الیکشن اور اندھیری رات کا شر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رات مسلم لیگ نون والے ڈسکہ میں اپنی فتح کے قبل از وقت نعرے بلند کر رہے تھے۔ ان کی امیدوار کی لیڈ تین ہزار کے قریب تھی۔ یہ صورت حال دیکھ کر ہم نے انہیں سمجھایا کہ ”نون لیگ والے فتح کا جشن نہ منائیں۔ ابھی رات باقی ہے۔ کہانی باقی ہے۔ تاریکی چھا رہی ہے۔ ابھی چاند ابھرے گا اور سب گندے ریزلٹ اس قمری روشنی سے دھل کر صاف ہو جائیں گے اور فتح حسب معمول حق ہی کی ہو گی۔“

پھر صبح دنیا نے دیکھا کہ واقعی فتح حق کی ہوئی گو کہ الیکشن کمیشن نے مزید تحقیقات تک ریزلٹ روک لیا ہے۔ بخدا ایسا نہیں ہے کہ ہم وجاہت مسعود یا وسی بابا کی طرح سیاسی تجزیہ کرنے کے ماہر ہیں۔ ہماری درست پیش گوئی کا سبب کوئی منطق نہیں۔ پتہ نہیں اس کا باعث روحانیت میں ہماری دسترس ہے یا ہماری فطری قنوطیت پسندی۔ ہم نے تو جب سے ہوش سنبھالا ہے، یعنی 2018 کے الیکشن سے، تو یہی دیکھا ہے کہ رات چڑھنے پر جو فتح یاب ہوتا ہے صبح کی روشنی میں چیزیں واضح ہونے پر وہ شکست خوردہ دکھائی دیتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہمارے اس مشاہدے سے کم از کم شادی شدہ حضرات متفق ہوں گے کیونکہ وہ زندگی کے حقائق کو تسلیم کرنے کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

ہمیں رات کے اندھیرے سے واقعی ڈر لگتا ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ ہماری پسندیدہ قرآنی سورت الفلق ہے جس میں صبح کے رب کی پناہ مانگنے کا کہا گیا ہے تمام مخلوق کے شر سے، رات کی تاریکی کے شر سے جب وہ چھا جائے اور پھونکنے والوں یا والیوں کے شر سے۔

اب یہ رات کی تاریکی ہی تو تھی جس کی وجہ سے نہایت دلیر اور تجربہ کار پریزائیڈنگ افسر بھٹک گئے۔ ایسی دھند چھائی کہ انہیں کچھ سجھائی نہ دیا۔ آپ اگر وسطی پنجاب کے رہنے والے ہوں تو آپ اتفاق کریں گے کہ دھند میں واقعی بندہ راستہ بھلا بیٹھتا ہے، جانا کہیں ہوتا ہے پہنچ کہیں جاتا ہے۔ بس گاڑی کی بتی کے پیچھے پیچھے لگا رہتا ہے اور جہاں وہ مڑے ادھر ہی مڑ جاتا ہے۔ کئی واقعات سنے ہیں جب لوگ ایسے ہیکسی بتی کے پیچھے لگ کر کسی غلط منزل پر خود کو پاتے ہیں۔

اپوزیشن والوں نے پولنگ سٹیشن پر تو خوب چوکی پہرہ باندھا مگر وہ شدید دھند اور اندھیرے میں رات کو راستہ بھٹکنے کا امکان نہیں دیکھ پائے۔ کوئی 23 پولنگ سٹیشنوں کا عملہ ہی بھٹک گیا۔ اور لاچارگی دیکھیں بچاروں کی، راستہ تو بھٹکے ہی تھے ان کے فون کی بیٹریاں بھی جواب دے گئیں۔ یعنی نہ تو میپ دیکھ سکتے تھے اور نہ کسی سے راستہ پوچھ سکتے تھے۔ صبح سورج نکلا تو چھے بجے وہ الیکشن کمیشن والوں کو مل پائے۔

اب بعض لوگ یہ سوال پوچھیں گے کہ اگر دھند ایسی ہی شدید تھی تو 337 پولنگ سٹیشنوں کا عملہ کیسے راہ راست پر رہا اور صرف 23 کی راہ کیوں کھوٹی ہوئی؟ دیکھیں اس کا منطقی جواب موجود ہے۔ کہیں دھند زیادہ ہوتی ہے کہیں کم۔ اس کی باقاعدہ بہت گہری پاکٹس ہوتی ہیں۔ ان 23 کے راستے زیادہ دھندلے ہوں گے۔ بہرحال خیر گزری کہ وہ محفوظ رہے ورنہ ان پر ڈاکو پڑ جاتے تو برا ہوتا۔ شاید اس کا سبب یہ ہو گا کہ ان کے ساتھ موبائل فون اور وائرلیس سے لیس پولیس والے بھی موجود تھے۔ شکر ہے کہ پولیس بھی اندھیری رات کے شر سے محفوظ رہی۔

الیکشن کمیشن نے تو اس معاملے کا الزام پولیس اور انتظامیہ پر دھر دیا۔ کہہ دیا کہ ”یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے“ ۔

ہماری رائے میں اگر آئندہ ایسی کسی کمزوری سے بچنا ہے تو الیکشن کمیشن کی جانب سے انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کمزوری دور کرنے والے حکیمی کشتے دیے جائیں، انہیں لمبی بیٹری والے سمارٹ فون اور پاور بینک فراہم کیے جائیں اور انہیں بہتر کمپاس مہیا کیا جائے تاکہ وہ راستہ نہ بھٹکیں۔

جہاں تک اپوزیشن والوں کا تعلق ہے، ہماری صلاح ہے کہ وہ کم از کم الیکشن کی رات کو سورہ الفلق کا مسلسل ورد کیا کریں اور مل کر کہیں ”میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی، اس کی سب مخلوق کی شر سے، اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے، اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے، اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1358 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

Leave a Reply