علی صد پارہ کی موت اور ہمارے اردگرد بکھرے لاشے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصدیق وہ واحد عمل ہے جس سے گمان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ گمان امید ہے، حوصلہ ہے، زندگی ہے۔ کل تک ہمیں گمان تھا کہ علی سد پارہ زندہ ہیں، آج تصدیق ہو گئی کہ ایسا نہیں ہے تو اس تصدیق کے ساتھ ہی ہمارا گمان بھی مر گیا ہے۔

خدا جانے ہمالہ کے عاشقوں نے اپنے محبوب کی آغوش میں آخری سانسیں کب لیں۔ کل، پرسوں، ترسوں جانے کب وہ برف کے بن گئے، معلوم نہیں بلندی پر پہلے کسی کی روح نے آسمان کی طرف پرواز کیا ہو گا، جنون کے اس پیشے میں چاندی کا تمغہ کس کے سینے پر سجا ہو گا، ہمیں کیا پتہ آخری بچ جانے والے نے اکیلے کتنی دیر موت کا انتظار کیا ہو گا اور اس جان لیوا اڈیک میں اس کے ذہن میں اپنے بال بچوں کے علاوہ کیا خیالات آئیں ہوں گے؟

لیکن ہم جیسے منتظرینِ معجزہ کو ان کی موت کا یقین حکومت کی تصدیق سے ہوا ہے حالانکہ حقیقت میں آج کی تصدیق کسی مجنوں کی موت کا اعلان نہیں ہے بلکہ اس نے صرف ہمارے گمان کا گلا گھونٹا ہے۔ سو چند دن پہلے اگر ہمیں دکھ کوہ پیماؤں کا برفیلے پہاڑ میں گم ہو جانے کا تھا تو آج کا دکھ اپنے گمان کی مرگ کا ہے۔

اچھا گمان قائم رہے لیکن اگر آج ہم تصدیق کرنے پر آئیں تو یقین جانیے ہمارے اردگرد موجود، چلتے پھرتے، کھاتے پیتے، سوتے جاگتے، ہنستے روتے متنفس انسانوں میں سے اکثر کی موت واقع ہو چکی ہے۔ ہمارے چار سو، زندہ لاشے ہیں، لاشے!

انا للہ و انا الیہ راجعون

وہ بوڑھا باپ جس کامعصوم اکلوتا سہارا کسی دھماکے میں مارا گیا، وہ ماں جس کا شیر جوان بیٹا سرحد پر ملک کی حرمت کی خاطر شہید ہو گیا، وہ سہاگن جس کے سر کا تاج ایک دن اچانک ہوا میں تحلیل ہو گیا اور جسے آج بھی معلوم نہیں کہ وہ سہاگن ہے یا بیوہ، ساہیوال کی وہ یتیم اولاد جس کے والدین دہشت گردی کے شبے میں موت کی سزا کے حق دار ٹھہرے۔

وہ بھائی جن کی بہن موٹر وے پر ظلم کی بھینٹ چڑھ گئی، کان کنوں کے قبیلے کی وہ آنکھیں جو اپنے خاندان کے تمام مردوں کی میتوں پر آنسو بہا بہا کر خشک ہو چکی ہیں، وہ مسکین جس کے باپ نے غربت سے تنگ آ کر خالی جیب لیے نہر میں چھلانگ لگا دی، وہ بیٹی جس کی بے کس و لاچار ماں اپنی بے چارگی سمیت پنکھے کے ساتھ جھول گئی۔

وہ باریش جس کی آنکھیں بیٹیوں کے رشتوں کے انتظار میں پتھرا گئیں، وہ مجبور جن کے جگر گوشے تاریک راہوں میں مارے گئے، اور وہ سب قسمت کے مارے جن کے جگر کے ٹکڑے سکول گئے لیکن پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ قسم سے زندہ نہیں ہیں۔ ہمارا گمان ہے وہ زندہ ہیں، یقین کا فیصلہ مختلف ہے، گمان کہ ہر سانس لینے والا جان دار ہے، یقین کہ یہاں کے سانس لینے والے اکثر مردے ہیں۔ لاشے ہیں، زندہ لاشے!

آج کے نام

اور

آج کے غم کے نام

آج کا غم کہ ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا
زرد پتوں کا بن
زرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے
درد کی انجمن جو مرا دیس ہے۔
اور
جب کبھی بیٹھ کے روتے ہیں وہ بے کس جن کے
اشک آنکھوں میں بلکتے ہوئے سو جاتے ہیں
ناتوانوں کے نوالوں پہ جھپٹتے ہیں عقاب
بازو تولے ہوئے منڈلاتے ہوئے آتے ہیں
جب کبھی بکتا ہے بازار میں مزدور کا گوشت
شاہراہوں پہ غریبوں کا لہو بہتا ہے
آگ سی سینے میں رہ رہ کے ابلتی ہے نہ پوچھ
اپنے دل پر مجھے قابو ہی نہیں رہتا ہے

(فیض)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply