوری طرح واضح ہو چکی ہے کہ عمران خان اس وقت اپوزیشن اور قوم سے زیادہ اپنے لوگوں کے نرغے میں بُری طرح پھنس چکے ہیں۔

بقول پارٹی کے ایک ہمدم دیرینہ ’میں خود ان سے ملا ہوں، وہ اتنے خوش اور پُرجوش نہیں جتنا حکومت میں آنے سے پہلے اپوزیشن کے دنوں میں تھے۔ ہم جان چکے ہیں کہ وہ اپنوں کی بلیک میلنگ اور پریشر گروپس کے دباؤ کا شکار ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سب ان کی بات مان لیں اورپارٹی بکھرے ناں۔‘

وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ خود وزیراعظم سینیٹ کے انتخابات میں بعض لوگوں کو کمزور معیار کی بنیاد پر پارٹی کا امیدوار بنائے جانے پر نالاں ہیں۔

عمران خان تو بلاشرکت غیرے پارٹی کے معاملات کو چلانے کے مختار ہیں؟ میرے سوال کے جواب میں وہ مسکرائے اورفوراً کہا ’اب ایسا نہیں ہے۔‘

’بہت سے لوگ وزیر اعظم عمران خان کے ساتھ کام کر رہے ہیں لیکن پھر بھی وہ کئی محاذوں پر تقسیم ہیں۔ ان کے سامنے پارٹی ہے جو اس وقت کئی پریشرگروپس اور مخلص ورکرز کی توقعات کے بیچ میں پس رہی ہے۔ وہ گورننس کو بہتر کرنا چاہتے ہیں جو ہو نہیں پا رہی۔۔۔ اگر وہ صرف پارٹی ہی تک محدود رہتے اور پارٹی صرف خیبر پختونخوا کی حد تک ہی حکومت میں ہوتی تو عمران خان صوبے میں اپنی گذشتہ حکومت کے دوران حاصل ہونے والے تجربے کی وجہ سے اسے بہت اچھے طریقے سے سنبھال لیتے لیکن وفاق اورپنجاب میں گورننس کے ایشوز نے انھیں پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔‘

عمران خان سے ملنے والے جس بھی پارٹی رہنما یا ناراضگی سے واپس رضامندی کی طرف آنے والے شخص سے وزیراعظم کی آج کی سب سے بڑی خواہش کے بارے میں پوچھا گیا ان کا جواب ایک ہی تھا کہ عمران خان کی زبان پر ایک ہی بات ہے کہ ’سب مل کر کھیلیں تاکہ ڈیلیور بھی کریں اور آگے جایا جا سکے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17704 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp