مکان ’گھر‘ اور ملک ’ریاست‘ کیسے بنتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق نے لاہور میں مرکزی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”موجودہ حکومت اور نظام دونوں ناکام ہو گئے، ملک میں گڈ گورننس کا نام نشان تک نہیں۔ حکومت مافیاز کے ہاتھوں مکمل یرغمال بنی ہوئی ہے۔ الیکشن کمیشن وزیراعظم کے سینیٹ الیکشن کی نگرانی سے متعلق دیے گئے بیان کا نوٹس لے اور ان سے وضاحت طلب کرے۔ گمشدہ افراد کی مائیں بہنیں پارلیمنٹ کے سامنے بیٹھی ہیں ان کی آہوں کو نہ سنا گیا اور ظلم بند نہ ہوا تو عوام حکمرانوں کا گریبان پکڑیں گے۔ملک میں حقیقی احتساب ہوا تو حکمرانوں کو بھاگنے کا راستہ بھی نہیں ملے گا“

امیر جماعت اسلامی بہت محترم سہی لیکن ان کی خدمت میں بہت ہی مؤدبانہ انداز میں یہ کہنے کی جسارت ضرور ہے کہ کسی کی بھی ناکامی یا کامیابی کے ہونے یا نہ ہونے کا تعلق اس کے ”ہونے“ پر ہوا کرتا ہے۔ جب ملک میں گزشتہ 73 برس سے نہ تو کوئی نظام موجود ہو اور نہ ہی حکومت نام کی کوئی شے آج تک دیکھی گئی ہو تو پھر ناکامی یا کامیابی کا سوال تو بعد کی بات ہے۔

بہت سارے مکانات پوری دنیا، بشمول پاکستان، ایسے موجود ہوں گے جو اپنی تعمیر کے اعتبار سے اپنا ثانی نہیں رکھتے ہوں گے تو کیا لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں موجود ایسے مکانات ”گھر“ کا درجہ رکھتے ہیں۔ مکانات کا ہونا اور ان میں انسانوں کا موجود ہونا ایک الگ بات ہے اور مکانات کا ”گھر“ کہلانا دوسری بات۔ صرف انسانوں کے کسی مکان میں موجود ہونے پر دنیا اس کو ”گھر“ کہتی اور مانتی تو بڑے بڑے ہوٹل، ریسٹورانٹ، پناہ گاہیں، اور ہاسٹل، سب کے سب گھر کہلایا کرتے اور کسی کسی وقت تو اعلیٰ ترین گھر کرکٹ یا فٹبال کے میدان بھی بن جایا کرتے۔ کسی بھی مقام یا میدان میں انسانوں کا ہجوم اگر ”گھر“ نہیں کہلا سکتا تو ایک مکان میں صرف چند نفوس کی موجودگی ”گھر“ ہونے کی دلیل کیسے ہو سکتی ہے۔

کوئی بھی مکان اس وقت ”گھر“ کہلاتا جب اس گھر میں نہ صرف ایک باقاعدہ ”نظام“ موجود ہو اور وہاں کسی ایک فرد کی ایسی حکومت ہو جس پر نہ صرف سب اعتماد کرتے ہوں بلکہ وہ ہر اعتبار سے اتنا مضبوط و مستحکم ہو کہ اپنی باتیں منوانے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہو۔

مکان خواہ غریب کا ہو یا کسی دولت مند کا، مکان کا ”گھر“ کہلائے جانے کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوا کرتا بلکہ گھر چلانے والے کا کردار اور اس کی صلاحیتیں مکان کو ”گھر“ کا درجہ دیا کرتی ہیں۔

یہی حال ریاستوں کا ہے، جغرافیائی حدود کسی ریاست کو ”ملک“ تو بنا دیتی ہیں لیکن دنیا میں وہ حقیقی ریاست کا درجہ کبھی حاصل نہیں کر سکتی۔ جس ملک میں کوئی نظام نافذ ہو اور نہ ہی حکومت نام کی کوئی چیز کہیں پائی جاتی ہو، وہ اپنی جغرافیائی حدود کی وجہ سے ایک ملک تو ضرور کہلا سکتا ہے لیکن دنیا اسے ایک ریاست کا درجہ کبھی اور کسی صورت نہیں دے سکتی۔

امیر جماعت اسلامی جس ملک کی بات کر رہے ہیں اس کے قیام  کے فوری بعد سے تا حال نہ تو کوئی نظام نافذ ہو سکا اور نہ ہی حکومت نام کی کوئی شے وجود میں آ سکی۔ جب صورت حال یہ ہو تو وہاں جغرافیائی حدود تک غیر محفوظ ہو جایا کرتی ہیں جس کی ایک مثال تو مشرقی پاکستان کا اس پاکستان سے الگ ہونا تھا جس کو اللہ کے نظام کے نفاذ کے لئے بنایا گیا تھا اور اس کے بعد بھی کوئی سبق نہ سیکھنے کی وجہ سے باقی ماندہ خطہ ہائے ریاست کو یکجا رکھنا امر محال بنتا نظر آ رہا ہے۔

یہ بات طے ہے کہ کسی بھی ریاست کی جغرافیائی حدود کے محافظ جہاں عوام یا عسکری طاقت ہوا کرتی ہے وہیں عوام اور عسکری طاقت کی اصل ”طاقت“ اس ملک کا نظام، آئین اور قانون ہوا کرتا ہے۔ آئین و قانون جس ریاست کی طاقت بن جائے تو پھر اس ملک کا زوال اس وقت تک ممکن نہیں رہتا جب تک وہاں آئین و قانون کی خلاف ورزیاں عام نہ ہو جائیں۔

کسی بھی ریاست کے سارے اداروں کو مربوط رکھنا صرف اور صرف آئین و قانون کا ہی کام ہوتا ہے۔ جس ریاست میں آئین و قانون کا احترام اٹھ جائے وہاں صرف ادارے ہی بے نکیل نہیں ہو جایا کرتے بلکہ ملک کا ایک ایک فرد بزعم خود آئین و قانون بن جاتا ہے اور پھر ایسے ممالک ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانوں کی مانند بکھر جایا کرتے ہیں۔

آئین صرف اس بات کا نام نہیں کہ ملک کی کسی اسمبلی نے اسے مرتب کر کے واضح اکثریت یا اتفاق رائے سے ایک کتابی شکل دے دی ہو بلکہ اس کی ایک ایک شق پر عمل درآمد کرنے اور کرائے جانے کا نام آئین کہلایا کرتا ہے۔ پاکستان میں ایک عام فرد سے لے کر، کوئی ایک ادارہ بھی اس بات کی قسم نہیں اٹھا سکتا کہ وہ ملک کے آئین و قانون کے مطابق عمل کرتا ہے اور آئین میں طے شدہ اختیارات کے مطابق اپنے اختیارات استعمال کرنے کا پابند ہے۔

پاکستان میں آئین کتاب اللہ کی طرح جزدانوں میں لپیٹ کر اس پر عطر پاشی کے لئے رکھ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک فرد واحد سے لے کر، ہر ادارہ آئین کی دھجیاں بکھیرنے پر لگا ہوا ہے۔ جب عالم یہ ہو تو پھر ”نظام“ یا ”حکومت“ کی کامیابی و ناکامی پر گلہ شکوہ ایک فضول گوئی سے زیادہ نہیں ہوا کرتی جو صرف امیر جماعت اسلامی ہی نہیں، پورا پاکستان کرتا چلا آ رہا ہے۔

آئین و قانون کی مسلسل خلاف وریاں اب ملک کو ایسے مکان کے نقشے میں بتدل کرنے کے قریب لے آئی ہیں جہاں مکان کے مکین یا تو گھر فروخت کرنے کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتے نظر آ رہے ہیں یا ایک ہی مکان میں ہر مقیم دیواریں اٹھانے کی منصوبہ بندی میں اپنی اقدار و روایات کا تحفظ دیکھتا نظر آ رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply