ترقی پسند ادیب،صحافی اور انقلابی رہنما احمد نظامی کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ میں ساؤتھ ایشین کمیونٹی میں ایک بڑا نام، انسانی حقوق کے علم بردار، ریسزم مخالف کمپینر اور سماجی برابری کے لیے کوشاں سید احمد وارث نظامی جو صحافتی اور سیاسی حلقوں میں احمد نظامی کے نام سے جانے جاتے تھے، برسوں تک کینسر جیسی جان لیوا بیماری سے لڑتے لڑتے جمعرات 4 فروری کو انتقال کر گئے۔ وہ عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے قائم مقام صدر اور اور جلیانوالہ باغ سانحہ کے خلاف 2019 میں بننے والی صد سالہ کمپین کمیٹی مانچسٹر ریجن کے کوارڈینیٹر تھے۔

ستمبر 1952 میں اوکاڑہ میں پیدا ہونے والے احمد نظامی نے ابتدائی تعلیم اوکاڑہ سے، انٹرمیڈیٹ ساہیوال سے اور گریجویشن لاہور سے کی۔ تعلیم مکمل کر کے لاہور میں ہی روزنامہ آفاق سے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ کچھ عرصہ بعد کراچی چلے گئے اور روزنامہ جنگ کے اسسٹنٹ ایڈیٹر رہے۔ بعد ازاں روزنامہ امن سے وابستہ ہو گئے۔

احمد نظامی کے ساتھ میرا رشتہ نظریاتی اور سیاسی تھا۔ ہم نے برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف ساؤتھ ایشین کمیونٹی کو اکٹھا کرنے، انقلابی سیاست میں عملی طور پر شراکت کے علاوہ جلیانوالہ باغ خونی سانحہ کے سو سال مکمل ہونے پر 2019 میں عوامی سطح پر شعور اجاگر کرنے اور برطانوی سرکار کی جانب سے اس وحشیانہ بربریت پر ریاستی سطح پر معافی مانگنے کے مطالبے سمیت مختلف کمپینز میں حصہ لیا اور ان کی قیادت کی۔

احمد نظامی زمانہ طالب علمی سے ہی ترقی پسند خیالات کے اسیر ہو گئے تھے، جو انہیں اپنے بڑے بھائی صابر نظامی سے ملے۔ صابر نظامی بہت اعلیٰ درجے کے لکھاری تھے اور انجمن ترقی پسند مصنفین میں بہت سرگرم تھے۔ صابر نظامی ذاتی طور پر بہت ہی نفیس انسان تھے۔ وہ ممتاز قانون دان، جوڈیشل کمیشن کے ممبر اور عوامی ورکرز پارٹی کے جنرل سیکرٹری اختر حسین ایڈووکیٹ اور ممتاز انقلابی رہنما شمیم اشرف ملک کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔

بعد ازاں 2011 میں صابر نظامی صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ احمد نظامی کا سارا گھرانا ہی ترقی پسند ہے اور حسن اتفاق کہ راقم کی سب کے ساتھ گہری نیاز مندی ہے۔ دوسرے بھائی ڈاکٹر اشرف نظامی نے سوویت یونین سے تعلیم حاصل کی تھی اور آرتھوپیڈک سرجن ہیں، دیگر خدمات کے ساتھ ساتھ پاکستان میں پولیو سے بچاؤ کے لیے بہت کام کرتے ہیں۔ آج کل پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) کے صدر ہیں۔ تیسرے بھائی اکرم نظامی سپریم کورٹ میں وکیل ہیں۔ ان کے بیٹے ذوہیب نظامی، صہیب نظامی، شکیب نظامی اور بیٹی صدف نظامی اپنی خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔

احمد نظامی

مارچ 1970 میں احمد نظامی ابھی 17 برس کے تھے جب ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تاریخی کسان کانفرنس ہو رہی تھی اور انہوں نے اوکاڑہ سے لاہور پہنچ کر مولانا بھاشانی کے ساتھ اس خصوصی ٹرین میں سفر کیا تھا جس کا نام کسان ایکسپریس رکھا گیا تھا اور جو ہزاروں ترقی پسند ادیبوں، صحافیوں، کسانوں مزدوروں، طالب علموں اور خواتین کو لے کر ٹوبہ ٹیک سنگھ گئی تھی۔ حسن اتفاق کہ میں نے بھی اس کانفرنس میں شرکت کی تھی اور اس وقت میں صرف 8 برس کا تھا۔

ایک تو میں ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قریب ایک گاوٴں میں پیدا ہوا تھا اور دوسرا میری خوش قسمتی کہ مجھے کسان کانفرنس کے آرگنائزر اور معروف کسان راہنما کامریڈ چوھدری فتح محمد کا بیٹا ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ اس کانفرنس میں شرکت کے بعد احمد نظامی نے نیشنل عوامی پارٹی میں باقاعدہ طور پر شرکت اختیار کر لی۔ تعلیم مکمل کر کے وہ صحافت کے پیشے سے منسلک ہو گئے تھے۔ اس دوران 5 جولائی 1977 کو انہوں نے نیشنل بینک میں ملازمت کر لی، لیکن دوسرے لوگوں کے جائز و ناجائز سرمائے کا حساب رکھنا ان کے مزاج کے خلاف تھا اور چار ماہ میں ہی ملازمت چھوڑ کر دوبارہ صحافت سے منسلک ہو گئے۔

1989 میں برطانیہ تشریف لے آئے اور مانچسٹر میں آباد ہو کر اردو صحافت کے ساتھ اپنا رشتہ برقرار رکھا۔ یہاں ان کے قریبی رفقاء میں محبوب الہی بٹ، محمد ضمیر، پروفیسر امین مغل اور ہمراز احسن شامل تھے۔ چند ماہ مانچسٹر میں روزنامہ جنگ میں جونیئر رپورٹر کی حیثیت سے کام کیا اور پھر انہیں روزنامہ آواز میں سب ایڈیٹر کر جاب مل گئی۔ جلد ہی وہ ایک تجربہ کار ایک منجھے ہوئے سیاسی تجزیہ نگار، ٹیلی ویژن کے میزبان، خبروں اور کرنٹ افیئر شوز کے اینکر بھی بن گئے۔

انہوں نے یہاں آ کر وکالت میں ڈپلومہ کر کے کچھ عرصہ برطانوی امیگریشن امور میں کمیونٹی کی رہنمائی کی۔ برطانیہ آمد کے چند برس بعد ہی وہ مانچسٹر کے پہلے برطانوی پاکستانی صحافی بن گئے جنہوں نے مانچسٹر سے ہفتہ وار اخبار اردو اور انگریزی، دو زبانوں میں شائع کیا۔ بعد ازاں انہوں نے انگریزی، اردو، پنجابی اور بنگالی چار زبانوں میں اخبار نکالا۔ احمد نظامی نے 90 کی دہائی میں گریٹر مانچسٹر سے پہلی ایشین بزنس ڈائریکٹری شائع کی جس نے آج کے بہت سے کامیاب منصوبوں کی راہ ہموار کر دی جو اب برطانوی ایشینز بالخصوص پاکستانی کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کر رہے ہیں۔

احمد نظامی نے پاکستان کے ٹیلی ویژن کے مقبول پروگرام ”نیلام گھر“ کی طرز پر کوئز شوز کا اہتمام کیا تھا جس نے انگلینڈ میں پاکستانی ثقافت اور اردو زبان کو فروغ دینے میں بہت مدد دی۔ وہ 2000 میں پاکستان پریس کلب مانچسٹر کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے۔ اس تنظیم کے ذریعے احمد نظامی نے پاکستان پریس کلب کے پلیٹ فارم سے برطانیہ میں کام کرنے والے پاکستانی صحافیوں کی مدد کے لئے بہت سے اقدامات کیے۔

احمد نظامی کی زندگی ایک سرگرم کمیونٹی کارکن کے طور پر خدمات سے بھری پڑی ہے اور انہوں نے ہمیشہ برطانوی پاکستانیوں کی مدد کے لیے جدید طریقے تلاش کیے۔ جب 2005 میں مانچسٹر میں پہلا برطانوی پاکستانی سیٹلائٹ ٹیلی ویژن چینل ڈی ایم ڈیجیٹل لانچ کیا گیا تو احمد نظامی کو نان ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کیا گیا اور وہ خبروں اور کرنٹ افیئر پروگراموں کی نگرانی کرتے رہے۔

اکتوبر 2009 میں ہم نے استاد محترم عابد حسن منٹو کو برطانیہ مدعو کیا اور مختلف شہروں میں عوامی تقاریب منظم کیں تو بریڈ فورڈ کی تقریب کے بعد احمد نظامی نے باقاعدہ طور پر نیشنل ورکرز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ بعد ازاں نیشنل ورکرز پارٹی نے بکھرے ہوئے ترقی پسندوں کو اکٹھا کرنے اور بائیں بازو کی پارٹیوں کے انضمام کا سفر جاری رکھتے ہوئے 2010 میں ورکرز پارٹی اور 2012 میں عوامی ورکرز پارٹی کی بنیاد رکھی تو فروری 2013 میں عوامی ورکرز پارٹی نارتھ برطانیہ کے بریڈ فورڈ میں منعقد ہونے والے فاؤنڈنگ اجلاس میں احمد نظامی کو پارٹی کا سینئر نائب صدر منتخب کر لیا گیا۔

بعد ازاں رشید احمد سرابھا علیل ہو گئے تو وہ صدر بن گئے۔ احمد نظامی نے مانچسٹر اور گرد و نواح میں انقلابی تحریک کو منظم کرنے اور تقریبات منعقد کرنے میں قائدانہ کردار ادا کیا۔ 2011 میں فیض احمد فیض کی صد سالہ تقریبات منانے کے لیے برطانیہ بھر کے ترقی پسندوں کو ملا کر نیشنل کوارڈینشن کمیٹی بنی تو احمد نظامی اس کے رکن اور مانچسٹر کمیٹی کے آرگنائزر منتخب ہوئے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین برطانیہ کے صدر گورنام سنگھ مرکزی صدر اور راقم جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے تھے۔

سب سے پہلی تقریب بھی 5 مارچ 2011 کو مانچسٹر ہی میں منعقد کی گئی جو شہر کی تاریخ کی بہترین تقریب تھی جس میں 400 سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی تھی۔ احمد نظامی کو اس تقریب سے دو روز قبل ہارٹ پرابلم کی وجہ سے ہسپتال داخل ہونا پڑا جس کی کسی کو خبر نہ تھی۔ وہ اس قدر نڈر، قابل بھروسا اور کمیٹڈ انسان تھے کہ تقریب سے قبل بیماری کی حالت میں ہسپتال سے نکل کر تقریب کے تمام انتظامات مکمل کیے ، مٹھائی اور سنیکس جن شاپس سے سپانسر لیے تھے وہ ہال میں پہنچائے اور میرے کان میں تمام صورت حال بتا کر چپکے سے واپس ہسپتال چلے گئے۔

2019 میں سانحۂ جلیانوالہ باغ کو سو سال مکمل ہونے تھے تو ہم نے 2018 کے آخر میں ہی ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے ترقی پسندوں کو ملا کر جلیانوالہ باغ سینٹینری کمیٹی تشکیل دے دی۔ 23 دسمبر 2018 کو احمد نظامی نے مانچسٹر سٹی کالج کے ہال میں مانچسٹر ریجن کا فاؤنڈیشن اجلاس بلا لیا۔ اجلاس میں ریجنل کمیٹی بنی تو احمد نظامی اس کے کنوینئر منتخب ہوئے۔ انہوں نے کمیٹی کی مدد سے مانچسٹر میں دو تقریبات منظم کیں جو اس قدر کامیاب رہیں کہ اس سے متاثر ہو کر ایک تقریب روزنامہ مارننگ سٹار، یونائیٹ یونین اور کمیونسٹ پارٹی برطانیہ نے مانچسٹر میں منعقد کی اور ایک فرینج میٹنگ برطانیہ کے سکولوں کالجوں اور یونیورسٹی کے اساتذہ کی کی تنظیم جسے نیشنل ایجوکیشن یونین کہتے ہیں، نے مانچسٹر میں اپنی کانفرنس کے دوران منعقد کی۔

احمد نظامی 2009 میں بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کے لئے کام کرنے والی ایک تنظیم جو اوورسیز پاکستانی جرنلسٹس کونسل (او پی جے سی) کے فاؤنڈنگ صدر منتخب ہوئے تھے۔ وہ اپنی آخری سانس تک خلش میگزین اور خلش آن لائن کے ناشر اور ایڈیٹر بھی رہے۔ انہوں نے اپنا آن لائن ٹیلی ویژن چینل S۔ N۔ TV بھی بنایا، جس میں کرنٹ افیئرز، کتاب میلہ اور ادبی پروگرام دریچے قابل ذکر ہیں۔ کرنٹ افیئرز کے پروگرام وہ خود ہوسٹ کرتے تھے جبکہ کتاب میلہ نامور ادیب سرور غزالی اور دریچے نامور شاعرہ محترمہ بختاور شاہ شفق ہوسٹ کرتی تھیں۔

احمد نظامی نے برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہتے ہوئے، جہاں پر آسائش زندگی کے مواقعے موجود ہیں، انقلابی سیاست اور پاکستان میں مظلوم، محکوم اور پسے ہوئے طبقات، کسانوں اور مزدوروں کی زندگیوں میں بہتری لانے کا ہی انتخاب کیا۔ وہ ایک انتہائی سنجیدہ، با علم، با عمل اور تجربہ کار سیاسی کارکن تھے جو ہمہ وقت سیاسی سرگرمیوں کے لیے تیار رہتے تھے۔ وہ جب بھی کوئی ٹاسک لیتے تو اسے بروقت پورا کرتے اور ساتھیوں کے بھروسے پر پورا اترتے تھے۔ سماجی تبدیلی، مساوات اور انصاف پر مبنی سماج کے قیام کا جو خواب انہوں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں دیکھا تھا، اپنی آخری سانس تک اس پر کاربند رہے۔ ایسے درویش صفت اور نایاب انسان تحریکوں کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرویز فتح (لیڈز-برطانیہ)

پرویز فتح برطانیہ کے شہر لیذز میں مقیم ہیں اور برٹش ایروسپیس انڈسٹری سے وابستہ ہیں۔ وہ برطانیہ میں ساوتھ ایشین ممالک کے ترقی پسندوں کی تنظیم ساوتھ ایشین پیپلز فورم کورڈینیٹر ہیں اور برطابیہ میں اینٹی ریسزم اور سوشل جسٹس کے لئے سرگرم ہیں۔

pervez-fateh has 5 posts and counting.See all posts by pervez-fateh

Leave a Reply