این اے 75 ڈسکہ کا ریزلٹ روک لیا گیا، 23 پولنگ سٹیشنز کا عملہ لاپتہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

این اے 75 ڈسکہ میں صورتحال اس وقت دلچسپ رخ اختیار کر گئی جب رات گئے متعدد پولنگ سٹیشنز کا عملہ لاپتہ ہو گیا۔ رات گئے مریم نواز شریف کی ٹویٹ کے مطابق 360 میں سے 337 پولنگ سٹیشنز کے نتائج موصول ہو گئے تھے۔ مسلم لیگ نون کی امیدوار سیدہ نوشین افتخار کے حاصل کردہ ووٹ 97588 تھے اور تحریک انصاف کے علی اسجد ملہی نے 94541 ووٹ حاصل کیے تھے۔

پھر 23 پولنگ سٹیشنز کا عملہ غائب ہو گیا۔ حامد میر کی ٹویٹ کے مطابق ”این اے 75 کے کئی گھنٹے تک لاپتہ رہنے والے کچھ پریذائڈنگ افسران منظرعام ہر آ چکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ دھند کی وجہ سے وہ دیر سے ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچے ان سے پوچھا گیا کہ دھند کی وجہ سے آپ سب کے موبائل فون کیوں بند ہو گئے؟ ان کے پاس کوئی جواب نہیں“ ۔

احمد نورانی کا کہنا ہے کہ ” ’غائب‘ ہوجانے والاتمام پولنگ سٹاف ایک ہی موقف اپنارہا ہے کہ دھند۔ بہت۔ تھی۔ جبکہ باقی تین سواکتالیس پولنگ اسٹیشنزکے سٹاف کوپہنچنے میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ صرف انہی کے موبائل بھی بندتھے۔ یہ لوگ اس بات سے بھی بے خبرتھے انہیں دھند۔ بہت۔ تھی سمجھانے والے یہ کہانی ان کے سامنے آنے سے پہلے لیک کرچکے تھے“

احسن اقبال نے کہا کہ ”مغوی POs کے پیش کردہ نتائج کے مطابق ان کے پولنگ سٹیشنز میں 90 % ووٹ پڑے جبکہ باقی 320 اسٹیشنز میں پولنگ کی شرح تقریباً 35 % سے کم رہی۔ اس قدر بھونڈی دھاندلی کہ سکول کا بچہ بھی پکڑ لے۔ الیکشن کمیشن سے مطالبہ ہے کہ جو سرکاری اہلکار اس مکروہ کام میں ملوث تھے انہیں عبرت کا نشان بنایا جائے۔“

نوشین افتخار نے الیکشن کمیشن کو نتائج روکنے کی درخواست دی جس میں کہا گیا کہ اس وقت صبح کے سوا پانچ بج رہے ہیں اور ابھی تک 23 پولنگ سٹیشنز کے ریزلٹ ان کے پریزائیڈنگ افسران سمیت غائب ہیں۔ ریٹرننگ افسر نے عملے کو ڈھونڈنے میں اپنی بے بسی ظاہر کی ہے۔ مسنگ ریزلٹ کے درست ہونے کے بارے میں شبہ کرنے کی معقول وجہ موجود ہے۔ اس لیے ان 23 پولنگ سٹیشنز کے ریزلٹ کو الگ کیا جائے اور ان کا فارینزک آڈٹ کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کی تحقیقات مکمل ہونے تک حلقہ این اے 75 کا ریزلٹ اناؤنس نہیں کیا جانا چاہے۔

الیکشن کمیشن نے رات گئے اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ ”این اے 75 کے ضمنی الیکشن میں 340 کے نتائج اور پولنگ بیگ ریٹرننگ افسر کو موصول ہو گئے ہیں جبکہ 20 پولنگ اسٹیشنوں کا ریزلٹ موصول نہیں ہوا۔ پولنگ کے بعد پولنگ سٹاف اور پولنگ مٹیرئیل کی ریٹرننگ افسر کے دفتر تک بحفاظت واپسی اور نتائج کی بروقت ترسیل پولیس اور مقامی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اس وقت دفتر میں موجود ہیں اور انہوں نے صوبائل الیکشن کمشنر پنجاب اور دو فعہ چیف سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر سے خود بات کی ہے۔ چیف سیکرٹری اور ڈسٹرکٹ پولیس افسر نے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ پولنگ سٹاف اور پولنگ مٹیرئیک کی فوری اور بحفاظت واپسی کو یقینی بناتے ہیں۔ اس سلسلے میں انسپکٹر جنرل پنجاب، کمشنر گوجرانوالہ اور ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ سے ان کے لینڈ لائن اور موبائل فونز پر کئی مرتبہ رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن کسی افسر نے فون اٹینڈ نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے اس کوتاہی کا نوٹس لیتے ہوئے یہ تنبیہ کی ہے کہ اگر کسی پولنگ اسٹیشن کے ریزلٹ یا پولنگ مٹیرئیل میں کسی قسم کے رد و بدل کی صورت میں تمام ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور حکم دیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب اور چیف سیکرٹری اس بات کو فوری یقینی بنائیں کہ پولنگ سٹاف اور پولنگ مٹیرئیل بحفاظت ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچ گیا ہے“ ۔

اس کے بعد صبح الیکشن کمیشن نے ایک اور پریس ریلیز جاری کی جس میں کہا گیا کہ حلقے کے نتائج غیر ضروری تاخیر کے ساتھ موصول ہوئے اور اس دوران متعدد بار پریزائیڈنگ افسروں کے ساتھ رابطہ کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ چیف الیکشن کمشنر نے آئی جی پنجاب، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے ساتھ رابطہ کرنے کی کوشش کی تاکہ پریزائیڈنگ افسران کا پتہ چلایا جا سکے مگر کوئی ریسپانس نہیں ملا۔ چیف سیکرٹری سے رات تین بجے رابطہ ممکن ہوا اور انہوں نے گمشدہ افسران اور پولنگ بیگ کو ٹریس کرنے کی یقین دہانی کرائی مگر پھر انہوں نے خود کو ان اویلئبل کر لیا۔ کافی تگ و دو کے بعد تقریباً صبح چھے بجے پریزائیڈنگ افسران مع پولنگ بیگز حاضر ہوئے۔

”ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر حلقہ این اے 75 سیالکوٹ چھے نے یہ اطلاع دی ہے کہ 20 پولنگ سٹیشنوں کے نتائج میں رد و بدل کا شبہ ہے۔ لہذا مکمل انکوائری کے بغیر حلقہ کا غیر حتمی نتیجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسر اور ریٹرننگ افسر کو این اے 75 سیالکوٹ کے غیر حتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا ہے۔ یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتا ہے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply