مادری زبان کا عالمی دن کیوں منایا جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکیس فروری کی تاریخ قریب ہے۔ اس دن کو مادری زبان کے عالمی دن کے طور پہ منایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان میں بھی تقریبات ہوتی ہیں۔ لیکن اس دن کی تاریخ بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ خصوصاً پاکستان کے لوگوں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ یہ جاننے کے بعد ان کے لیے اس دن میں کوئی قابل فخر بات نہ رہے۔

یونیسکو کے بقول یہ دن منانے کا مقصد زبان و ثقافت کے تنوع کو اجاگر کرنا اور کثیراللسانیت کو فروغ دینا ہے۔ یونیسکو  نے 17 نومبر 1999ء کو یہ دن منانے کی تجویز پیش کی۔ جسے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 2002ء میں قرارداد نمبر 56 / 262 کے ذریعے منظور کر لیا۔ مادری زبان کا عالمی دن اقوام متحدہ کے اس وسیع پروگرام کا حصہ ہے جسے اسمبلی نے 16 مئی 2007ء کو قراداد نمبر 61 / 266 کے ذریعے منظور کیا۔ اس پروگرام کا مقصد تمام دنیا کی زبانوں کو تحفظ دینا ہے۔ 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن منانے کی تجویز سب سے پہلے بنیادی طور پہ بنگلہ دیش کی طرف سے آئی جہاں یہ دن ایک قومی دن کی طور پہ منایا جاتا ہے۔

بنگلہ دیش میں یہ دن ان شہداء کی یاد میں منایا جاتا ہے جنہیں پاکستانی پولیس نے 1952ء میں فائرنگ کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد 1948ء میں بابائے قوم قائداعظم نے ڈھاکہ کے ریس کورس گراؤنڈ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہو گی حالانکہ اس وقت بنگالی اکثریت میں تھے اور توقع کر رہے تھےکہ سرکاری زبانوں میں سے ایک بنگالی بھی ہو گی لیکن ایسا نہ ہو سکا، جس پہ بنگالیوں نے احتجاج کیا لیکن ان کی نہ سنی گئی۔

اس ایک فیصلے نے ملک کے دونوں بازوؤں میں نفرت اور عدم تحفظ کے جو بیج بوئے، وہ بڑھتے بڑھتے 1971ء تک تناور درخت بن گئے۔ مجیب الرحمان نے اس ایشو کو خوب استعمال کیا۔ 1948ء میں بنگالیوں کا یہ مطالبہ پاکستان کی مجلس قانون ساز میں مشرقی پاکستان کے رہنما دھریندرا ناتھ دتا نے پیش کیا لیکن اسے مسترد کر دیا گیا، لیکن بنگالیوں نے زبان کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

حکومت پاکستان نے مظاہروں پہ پابندی لگا دی۔ جب جنوری 1952ء میں اردو کو باقاعدہ سرکاری زبان قرار دے دیا گیا تو بنگالیوں کے احتجاج میں شدت آ گئی۔ ڈھاکہ میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی۔ لیکن اس کے باوجود 21 فروری 1952ء کے دن ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبہ نے عوام کے ساتھ مل کے ایک بہت بڑا جلوس نکالا۔ پولیس نے اس جلوس پہ فائر کھول دیا۔ جس سے پانچ طلبہ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔ ان کے نام سلام، برکت، رفیق، جبار اور شفیع الرحمان تھے۔

کچھ لوگ کہتے ہیں، پولیس کی فائرنگ سے چالیس افراد جاں بحق ہوئے۔ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ بنگالی اس دن کو اپنی آزادی کے لیے سنگ میل سمجھتے ہیں۔ وہ اس بات پہ فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے مادری زبان کے تحفظ کے لیے جانیں قربان کیں۔ ایسا تاریخ میں شاید ہی ہوا ہو کہ کسی قوم نے اپنی مادری زبان کے لیے جانیں دی ہوں۔ وہ چاہتے تھے کہ دنیا کو اپنی اپنی مادری زبان کی اہمیت سے روشناس کرایا جائے اور ان زبانوں کو معدوم ہونے سے بچایا جائے۔ اس لیے کینیڈا کے شہر وینکوور کے رہائشی دو بنگالیوں رفیق الاسلام اور عبدالسلام نے 1998ء میں اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان کو خط لکھ کر تجویز دی کہ اس دن کو عالمی دن کے طور پہ منایا جائے۔

اقوام متحدہ کی ویب سائٹ پہ اس سلسلے میں تحریر ہے کہ ’’زبان کسی بھی ٹھوس اورمضبوط ورثے کے تحفظ اور ترقی کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔ مادری زبان کو فروغ دینے اور پھیلانے کے لیے تمام اقدامات نہ صرف لسانی تنوع اور کثیراللسانی تعلیم کا باعث بنتے ہیں بلکہ ساری دنیا میں لسانی اور ثقافتی روایات سے آگاہی بھی فراہم کرتے ہیں اور افہام و تفہیم، رواداری اور مکالمے کی بنیاد پہ یکجہتی کا موجب بنتے ہیں۔ ‘‘

رفیق الاسلام نے بنگلہ دیش کی اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کو اس سلسلے میں تجویز بھیجی جو بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی۔ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اسے باقاعدہ ایک قرارداد کی شکل میں یونیسکو میں بھجوایا گیا۔ جہاں بنگلہ دیش کے مستقل نمائندے سید معظم علی اور پھر توزمل حق نے یونیسکو میں اس کی منظوری کے لیے لابنگ کی۔ بالآخر 17 نومبر 1999ء کے دن یونیسکو نے ڈھاکہ کے شہداء کی یاد میں 21 فروری کو مادری زبان کا عالمی دن قرار دے دیا۔ اب یہ دن ہر سال پوری دنیا میں منایا جاتا ہے۔ جس معاملے کو ہماری اس وقت کی حکومت نے طاقت سے دبانے کی کوشش کی۔ اس میں آج ساری دنیا بنگالیوں کے ساتھ ہے۔

دلچسپ بات یہ کہ حکومت پاکستان نے 1954ء میں بنگالی عوام کے اس مطالبے کو تسلیم کر لیا اور بنگالی پاکستان کی دوسری قومی زبان قرار پائی لیکن اس وقت نفرتوں کے بیج بوئے جا چکے تھے۔ جو خلیج پیدا ہو چکی تھی۔ وہ کبھی نہ پاٹی جا سکی بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ وسیع سے وسیع تر ہوتی گئی۔ کیونکہ پاکستان کے ارباب اختیار کی ذہنیت اور رویہ تبدیل نہ ہوا اور اس تحریک کے مضمرات پہ کبھی غور نہ کیا گیا۔

اس سے پیدا ہونے والی نفرتوں کو کم کرنے کی کبھی کوئی کوشش نہ کی گئی اور اس روش کا جو نتیجہ نکلا اس کی پہلی قسط 7 دسمبر 1970ء کے الیکشن والے دن سامنے آئی اور دوسری 16 دسمبر 1971ء کو جب ہماری افواج نے اسی شہر ڈھاکہ میں بھارتی افواج کے سامنے ہتھیار ڈالے۔ اگر 1948 میں مجلس قانون ساز میں ہتھیار ڈال دیے جاتے تو شاید ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں تقریب کبھی منعقد نہ ہوتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ڈاکٹر سید ندیم حسین کی دیگر تحریریں

Leave a Reply