ایوان بالا کے انتخابات کا شور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

2021 میں ہونے والے ایوان بالا کے انتخابات کا پاکستان کے ایوانوں میں شور بڑھنے لگا۔ پاکستان کے ایوان زیریں میں اکثریت پانے والی اور 2018 میں ہونے والے عام انتخابات میں جیتنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اس بڑھتے شور کی بنیاد قومی اسمبلی میں ڈالی۔

قومی اسمبلی میں شور سے بھرپور اجلاس ہوا جب حکومت نے 26 ویں آئینی ترمیم کا بل پیش کیا جو سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری کے لیے تھا ۔ اپوزیشن جماعتوں نے بھرپور انداز میں مخالفت کی۔

میثاق جمہوریت پر دستخطوں کے باوجود، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کھلی رائے شماری کے ذریعے سینیٹ انتخابات کروانے کی تجویز کی بھرپور مخالفت کر رہی ہیں۔ حکومت نے آئین میں ایک اور ترمیم آرٹیکل 63 ( 1 ) (سی) لانے کی کوشش کی جس میں دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں کو انتخابات لڑنے کی اجازت ہو گی۔ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے احسن اقبال نے کہا کہ ہم حکومت کو آئین بلڈوز کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت نے ترمیمی بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے ذریعے 20 منٹ میں منظور کر لیا۔

پاکستانی پارلیمان کے ایوان بالا (سینٹ) کے انتخابات کا شور یہاں تھما نہیں بلکہ اس رکھ نے ایک نیا موڑ لے لیا۔ اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان کے ذریعے وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 186 کے تحت صدارتی ریفرنس دائر کیا، جس میں عدالت عظمیٰ سے رائے طلب کی گئی کہ سینیٹ کے انتخابات آئین (آرٹیکل 226 ) کے تحت ہوتے ہیں  یا قانون (الیکشن ایکٹ 2017) کے تحت۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ ججوں جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی پر مشتمل لارجر بینچ اس ریفرنس کی سماعت کر رہا ہے۔

حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ سینیٹ انتخابات قانون کے تحت ہوتے ہیں لہٰذا آئین کے آرٹیکل 226 میں ترمیم کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایڈوکیٹ جنرل، الیکشن کمیشن آف پاکستان، چیئرمین سینیٹ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کو نوٹسز جاری کر دیے گئے۔

اسی سلسلے میں حکومت نے پہلے ہی ایک آرڈیننس جاری کر دیا، جس کے تحت سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تاہم، آرڈیننس کا نفاذ سپریم کورٹ کے فیصلے سے مشروط ہے۔

ججوں نے 15 سے زیادہ سماعتوں کے دوران متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ پہلے انہوں نے قانونی سوال پر توجہ دی جو صدارتی حوالے کا بنیادی موضوع ہے۔ اس کے بعد عدالت عظمیٰ نے چیف الیکشن کمشنر سمیت تمام ای سی پی ممبران کو طلب کیا تاکہ وہ ملک میں بدعنوانیوں کو روکنے کے لئے انتخابی اسکیم کے بارے میں آگاہ کریں۔

وفاقی حکومت کی سینیٹ انتخابات میں کھلی رائے شماری کی جنگ جاری ہے۔ ساتھ ہی ساتھ تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے سینیٹ انتخابات کے لیے اپنے امیدوار کھڑے کر دیے ہیں، نامزدگی کے کاغذات جمع کروا دیے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن حتمی فہرست 21 فروری کو جاری کرے گا۔

3 مارچ 2021 کے ایوان بالا کے انتخابات کی تیاریاں معمول کے مطابق جاری ہیں مگر حکومت کا یہ خوف کہ سینیٹ میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے وہ قانون سازی نہ کر پائے گی، اس کی وجہ سے اس بار یہ شور زیادہ سنائی دے رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply