شمع جونیجو کے نام ایک خط

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈئیر شمع!
ڈھیروں سلام اور پیار
بہت دن سے سوچ رہی تھی کہ تمھیں خط لکھوں مگر خیالات مجتمع کرنے میں ذرا مشکل پیش آ رہی تھی۔

انسان کی زندگی میں ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں شمع کہ جو حقیقتیں ہمارے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتیں وہ جھاڑیوں میں چھپے آدم خور کی طرح یک دم سامنے آ کر ہمیں ہپنا ٹائیز کر دیتی ہیں۔ میں تمھیں ”ہم سب“ فیملی کے توسط سے ہی جانتی تھی مگر اب ایسا لگ رہا ہے کہ تم سے کوئی گہرا تعلق ہے۔ میں تمھارے احساسات اور جذبات کو اچھی طرح سے سمجھ رہی ہوں کیونکہ میں اس سچوئیشن سے گزر چکی ہوں مگر آج یہاں اپنی کہانی نہیں کہوں گی۔

بائیوآپسی کی رپورٹس انسان کو ایک دفعہ تو بے یقینی کی ایک ایسی خندق میں دھکیل دیتی ہیں کہ اگر دائیں بائیں سچ مچ میں بم گریں تو بھی وہ دھچکا نہ لگے جو ان کے پازیٹو ہونے سے لگتا ہے اور جیون کے معنی بدلنے لگتے ہیں۔ ایک لمحے میں پچھلی ساری زندگی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی ہے اور آئندہ کیا ہو گا ، اس کی خبر کون لائے گا؟ کوئی بھی نہیں، بس اپنی جان پر کھیل کر ہی سب معلوم ہو گا۔

اس ڈائیگناسٹک کے ابتدائی شاک کے بعد جب ہم اپنی آنکھیں جھپک جھپک کر آس پاس دیکھتے ہیں تو ہر چیز نئی لگتی ہے، شفاف گلاس میں جھلملاتا ٹھنڈا پانی، سرسبز درختوں سے چھیڑ چھاڑ کرتی سرسراتی ہوا، سورج کتنا روشن ہے، ڈھلتی شام میں ٹھکانوں پہ لوٹتی پرندوں کی ڈاریں، جھیلوں کے اوپر طلوع ہوتا چاند، پہلے بھی تو یہ سب ایسا ہی تھا مگر اب کتنا خوبصورت ہے۔

شمع بہت خوش قسمت ہو کہ فیملی کے ساتھ ساتھ ہیرے جیسے دوست بھی دلجوئی کے لئے موجود ہیں مگر سچ بتاؤں بعض اوقات اس کیفیت میں کچھ بھی اچھا نہیں لگتا، بیزاری اور بے اعتباری کی دھند میں لگتا ہے کہ کسی گہرے اور اندھیرے کنویں میں گرتے چلے جا رہے ہیں اور سہارے کے لئے کچھ تھامنا چاہیں تو ظالم کنویں کی چکنی دیواریں کوئی سرا بھی ہاتھ آنے نہیں دیتیں۔

سرجری سے پہلے ہنس ہنس کر ڈاکٹرز اور نرسز سے ہنسی مذاق کرنا بہت دل گردے کا کام ہے کیونکہ بہرحال دل کے نہاں خانوں میں بہت نیچے یہ احساس پوشیدہ ہوتا ہے کہ جتنا نقصان ہو چکا ہے وہ تو جاگنے پر ہی پتہ چلے گا اور یہ بہت بڑی خوش قسمتی ہے کہ لائق ڈاکٹرز ملیں۔

یہ تو طے ہے کہ زندگی عارضی ہے مگر بہت خوبصورت ہے اور اس کا احساس انہی وقتوں زیادہ ہوتا ہے۔ صبح اٹھ کرجب ہم کھڑکی کا پردہ ہٹاتے ہیں تو رنگ برنگے انواع و اقسام کے پھول کھلکھلاتے ہوئے جھومنے لگتے ہیں۔ شہد کی مکھیاں انہی پھولوں سے رس کشید کرتے ہوئے ہمیں چپکے چپکے دیکھتی ہیں۔

’’اور تم خدا کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے‘‘

مجھے نہیں پتہ کہ سرجری کے بعد تمہاری کیا ٹریٹمنٹ ہو گی مگر اللہ تعالی اس میں بہت آسانیاں پیدا کرے گا (ان شاء اللہ) ۔ بروقت تشخیص اور اچھے علاج سے حالات قابو میں آ جاتے ہیں۔ یہ بیماری اور اس کا علاج کچھ عرصے کے لئے گویا انسان کو جیسے دنیا سے کاٹ دیتے ہیں مگر ہمت، بہادری اور صبر سے سب کچھ جھیل کر ایک نیا انسان پیدا ہوتا ہے اور اپنے معبود کے اور قریب بھی ہو جاتا ہے۔

شمع اپنے ہلکے پھلکے مشغلے پلیز جاری رکھنا جیسے تمہارا لکھنا پڑھنا، صبح کو ہلکی سی گرم شال اوڑھ کر تھوڑی سی چہل قدمی کرنا اور تازہ ہوا کو چہرے پر محسوس کرنا، گرم شاموں میں برآمدے یا بالکونی میں آرام کرسی پر ضرور جھولنا، کبھی کبھار پارک میں جا کر بچوں کی کھلکھلاہٹوں کو ضرور محسوس کرنا کہ فرشتوں سے معصوم بچے دل کو گداز کرتے ہیں۔ کبھی کبھی ریلوے سٹیشن پر جا کر بینچ پر بیٹھنا اور آتی جاتی ٹرینوں کو بھی دیکھنا اور لپک کرسوار ہوتے یا جلدی جلدی اترتے لوگوں کو بھی، کافی شاپس، بک سٹورز، نیوز پیپر سٹینڈز، یہ سب کچھ زندگی سے بھرپور اور بہت انسپائرنگ ہوتا ہے۔

میں جانتی ہوں اور سمجھتی ہوں کہ اس کی ٹریٹمنٹ آسان نہیں ہے کیونکہ میں اس کو جھیل چکی ہوں مگر یقین کرو کہ زندگی اس اتنی بڑی تکلیف سے بہت زیادہ بڑی ہے۔ بہت کچھ ایسا جس کو ہم کبھی معمولی سمجھ کر ان کے بارے میں سوچتے بھی نہیں وہ چیزیں کتنی اہم لگتی ہیں۔ ہم اپنی زندگی کے بارے میں پرامید ہو کر بہت سی آئندہ کی منصوبہ بندیاں کرنے لگتے ہیں اور اللہ تعالی اس میں یقینی کامیابیاں دیتا ہے کہ وہ رحیم اور رحمان ہے اور ہم سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔

شمع! اپنی ہمت اور بہادری سے کینسر کو شکست دے دو اور زندگی صحت کے ساتھ جینا اور بھرپور جینا ہے تمہیں ان شاء اللہ۔

اب اور وقت نہیں لوں گی اور تمام دعاؤں کے ساتھ تمہیں اللہ کی امان میں دیا۔
بہت دعاؤں کے ساتھ
فائزہ

(میں شمع جونیجو کو ذاتی طور پر نہیں جانتی سوائے اس کے کہ ”ہم سب“ میں ان کی تحریریں پڑھتی تھی۔ اب جب کہ اپنے کینسر کے بارے میں انہوں نے بتایا تو میں نے بھی اپنے احساسات ان تک پہنچانے کے لئے ”ہم سب“ کا ہی سہارا لیا ہے۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply