حسین شاہ سے علی سدپارہ تک پھیلی ہوئی قومی بےحسی کی داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے کہ جب لوگ مر جاتے ہیں تو ہم تعریف، محبت اور احساس کے دھاگے سے ایک ایسا پیرہن بنتے ہیں جس کا گزر جانے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ اس پیرہن سے مرنے والوں کی نامکمل آرزوؤں پر کفن تو ڈالا جا سکتا ہے مگر ان کی زندگی میں راحت کا کوئی دروازہ نہیں کھلتا کرتا۔ علی سد پارہ کی کہانی معلوم ہوگی تو ہم شرم سے پانی پانی بھی شاید نہ ہوں، وہ پانی بھی برف کی مانند کہیں دوسرے سد پارہ جیسے محسن کے لئے جم جائے گا۔

ہزاروں علی سد پارہ ایسے ہی جھٹلائے جاتے ہیں۔ ہمارے شعور پر بھی شاید برف جم سی چکی ہے۔ معاشرے کے محروم انسانوں کا اس میں کوئی قصور ہے نہ جرم۔ یہ تو اوپر والوں کی ریت ہے ، جن کے ہاں دوسروں کو جھٹلانے کی ریت پڑ چکی ہے۔ نا اہلی کی ریت کا جو طوفان آیا تھا وہ اب بھی جوش میں ہے اور امید یہی ہے کہ جاری رہے گا۔ ایسی سرکاری عدم توجہی اور لاپروائی کی امثال کی بہتات ہے، کاغذوں کے پلندے مرتب کیے جائیں تو کم ہے۔

علی سد پارہ کی مثال دینے سے پہلے اسکردو سے سمندر کے ساتھ واقع لیاری جانا پڑے گا۔ لیاری سے تعلق رکھنے والے بین الاقوامی مکے باز حسین شاہ، جنہوں نے پاکستان کے لئے بین الاقوامی مکے بازی کے مقابلے جیتے اور ان مقابلوں میں وطن کے لئے خون تک بہایا۔ باکسنگ کے اس سفر میں مکوں کے زخم حریفوں سے کھائے، باکسر صرف مکے برساتے ہی نہیں، مکے کھاتے بھی ہیں۔ زخمی بھی ہوتے ہیں، کبھی آنکھ تو کبھی جبڑے تڑواتے ہیں۔

1987 کے سیف گیمز کے حتمی مقابلے میں حسین شاہ نے بھارت کے باکسر این ایم سنگھ کو فائنل میں اسی کے شہر کلکتہ میں جب مات دی تو وہ رنگ میں بنا جوتوں کے اترے۔ یہ کوئی احتجاج تھا نہ علامتی اظہار، پاکستان کی نمائندگی کرنے والے باکسر ایتھلیٹ کے پاس مقابلوں میں شرکت کے لئے جوتے نہیں تھے۔ رنگ میں بنا جوتوں کے کھیلنے والے حسین شاہ کے ننگے پیر اسپورٹس فیڈریشن کے کسی افسر نے نہیں دیکھے حالانکہ حسین شاہ کے اصرار کے باوجود بھی اسپورٹس فیڈریشن نے جوتے فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب نا اہل اونچی کرسیوں پر براجمان ہوں تو اثر و رسوخ نہ رکھنے والے غریب اور بھی چھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کو حسین شاہ بھی چھوٹا معلوم ہوا۔

اتنے بڑے پاکستان اور اس کی عالیشان اسپورٹس فیڈریشن میں کوئی افسر ایسا نہ تھا جو پاکستانی کھلاڑی کو رنگ میں اترنے کے لئے جوتے فراہم کر سکتا۔ ماننے کے لئے دماغ تیار نہیں ہوتا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ ایتھلیٹ کی محنت اور کامیابیوں پر پلنے والے افسر اس قدر ناہل اور ناہنجار تھے کہ ہندوستان میں اپنے کھلاڑی کو بنا مکمل کٹ کے بھیجا گیا۔

علی سد پارہ اور ان سمیت دیگر پورٹرز گرم جوتوں کے بغیر بین الاقوامی مہم جو کوہ پیماؤں کا سامان ان کی منزل پر پہنچاتے رہے۔ علی سد پارہ جن کو آج جب وہ نہیں رہے ، قومی ہیرو قرار دیا جا رہا ہے، ایک وقت تھا جب علی سد پارہ منفی 45 درجہ حرارت میں برف سے لدے پرخطر پہاڑوں پر چپل پہن کر 15 سے 20 کلو وزنی سامان لاد کر اترا اور چڑھا کرتے تھے۔ ملک میں موجود دیگر کم آمدنی والے مزدوروں کی طرح کوہ پیماؤں کے پورٹرز بھی سنگین مسائل سے دوچار رہتے ہیں۔ ابتدا میں تین سو روپے یومیہ کی خاطر سد پارہ برف پوش پہاڑوں پر سامان کی رسائی ممکن بناتے تھے۔

2016 میں علی سد پارہ ونٹر ایسنٹ یعنی سردیوں میں نانگا پربت کی جانب مہم جوئی کرنے کے خواہش مند تھے، تب ملک کے اس ہیرو جو ملک کے لئے اپنے ہی وطن کی چوٹی سر کرنے کے لیے پرعزم تھا، اس کے پاس پہننے کو گرم لباس نہ تھا جو کسی بھی کوہ پیماہ کی سب سے اہم ضرورت ہوتا ہے۔ سنگین سرد موسم جہاں درجہ حرارت منفی 40 سے منفی 90 ہوا کرتا ہے، موسم کسی بھی لمحے کوئی بھی کروٹ لے سکتا ہے، ایسے حالات میں ملک کے اس جانباز ہیرو کے پاس گرم پیرہن نہ تھا۔

تب ان کے ساتھی اطالوی مہم جو سائمون مورو نے اپنا گرم لباس سدپارہ کو نانگا پربت مہم جوئی کے لئے فراہم کیا۔ کسی ریاستی ادارے نے سدپارہ سے ان کی ضروریات کا نہیں پوچھا تھا۔ ہاں جب موت کے منہ میں جا کر پہاڑ سر ہو جائیں تو ہر منسلک ادارہ تعریف کے پل باندھنے میں آگے ہونے کی کشمکش میں رہتا ہے۔ سائمون مورو کا ماننا تھا کہ کوئی مقامی کوہ پیما کیوں کر واپس اتر جائے کہ اس کے پاس کوہ پیماؤں کا مخصوص لباس نہیں؟

علی سد پارہ کو ہر موقع پر ساتھی بین الاقوامی کوہ پیماؤں کی نسبت کم وسائل کا سامنا رہا۔ وہ وسائل کے لحاظ سے اپنے ساتھیوں میں بہت پیچھے تھے۔ ایسے مواقع پر ان کے اندرونی جذبات اور تاثرات کیا ہوتے ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا ان لوگوں کے لئے ممکن ہے جو مسائل سے دوچار اور وسائل کی کمی کا شکار رہے ہوں۔ سد پارہ کے بین الاقوامی مہم جو ساتھیوں کے پاس ان کی حکومتوں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سپانسرز ہوا کرتے جبکہ علی سد پارہ پہلے سے استعمال شدہ اور عطیہ کردہ کٹس پر گزارا کرتے رہے۔

 2006 میں پہلی بار جب سد پارہ نے قراقرم پہاڑی سلسلے کی مشکل چوٹی گشربرم K۔ 4 سر کی تو ان کے پاس گرم رکھنے والی ڈاؤن جیکٹ نہیں تھی جبکہ جو حفاظتی سامان ان کے استعمال میں تھا وہ اسکردو کے بازار سے سیکنڈ ہینڈ خریدا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنا پہلا آٹھ ہزار سے بلند معرکہ استعمال شدہ سامان اور گرم جیکٹ کے بغیر سر کیا۔ آخری بار سدپارہ اپنی بیگم فاطمہ سد پارہ کے لئے سلائی مشین اور اپنے لئے ونٹر ایسنٹ کے خواہش مند تھے۔

ان کی یہ آرزو ثابت کرتی ہے کہ ریاست اور قوم مجموعی طور پر قوم کے محسنوں کے ساتھ کیسا رویہ روا رکھتی ہے۔ پذیرائی اور قومی ایوارڈ سے گھر چلا کرتے ہیں نہ چولہے جلا کرتے ہیں۔ کبھی لیاری کا غریب حسین شاہ تھا جو قومی ہیرو اور بین الاقوامی چیمپئن تھا مگر اس کے پاس گھر کا کرایہ نہ تھا یہاں تلک کے گھر سے سامان سمیت نکلوایا گیا، وہ ملک چھوڑ گیا اور حسن سد پارہ پہاڑوں کی اوٹ میں کہیں کھو گیا۔ آج وہ نہیں ہے تو کروڑوں روپے لاگت کا سرچ آپریشن جاری تھا، ایف 16 کی مدد سے تصویری تلاش بھی کی گئی، جب وہ سامنے موجود تھا تو سلائی مشین کی آرزو کرتا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply