انتخابی نظام اور شفافیت کا بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاست اور جمہوریت کی بنیادی کنجی اس کے شفافیت کے نظام پر مبنی ہوتی ہے۔ کیونکہ سیاست اور جمہوری نظام کی ساکھ اس کی اخلاقی اقدار پر قائم ہوتی ہے۔ سیاسی، جمہوری اور قانونی تقاضوں سمیت اخلاقی بنیاد پر قائم نظام ہی لوگوں میں اپنی افادیت اور قبولیت کو یقینی بناتا ہے۔

لیکن پاکستانی سیاست میں دولت، اقراپروری، کرپشن اور بدعنوانی سمیت غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدامات کے معاملات نے اس حقیقی سیاسی و جمہوری نظام کی ساکھ پر بنیادی سطح کے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ ہم مجموعی طور پر کہاں کھڑے ہیں۔ اگرچہ ریاستی و حکومتی نظام سمیت اہل سیاست کی قیادت جس کا بنیادی کام نظام میں اصلاحات کی بنیاد پر شفافیت کا نظام قائم کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے ہر وہ فرد یا ادارہ جو براہ راست نظام کی شفافیت کو قائم کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، اسے ناکامی کا سامنا ہے۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ہر انتخاب کے بعد اس کی شفافیت پر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور انتخابی عمل متنازعہ بن جاتا ہے۔

2013 کے انتخابات کے بعد جو عدالتی کمیشن بنا ، اس نے بھی اپنے تفصیلی فیصلے میں 41 نکات پر مبنی انتخابی بے ضابطگیوں پر تجاویز دیں اور کہا کہ ان پر توجہ دے کر حکومت اور ادارے انتخابی نظام کو شفاف بنائیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے بحرانوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اسی طرح عمران خان کے سیاسی دھرنے کے نتیجے میں ایک 35 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی جس کا کام انتخابی اصلاحات پر اپنی سفارشات تیار کرنا اور اس پر مزید پالیسی اور قانون سازی کی مدد سے انتخابی نظام میں شفافیت پیدا کرنا تھی۔ لیکن 2018 کے انتخابات پر بھی ہارنے والی جماعتیں اس انتخاب کو دھاندلی پر مبنی انتخاب قرار دیتی ہیں۔

حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا کے حوالے سے مارچ 2018 کے سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے ایک ویڈیو کا بڑا چرچا ہے جس میں ہم نے دیکھا کہ مبینہ طور پر ووٹوں کی براہ راست خریداری صاف دکھائی دے رہی تھی۔ یہ معاملہ محض یہاں تک محدود نہیں بلکہ اس سے قبل بھی ماضی میں ہونے والے سینٹ کے انتخابات میں اسی طرح کے الزامات پر مبنی معاملات ہم دیکھ چکے تھے، لیکن اس ویڈیو نے جو کچھ سیاسی سطح پر اہل سیاست کا بھرم تھا ، اسے بھی بری طرح بے نقاب کیا۔

اگرچہ عمران خان نے اپنے ان ارکان کو پارٹی سے بے دخل کر دیا تھا مگر ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔ حالانکہ اس وقت ان لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا چاہیے تھا اور ان کے خلاف قانونی طور پر ریفرنس بھیجا جانا چاہیے تھا۔ ان افراد کو الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت دفعہ 167,168,169 اور 170 کے تحت سزا دلوائی جاتی، لیکن اس وقت بھی سمجھوتہ کیا گیا اور اب اس ویڈیو کی بنیاد پر قانونی کارروائی کا نہ ہونا بدنیتی پر مبنی ہے۔

اسی طرح چیئرمین سینٹ کے خلاف جو حزب اختلاف نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اور تعداد ہونے کے باوجود اس میں ناکامی پر یہ دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلز پارٹی او رمسلم لیگ نون اپنے ہی ارکان کے خلاف کچھ نہیں کر سکیں۔ حالانکہ دونوں جماعتوں نے نہ صرف ان معاملات کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنائی بلکہ کہا گیا کہ ایسے ممبران جنہوں نے پارٹی فیصلے سے ہٹ کر فیصلہ کیا ، ان کو کسی بھی طور پر معاف نہیں جائے گا۔ لیکن یہ کمیٹی بے نتیجہ رہی اور کچھ نہیں ہو سکا۔

بنیادی طور پر بحران ہماری سیاسی جماعتوں کے داخلی جمہوری نظام کا بھی ہے جہاں شفافیت سے زیادہ اقربا پروری اور پسند و ناپسند کے معیارات کا غلبہ ہے۔ جب سیاسی جماعتوں میں قیادت سے لے کر اوپر سے نیچے تک عملی طور پر جوابدہی کا نظام قائم نہیں ہو گا ، جمہوری نظام کی ساکھ قائم نہیں ہو سکے گی۔ اس لیے خود سیاسی جماعتوں کا طرزعمل بھی توجہ طلب ہے جو اپنے اندر بہت سی غیر معمولی تبدیلیاں چاہتا ہے۔

اگرچہ سینٹ کے حالیہ انتخاب کی شفافیت کا ایک بڑا نکتہ اوپن بیلٹ یا خفیہ بیلٹ کی صورت میں اعلیٰ عدلیہ میں زیر بحث ہے۔ اب یہ دیکھنا یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ موجودہ سنگین صورتحال اور انتخابات کی شفافیت پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور کیسے وہ اپنے فیصلے کی بنیاد پر الیکشن کمیشن کو پابند کرتی ہے کہ وہ شفافیت پر مبنی نظام نہ صرف قائم کرے بلکہ شفافیت کا یہ نظام ہر سطح پر واضح نظر بھی آنا چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت انتخابی نظام کی شفافیت قائم کرنے کے لیے وہ کچھ نہیں کرتیں جو ہماری سیاسی اور قانونی سطح کی ضرورت بنتی ہے۔

جب ہم حزب اختلاف کا حصہ ہوتے ہیں تو انتخابی نظام کی شفافیت پر بہت سوالات اٹھائے جاتے ہیں لیکن جب یہی لوگ اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتے ہیں تو اپنی ہی ماضی کی باتوں کی تردید کر کے سٹیٹس کو ہی برقرار رکھتے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ہماری سیاسی قیادت مل کر اوپن یا خفیہ بیلٹ کا فیصلہ بذریعہ پارلیمنٹ کرتی۔ لیکن سیاست دان اپنے فیصلے خود کرنے کی بجائے قانون کا سہارا لے کر ان معاملات کو عدلیہ کے کندھوں پر ڈال دیتے ہیں جو درست حکمت عملی نہیں۔

ایک مسئلہ انتخابی نظام میں اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت سے جڑا ہوا ہے اور یہ بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ کیونکہ ان الزامات یا اقدامات سے ہمارا انتخابی نظام بڑی اصلاحات چاہتا ہے۔ لیکن یہ سب کچھ بھی جہاں اداروں کو اپنے اپنے قانونی دائرہ کار تک محدود رکھنا ہے وہیں ایسی سیاسی، انتظامی اور قانونی اصلاحات سمیت ان پر عمل درآمد کے نظام کو یقینی بنانا ہے جو ہر سطح کی انتخابی نظام میں مداخلت کو روک سکے۔ لیکن اس کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ ہماری سیاسی قیادت اس تضاد سے بھی باہر نکلے کہ اگر معاملات ان کے حق میں ہوں تو سب اچھا ہے اور اگر معاملہ ان کے خلاف ہے تو پھر الزامات کی سیاست کا سہارا لیا جائے۔ سیاسی قیادت چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف سے جڑے ہوں سب کا بیانیہ ایک ہونا چاہیے۔ لیکن اگر ہم سب اپنی اپنی ذاتی خواہش کی بنیاد پر اپنے اپنے مفاداتی بیانیے پر قائم رہیں گے تو مجموعی طور پر ریاستی بیانیہ جو شفافیت سے جڑا ہوتا ہے ، متاثر ہو گا۔

اب اگر یہ سینٹ کا انتخاب خفیہ بیلٹ پر ہوتا ہے اور ان انتخابات کے بعد بھی ہمیں یہی الزامات کی سیاست کا کھیل یعنی ووٹوں کی خریداری کا منظر سننے یا دیکھنے کو ملتا ہے تو یقینی طور پر یہ سیاست، جمہوریت اور قانون سمیت ریاستی مفاد کے مخالف ہو گا۔ اس کے بعد ملک میں مقامی سطح کے مقامی حکومتوں کے انتخابات بھی ہونے ہیں تو ایسے میں انتخابی نظام کی شفافیت کا مجموعی نظام درست ہونا چاہیے اور جو بھی سیاسی، قانونی اور انتظامی سطح پر اصلاحات درکار ہیں وہ ہماری سیاسی ترجیحات کا اہم حصہ ہونی چاہئیں۔ اسی طرح سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے داخلی سیاسی نظام کی اصلاح پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ وہاں جو بگاڑ ہے اس کا سدباب بھی اہمیت رکھتا ہے۔

مسئلہ محض سینٹ کے انتخابات کا نہیں بلکہ قومی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کا مجموعی نظام عدم شفافیت کی بنیاد پر کھڑا ہے اور اس میں ہر سطح پر غیر معمولی اقدامات درکار ہیں اور ہر ادارے میں بڑے پیمانے پر بڑی سرجری درکار ہے۔ کیونکہ انتخابات کی شفافیت کو قائم کرنے کا مرض چھوٹا نہیں اور نہ ہی اس مرض کی اصلاح کسی ڈسپرین کی گولی سے ممکن ہو گی۔

بہتر ہوتا کہ اس سیاسی ماحول میں حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان بے اعتمادی نہ ہوتی اور یہ مل کر جو اصلاحات یا درستگی نظام انتخاب میں کرنا چاہتے ہیں وہ کر لیتے تو ریاستی و حکومتی مفاد کو بھی برتری ہوتی۔ لیکن لگتا یہ ہے کہ ہمارا سیاسی اور انتخابی نظام یونہی سیاسی تماشے کے طور پر قائم رہے گا اور اس کی ذمہ داری سب ہی فریقوں پر عائد ہوتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *