سمیع چوہدری کا کالم: پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن ورلڈ کپ تک پہنچائے گا؟

سمیع چوہدری - کرکٹ تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ایس ایل

Getty Images

کوئی بھی کاروباری مہم جوئی تب تک کامیاب نہیں ٹھہرتی جب تک کہ وہ مالی طور پہ خود کفیل نہ ہو جائے۔ یہ کسی بھی برانڈ یا پروڈکٹ کے مستحکم ہونے کی پہلی منزل ہے۔ مالی استحکام کے بعد اسے دیگر اغراض بھی پورے کرنا ہوتے ہیں۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ایک کامیاب چوتھے سیزن کے بعد پی ایس ایل کا سابقہ ایڈیشن کچھ سود مند ثابت نہ ہو سکا۔ کورونا کے سبب آخری چند میچز کا التوا اور ٹکٹ سیلز کی آمدن بند ہونا اس کے بنیادی عوامل رہے۔ اور اسی پہ بعد ازاں فرنچائزز اور بورڈ کا ڈیڈ لاک عدالتوں تک پہنچتے پہنچتے تھما۔

پی ایس ایل کا حالیہ ایڈیشن بھی مالی اعتبار سے مفید ہونے کے امکانات بہت کم ہیں۔ پہلے مرحلے میں صرف 20 فیصد کراؤڈ کی اجازت دی گئی ہے، سو ٹکٹوں کی آمدن کا 80 فیصد حصہ تو آغاز سے پہلے ہی خسارے میں شامل ہو چکا۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم بھی پڑھیے

ہر روز ’جمعرات‘ نہیں ہوتی

’شکر ہے، کرائسٹ چرچ ٹیسٹ ختم ہو گیا‘

حسن علی سبھی سوالوں کے جواب دے گئے

سمیع چوہدری کا کالم: اب نمبر ون رینکنگ والے دن دور نہیں

پی ایس ایل

Getty Images

لیکن چونکہ بورڈ اور فرنچائزز نے سوچ بچار کے بعد ہی اس گنگا میں پاؤں دھرے ہیں تو شاید اس بار خسارے کے چھینٹوں کے شکوے بھی سنائی نہ دیں گے اور دیگر سبھی کاروباری مہم جوؤں کی طرح پی ایس ایل کے سٹیک ہولڈرز بھی ’پوسٹ کووڈ‘ دنیا کے تقاضوں سے نباہ کر لیں گے۔

لیکن چونکہ یہ سال ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کا سال ہے تو ہر کرکٹ بورڈ اپنے شیڈول میں زیادہ سے زیادہ ٹی ٹونٹی مقابلوں کو ترجیح دے گا۔ متعلقہ کرکٹ لیگز کی ذمہ داری بھی یہی ہو گی کہ وہ اپنے اپنے قومی ٹی ٹونٹی سکواڈ کے خلا پر کریں اور ورلڈ کپ ٹائٹل کے لیے بہتر مواقع پیدا کریں۔

پاکستانی ٹیم کبھی ٹی ٹونٹی عالمی درجہ بندی کی پہلی ٹیم ہوا کرتی تھی۔ شومئی قسمت کہ آئی سی سی کے عجیب وغریب شیڈولنگ معاملات کے طفیل اس سارے دور میں ایک بھی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ نہ آیا۔ اور ستم یہ کہ پی ایس ایل کے پہلے سیزنز کا پیش کردہ ٹیلنٹ بھی دھیرے دھیرے جھڑتا گیا۔

پی ایس ایل

Getty Images

اب پاکستان ٹی ٹونٹی کی ایک مسابقتی ٹیم تو ضرور ہے مگر ویسی ناقابلِ شکست نہیں رہی کہ جس کی بولنگ کا سامنا کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔ پاور پلے میں عماد وسیم اور محمد عامر کو کھیلنا ناممکن ہوتا تو مڈل اوورز میں شاداب خان اور حسن علی کا چیلنج درپیش ہوتا۔ ڈیتھ اوورز میں وہاب ریاض کے یارکرز بلے بازوں کی جارحیت اڑا دیا کرتے۔

حالیہ ٹی ٹونٹی سیریز میں جنوبی افریقہ کے خلاف بھی ہمیں یہ ساری تشنگیاں دیکھنے کو ملیں۔ گو سیریز پاکستان کے نام رہی مگر نوآموز جنوبی افریقی سکواڈ کی ہمت نے بابر اعظم کے سکواڈ کے کئی ڈھیلے گوشے بے نقاب کر دیے۔

محمد حفیظ اور شعیب ملک کی عدم موجودگی میں یہ مڈل آرڈر اکثر سہارے ڈھونڈتا نظر آتا ہے۔ ٹی ٹونٹی میچ کے درمیانی اوورز میں بیٹنگ کرنا ون ڈے کے آخری پاور پلے جیسا ہوتا ہے۔ یہ ایک خاص آرٹ ہے اور اس کے لیے چنیدہ قسم کے مشاق کھلاڑی درکار ہوتے ہیں۔

پی ایس ایل کے چھٹے ایڈیشن کو اس سوال کا بھی جواب دینا چاہیے کہ پہلے دو تین سیزنز میں جیسے پے در پے اچھے کھلاڑی قومی دھارے کا حصہ بنے تھے، وہ پچھلے دو سیزیز میں کیوں نہیں ہو پایا۔ جو گنے چنے کھلاڑی پچھلے دو سیزنز میں قومی ٹیم تک پہنچے بھی، وہ ابھی تک اپنی حیثیت ثابت نہیں کر پائے۔

شاہین آفریدی

Getty Images

ڈیتھ اوورز میں شاہین شاہ آفریدی کا ساتھ دینے کے لیے پاکستان کو ایک برق رفتار بولر کی ضرورت ہے جو رفتار کے بدلاؤ کے ساتھ یارکرز پھینکنے میں مہارت رکھتا ہو۔ پی ایس ایل کے حالیہ سیزن میں نوجوان پیسرز کے لیے بے شمار مواقع ہوں گے کہ وہ قومی سکواڈ تک کا ٹکٹ جیت پائیں۔

رواں برس کا ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ پی ایس ایل کے اب تک کے سفر کا تقریباً پہلا ٹائٹل ہے اور اگر پی ایس ایل کا چھٹا ایڈیشن اس عالمی ٹائٹل کی دوڑ کو پاکستان کے لیے آسان کر سکتا ہے تو مالی خسارے کے باوجود یہ گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17773 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp