مُندری
فرزانہ نے کمال ہوشیاری سے دروازہ بند کیا جو دروازہ تو نہیں کہا جاسکتا تھا۔ ایک ٹین کا جھولتا ہوا ٹکرا تھا جس میں ایک ہک لگادی تھی اور وہ ہک ٹوٹی دیوار کی ایک دراڑ میں اٹکا دی جاتی تھی مگر دو انگلی کا فاصلہ رہ جاتا تھا سو باہر سے بھی کنڈی اٹکائی جا سکتی تھی۔ یہ ”انجنئیرنگ“ بھی دو سال پہلے اسی نے انجام دی تھی ورنہ تو یہاں ایک ٹاٹ کا بوسیدہ پردہ ایک سپرنگ پر
Read more
