مُندری

فرزانہ نے کمال ہوشیاری سے دروازہ بند کیا جو دروازہ تو نہیں کہا جاسکتا تھا۔ ایک ٹین کا جھولتا ہوا ٹکرا تھا جس میں ایک ہک لگادی تھی اور وہ ہک ٹوٹی دیوار کی ایک دراڑ میں اٹکا دی جاتی تھی مگر دو انگلی کا فاصلہ رہ جاتا تھا سو باہر سے بھی کنڈی اٹکائی جا سکتی تھی۔ یہ ”انجنئیرنگ“ بھی دو سال پہلے اسی نے انجام دی تھی ورنہ تو یہاں ایک ٹاٹ کا بوسیدہ پردہ ایک سپرنگ پر

Read more

دیوار گریہ کے ساتھ ساتھ

( مسجد اقصی اور قبہتہ الصخرہ کو دیکھ لیا، مختلف مقدس مقامات کی زیارت بھی ہو گئی اور ان سے منسوب واقعات سے آ گہی بھی ہو گئی اور اب چلتے ہیں نبیل انصاری کے ڈنر پر جہاں مسافر کا انتظار ہو رہا ہے ) ڈنر پر مسافر کی ملاقات ایک بزرگ سے کرائی گئی جو یہ سن کر کہ ایک پاکستانی اپنا لبریز دل لئے یروشلم اور فلسطین تک آ پہنچا ہے تو انھوں ملاقات ضروری سمجھی تھی اور

Read more

دیوارِ گریہ کے ساتھ ساتھ (2)

گزشتہ سے پیوستہ مسافر یروشلم پہنچ گیا اور پھر مسجد اقصی کا رُخ کرتا ہے جہاں قہبتہ الصخرہ کی زیارت کے بعد اب مسجد اقصی کی طرف روانگی ھو رھی ہے جہاں انکشافات کا ایک جہان اس کا منتظر ہے۔ ***      *** یہ تو واضح ہے کہ قہبتہ الصخرہ ایک شاندار عمارت ہے جسے پہلے سے انسانی تعمیر شدہ ٹیلے پر تعمیر کیا گیا  ہے۔ اس کو مسلمان خلیفہ عبدالمالک اور اس کے بیٹے ولید بن عبدالمالک نے

Read more

نور مقدم اور کرسٹی

ایک عمیق اندھیرا تھا اور گہری کھائیاں تھیں اور گھاٹیاں تھیں جن سے ٹکراتی اور ہاتھ پاؤں چلاتی وہ نیچے گرتی چلی جا رہی تھی مگر راہ میں حائل سمندر تھے۔ بے یقینی کا سمندر، پچھتاوے کا سمندر اور اذیت کا ایسا سمندر جو جو جسم و جاں کا رشتہ ہولناک طریقے سے منقطع کر رہا تھا۔ وہ اپنے پیاروں کو پکارنا چاہتی تھی مگر وقت گزر چکا تھا پھر وہ گہری کھائی میں پوری طاقت سے ٹکرائی اور بس!

Read more

دیوار گریہ کے آس پاس ( قسط 1 )

مصنف: کاشف مصطفے تدوین و ترجمہ: محمد دیوان اقبال ہم نے زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور کئی کتابوں کے سحر میں مہینوں مبتلا بھی رہے مگر یہ خیال کبھی نا آیا کہ باقی دنیا بھی اس کو پڑھے۔ دیوان اقبال صاحب کے ہم فین ہیں کہ پہلے ان کی ’جسے رات لے اڑی ہوا‘ ( ان کی دوسری کاوش ابھی تک پڑھ نہیں پائے) اور پھر یہیں پر ان کے کالم پڑھ کر عش عش کرتے رہے ہیں

Read more

گوجرانوالہ جانے کو دل کرتا ہے

آج اظہر حفیظ صاحب کا آرٹیکل پڑھا کہ ’ لاہور جانے کو دل کرتا ہے‘ پڑھ کر آنکھیں کچھ دھندلا گئیں شاید ان میں کچھ پڑ گیا تھا کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے جی ہاں بس ایسی ہی کیفیت ہو گئی تھی ہماری۔ اظہر صاحب کا انداز تحریر اور جو علم و ہنر اور تجربہ ان کا ہے ہم اس کے دور دور ”پا سکوں“ بھی نہیں

Read more

دلیپ کمار اور مدھو بالا

ٹریجڈی کنگ دلیپ کمار بھی اللہ کو پیارے ہوئے کہ جو بھی اس دنیا میں آیا ہے اس کو جلد بدیر موت کا مزہ چکھنا ہے۔ انسانی نفسیات ہے کہ خوبصورتی، شہرت، جوانی اور دولت ہم ناقابل فنا سمجھتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ موت تو ہمارے جیسے ہما شما کو آتی ہے۔ کہیں ایک وقت میں دو مشہور لوگ گزر جائیں تو نوجوان اور حسین کی موت پر جو سوگ ہوگا وہ اتنے ہی مشہور مگر بوڑھے اور

Read more

افغانستان ! بادشاہتوں کا قبرستان

کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ تاریخ کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے۔ برطانوی استعمار نے بھی افغانیوں کو زیر کرنے کے لئے تین بڑی جنگیں لڑیں مگر افسوس کے بھاری جانی اور مالی نقصان کے علاوہ جو ہزیمت برطانیہ کو اٹھانا پڑی وہ اپنی مثال آپ تھی۔ افغان قوم جری، سخت کوش اور سنگلاخ پہاڑوں کی خصوصیات کی حامل تھی جب کہ گوروں کے لئے وہاں کی گرم یا

Read more

آج کیا پکائیں

صبح ناشتے سے فارغ ہو کر یا بغیر ناشتے کہ جب بچے اور ’وہ‘ گھر سے نکلنے والے ہوتے تو یہ ملین ڈالر سوال خاتون خانہ ( یعنی کہ ہم) کے منہ سے جونہی برآمد ہوتا سب اپنے اپنے فون، چابیاں اور بیگز سنبھال کر گرتے پڑتے نکلنے لگتے اور جواب ہوتا جو دل چاہے پکا لیں اس وقت ہے یہ سوال کرنے والا روز آپ کب ہماری پسند سے پکاتی ہیں اور نو دو گیارہ ہو جاتے۔ ایک بجے

Read more

ویکسین بھی سٹیٹس سمبل ہے؟

دسمبر کے وسط میں ہی ویکسین کی ہلچل مچ چکی تھی اور کس کو پہلے ملے گی اور کس کو بعد میں اور کون سی ملے گی؟ سی این این پر ڈاکٹروں، فارماسوٹیکل کمپنیوں اور ان کے نمائندوں، حکومتی اہلکاروں کے پرے کے پرے آتے اور اپنی اپنی بولی بول کر نکل جاتے۔ اب ہم نے بھی سمجھنے کی کوشش کی کہ ہنگامہ ہے کیا برپا؟ اس وقت چار کمپنیوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی، جے & جے،

Read more

امی جان!

ماؤں کے عالمی دن کی آمد آمد ہے سو دنیا کی سب ماؤ صدا سلامت رہو!
اور میری ماں کیسی ہیں آپ؟ امی جب یہاں مئی کا مہینہ آتا ہے تو سردی اور برف سے ٹھٹھری زمین چوری چوری رنگ بدلنے کی کوشش کرتی ہے اور انگڑائی لے کر چھپے خزانے اگلنے لگتی ہے، گھاس سر سبز ہونے لگتا ہے، کلیاں چٹخنے لگتی ہیں، تتلیاں ایک دوسرے کے تعاقب میں نکلتی ہیں تو مدرز ڈے آن پہنچتا ہے۔ آپ تو اس کے بارے میں جانتی ہی ہیں، اس کی تیاریاں تو جلدی شروع ہو جاتی ہیں، گفٹ باکسز تیار ہوتے ہیں، پھول خریدے جاتے ہیں اور ماؤں کو ان کے پسندیدہ ریسٹورنٹس میں سپیشل لنچ اور ڈنر پہ لے جاتے ہیں اور کچھ لوگ گھروں میں ہی بہت اہتمام کرتے ہیں غرض کہ ایک ہلہ گلہ رہتا ہے، لیکن بہت سی مائیں اس دن بھی اپنے جگر گوشوں کی منتظر رہتی ہیں مگر جن کا کچھ اتا پتہ نہیں ہوتا اور ایسے لوگ ہر سوسائٹی میں پائے جاتے ہیں۔

Read more

معراج بھائی (آخری قسط)

اگلے دن وہ لوگ واپس آ گئے اور امنگوں سے شروع کیا گیا پر جوش ہنی مون اپنے اختتام کو پہنچا۔ ایک دن گھر میں سیٹل ہوتے گزر گیا اور اس سے اگلے دن وہ ڈرائیور کو لے کر میکے چلی گئی، تیمور گھر پر نہیں تھا اس کو ٹیکسٹ کر دیا تھا۔ میکے میں سب خوش ہو گئے اور ایک چہل پہل ہو گئی لیکن شام اچانک وہ بھی آن پہنچا بس اب تو ایک ہلہ گلہ تھا اور

Read more

معراج بھائی (4)۔

ایک شام اچانک بلا اطلاع صائمہ اور وقار آ گئے تھے اور تیمور حسب معمول ہائیکنگ پر تھا اور عفت کا حلیہ بھی کچھ عجیب سا تھا اور وہ پریشے سے بیٹھ کر پشتو سیکھ رہی تھی۔ دونوں میاں بیوی حیران رہ گئے مگر عفت ان کو دیکھ کر خوش ہو گئی اور بھاگ کر گلے ملی۔ یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے عفت؟ تیمور کہاں ہے؟ صائمہ نے تعجب بلکہ غصے سے کہا اس کو نہ جانے کیا ہوا،

Read more

معراج بھائی قسط ( 3 )

آج کی رات ہمیشہ یاد رہنے والی تھی اور وہ بے حد نروس ہو رہی تھی مگر تیمور کا مہربان رویہ اس کے اطمینان کا باعث تھا۔ رات کا ایک بج چکا تھا مہمان جا چکے تھے اور ٹھہرنے والے بھی ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز میں بھیجے جا رہے تھے اس وقت صائمہ نے بھی دلہا دلہن کو آرام کے لئے کہا۔ تیمور نے بے حد نرمی سے سہارا دے کر عفت کو اٹھایا۔ بی بریو، اس کے ٹھنڈے یخ

Read more

معراج بھائی (قسط 2)۔

سب کزنز نے عفت پر دھاوا بولا کیونکہ تیمور سے ابھی وہ اتنے بے تکلف نہیں ہوئے تھے اور وہ اپنی جاب کے سیکنڈ انٹرویو کی تیاری میں مصروف تھی۔ اس نے ایم ایس سی سائیکالوجی میں یونیورسٹی میں ٹاپ کیا تھا اور لیکچرر شپ اس کا دیرینہ خواب تھا۔

ارے میری منگنی ہو رہی ہوتی تو میں یہ جاب شاب کھڈے میں پھینکتی یار!
کشمالہ نے اس کو کاغذ کی ایک گولی بنا کر مارتے ہوئے کہا

Read more

معراج بھائی قسط ( 1 )

وہ لمبی بل کھاتی ڈھلوانی سڑک پر چلی جا رہی تھی اور بس جا رہی تھی، اس کی قیمتی شال اس کے پاؤں میں رل رہی تھی اور ننگے پاؤں سنگ ریزوں سے زخمی ہو رہے تھے مگر ہوش و خرد سے بیگانہ اس کی آ نکھیں جو دنوں سے نا سوئی تھیں اور سوجن سے بند ہو رہی تھیں اور ایک ہی ورد اس کی زبان پرتھا ”بس اللہ ہی اللہ باقی فانی“ چلتے چلتے اس کو ٹھوکر لگی

Read more

حسینہ! کہاں چلی گئی ہو

زندگی میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن سے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوتی مگر جب بھی کہیں ان کے بارے کچھدیکھیں یا پڑھیں تو عجیب سی مسرت ہوتی ہے، وہ بہت اپنے اپنے محسوس ہوتے ہیں اور ہم یہ اعتراف کرتے ہیں حسینہ کہ تم بھی ان ہی لوگوں میں سے ہو، تم ہمارے لڑ کپن اور جوانی کی سنہری یاد ہو۔ حسینہ کہاں ہو تم، کہاں چلی گئی ہو؟ میں تم سے ناراض ہوں کہ تمہیں کیاحق ہے

Read more

میرا جسم میری مرضی اور کلکتے کی گوہر جان

ایک تھیں گوہر جان کلکتے والی، یہودی نژاد گوھر جان، جن کے مجالس محرم کے حصے چاندی کی طشتریوں میں بانٹے جاتے تھے۔ انگریز باپ اور آرمینی یہودی ماں کی اولاد اور باپ ان کی پیدائش کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ گوہر جان نے جو عروج دیکھا ہما شما ارباب نشاط صرف اس کی خواہش ہی کر سکتی تھیں بلکہ ہمیں یقین ہے کہ گھریلو خواتین بھی شاید رشک کرتی ہوں گی، واللہ اعلم وہ انگریزی، عربی، فارسی، بنگالی

Read more

جولیس سیزر، فینکس اور عمران خان

چند دن پہلے ہمیں جب بیٹھے بٹھائے کتابوں کی ہڑک اٹھی تو ہم Barnes & Nobel (بک سٹور) گئے، وہاں گھوم پھر کر کتابوں میں تو کچھ خاص نظر نہ آیا مگر ہماری نظر جولیس سیزر کے ایک ماربل کے مجسمے پر پڑی، اس کو یونہی ہاتھ میں لے کر دیکھا تو اس کی پشت میں سات سوراخ تھے اور ان سوراخوں میں سات پنسلیں فٹ تھیں، ہمیں یہ بہت پسند آیا اور اس کی صناعت نے اش اش کرنے

Read more

شمع جونیجو کے نام ایک خط

ڈئیر شمع! ڈھیروں سلام اور پیار بہت دن سے سوچ رہی تھی کہ تمھیں خط لکھوں مگر خیالات مجتمع کرنے میں ذرا مشکل پیش آ رہی تھی۔ انسان کی زندگی میں ایسے بہت سے لمحات آتے ہیں شمع کہ جو حقیقتیں ہمارے وہم اور گمان میں بھی نہیں ہوتیں وہ جھاڑیوں میں چھپے آدم خور کی طرح یک دم سامنے آ کر ہمیں ہپنا ٹائیز کر دیتی ہیں۔ میں تمھیں ”ہم سب“ فیملی کے توسط سے ہی جانتی تھی مگر

Read more

نئے پرانے ٹھگ اور لٹنے والا عوامی قافلہ

جونہی ٹی وی آن کیا کہ خبریں ہی سن لیں۔ وطن عزیز سے کوئی خیر کی خبر آئے بڑا مشکل ہے مگر امید پہ دنیا قائم ہے۔ نیوز چینل کی سکرین پر ایک جانی پہچانی سی ”ادکھڑ“ خاتون کو بلبلاتے دیکھ کر بہت ہی رحم آیا اور بہت غور کیا تو یاد آیا کہ یہ تو فلاں ہیں مگر ان کے دشمنوں کو کیا ہوا جو یہ منت ترلے کا لہجہ اختیار کیے ہیں اور مسلسل بیٹے کی بے گناہی

Read more

بہنوئی سے شادی سے انکار

ثنا بنت ظفر محمود آپ کو بعوض پانچ لاکھ روپے حق مہر معجل محمد حسن ولد محمد اکرم سے نکاح قبول ہے۔

ایک جامد خاموشی تھی جس میں ثنا اور اس کے ماں باپ اپنے دل کے دھڑکنے کی صدا سن رہے تھے، ثنا کی خاموشی پر حسن نے بے چینی سے پہلو بدلا تھا، مفتی صاحب نے کچھ توقف کے بعد اپنے الفاظ دوبارہ دہرائے مگر ثنا پر ایک چپ طاری تھی

Read more

امریکی الیکشن 2020: ٹرمپ نے تاریخ میں نام کیسے لکھوایا؟

ایک اور اہم فرق دونوں کے فالورز میں یہ ہے کہ بائیڈن کے حامی ان کے ووٹر ہیں مگر ٹرمپ کے ووٹر ان کی اندھی تقلید کرنے والے ہیں اور وہی پرتشدد ہنگاموں پر اتر آئے، اگرچہ ڈیموکرٹ ہمیشہ رواداری کا درس دیتے رہے مگر ان کی انسانی حقوق کی تحریکوں میں بھی تشدد کا عنصر نمایاں رہا جیسے ”بلیک لائف میٹرز“ اس میں بے شمار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور کئی بڑے شہروں میں سول وار کیفیت پیدا ہو گئی تھی، شر پسند عناصر ہر طرح بے حد قریب سے یہ ہنگامہ آرائی دیکھتے رہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں کو ہوا دیتے رہے۔

Read more

شیلف لائف

مسٹر ٹرمپ کی شیلف لائف ختم ہونے میں (دنیاوی ) ان کا ایک بنیادی کردار رہا ہے۔ الیکشن 2020 نے کئی ریکارڈ قائم کیے، نتائج میں تاخیر اور امریکن ہسٹری میں سب سے زیادہ ووٹ کاسٹ ہوئے مگر امریکیوں کی آنکھیں اس وقت حلقوں سے باہر آئیں جب صدر صاحب نے نتائج ماننے سے انکار کیا اور کہا کہ ”دھاندلی“ ہوئی ہے۔ بطور پاکستانی اگر اس بیانیہ کو دیکھیں تو بہت ہی مانوس معلوم ہوتا ہے، ان کا کہنا ہے کہ الیکشن آزاد نہیں تھے اور کہیں کوئی خلائی مخلوق تھی جس نے یہ بد ذاتی بہر حال دکھائی ہے اور ہم تو مسٹر ٹرمپ کے بیانات سے اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ بیانیہ ایک مائنڈ سیٹ کا نام ہے اس سے پاکستانی یا امریکن ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے ورنہ دو انسان جو بالکل الگ الگ ماں باپ کے یہاں مختلف براعظموں میں پیدا ہوئے کبھی کوئی نوٹس ایکس چینج نا ہوئے وہ ایک ہی زبان کیسے بول سکتے ہیں بہر حال ہم بات کرتے ہیں حالیہ الیکشن کی اور صدر ٹرمپ کے فرمودات کو دیکھتے ہیں۔

Read more

امریکن الیکشن اور سیاسی جوڑ توڑ

الیکشن کوئی دن میں آیا ہی چاہتا ہے، جب ہم اپنی ڈاک روز کے روز اندر لاتے ہیں تو سوائے امیدواروں کے اشتہارات کے کچھ خاص نہیں ہوتا وہی وعدے مگر ایک فرق ہے کہ ساری کنویسنگ بس اشتہار بازی تک محدود ہے خواہ ڈاک کے ذریعے یا چھوٹے چھوٹے بینرز سڑکوں کے کنارے زمین میں گاڑھے ہوئے، بھلا کیا مزہ ہے اس الیکشن کا اگر ٹرمپ صاحب کے حامی زندہ ہاتھی لے کر سڑکوں پہ نا گھومیں یا بائیڈن صاحب

Read more

وہ پہلا خط

خوشبو جیسے لوگ ملے افسانے میں
ایک پرانا خط کھولا انجانے میں (گلزار)

کہتے ہیں پرانے زمانے میں بیٹیوں کو تعلیم نا دلوانے جو عوامل کار فرما تھے ان میں ایک یہ بھی تھا کہ پڑھ لکھ کر وہ خط و کتابت کے قابل ہو جائیں گی اور پھر خطرہ تھا کہ ”ادھر ادھر“ ڈاک ہی نا چلانے لگیں مگر جو بیٹیاں دور دیس بیاہی جاتی تھیں اور کبھی ماں باپ سے حال دل کہنے کو تڑپتی ہوں گی تو انھیں کون خط لکھ کر دیتا ہو گا، اور پی جب سونا لاون دور دیس جاتے تھے اور واپسی بھول جاتے تھے تو چاندی ہوتے کیس لے کر برہا کی ماری نو جوان سہاگنیں اپنی بے تابی کو کس سے قلم بند کراتی ہوں گی؟ پتہ نہیں!

Read more

اے ماؤ، بہنو، بیٹیو

ہائے نا ہوئے معصوم حالی صاحب آج کے زمانے میں ورنہ ماؤں بہنوں بیٹیوں درگت دیکھ کر وہ یہ شعر ہر گز نا کہہ سکتے اور ویسے بھی اس شعر پر تو ایک نئی نا ختم ہونے والی بحث کا آغاز ہو جاتا جو اخباری کالمز، سوشل بلاگز سے ہوتی ہوئی ٹی وی چینلز تک آ پہنچتی اور چند دن کے لئے سب ہی کی دکان چمک جاتی، اس بحث میں ترقی پسند بھڑک بھڑک جاتے اور کہتے کہ ان رشتوں کے علاوہ اب عورت کی الگ پہچان ہے اور ڈاکٹر، پروفیسر، جج بلکہ سربراہ مملکت ہے اس لئے اس فرسودہ خیال کو ترک کیا جائے اور اس کو ”میرا جسم میری مرضی“ کے مطابق زندگی گزارنے دی جائے۔ دوسری پارٹی کہتی کہ عورت چاہے آسمان کو تھگلی لگا لے وہ بس درجہ دوم ہی کی مخلوق ہے اگر وہ گھریلو امور کے علاوہ اپنے آپ کو کسی قابل سمجھے تو وہیں بیخ کنی کر دو۔

Read more

زندگی، کینسر اور امید

آج کیلینڈر پر نگاہ پڑی تو اندازہ ہوا کہ اکتوبر بھی شروع ہو چکا ہے۔ اکتوبر میں کیا خاص بات ہے؟ بدلتے موسم کی دستک یا کچھ اور بھی؟ جی ہاں یہ بریسٹ کینسر آگاہی کا مہینہ ہے۔ کینسر کا لفظ ہی عام انسان کو خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے اور بیچاری عورت کو جہاں بہت سے تاوان اپنی صنف کی وجہ سے ادا کرنے پڑتے ہیں ان میں سر فہرست بریسٹ کینسر ہے مگر میڈیکل سائنس میں اتنی ترقی بھی ضرور ہو چکی ہے کہ بر وقت علاج سے اس پر قابو پا سکتے ہیں۔

Read more