قومی اداروں کی نجکاری کا اثرات کیسے ہوں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

10 فروری کو پاکستان کے سرکاری ملازمین نے اپنے گرینڈ الائنس کے جھنڈے تلے اسلام آباد میں احتجاج اور دھرنا دیا تھا۔ بنیادی مطالبہ تھا کہ تنخواہوں میں مہنگائی کی نسبت سے اضافہ تھا۔ حکومت نے پہلے تو احتجاج میں شامل ملازمین پر آنسو گیس کا استعمال کیا مگر بعد میں 11 فروری کو حکومت نے طوعاً کرہاً مطالبات کو بالآخر منظور کر ہی لیا۔ ایک سے گریڈ 19 کے وفاقی ملازمین کو عبوری ریلیف مارچ سے ملے گا جسے یکم جولائی سے تنخواہوں میں ضم کر دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی ترقیوں کے لیے کمیشن بنانے کا اعلان بھی کر دیا گیا۔

ابھی 10 فروری کے احتجاج کی بازگشت ختم نہیں ہوئی تھی کہ 15 فروری کو ملک بھر کے سرکاری ملازمین، پینشنرز، صنعتی کارکنوں اور محنت کش طبقے کی ساٹھ سے زائد تنظیموں پر مشتمل اتحاد آل پاکستان ایمپلائز، پنشنرزو لیبر تحریک اور واپڈا کے زیر اہتمام قومی اداروں کی نجکاری، مہنگائی، بے روزگاری، تنخواہوں، پنشنوں اور اجرتوں میں عدم اضافے، ملازمین کی برطرفیوں اور آئی ایم ایف کے ایماء پر حکومت کے مزدور دشمن اقدامات کے خلاف نیشنل پریس کلب سے ڈی چوک تک مارچ کیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں ملازمین نے دھرنا دیا۔ احتجاجی مارچ کی قیادت آل پاکستان واپڈ ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے مرکزی سیکرٹری جنرل خورشید احمد نے کی۔ لیکن حکومت کی جانب سے اداروں کی نجکاری نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کو ختم کر دیا گیا۔

قابل غور پہلو یہ ہے کہ ان احتجاجوں میں نجی شعبے کے ملازمین جو لاکھوں کی تعداد میں ہیں شریک نہیں ہوئے۔ نجی شعبے کے ملازمین جن کی تنخواہیں اور مراعات سرکاری شعبے کے مقابلے میں یا تو ہیں ہی نہیں یا پھر نہایت قلیل ہیں۔ سرکاری ملازمین جنھیں قانونی طور پر پینشن اور دیگر تحفظات بہر حال حاصل ہیں لیکن نجی شعبے میں آج بھی ایسے ہزاروں ملازمین ہیں جن کی اجرت حکومت کی طے کردہ شرح سے بہت کم ہے۔ اگر یہ طبقہ بھی کسی احتجاج میں شریک ہوا تو حالات نہ جانے کیا رخ اختیار کریں گے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ہر برسر اقتدار جماعت اور مقتدرہ نے ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش دانستہ طور پر نہیں کی ہے۔ جاگیردار اور وڈیروں نے زراعت کو فروغ دیا نہ صنعت کو پنپنے کا موقع دیا۔ ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک میں صنعتیں لگا کر روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جاتے لیکن اس کی بجائے ملک کے بڑے اداروں ریلوے، واپڈا، پی آئی اے، سوئی گیس اور اسٹیل مل میں ضرورت سے زائد بھرتیاں کر دی گئیں اور خاص کر سیاسی جماعتوں نے ووٹوں کے لالچ میں بھرتیاں کیں، بعض جگہ تو پیسے لے کر بھی نوکریاں بانٹی گئیں جس میں جتنے قصور دار پیسے لے کر نوکریاں دینے والے ہیں اتنے ہی قصور وار پیسے دے کر نوکریاں حاصل کرنے والے ہیں۔

دوسرا ستم یہ کیا گیا کہ ان اداروں میں ایسے افراد کو بطور سربراہ تعینات کیا جاتا رہا جنہوں نے ملکی مفاد کی بجائے بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی مافیا کے اشاروں پر ایسی پالیسیاں متعارف کروائیں کہ قومی فخر کے یہ ادارے ملک کے لیے سفید ہاتھی بنتے گئے اور قومی دولت کا ایک بڑا حصہ ان اداروں کو زندہ رکھنے کے لیے خرچ کیا جاتا رہا۔ آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق ہر حکومت خواہ وہ سیاسی ہو یا آمرانہ، کی یہ کوشش رہی ہے کہ قومی اداروں کی نجکاری کی جائے۔ اس کے لیے مرحلہ وار تیاری کی گئی ، پہلے ڈاؤن سائزنگ کے نام پر ملازمین کو برطرف کیا گیا اور جب اس سے بھی کام نہ چلا تو بچی کچی کسر رائٹ سائزنگ کے ذریعے پوری کی گئی۔ اس کے بعد بھی یہ تأثر پیدا کیا گیا کہ اگر ان اداروں کو مکمل طور پر فعال کرنا ہے تو ان کی نج کاری کر دی جائے۔

ہمارے یہاں صنعتوں کو قومیائے جانے اور پھر نجی شعبے کے حوالے کرنے کا عمل کبھی بھی شفاف نہیں رہا ہے۔ ڈی نیشنلائزیشن کے وقت قوم کو یہ بتایا گیا کہ ان صنعتوں کو نجی شعبے کرنے کے حوالے سے جو کھربوں روپے حاصل ہوں گے وہ ملک سے غربت اور غیر ملکی قرضوں کے خاتمے کے لیے استعمال ہوں گے۔ لیکن غربت ختم ہوئی نہ غیر ملکی قرضے۔ اس کے علاوہ جب صنعتیں نجی شعبے کے حوالے کی گئیں تو ان کی زمینوں کی قیمت کئی گنا بڑھ چکی تھی۔

نجی شعبے نے سستے داموں یہ فیکٹریاں خریدیں اور فیکٹریاں چلانے کی بجائے ان کی زمینیں بیچ کر ہی خوب منافع کمایا۔ اسی طرح سیمنٹ، گھی، چینی اور اسٹیل ملوں کی مثال ہے کہ کس طرح کوڑیوں کے بھاؤ انہیں بیچا گیا اور بعد میں سرمایہ داروں نے طلب اور رسد میں بڑا فرق پیدا کر کے کس طرح کئی سو گنا منافع میں اضافہ کیا دوسرا۔ اسی طرح اب ریلوے، واپڈا اور پاکستان اسٹیل مل عالمی مالیاتی اداروں اور ان کے حاشیہ برداروں کے نشانے پر ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح سول ایوی ایشن کا ادارہ تمام ایئر لائنوں سے اپنے ایئرپورٹس اور فضائی حدود کے استعمال کا معاوضہ لیتا ہے ، اسی طرح ریلوے کا انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کے لیے نجی شعبہ کیوں نئی ٹرینوں پر سرمایہ کاری نہیں کرتا؟ وجہ بہت صاف سی ہے کہ ماضی کی طرح ریلوے کو بھی سابقہ فیکٹریوں کی طرح کوڑیوں کے مول بیچا جائے گا جب کہ نئی ٹرینیں بنانے پر اس سے کئی زیادہ لاگت آئے گی۔ اسی طرح اسٹیل مل کا معاملہ ہے کہ بجائے اسے منافع بخش بنانے کے لیے تگ و دو کی جائے اور ساتھ ہی ملک میں نئی اسٹیل ملیں لگائی جائیں مگر تان ٹوٹتی ہے تو صرف اس پر کہ اس کی زمین کو کس طرح بیچا جائے۔

قومی اداروں کی نج کاری قومی مفاد کے خلاف ہے ، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ لیکن جہاں تک ان اداروں کا حکومتی اور سامراجی پالیسیوں کے نتیجے میں نقصان میں جانا ہے اس میں کچھ حصہ ان اداروں کے ملازمین اور انتظامیہ کا بھی ہے جنہوں نے شاخ پر بیٹھ کر شاخ کو کاٹا ہے۔

قومی اداروں کو نفع بخش بنیادوں پر چلانے کی سب سے بڑی ذمہ داری ارباب اقتدار اور اختیار کی ہے۔ ماضی میں یہی ادارے ملک میں روزگار، ٹیکس اور قومی پیداوار میں اضافے کا اہم حصہ رہے ہیں۔ اگر سامراجی اور عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنڈے سے ہٹ کر صرف اور صرف قومی مفاد کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بنائی جائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ادارے قومی معیشت میں اہم کردار ادا نہ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply