نئی نسل سے پرانے لوگ گھبراتے کیوں ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میرے ایک دوست کہا کرتے ہیں کہ ’’انتہا پسند انسان نہیں اس کا رویہ ہوتا ہے۔ اس کا اخلاق، افکار، سوچ اور فکر انتہا پسند ہوتی ہے۔ انسان تو بیچارا ان کا محتاج ہے۔ اس میں انسان کا کوئی قصور نہیں ہے“ جس طرح میرے استاد محترم کا قول ہے کہ ”ہمارا مسئلہ معیشت نہیں اخلاقیات ہیں۔“

ہم آج جس معاشرے کا حصہ ہیں، اس معاشرے کی پیدائش غلامی کے بادلوں کے سائے تلے ہوئی۔

ان کا لب و لہجہ، فکر، سوچ اور اخلاق انتہا پسندی کے خون سے لتھڑا ہوا ہے۔ یہ معاشرہ ہم سے پچھلی جنریشن کا بنایا ہوا ہے۔ جس جنریشن نے ضیاء کا پاکستان دیکھا، جس نے اسلام کا اصل نہیں بلکہ مخصوص نظریہ دیکھا، جس کی طبیعت میں تنقید سننے کا ظرف نہیں پایا جاتا، جس کے افکار اس حد تک نچلی سطح تک چلے گئے ہیں کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے۔

یہ جنریشن آج نئی نسل اور اکیسویں صدی کی جنریشن پر اپنا آپ دکھانے کا آغاز کر چکی ہے۔ فرسٹریشن کی پیداوار پچھلی جنریشن اب معاشرے کا روپ اختیار کر چکی ہے اور ہم اگلے معاشرے کے وارث بننے کے لئے اس جنریشن کے زیراثر تیار ہو رہے ہیں۔ یوں سمجھ لیں کہ اگلے چالیس سال تک درخت بننے کے لئے آج ہم پودے کی شکل میں ان پرانے درختوں کے سائے میں تربیت پا رہے ہیں اور درخت بننے تک پرانی جڑیں ہمارا حصہ بن چکی ہوں گی۔

معاشرے میں نیا سوچنے اور تحقیقی نقطۂ نظر رکھنے والے کے لئے سلاخوں کے پیچھے کال کوٹھری تیار رکھی ہوتی ہے جس میں پرانے نظریات اور عقائد کا اندھیرا انسان کو مایوس اور مجبور کر دیتا ہے۔ یہ معاشرہ جس میں اخلاقیات اپنی پست ترین سطح تک پہنچ چکی ہیں نئی جنریشن کو برباد کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے، جس کی غلیظ اور منافقت میں گھری سوچ نے ہمارے لئے میزان اپنے ہاتھ میں تھام لی ہے۔

آب یہ معاشرہ فیصلہ کرنے لگا ہے کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر؟ حالات یہ ہیں کہ یہ معاشرتی طور پر انتہا پسند تو ہیں ہی، مذہبی طور پر بھی یہ طبقہ انتہا پسند ہے۔ اپنی رائے کو نئی نسل پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہیں خود سے تحقیق یا سوچنے کا موقع نہیں دیتے ،نتیجے میں وہ کنویں کا ایک اندھا اور بہرا مینڈک بن کر رہ جاتا ہے۔

کبھی کبھار ایسا لگتا ہے کہ اس معاشرے کی سوچ اور فکر نے کسی گہری دلدل میں جنم لیا ہے۔اس کے حالات و واقعات دیکھ کر استاد محترم کا جملہ یاد آ رہا ہے کہ ”کچھ لوگوں کے رویے اور سوچ دیکھ کر انسان سوچتا ہے کہ پتہ نہیں انہوں نے اتنی زندگی کہاں گزار دی۔ زندگی کے حالات و واقعات، لوگوں سے ملنا ملانا، ارتقائی مراحل انسان کو تبدیل کر دیتے ہیں وہ میچور ہو جاتا ہے تھوڑا بہت sensible ہو جاتا ہے۔ اس کے رویوں میں پختگی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ لیکن آج ایسے ایسے لوگ بھی سامنے آ رہے ہیں کہ جو استاد محترم کے جملے کو سچا ثابت کر رہے ہیں کہ پتہ نہیں ان کے بال کس دھوپ میں سفید ہوئے ہیں اور کس مٹی نے انہیں آلودہ کیا ہے۔

ہماری جنریشن میں سے بھی بہت سے لوگوں کے رویوں میں عقل، شعور اور تربیت کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ وہ دوسروں کے لئے مسائل کا باعث بنتے ہے۔ پرانی سوچ کا یہ معاشرہ نیا سوچنے، کھوج لگانے والوں کے لئے کافی مسائل کا باعث بنتا ہے جس سے معاشرے میں نئے اصول، قوانین اور زاویوں کی شدید قلت ہو رہی ہے اور معاشرہ آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف چل پڑتا ہے۔

جس معاشرے کی سوچ آج بھی ماضی پر اٹکی ہوئی ہو وہ بھلا خاک نئی نسل کی بات سنے گا۔ وہ تو بات یہ کہہ کر ٹال دے گا کہ ”بیٹا ہم نے بہت دنیا دیکھ رکھی ہے“ اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے جس زاویے سے دنیا کو دیکھا وہ زمانے کے لئے اصول کا درجہ اختیار کر گیا۔ جو اصول لوگوں کو سمجھنے کے لئے آپ نے مقرر کر دیے ہیں ، وہی حرف آخر تصور کیے جائیں۔

ایسے لوگ بلکہ ایسا معاشرہ خود کو اہمیت دیتا ہے۔ اپنے ہی منہ سے اپنی تعریف، اپنے ہی منہ سے اپنے قابل ہونے کا اعلان کرنا اور بس میں اور میں ہی ان کے قول و فعل کا بنیادی عنصر ہوتا ہے۔ نئی نسل کو تو وہ سوشل میڈیا کی پیداوار سمجھتے ہیں۔ پتہ نہیں نئی نسل انہیں انسان بھی لگتی ہے یا نہیں بلکہ مجھے تو لگتا ہے یہ ہمیں ”کسی جدید ٹیکنالوجی کا روبوٹ“ سمجھتے ہیں جس کی کوئی بھی بات انہوں نے نہیں ماننی ، بس انہیں لگتا ہے کہ وہی سب کچھ ہیں اور میزان بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply