ایمرسن کالج ملتان کو یونیورسٹی بنانا غلط کیوں ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


انسانی ترقی میں علم وہ واحد ہتھیار رہا ہے جس نے انسان کو آگے بڑھنے میں مدد کی ہے۔ خوراک، لباس اور رہائش کے ساتھ دیگر انسانی ضروریات علم کی مرہون منت رہی ہیں۔ ہزاروں سال سے تعلیمی اداروں کا انسانی فلاح و بہبود میں اہم کردار رہا ہے اور بظاہر لگتا ہے کہ تعلیمی اداروں سے ہی قومیں کامیابی کی طرف گامزن ہوں گی ۔

قوموں نے عروج و زوال بھی علم کی وجہ سے پایا۔ جن قوموں نے اپنے علم سے ذرائع پر دسترس حاصل کی وہ کامیاب رہیں۔ جب کہ سست، علم دشمن اور کاہل قوموں کا ناکامی اور لاچاری مقدر ٹھہرا۔

اب تک کی انسانی ترقی میں کوئی چیز تعلیمی اداروں سے زیادہ اہم نظر نہیں آتی۔ کیونکہ تعلیمی ادارے تمام شعبہ جات کی نرسری ہیں۔ انہی اداروں سے ڈاکٹرز، انجنئیرز، سول سرونٹس، وکیل، جج، معاشرے کا نظم و نسق چلانے والے پولیس مین، قانون دان، سیاستدان، جرنیل، بینکرز، کلرک، ٹیکنالوجی ایکسپرٹ، سائنسدان اور دیگر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ نکلتے ہیں۔ تعلیمی اداروں نے معاشرے کو آگے بڑھانے اور صحیح سمت دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاریخی تعلیمی ادارے ملک و قوم کا ورثہ سمجھے جاتے ہیں کیونکہ ان تعلیمی اداروں سے نامور شخصیات کی بڑی تعداد نے ملک و قوم کی خدمت کی ہوتی ہے۔

ایسے ہی تاریخی حیثیت رکھنے والے اداروں میں شہر اولیاء میں موجود گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان ہے۔ یہ ادارہ اپریل 1920 میں قائم ہوا جسے بعد ازاں پنجاب کے گورنر ہربرٹ ولیم ایمرسن کی تعلیمی خدمات کو دیکھتے ہوئے 1933 میں اس کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ اس تاریخی ادارے نے اپنے سو سالوں میں کیسے کیسے نایاب ہیرے تراشے ہیں ۔ اس ادارے سے تعلیم یافتہ لوگوں نے ایک صدی ملکی و غیر ملکی اداروں میں خدمات سرانجام دیں۔ کئی جرنیل، چیف جسٹس، وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، ٹیکنوکریٹس، بیوروکریٹس، سیاستدانوں کا مادر علمی گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان ہے۔ یہاں تک کہ موجودہ چیف منسٹر پنجاب سردار عثمان خان بزدار کی مادر علمی بھی یہی درسگاہ ہے۔

حال ہی میں ایک آرڈیننس کے ذریعے اس کالج کی حیثیت ختم کر کے اسے یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ جو اس تعلیمی ادارے کے لیے اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ افسوس ناک اس لیے بن گیا ہے کہ حکومت نے کالج کی شناخت ختم کر کے یونیورسٹی بنائی ہے تاکہ اس کے مالی معاملات حکومت پنجاب کی بجائے یونیورسٹی انتظامیہ دیکھے۔ اس عمل کے بعد کالج کے طلبا و اساتذہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے کیونکہ اس کے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ یونیورسٹیوں کی بھاری فیسیں ادا کرنا غریب بچوں کے لیے ناممکن ہو گا اور سستی تعلیمی معاشرے میں ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔

اس کالج میں کئی بی ایس اور ماسٹر پروگرامز جاری ہیں جن کی فی سمیسٹر فیس گیارہ سو روپے سے پندرہ سو روپے تک ہے۔ جو یونیورسٹی بننے کے بعد ممکنہ طور پر چالیس سے پنتالیس ہزار فی سمیسٹر ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کالج کی تاریخی حیثیت کا خاتمہ ملک و قوم کے لیے ایک سانحہ سے کم نہیں ہو گا۔ حکومت کے اس اقدام پر طلبا و اساتذہ سراپا احتجاج ہیں اور حکومت سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ سو سالہ تاریخ رکھنے والے ادارے کو آئی ایم ایف پلان کے تحت ’خودمختار‘ نہ کریں بلکہ اس ادارے کی حکومت پنجاب سرپرست بنے کیونکہ یہ پورے جنوبی پنجاب میں واحد قومی تعلیمی ورثہ ہے جس نے ایک صدی مکمل کی ہے۔

طلبا و اساتذہ کا احتجاج ’ایمرسن کالج بچاؤ تحریک‘ کی شکل اختیار کر رہا ہے اور یہ تحریک وکلاء، سول سوسائٹی، تاجر برادری اور دیگر شعبۂ زندگی کے لوگوں میں اس لیے مقبول ہو رہی ہے کیونکہ اس تاریخی ورثہ کو سب اپنی اصل شناخت میں قائم و دائم دیکھنا چاہتے ہیں۔ سول سوسائٹی، وکلاء، تاجر، اساتذہ، طلبا و طالبات سمیت ہر شخص حکومت سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ جتنا دل کرے نئی یونیورسٹیاں بنا لیں مگر اس قومی اثاثے کی قیمت پر کوئی ایسا اقدام نہ کیا جائے جس سے اس کے تشخص کو برقرار نہ رکھا جا سکے۔

پچھلے ایک ہفتے سے اساتذہ اور طلبا گورنمنٹ ایمرسن کالج کا تشخص بچانے کے لیے سڑک پر ہیں۔ اساتذہ دھرنے سمیت سڑک پر کلاس پڑھانے اور بھوک ہڑتال کا عندیہ دے رہے ہیں۔ ان کی تحریک مقبول ہو رہی ہے اور پنجاب کے اکثر و بیشتر کالجز نے گورنمنٹ ایمرسن کالج کی تاریخی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ معاشرے کے تمام حلقے اس تحریک کو جائز مطالبہ اس لیے کہہ رہے ہیں کیونکہ یہ قومی اثاثے کا تشخص بچانے کی تحریک ہے۔ سڑک سے گزرتے ہر شخص کی گورنمنٹ ایمرسن کالج سے جذباتی وابستگی ہے اور اگر اساتذہ کی ایمرسن کالج بچاؤ تحریک کوئی نیا عوامی رنگ لیتی ہے تو انتظامیہ اور حکومت کے لیے چیزیں کنٹرول کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

حکومت کو اساتذہ کے جائز مطالبات سمجھنے چاہئیں کیونکہ اس کالج میں کئی پی ایچ ڈی ڈاکٹرز اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں۔ اور تعلیمی اداروں کے وارث یہی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہوتے ہیں جو اس وقت قومی اثاثے کا تشخص بچانے کے لیے سڑک پر ایمرسن کالج بچاؤ تحریک چلا رہے ہیں۔ انتظامیہ، حکومت اور عدالتوں کو اس پر سوچنا پڑے گا۔

جنوبی پنجاب کے کئی پسماندہ علاقوں میں بنیادی تعلیمی ڈھانچہ بھی نہیں ہے۔ پنجاب کے کئی علاقوں میں یونیورسٹی کی اشد ضرورت ہے۔ ان سب حقائق کی موجودگی میں ایک تاریخی تعلیمی ورثے کی شناخت ختم کرنا کہیں سے بھی دانش مندانہ اقدام نہیں ہے اور وہ بھی ایسے شہر میں جہاں بہاؤالدین زکریا جیسی یونیورسٹی موجود ہے جس کی نرسری گورنمنٹ ایمرسن کالج ملتان ہے۔

جنوری 2021 میں 150 سالہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کو دوبارہ کالج کی حیثیت میں بحال کیا گیا کیونکہ وہ ایک تاریخی تعلیمی ادارہ تھا۔ گورنمنٹ کالج لاہور کا بھی تشخص یونیورسٹی بنانے کے بعد بھی قائم رکھا گیا۔ یہی بات اساتذہ جو معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ ہیں ایک مطالبہ کی صورت میں کر رہے ہیں تاکہ قومی ورثہ اپنی اصل حالت میں قائم و دائم رہے اور ہزاروں طلبا و طالبات اس ادارے کے زیر سایہ اپنے دل و دماغ کو علم کی روشنی سے منور کرتے رہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply