عثمان قاضی کی کتاب ”سفر و حضر“ پر مختصر تبصرہ

”ہم سب“ سے کچھ اور حاصل ہوا یا نہیں، چند ایسے لکھاریوں سے تعارف ہو گیا جو اس وقت تک اردو اخبارات کی زد سے باہر تھے۔ ان میں سے کچھ، مثلاً حسنین جمال یا فرنود عالم پھر باقاعدہ ”اخباری“ بھی ہوئے لیکن اس انجمن کے باقی ستاروں کی روشنی بھی کم نہیں ہوئی۔ اس فہرست میں عثمان قاضی بھی شامل ہیں۔ ان سے پہلے ہم سب اور پھر سماجی رابطے کے چبوترے (پلیٹ فارم) پر تعلق بنا اور لگ

Read more

نئے صحافی کیا پڑھیں

بہت سے نوجوان یہ خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ایک نام ور صحافی بنیں اور نام کے ساتھ بہت سارے پیسے بھی کمائیں۔ اس سلسلے میں وہ مدد اور تعاون کی درخواست بھی کرتے ہیں اور اپنی تحریریں بھی ارسال کرتے ہیں۔ یہاں میں اپنی چند گزارشات نئے صحافیوں کی خدمت میں پیش کرنا چاہوں گا۔ ایک اچھے صحافی یا میڈیا میں کام کرنے والے کسی بھی کارکن کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ خود اخبارات پڑھنے کی

Read more

سفرنامہ۔ میڈ اِن چائنا! مکمل کالم

اللہ کو جان دینی ہے، جب بھی میں چین جاتا ہوں، جمہوریت پر میرا ایمان ڈگمگا جاتا ہے۔ کون سا کارنامہ ہے جو چین نے انجام نہیں دیا اور کون سا مغالطہ ہے جو چین نے دور نہیں کیا! یہ اکیلا معجزہ ہی کافی ہے کہ 1978 سے لے کر اب تک، چین نے اَسّی کروڑ افراد کو غربت کی دلدل سے باہر نکالا ہے، اور یہ اعداد و شمار سرکاری نہیں بلکہ ورلڈ بینک کے ہیں۔ اِس کے علاوہ

Read more

تخلیقی اقلیت کے بارے میں مکالمہ

16 مئی 2025 ء محترم و مکرم جناب ڈاکٹر خالد سہیل! مجھے اُمید ہے کہ آپ بخیریت اور ہمیشہ کی طرح اپنی گرین زون زندگی کے مزے لے رہے ہوں گے۔ مجھے اکثر اوقات آپ کی زندگی پر رشک بھی آتا ہے۔ اس کی وجہ اگلی سطور میں خود بخود واضح ہو جائے گی۔ پیارے ڈاکٹر صاحب! ہم دونوں کو مبارک ہو کہ ہماری مشترکہ کتاب : ”تخلیقی اقلیت“ گزشتہ ماہ پاکستان میں شائع ہو کر کینیڈا پہنچ چکی ہے۔

Read more

جَلا وطن کی مناجات

وجاہت مسعود کو کون نہیں جانتا؟ جس کا بھی تعلق کتابوں، کالموں اور جمہور سے ہو گا وہ وجاہت مسعود سے واقف نہ ہو یہ ہو نہیں سکتا۔ ہم بھی انہیں بہت پُرانا جانتے ہیں۔ اُن کی کی نئی کتاب صابر نذر جیسے منجھے ہوئے آرٹسٹ کے ہاتھ سے بنائے گئے سرِورق سے سجتی سجاتی ہم تک پہنچی تو ڈرتے ڈرتے قلم اُٹھایا کہ میں اپنا نا چیز سا تبصرہ اس کتاب پر کروں۔ پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا اُن

Read more

سرحد کے دونوں پار مٹھائی اور کیک کو پہرہ درکار ہے

دیوانوں کی اُس بستی میں مٹھائی، کیک اور بسکٹ بھی جنگی جنون کی نفرت کی نذر ہو گئے۔ تازہ پاک بھارت تناؤ کے دوران ہندوستان حیدرآباد میں کراچی بیکری کو نام کی سزا دے کر انتہا پسندوں نے اس پر حملہ کیا اور تھوڑ پھوڑ کی گئی۔ دوران تقسیم 1947 میں حیدرآباد سندھ سے ہجرت کرنے والے ایک سندھی کی قائم کردہ کراچی بیکری بمبئی میں تو کافی عرصہ ہوا نفرت نفرت کھیلنے والوں نے دھمکیاں دے کر بند کروا

Read more

نو گز کی قبر

آج کل اپنے منتخب کالمزکو کتابی شکل میں چھپوانے کے مراحل سے گزرا جا رہا ہے، کون سی تحریر شامل کی جائے اور کسے نظر انداز کر دیا جائے، اس سلسلے میں مشاورت جاری ہے، زبان اور املاء کے مسائل میں بھی رہبری کی طلب رہتی ہے، اور کالمز کی ترتیب کیا ہونی چاہیے، اگر زمانی اعتبار سے ہو تو جدید سے قدیم کی طرف مراجعت ہو یا اس کے برعکس، اور اس طرح کے درجنوں سوال درپیش رہتے ہیں۔

Read more

ایک ملاقات

کل کی شام ایک یادگار اور امید افزا شام بنکر ابھری۔ جب میں اور بینا گوئندی قریب شام سات بجے قدر تاخیر سے یعنی ایک گھنٹہ ٹریفک کے بے ہنگم ہجوم سے زگ زیگ کرتے برادر فکر و نظر جناب وجاہت مسعود صاحب کے دولت خانہ پر حاضر ہو گئے بہن تنویر اور بیٹی کامنی نے فقید المثال خوش آمدید کہا۔ نیلم احمد بشیر پہلے تشریف لا چکی تھیں۔ وجاہت بھائی سے یہ ملاقات گو عرصہ دراز کے بعد ہوئی

Read more

انگریز اور لاہور

لاہوریوں کی تو بات کیا کریں۔ ہم دوسرے شہروں کے لوگ بھی کسی نہ کسی حوالے سے لاہور کے رومانس میں مبتلا رہے ہیں۔ اس لئے یہ تو طے ہے کہ ہم سب کو پروفیسر عزیز الدین کی کتاب کولونیل لاہور پڑھ کر بہت مزہ آئے گا۔ یہ کتاب دراصل ان کے 1990 کے عشرے میں لکھے جانے والے مضامین کا مجموعہ ہے جسے ان کے چھوٹے بھائی محمد تحسین نے کتابی شکل دی ہے اور اس کا تعارف وجاہت

Read more

فلسطینی ورلڈ لٹریچر ایوارڈ کی کہانی

میں بے حد جذباتی ہو جاتی تھی۔ اپنی بے حد فعال، متحرک، صحت مند اور تندرستی جیسی نعمت سے گزاری گئی زندگی کو یکسر بھول جاتی تھی۔ اور قدرت کے اس اصول کی نفی کر رہی تھی کہ صبح کے بعد شام اور رات کے بعد سحر کا طلوع ہونا کائنات ربی کا اصول ہے۔ پتہ نہیں کیوں میں خصوصی توجہ کی مستحق بننا چاہتی تھی۔ کیوں؟ کیوں؟ جیسے سوالیہ نشان بالک ہٹ دھرمی کی تصویر پیش کر رہے تھے۔

Read more

جناب وجاہت مسعود کے کالم ”نعرے کی خلیج اور مکالمے کا احترام“ کے جواب میں

مدیر اعلیٰ ”ہم سب“ ، جناب وجاہت مسعود صاحب کا مندرجہ بالا کالم روزنامہ جنگ لاہور کے 15 جنوری 2025 کے شمارہ میں شائع ہوا اور ہم سب کی ویب پر 14 جنوری 2025 کو نمودار ہوا۔ ان کے کالم پر تبصرہ کرنا مقصود ہے۔ ہم سب کے ادارتی نظم کے مطابق صحافت پر صرف پیشہ ور صحافیوں کا ہی اجارہ نہیں ہے بلکہ قارئین کے مضامین اور تبصرے بھی اسی معیار کے حامل ہوتے ہیں بلکہ وہ معاوضے اور

Read more

خالد احمد کی یادگاری تقریب میں ایک ملاقات

خالد احمد صاحب کی یاد میں اسلام آباد کے بلیک ہول میں منعقد ہونے والا پروگرام ایک ایسا لمحہ تھا جو میری زندگی کا ایک سنگ میل بن گیا۔ یہ محض ایک تقریب نہیں تھی، بلکہ ایک یادگار تجربہ تھا جس میں علمی، ادبی اور صحافتی دنیا کے ایک عظیم شخصیت کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ اس محفل میں جب خالد احمد صاحب کی تحریروں، ان کے صحافتی اصولوں اور ان کے انسانیت کے لیے کیے گئے کاموں پر

Read more

انحراف کی تنہائی

اپنی کتابوں پر مشاہیر سے پیش لفظ یا تبصرے وغیرہ لکھوانا بندہ کم مایہ کی طبیعت سے میل نہیں کھاتا۔ آرتھر کوئسلر نے کتابوں پر لکھے جانے والے بیشتر تبصروں کو ’قیمہ کرنے کی مشین سے نکلے ہوئے الفاظ‘ قرار دیا تھا۔ اشارہ یہ تھا کہ ان تبصروں میں ایسی یکسانیت پائی جاتی ہے کہ مصنف اور کتاب کا نام ہٹا کر کسی دوسری کتاب کا عنوان اور مصنف رکھ دیجئے، تفہیم میں کوئی تبدیلی آئے گا اور نہ معنویت

Read more

پوچھتے ہیں وہ کہ خالد (احمد) کون ہے؟

خالد احمد پر لکھنے سے پہلے اُن کے مشہور زمانہ کزنوں کا تذکرہ ضروری ہے کیونکہ ایک پھوپھی زاد عمران خان اس وقت راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہے اور اُس کی رہائی کے لیے ملک بھر میں پُرتشدد مظاہرے جاری ہیں۔ دوسرا چچا زاد ماجد خان دنیائے کرکٹ میں مائٹی خان کے نام سے جانا جاتا ہے، اور سیاسی یا کسی دوسرے حوالے سے غیر متحرک ہے۔ خالد احمد رواں سال اٹھارہ نومبر کو اکیاسی برس کی بھرپور

Read more

جمہوری اور آمرانہ ترامیم کا جھانسا!

محترمی و مکرمی وجاہت مسعود صاحب نے آمرانہ ترامیم کا کچھ یوں تذکرہ فرمایا: ” پاکستان کا سیاست دان 1973 ء کا دستور مرتب کرتا ہے تو ہم 1985 ء کی آٹھویں ترمیم کا جال بچھاتے ہیں۔ چودہ برس کی محنت سے گاڑی سیدھے راستے پر مڑتی ہے تو 2003 ء کی سترہویں آئینی ترمیم مسلط کی جاتی ہے۔ فروری 1999 ء میں بھارتی وزیراعظم لاہور میں کھڑے ہو کر پاکستان تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو کارگل ہو

Read more

کتابیں جب روٹھ جاتی ہیں

کتابوں نے سوال کرنے شروع کر دیے تو مجھے خیال آیا، یار! یہ جنہیں بِن پڑھے ہم سجائے رکھتے ہیں، انہیں شو کیس میں زندہ دفناتے ہیں۔ یہ کتابیں ہمیں سوال کرتی ہیں، آپ لوگوں کو تو زندہ درگور کرنے سے منع کیا گیا تھا، جنہوں نے فرمایا تھا کہ بیٹیوں کو زندہ نہیں دفناتے، آپﷺ کی بیٹیوں کی حد تک مان لی، لیکن تحقیق اور تعلیم کی اہمیت، اور اس وقت آپﷺ نے اہتمام کیے وہ ہم بھول گئے۔

Read more

دنیا کا سب بڑا فلائی وہیل انرجی سٹوریج سسٹم

انکل وجاہت مسعود اور میری کہانی اس حد تک ایک جیسی ہے کہ دونوں انٹر میں میڈیکل پڑھتے تھے اور باوجود انتہائی اچھے نمبر آنے کے میڈیکل کی بجائے ہم نے اپنی سمت کسی اور طرف موڑ لی۔ وہ ادب، قانون اور فلسفہ کو پیارے ہو گئے اور میں اکاؤنٹینسی، مالیات اور مال میں برکت ڈالنے کی سمت چل پڑی۔ یوں اب ہم سے ملنے والا ہمیں سائنس سے لگ بھگ فارغ ہی سمجھتا ہے۔ جب کہ ہم اب بھی

Read more

سات سال، سات سو کالم، سات کمائیاں

میرے لیے ’ہم سب‘ پر سات سالوں میں سات سو کالم لکھنے کا تجربہ ایک خوش آئند و خوش گوار تخلیقی و سماجی تجربہ تھا۔ میں جب ان سات سالوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے اس عرصے میں سات چیزیں کمائیں۔ میری پہلی کمائی یہ ہے کہ میں نے اپنی تخلیقات سے اپنے قارئین اور ناقدین کا اعتماد و اعتبار حاصل کیا۔ جب میں نے لکھنا شروع کیا تھا تو میرے قارئین

Read more

وجاہت مسعود سے ایک سوال

وجاہت مسعود جارج آرویل کی طرح نہ تو جانوروں کا باڑا (Animal Form) لکھ کر اشاروں میں بات کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی پیش گوئیاں کر کے 1984 لکھتے ہیں بلکہ منٹو کی طرح کھلا سچ لکھتے ہیں اور اشارہ بھی کریں تو ساری دنیا کو وہ اشارہ، اشارہ نہیں؛ ایک واضح اعلان لگتا ہے۔ ”معلق محل سے آتی صدائیں“ اس کی مثال ہے۔ منٹو کا ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ کا استعارہ لے کر اپنے ”مجرم خیال“ ہونے کا اعتراف

Read more

وجاہت مسعود کو غصہ کیوں آتا ہے؟

وہ اس وقت کالم لکھ رہے ہوں گے؟ ابو بہانہ کا فون جب وجاہت بھائی نہ اٹھا سکے تو یہ سوال اس بندے سے کیا گیا جس نے ان کی جگہ فون اٹھایا۔ ہاں بھئی ایسا ہی ہے، آپ بہتر سمجھتے ہیں، یہ وقت ان کے لکھنے کا ہے۔ جب آگے سے ہمم کی ایک لمبی آواز آئے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ریسیور کی دوسری طرف موجود آدمی یا تو کچھ سوچ رہا ہے یا جو پیغام

Read more

لاہور کی فضا میں ایک بہادر ہندوستانی پائلٹ کی ہلاکت – پہلا حصہ

کہانی کے ہیرو سید نذیر احمد جیلانی (ائر کموڈور ریٹائرڈ) سے میرا غائبانہ تعلق 24 ستمبر 1988 کو اس وقت ہو گیا تھا، جب میں نے انجینئرنگ کرنے کے بعد ، پی اے ایف کیمپ بڈھ بیر میں بطور فلائنگ آفیسر رپورٹ کی اور جیلانی صاحب کے بیٹے سید مختار جیلانی میرے سینیئر بنے۔ یہ اور بات کہ میں اور پوری پاکستانی قوم بالخصوص تمام لاہوری، بزرگ جیلانی صاحب کے 1965 کی اُس سہ پہر سے مقروض ہیں، جس کا

Read more

مسلمان کی تمنا اور اللہ کے قانون میں فرق ہے – مکمل کالم

اکثر اوقات جب گھر میں گاڑی نہ ہو تو میں ٹیکسی منگوا لیتا ہوں، عرف عام میں جسے اوبر کہتے ہیں، ڈرائیور حضرات نے اپنی گود میں موبائل فون رکھا ہوتا ہے اور وہ گوگل کے ذریعے راستہ تلاش کر کے آپ کو منزل مقصود پر پہنچاتے ہیں، چاہے وہ منزل بغل والی گلی میں ہی کیوں نہ ہو۔ مجھے اِس بات سے بے حد کوفت ہوتی ہے، خاص طور سے اُس وقت جب مجھے پتا چلتا ہے کہ ٹیکسی

Read more

ایک قاری کا مکالمہ

مکرمی و محترمی ڈاکٹر خالد سہیل صاحب! آپ کی مختلف موضوعات پر تحاریر قارئین کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔ آپ کا منفرد طرزِ انداز قارئین کو اپنے خطوط کے ذریعے مکالمے پر ابھارنا ہے۔ آپ اپنے خیالات کو واضح کرتے ہوئے اپنے سے مختلف خیالات کے مالک لوگوں سے بھی مکالمے پر آمادہ رہتے ہیں۔ بطور قاری میں آج آپ سے ایک مختصر مکالمے کی جسارت کر رہا ہوں۔ عمومی طور پر کچھ مضامین اور بالخصوص استاد

Read more

کچھ ہم جنس پسندی اور مذہبی اخلاقیات کی باتیں

پیارے درویش وجاہت مسعود! ہمارے بہت سے مشترکہ دوست ہمارے ادبی و سماجی محبت ناموں کو بڑے ذوق و شوق سے پڑھ کر محظوظ و مسحور ہوتے ہیں۔ سلیم ملک صاحب نے تو ان کے بارے میں ایک مزاحیہ کالم بھی لکھ ڈالا اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم دونوں کو اب عورتیں لفٹ نہیں کرواتیں اس لیے ہم ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں۔ آپ نے نہایت رومانوی عاجزی و انکسار کا مظاہرہ کیا۔ اپنے بارے

Read more

ہم سب پر سنچری

میں نے جب پہلی مرتبہ ہم سب پر اپنا پہلا مضمون بھیجا تھا تو مجھے بالکل بھی اندازہ نہ تھا کہ ایک دن یہ سلسلہ اتنا طویل ہو جائے گا کہ میں اس پر اپنے آرٹیکلز کے سلسلے کی سنچری مکمل کروں گا۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب میرا پہلا مضمون ”میں کیوں لکھتا ہوں“ 18 مئی 2019 کو ”ہم سب“ پر شائع ہوا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی تھی، کیونکہ اس سے قبل میں چھوٹے چھوٹے

Read more

وجاہت مسعود اور ڈاکٹر خالد سہیل کو کوئی لڑکی نہیں لفٹاتی

پس ثابت ہوا کہ ڈاکٹر خالد سہیل اور وجاہت مسعود کو کوئی لڑکی نہیں لفٹاتی۔ اس لیے ان دونوں نے ایک دوسرے کو ہی خط لکھنے شروع کر دیے ہیں اور وہ بھی سر عام، قہر خدا کا ۔ مجھے شک ہے کہ یہ سٹھیا گئے ہیں۔ اور ان خطوط سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ سب لوگ محتاط رہیں، خاص طور پر نوجوان ان سے دور رہیں۔ یہ دونوں سٹھیائے ہوئے بزرگ آپ کی ذہنی صحت کو خراب کرنے

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی تحفہ اور ایرانی شاعرہ فروغ فرخ زاد کا گناہِ پُرلذت

محترمی و مکرمی و معظمی وجاہت مسعود صاحب! آپ نے اپنے ادبی محبت نامے کا آغاز ابن انشا کی ایک خوبصورت نظم سے کیا تو مجھے بھی ان کی ایک ‘نظم فرض کرو’ کے چند اشعار یاد آ گئے۔ فرض کرو ہم اہل وفا ہوں ’فرض کرو دیوانے ہوں فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے میخانے ہوں فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ہم نے ڈھونڈے بہانے ہوں فرض

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل: پھر تمہارا خط آیا

برادر محترم ڈاکٹر خالد سہیل یہ عنوان ابن انشا کی محبت کے موضوع پر ایک سادہ سی نظم سے لیا ہے۔ چند سطریں ملاحظہ فرمائیے۔ ’شام حسرتوں کی شام / رات تھی جدائی کی / صبح صبح ہر کارہ / ڈاک سے ہوائی کی / نامہ وفا لایا / پھر تمہارا خط آیا‘۔ ابن انشا بے پناہ تخلیقی آدمی تھے، نظم ہو یا نثر، غزل ہو یا مزاح، کسی گھر بند نہیں تھے۔ رومانوی طبیعت پائی تھی۔ شادیوں اور محبتوں

Read more

وجاہت مسعود کے نام محبت نامہ اور این سیکسٹن کی کہانی

قبلہ و کعبہ! مجھے آپ کے نظریات سے سو فیصد اتفاق ہے۔ انگریزی میں کہتے ہیں، WE ARE BOTH ON THE SAME PAGE۔ اور اس اتفاق رائے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں مکالمے، جمہوریت اور انسانی حقوق کا احترام کرتے ہیں اور ایک پرامن انصاف پسند معاشرے کا خواب دیکھتے ہیں۔ اپنے تمام تر اتفاق رائے کے باوجود میں قدرے اختلاف کا پہلو اس لیے نکال لاتا ہوں تا کہ آپ سے ادبی مکالمے کا بہانہ ملے۔ میں

Read more

”صد رنگ“ کی جلوہ گری

صد رنگ کے عنوان سے ”ہم سب“ پر دو کالم شائع ہوئے ہیں۔ جو در اصل ہم سب کے مدیر وجاہت مسعود صاحب کے ہمہ جہت شخصیت ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کے لئے ہوئے، انٹرویوز ہیں۔ مسعود صاحب نے ڈاکٹر خالد سہیل صاحب کو خوب کنگھالا ہے۔ علم و ادب کی باتیں کیں، شعر و شاعری کا ذکر ہوا۔ شاعروں کو مقبول شعروں کے حوالے سے یاد کیا۔ یورپی نفسیات دانوں کو متعارف کرایا گیا، جو عام لوگوں کی نظر

Read more

وجاہت مسعود کا ادبی محبت نامہ اور عورتوں کے مسائل

یہ میری خوش بختی ہے کہ وجاہت مسعود جیسے سنجیدہ دانشور اور تجربہ کار سماجی و سیاسی تجزیہ نگار نے میری ذات اور میرے نظریات کے حوالے سے نہ صرف ایک کالم لکھا ہے بلکہ مجھ ناچیز درویش سے ایک اہم سوال بھی پوچھا ہے۔ اس سوال سے یوں لگتا ہے جیسے ایک درویش دوسرے درویش سے سماجی مسائل پر مکالمہ کرنا چاہتا ہے۔ ’ہم سب‘ کے قارئین بخوبی جانتے ہیں کہ وجاہت مسعود اور میرے انداز تحریر میں زمین

Read more

”روس کا داغستان اور یہ ہے میرا ”داغستان

گزشتہ منگل مورخہ 25 جون 2024 رات کا کھانا کھانے کے بعد میں حسبِ معمول گھر کی چھت پر چہل قدمی کرنے چلا گیا۔ علاقے میں کسی فنی خرابی کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا تو ایسے میں علامہ اقبال انٹرنیشنل ائر پورٹ لاہور پر اُترنے والے جہاز کا منظر بڑا ہی دلکش اور خوشنما لگ رہا تھا یوں لگا گویا جہاز ساکت ہو اور رنگین بتیاں ہوا میں محوِ رقص ہوں کہ یکایک میرے عقب سے ”گوڈ بلیس

Read more

شاہد حنائی: خواب سا، فسانے سا…

شاہد حنائی صاحب نے آج تک کبھی فیس بک پر اپنی کوئی ایک تصویر بھی پوسٹ نہیں کی! اس لیے مجھے ان کے ساتھ اپنی تصویر فیس بک پر پوسٹ کرنے کی اجازت مانگی پڑی اور انہوں نے مروّت و محبت کی وجہ سے مجھے اجازت دے دی۔ شاہد حنائی صاحب اردو کے نامور لکھاری ہیں اور تواتر سے سندھی ادب کو اردو میں ترجمہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ شہرت سے دور بھاگتے ہیں اور خاموشی سے اپنا کام کرتے

Read more

”صد رنگ“ میں ڈاکٹر خالد سہیل سے گفتگو (2)

آداب! آج ہماری ممتاز دانشور، شاعر، افسانہ نگار، ماہر نفسیات، سائنس دان، کالم نگار اور ادبی نقاد محترم ڈاکٹر خالد سہیل صاحب سے دوسری نشست ہے۔ ڈاکٹر صاحب گزشتہ نشست میں جہاں پہ ہم نے گفتگو ختم کی تھی وہیں سے شروع کرتے ہیں۔ آپ نے نفسیاتی علاج کا جو طریقہ کار دریافت کیا ہے آپ اسے ‘گرین زون’ فلاسفی کہتے ہیں اور فرد کی جو بھی مختلف نفسیاتی کیفیات ہیں ان کو آپ نے سبز، پیلے اور سرخ رنگوں

Read more

The 25th Hour ۔ وجاہت مسعود کا فلمی تبصرہ بھی مسترد ہو گیا

آمریت قوم کی ایسی جامع بے حرمتی ہے جس میں کسی ادارے کا وقار، کسی شہری کا کردار اور کسی اصول کی توقیر قائم نہیں رہتی۔

Read more

ٹرانا منع نہیں

میں یوٹیوب چینلز بلکہ مین سٹریم ڈیجیٹل چینلز تک کے ٹاک شوز ایک عرصہ سے نہیں دیکھ یا سن رہا۔ کبھی کبھار پروگرام ”بیٹھک“ اس لیے دیکھ لیتا ہوں کہ اس میں ایک تو اپنا وجاہت مسعود ہوتا ہے دوسرے باقی لوگ بھی لہوری ہیں دلچسپ اور ایک سندھی لباڑی بھی لیکن اب یہ پروگرام بھی پانچ دس منٹ دیکھ کے چھوڑ دیتا ہوں کہ کسی کا کہا کبھی درست ثابت نہیں ہوا۔ مگر کل ایسے ہی پہلے میں نے

Read more

کتاب ”جس کی تھی بات بات میں ایک بات“ پر تبصرہ

محمود الحسن صاحب کو دیکھ کر یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اپنی حقیقی عمر سے ذرا کچھ تاخیر سے پیدا ہوئے۔ ان پر بھری جوانی میں بھی بزرگی طاری رہی، انتظار حسین صاحب، شمیم حنفی صاحب، زاہد ڈار صاحب، مستنصر حسین تارڑ صاحب، شمس الرحمٰن فاروقی صاحب، محمد سلیم الرحمٰن صاحب، وجاہت مسعود صاحب اور آصف فرخی صاحب جیسے معتبر نابغوں اور بزرگانِ علم و ادب کی محفلوں میں بڑی عقیدت سے بیٹھنے والے، ان کی گفتگو کو سعادت

Read more

اردو ادب کے تین سوتیلے بچے

ہم سب یہ تو جانتے ہیں کہ اردو ادب کے بہت سے بچے ہیں لیکن بہت سے لوگ یہ نہیں جانتے کہ کچھ بچے سگے ہیں اور کچھ بچے سوتیلے۔ سگے بچوں میں غزل، نظم، افسانہ، ناول اور ڈرامہ شامل ہیں جبکہ انٹرویو، خطوط اور ڈائری سے سوتیلے بچوں کا سا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں وہ عزت اور عظمت نہیں ملتی جو سگے بچوں کو ملتی ہے۔ شاید اسی لیے میرے دل میں سوتیلے بچوں کے لیے ایک

Read more

کالم لکھتے ہوئے کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

لکھتے وقت یہ طے کریں کہ آپ کس طبقے کے لیے تحریر لکھ رہے ہیں۔ کیا یہ سکالرز کے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے؟ عام لوگوں کے لیے ہے تو عام فہم الفاظ استعمال کریں۔ مختصر ترین الفاظ میں موقف دیا جائے اور جس موضوع پر تحریر لکھ رہے ہیں اس پر فوکس کریں، درمیان میں غیر متعلقہ موضوعات کو چھیڑنے سے گریز کرنا چاہیے۔

چند برس پہلے تک اردو کے اخباری کالم کی طوالت سولہ سو الفاظ کی ہوتی تھی۔ پھر چودہ سو تک بات آئی اور اب ہزار لفظوں میں بات کہنے کا حکم ملتا ہے۔ اب نوے فیصد سے زیادہ افراد موبائل کی چھوٹی سکرین پر تحریر پڑھتے ہیں۔ ان کی توجہ کا دورانیہ کم ہوتا ہے۔ اس لیے عالمی میڈیا پر رجحان پہلے 800 الفاظ کی تحریر کا ہوا تھا، اب پانچ چھے سو الفاظ تک بات آ رہی ہے۔ جملے چھوٹے لکھنے چاہئیں۔ طویل جملے لکھے جائیں تو پڑھنے والا تو ایک طرف، لکھنے والا خود بھی بھول جاتا ہے کہ وہ کیا بات کہہ رہا تھا۔

Read more

پاکستان کی تاریخی سفارتی جست

صحافت کے دور ’زوال‘ میں آنکھیں کھول کر کالم نگاری کی شد بد حاصل کرنے والے ایک یار عزیز نے پنڈورا باکس کھولنے کی کوشش کی ہے لیکن برادر محترم وجاہت مسعود نے مولانا مودودی علیہ رحمہ کی پیروی میں خاموشی کا مشورہ دیا ہے کہ مولانا کی زبان یا قلم سے کبھی کوئی سوقیانہ بات نہیں نکلی۔ کبھی انھوں نے کسی مخالف کو شیطان قرار دیا نہ طوائف جیسے لفظ سے اپنے قلم کو آلودہ کیا۔ یہ طرز تکلم

Read more

وجاہت مسعود سے ملاقات (ادھوری چاہت کی تکمیل)

اچھے طالب علم کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ جن لوگوں کی تحریروں کے ساتھ شامیں گزارتا ہو، جن کی لکھت سے صبح کا آغاز کرتا ہو، ان لوگوں سے ملنے کے لیے ہمیشہ بے تاب رہتا ہے۔ میں خود کو اچھا طالب علم تسلیم تو نہیں کرتا مگر اس کے باوجود ان لوگوں سے ملنے کی چاہت ہمیشہ رہتی ہے جن کی نثر اور شاعری سے گاہے بگاہے مستفید ہوتا ہوں۔ میری عادت ہے کہ صبح اٹھتے ہی

Read more

بیماری پرانی ہے یا وجاہت صاحب کا چورن؟

آج سے چند روز قبل "ہم سب” پر محترمی وجاہت مسعود صاحب کا ایک کالم ’مولانا مودودی نے قیام پاکستان کے بعد بھی قائد اعظم کی مخالفت کی‘ شائع ہوا۔ اس کالم کی خوبصورتی یہ تھی کہ کسی لمبی چوڑی تمہید یا تشریح کے بغیر محض ٹھوس حوالوں سے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ ابوالاعلیٰ مودودی صاحب محض پاکستان بننے سے قبل ہی نہیں بعد میں بھی قائد اعظم کی مخالفت کرتے رہے تھے۔ ہر کسی کی طرح مودودی

Read more

اہل وطن کو سکھ بھری عید مبارک

خوشی کا موسم ہے کہ امت مسلمہ نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رمضان کے روزے رکھے اور تزکیۂ نفس کے عظیم الشان دور سے گزر کر صبر و ایثار کی برکتوں سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ میں سوچ رہا ہوں کہ ایسے میں میرے نوک قلم پر سکھ بھری عید مبارک کی اجنبی سی ترکیب کیوں آئی ہے۔ شاید اس کی وجہ ہمارے بلند مرتبہ انشا پرداز جناب عرفان صدیقی اور کمال کے زباں داں جناب وجاہت

Read more

اڈیالہ جیل، سوشل میڈیا کا بیانیہ اور تعبیرِ غالب

یوسفی صاحب نے کہا تھا کہ غالب وہ شاعر ہے جو سمجھ نہ آئے تو دونا مزا دیتا ہے۔ یہ بات تو ٹھیک تھی مگر اب غالب کے شارحین اور عشاق نے مرزا کے ہر شعر کی ایسی ایسی تشریح کر کے دکھا دی ہے کہ بندہ سوچتا ہے ’گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم۔‘ میں نے اپنے ایک پرانے کالم میں۔ اوہ معافی چاہتا ہوں، مجھے کالم کی جگہ اظہاریے کا لفظ استعمال کرنا چاہیے کہ استاذی

Read more

نازی باقیات کا بچا کھچا نمائندہ حسن نثار

گزشتہ دنوں سما ٹیلی ویژن پر معروف دانش گرد حسن نثار نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آ بادی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ آدھی آ بادی کو نازیوں کی طرز پر گیس چیمبر میں ڈال کر ختم کر دیا جائے تاکہ کسی بھی طرح سے آ بادی کا بوجھ کم ہو جائے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے موصوف سیاست دانوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کا مشورہ دے چکے ہیں بلکہ اس

Read more

کیا ہمارے ادیب کا تہذیبی وجود خطرے میں ہے؟

اگر آپ ادیب اور تخلیق کار ہیں یا کچھ ادب شناس اور ادب پرور ہیں یا اگر یہ نہیں بلکہ صرف جز وقتی ادیب ہیں اور دانشوروں کی محفلوں میں اٹھنا بیٹھنا پسند کرتے ہیں تو ”کیا ہمارا ادیب اپنی تہذیبی شناخت کھو چکا ہے؟“ کے سوال کا آپ تسلی بخش جواب دے سکتے ہیں۔ اور اگر فرض محال آپ اس سوال کا ’ہاں‘ یا ’ناں‘ کسی بھی ایک آ پشن میں مدلل جواب دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو

Read more

قرارداد مقاصد : ایک اور پنگا (پہلا دکھڑا)

محترم وجاہت مسعود کا ”گدلا تالاب“ دیکھتے ہی کھجلی میرے قلم میں بھی ہوئی، لیکن میں نے اسے سیاہی کی شکل دینے سے گریز کیا۔ پھر مجیب الرحمن شامی کا ”رد گدلا پن“ پڑھ کر اور اس کے جواب میں محترم وجاہت کا ”جواب شکوہ“ پڑھ کر یقین جانیں عرصے بعد خوشی ہوئی، وجہ صرف یہی کہ یہ دو پڑھے لکھے لوگوں کے درمیان سیاست سے بالاتر ہو کر ایک تاریخی واقعہ پر علمی بحث تھی، جس میں ایک دوسرے

Read more

کچھ غیر دیانتداری کی باتیں

دنیا کے سب معاشروں میں جینوئن ادیبوں کے ساتھ ہمیشہ یہ المیہ رہا ہے کہ یا تو معاصر زمانے نے ان کی قدر نہیں کی یا پھر ان کے کام کو چوری سے مطلب اپنے نام سے چھپایا جاتا رہا ہے۔ تاریخ بعد میں اس کی قدر قیمت کس طرح متعین کرتی ہے یہ ادیب کا مسئلہ نہیں۔ ملکی، غیر ملکی کانفرنسوں میں شرکت، ادبی جلسے، جلوسوں میں اپنی موجودگی، طاقت ور لوگوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھ

Read more

محبت کی بارش اور دوستی کی قوس قزح

پاکستان میں ایک ماہ کے قیام کے دوران میں اپنے ادبی دوستوں کی محبت کی بارش میں اندر تک بھیگ گیا۔ اس دفعہ وہ بارش موسلا دھار بھی تھی اور بارش کے بعد دوستی کی قوس قزح کے سات رنگ بھی چاروں طرف بکھر گئے تھے۔ دوستی کی قوس قزح کا پہلا رنگ اس وقت دکھائی دیا جب معروف افسانہ نگار فرحت پروین نے اپنے ہاں مجھے اور میری پیاری بہن عنبرین کوثر کو ایک شام پر تکلف چائے پر

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور ان کے ”آدرش“

ڈاکٹر خالد سہیل سے میرا تعارف اپنی پیاری تخلیق کار دوست دعا عظیمی کی بدولت ہوا۔ وہ مجھے اکثر ہی ان کی شخصیت، ان کے فلسفے اور ان کے افکار و نظریات کے گن گاتی نظر آتی تھی اور میں یہ بھی جانتی تھی کہ دعا کو بے وجہ کسی کی تعریف کرنے کی عادت نہیں ہے۔ سو اس تجسس میں، میں نے ڈاکٹر خالد سہیل کے بارے میں پڑھنے کی کوشش کی۔ یہ سلسلہ جاری تھا کہ ان کی

Read more

قرار داد مقاصد یا منزل سے بھٹکنے کا آغاز

گزشتہ دنوں پاکستان کے دو ہیوی ویٹ صحافیوں وجاہت مسعود اور مجیب الرحمان شامی نے اپنے کالموں کے ذریعے 13 مارچ 1949 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے منظور ہونے والی ’قرار داد مقاصد‘ پر مکالمہ کیا ہے۔ پاکستانی سماج میں تحقیق اور تاریخ کو درست تناظر میں پرکھنے کی علمی روایت نہیں ڈالی جا سکی۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ کی جد و جہد اور ملک قائم ہونے کے بعد ہونے والی محلاتی سازشوں کو پرکھنے کا

Read more

جناب وجاہت مسعود صاحب قرارداد مقاصد کا کیا قصور؟

وجاہت مسعود صاحب جمہوری روایات، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ وجاہت مسعود صاحب ان چند لکھاریوں میں شامل ہیں جن کے شاگردوں میں نام لکھوانا درویش اپنے لیے باعث فخر خیال کرتا ہے۔ جناب نہایت خوبصورتی سے اپنی بات بیان فرماتے ہیں میری حسرت ہے کہ مہلت نفس میں ان جیسی ایک تحریر ہی قلم سے برآمد ہو جائے۔ شاید فہم کی کمزوری ہے کہ استاد محترم کی گزشتہ تحریر سے کچھ الجھن پیدا ہوئی،

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل

مذہب اور جنس کی بنیاد پر طاقت کی سیاست ہمیشہ سے انسان کے چال چلن اور بحیثیت مجموعی انسانی معاشروں کے رسم و رواج کی تشکیل میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی رہی ہے۔ اب جب کہ انسان زیادہ آزادی کی طرف قدم بڑھا رہا ہے تو مذہب اور جنس کی بنیادیں نئے ڈھنگ اختیار کر رہی ہیں اور طاقت کی سیاست بھی نئے نئے انداز میں ان دونوں کو استعمال کر رہی ہے۔ طاقت کبھی گولا بارود بن کر

Read more

محمد علی: مسجد سے فلم سٹوڈیوز تک

فصیل میں مقید ملتان شہر میں داخل ہونے کو چھ دروازے ہیں۔ ان میں ایک لوہاری دروازہ بھی ہے۔ وجہ ہائے تسمیہ اس دروازے کی دو بتائی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ اس کے اندر داخل ہوتے ہی آہن گروں کی بستی تھی جہاں دن رات لوہا ڈھالا جاتا تھا، چناں چہ لوہا کی نسبت سے اسے لوہاری گیٹ کہا جانے لگا۔ دوسری وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ لاہور کو جانے والا راستہ اسی دروازے کی دہلیز

Read more

دلوں کے طبیب ڈاکٹر خالد سہیل کی میرے شہر میاں چنوں آمد

حقیقت میں وہ شخص ”بڑا یا عظیم“ کہلائے جانے کا مستحق ٹھہرتا ہے جو دوسروں کو اکنالج کرنا سیکھ جاتا ہے، خوبیوں اور خامیوں سمیت قبول کرتا ہے۔ ججمنٹل ہونے کی بجائے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے خود کی رائے یا فلسفہ حیات زبردستی دوسروں پر ٹھونسنے کی کوشش نہیں کرتا۔ ایسے شخص کے اندر اس قدر حوصلہ، ظرف، کشادہ دلی اور بلند نظری کی سی خصائص پیدا ہو جاتی ہیں کہ وہ خود کچھ کہنے یا بولنے کی

Read more

محمود شام کے ”روبرو“

ایک زمانہ تھا جب اخبار نویس صرف واقعات ہی رپورٹ نہیں کیا کرتے تھے بلکہ صاحب اسلوب انشا پرداز بھی ہوا کرتے تھے۔ زبان و بیان کا چٹخارہ اور عبارت آرائی، اخباری تحریروں کا خاصہ ہوا کرتے تھے۔ اب خال خال کوئی صحافی نظر آتا ہے جس کی تحریر میں ادیبانہ شان ہو، جیسے وجاہت مسعود، یا پھر گئے وقتوں کی کوئی کوئی نشانی باقی ہے۔ جناب محمود شام بھی انہی بھلے وقتوں کی نشانی ہیں جب صحافی حضرات صاحب

Read more

گرو طوطے کا قیدی طوطے کو پیغام

ہم جس عہد میں زندہ ہیں اس کو ڈیجیٹل ایج کہا جاتا ہے اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہماری یوتھ کی علم و فن اور معلومات سے رسائی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ان کو ان کی عمر یا وقت سے بھی پہلے چیزیں پتہ چلنے لگی ہیں۔ اس بات کو کلی طور پہ رد بھی نہیں کیا جا سکتا مگر اس سب میں آپ تجربہ، مشاہدہ اور وقت کے گزرنے کے ساتھ ادراک کا جو لیول انسان

Read more

پہلوان سخن سے بناکا گیت مالا اور ”ایکس“ تک‬

اردو شعر و ادب سے ذوق رکھنے والے احباب کے لیے شیخ امام بخش ناسخ ملقب بہ پہلوان سخن کا نام اجنبی نہ ہو گا۔ آپ اردو کے کلاسیکی شعراء میں اہم مقام کے حامل ہیں۔ اٹھارہویں صدی میں فیض آباد میں پیدا ہوئے اور انیسویں صدی میں لکھنو میں انتقال ہوا۔ ان کی سوانح سے پتا چلتا ہے کہ کسرتی بدن اور جسمانی ورزش کے شوق کے سبب فن پہلوانی میں اچھا خاصا درک رکھتے تھے۔ اردو شاعری کی

Read more

چھ سالوں میں چھ سو کالم لکھنے کے چھ راز

چند سال پیشتر جب میں نے اپنا پہلا کالم ’ہم سب‘ کو بھیجا تھا تو میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ میں اگلے چھ سالوں میں چھ سو کالم لکھوں گا۔ ان دنوں میری دوسری ادبی محبوبہ انگریزی سے زیادہ دوستی تھی اسی لیے میں نے پہلا کالم بھی انگریزی میں لکھا تھا۔ اس کالم کے جواب میں وجاہت مسعود کا ادبی محبت نامہ آیا جس میں انہوں نے رقم کیا کہ انہیں میرا کالم پسند آیا

Read more

چپاتی کا انتخابی نشان

کالم لکھنے بیٹھا تھا کہ ایک برادر عزیز کا فون آ گیا۔ عام طور سے درویش کالم لکھتے ہوئے فون نہیں اٹھاتا۔ موسیقی کے اساتذہ اپنے فن کو ہوا میں گرہ لگانے سے تشبیہ دیتے ہیں۔ لکھنے والے کو تو گرہ لگانے کو کرہ ہوائی بھی میسر نہیں ۔ کاسہ سر میں رکھے مٹھی بھر مغز میں بچھی باریک شریانوں میں گندھا یاد، احساس، گزرے ہوئے واقعات اور آنے والی فصلوں کے انتظار کا ایک نادیدہ طلسم ہے۔ لکھنے والے

Read more

الیکشن سے قبل بلے کا نشان چھن جانے سے تحریک انصاف کے لیے کیا مشکلات پیدا ہوں گی؟

پاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف سے ’بلے‘ کا انتخابی نشان واپس لینے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے جو قانونی و سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اس نے یہ سوالات جنم دیے ہیں کہ آیا یہ اقدام آئندہ عام انتخابات کی ساکھ پر اثر انداز ہوسکتا ہے، اور یہ کہ اب پی ٹی آئی الیکشن میں حصہ کیسے لے گی۔

Read more

غالب کی سالگرہ

27 دسمبر 1797 مرزا اسداللہ خان غالب کا یوم ولادت ہے اور 15 فروری 1869 کو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے میری طرح آپ میں سے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جن کا باقاعدہ شعر و ادب سے تعلق تو نہیں مگر میری طرح انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار غالب سے ان کے اشعار اور نثر کے ذریعے زندگی کی نا انصافی ’سفاکی‘ کج ادائی ’بے وفائی‘ بے ڈھنگے پن وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے

Read more

ارشاد امین۔ تیں بِن سُنج ویڑھے یار فرید وو

نوٹ: مضمون میں سرائیکی اشعار اور الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے 22 ستمبر 2023 کو اچانک ارشاد امین کا فون آیا کہ پیر کے روز اسلام آباد وارد ہونے والے ہیں انتظام کر کے رکھنا، مجھے اچانک راحت اندوری مرحوم کا وہ شعر یاد آ گیا۔ گلاب، خواب، دوا، زہر، جام کیا کیا ہے میں آ گیا ہوں بتا انتظام کیا کیا ہے تیس سال پہلے کی بات ہوگی کہ چند دوستوں کے ہمراہ ’سالانہ دو روزہ خواجہ غلام

Read more

ارشاد امین: تم نے بھی ابدی اڑان بھر لی

1986 تھا یا 1985 درست یاد نہیں البتہ کراچی میں ترقی پسند ادیبوں کی ایسوسی ایشن کی گولڈن جوبلی کی تقریب تھی جس میں شرکت کے لیے میں سرائیکی وسیب کے دانشوروں کے گروہ میں شامل تھا۔ میں ان دنوں کوٹ ادو میں میڈیکل پریکٹس کیا کرتا تھا۔ استاد فدا حسین گاڈی اور ان کے فرزند مشتاق گاڈی کے ہمراہ ملتان پہنچا تھا جہاں سے دوسرے دوستوں کے ہمراہ ہم کراچی جانے کے لیے ریل گاڑی میں سوار ہوئے تھے۔

Read more

میں نے دیکھا تھا اُن دنوں میں اُسے

تاریخ کے قرطاس پہ، کئی محاذوں پہ، داستانیں رقم کرتے ہوئے مشاہیر کی مادر علمی، یکم جنوری 1864 کو منصہ شہود پر آئی، جسے گورنمنٹ کالج کے اسم سے نوازا گیا۔ ادارے کے آدرش، قواعد و ضوابط، اور تعلیمی و تنظیمی معاملات، ارتقائی مراحل سے سجل سے گزرتے، مرتب ہوئے۔ ڈیڑھ صدی سے زائد کے دورانیے میں، آزادی اور تقسیم کی لکیروں کے کھینچنے کے اثرات بھی عیاں ہیں۔ ادارے کا بنیادی نصب العین، courage to know عظمت کی بالا

Read more

نواز شریف کو چار سال بعد ملکی سیاست، عدلیہ، فوج اور معیشت میں کیا تبدیلی ملے گی؟

گذشتہ چار برسوں میں نہ صرف سیاسی جماعتوں کے بیانیے تبديل ہوئے بلکہ اقتدار کے کرسی پر بیٹھنے والا بھی بدلا۔ ان تمام تر تبدیلوں کے بعد جب نواز شریف پاکستان واپس لوٹیں گے تو انھیں چار سال قبل والے پاکستان سے کتنے مختلف حالات کا سامنا ہو گا؟

Read more

ناروے پہ نادرہ مہر نواز کی نادر کتاب ”ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک“

نادرہ مہر نواز سے میں غائبانہ طور پہ اس وقت سے واقف ہوں کہ جب وہ کسی ڈائجسٹ میں افسانے اور انٹرویوز لکھ رہیں تھیں۔ میری بڑی بہن خواتین کے ڈائجسٹ میں چھپنے والے افسانے بڑے شوق سے پڑھتیں تھیں۔ میرا رجحان اور دلچسپی افسانوں کے بجائے انٹرویوز کی حد تک ہی تھی جسے میں عموماً دس پندرہ منٹ میں پڑھ لیا کرتی تھی اور بس۔ لیکن اتفاق سے ایک دن ایک افسانے کی ابتداء نے میری توجہ کھینچ لی۔

Read more

چین کی اعلیٰ قیادت میں اتھل پتھل اور ژی جن پنگ کی حکمرانی

چین کے صدر ژی جن پنگ نے رواں برس مارچ 2023 میں اپنی تیسری میعاد کے آغاز پر چین کے اعلیٰ عہدوں پر اپنے وفادار رہنماؤں کی غیر معمولی تعداد تعینات کی تھی۔ ان رہنماؤں کے بارے میں انہیں امید تھی کہ وہ چین کے لیے ان کے عظیم عزائم کے حصول کا راستہ ہموار کریں گے۔ تاہم، ایک سال سے بھی کم وقت میں، پے در پے ہنگامہ خیز واقعات نے ژی کی انتخاب کردہ حکمران اشرافیہ کی بنیادیں

Read more

سر دوستاں سلامت کہ تو خنجر آزمائی

کیا کالم لکھنا توسن خیال کی آوارہ خرامی ہے؟ اس کے لئے تو مگر شعر کی بے کنار کائنات موجود ہے۔ غالب تو ماورائے عدم کی نامعلوم وسعتوں سے یہ کہتے ہوئے نگہ بے نیازی سے آگے بڑھ گئے ’سیر کے واسطے تھوڑی سی فضا اور سہی‘۔ فراق فرماتے تھے، ’ارے صاحب، بات کیا کرنا ہے، بس دماغ سانس لیتا ہے‘۔ اخباری کالم نگار کو لیکن اہل زمین کے معاملات سے مفر نہیں کہ اس نے تاریخ کے عذاب دستاویز

Read more

وجاہت مسعود! ہم تمہارا انتظار کرتے ہیں

جب تم دونوں، معاف کرنا، چاروں آنکھوں سے شرارت اور غصہ انڈیلتے ہوئے جمال اشرف کے پنجابی افسانے پر خوفناک سوال پوچھتے تھے تو صابر لودھی اور اقبال حیدر بٹ ہی نہیں، پوری پنجابی مجلس محظوظ ہوتی تھی ادھر مجلس اقبال کے اجلاس میں، شفقت اللہ اور میں تمہارا انتظار ہی کرتے رہ جاتے کہ گورنمنٹ کالج بہر حال تمہارے لئے ایک ٹوڈی درس گاہ تھی ہم تمہارا انتظار کرتے رہے تم بیاہ کر کرشن نگر جا پہنچے اور پھر

Read more

ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب

نادرہ مہر نواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔ بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور

Read more

ناروے کے بارے میں ایک دلنشین کتاب

نادرہ مہر نواز کی تصنیف ’ناروے پگڈنڈیوں سے شاہراہوں تک‘ میرے ہاتھ میں ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ اس خوبصورت کتاب پر کیسے اور کیا تبصرہ کیا جائے۔ کتاب میں شامل بیشتر مضامین ’ہم سب‘ کی ویب سائٹ پر نظروں سے گزر چکے ہیں لیکن انہیں کتابی شکل میں دیکھنا اور مطالعہ کرنا ایک مختلف اور دلچسپ تجربہ ہے۔ بڑے سائز کے 184 صفحات پر مشتمل یہ کتاب آرٹ پیپر پر چھاپی گئی ہے۔ لاہور

Read more

کیا آپ نئے دوست بنانے کے راز جانتے ہیں ؟

میرے ایک پاکستانی دوست جو بہت شرمیلے اور تنہائی پسند ہیں جب مجھ سے ملنے کینیڈا تشریف لائے اور ان کی فیمیلی آف دی ہارٹ کے ممبروں سے ملاقات ہوئی تو ایک شام مجھ سے کہنے لگے ’ میں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ انسان زندگی کی صبح کے وقت اپنے سکول اور کالج کے زمانے میں نئے دوست بناتا ہے۔ اس کے بعد ساری عمر صرف واقف کار ہی بنتے ہیں لیکن آپ نے تو زندگی کی

Read more

حارث خلیق کی کتاب "حیران سر بازار”

ادب کی دیگر اصناف کی نسبت شاعری کی طرف میرا رجحان کم کم رہا ہے۔ پھر شاعری میں بھی زیادہ تر مجھے غزل کی نسبت نظم سے رغبت ہے۔ بالخصوص علامہ اقبال اور ن م راشد کی نظمیں۔ موجودہ دور کے شاعروں کو کم ہی پڑھا ہے۔ پچھلے دنوں محمد اظہار الحق صاحب کے ایک کالم جو حارث خلیق صاحب کی کتاب ”حیران سر بازار“ پر تھا، زیر مطالعہ ہوا۔ اظہار صاحب نے بہت احسن انداز سے اس کتاب اور

Read more

عمران خان کی اقتدار سے بے دخلی اور گرفتاری: پاکستان میں جمہوری عمل کی کمزوری کی وجہ ’اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت‘ ہے یا خود سیاستدان؟

پاکستان کی 76 سالہ تاريخ میں اب تک جمہوری طریقے سے آنے والے وزرائے اعظم کی تعداد تو 23 ہے لیکن ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جو اپنی آئینی مدت پوری کر سکا ہو۔ بظاہرتو ان سب کے جانے کی وجوہات مختلف تھیں لیکن ایک وجہ جو پاکستانی سیاست میں آج تک موجود ہے وہ فوج کی سیاست میں مداخلت ہے۔

Read more

حیراں سرِ بازار

میں حارث خلیق کے شعری مجموعے ” حیراں سر ِ بازار” کو پڑھ کر ، یہاں کچھ کہنے کو اپنے خیالات مجتمع کر رہا تھا کہ دھیان میر صاحب کے دیوان دوم کے ایک شعر کی طرف چلا گیا۔ لیجئے وہ شعر عرض کیے دیتا ہوں۔ دھیان اس شعر کی طرف کیوں گیا یہ آگے چل کر بتاؤں گا ۔ ہاں تو خدائے سخن کا کہنا تھا: ڈوبا لوہو میں پڑا تھا ہمگی پیکر میر یہ نہ جانا کہ لگی

Read more

جمہوریت یرغمال بنائی جا چکی ہے!

حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں نے 9 اگست تک قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح اسمبلیاں ٹوٹنے کے بعد الیکشن کمیشن کے پاس انتخابات منعقد کروانے کے لئے 90 دن کی مہلت ہوگی۔ اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود بظاہر ابھی تک نگران وزیر اعظم کے لئے کسی نام پر ’اتفاق‘ نہیں ہوسکا۔ تاہم خبروں کے مطابق اس معاملہ پر اتحادیوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ لیکن ملک میں جو ماحول بنایا جا رہا

Read more

ملکی سیاست کے زمینی حقائق اور تقاضے

میری موجودہ ذہنی کیفیت کے مظہر میری داخلی دنیا کے غماز اور میرے حسب حال احمد فراز کے چند اشعار آپ کی ضیافت طبع کے حضور بطور نذر و نیاز جس آگ سے جی آج جل اٹھا ہے مکرر پہلے بھی میرے سینے میں بیدار ہوئی تھی جس کرب کی شدت سے میری روح ہے بے کل پہلے بھی میری زیست کا آزار ہوئی تھی جس سوچ سے میں آج لہو تھوک رہا ہوں پہلے بھی مرے حق میں یہ

Read more

زمین کے بیٹے زندہ رہتے ہیں

محترمی وجاہت مسعود سے ”ہم سب“ کے لیے باقاعدہ لکھنے کا عہد ہوا ہے۔ پہلا کالم لکھنے سے قبل خاکسار نے ضروری جانا کہ کالم نگاری کی زمین سے اپنی زمانی وابستگی کا حال نذر قارئین کر دے۔ ٭٭٭           ٭٭٭ 1984ء میں سپیشل ملٹری کورٹ نے مجھے سزائے موت سنائی۔ میرے ذمہ یہ جرم لگایا گیا تھا کہ میں نے جنرل ضیا الحق کی ”قانونی“ حکومت کا غیر قانونی ذرائع سے تختہ الٹنے کی کوشش

Read more

ہم آپ سے سڑکوں پر برہنہ گھومنے کی آزادی نہیں مانگ رہے: ڈاکٹر رامش فاطمہ سے مکالمہ

انٹرویو: اقبال خورشید ۔ ۔ سرخیاں : کیا ”می ٹو“ اور ”فیمینزم“ پر تنقید کرنے والوں کو ان تحریکوں کا اوریجن پتا ہے؟ جذباتی وابستگی انسانوں سے ہو یا شہروں سے، وہ خراج مانگتی ہیں ایمرجنسی میں ڈیوٹی کے بعد لگا، جیسے لفظ پر سے اعتبار ہی اٹھ گیا ہو کیا ہمیں عورت قبول ہے؟ وہ عورت، جو پراعتماد ہے، ہنس سکتی ہے، جو چاہے لکھ سکتی ہے، جہاں چاہے جا سکتی ہے۔ عورت، جو سوال اٹھا سکتی ہے؟ یہی

Read more

ہم نے ہیرو ازم کے لیے غزنوی اور غوری کو ادھار پر لیا ہوا ہے: فرنود عالم

سرخیاں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا خطاطی کی طرح ماضی کا حوالہ بن جائے گا سوشل میڈیا سے پہلے روشن خیالوں کے لیے اظہار کے آزاد مواقع میسر نہیں تھے معروف کالم نگار، ہیومن رائٹس ایکٹویسٹ اور سماجی مبصر، فرنود عالم سے ایک مکالمہ انٹرویو: اقبال خورشید جبر کی تاریکی میں اس کے الفاظ کی بازگشت امید افزا ہے، پرشور سناٹے میں اس کی آواز روشن خیالی کی نوید ہے۔ یہ اس شخص کا تذکرہ جو اندھیری سرنگ میں، بغیر رکے

Read more

اردو میں کتاب لکھ کر صرف عزت ملتی ہے، پیسہ نہیں ملتا: عدنان خان کاکڑ

سرخیاں : پاکستان کا مستقبل تاریک ہے، ہم طویل المدتی پلاننگ میں دل چسپی نہیں رکھتے کاغذی میڈیا یوٹیوب کا رخ کر رہا ہے، ظفر عمران کے املا کو زمانے نے مسترد کر دیا معروف صحافی، بلاگر اور ایڈیٹر ہم سب، عدنان خان کاکڑ سے ایک گپ شپ انٹرویو: اقبال خؤرشید ڈیجیٹل صحافت کے شہ سوار ہیں۔ کئی جہتیں ہیں۔ کبھی بلاگ کے سانچے میں ان کا مزاح جنم لیتا ہے، کبھی ولاگ کے فریم میں اپنے درشن کراتے ہیں۔

Read more

مشترکہ پودا اور وجاہت مسعود کے خدشات

گزشتہ روز وطن عزیز کی سب سے بڑی عدالت کے لان میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس قاضی فائز عیسی نے مل کر جو پودا لگایا ہے، دعا گو ہیں کہ اس پر پھول جلد آئیں۔ یہ پودا پھلے پھولے اور بہار کی نوید لے کر آئے۔ لگے ہاتھوں یہ بھی دعا ہے کہ نظام انصاف کا پودا بھی تناور ہو، اس کی چھاؤں ہر مظلوم کو میسر ہو۔ دعا ہے کہ وہ ہزاروں مقدمات جو التوا کا

Read more

جمہوریت اور پاپولزم میں فرق

اگر سوال الیکشن کے طریقہ کار تک محدود کر لیں تو دونوں میں کوئی فرق نہیں، اکثریت کی رائے ہی فیصلہ کن ہے۔ لیکن اگر سطح سے نیچے دیکھنے کی سعی کریں تو دونوں متصادم معلوم ہوتے ہیں۔ جمہوریت ایک ایسے مسلسل عمل کا نام ہے جو ’درمیانی راستہ‘ نکالنے کا ہدف رکھتی ہے جبکہ پاپولزم ’واحد حل‘ کا داعی ہے۔ جمہوریت کے لیے سیاست ’گرے ایریا‘ ہے دوسری طرف پاپولزم کے لیے سیاست ’حق و باطل‘ کا معرکہ۔ اول

Read more

شہر مدفون کی ایک گلی اور حسن کوزہ گر

شمیم حنفی 6 مئی 2021 کو رخصت ہوئے تھے۔ دو برس گزر گئے۔ جانا تو سبھی کو ہے۔ موت اچھے لوگوں کو اچک لینے میں کچھ عجلت پسند واقع ہوئی ہے۔ چند روز قبل برادرم محمود الحسن سے شمیم بھائی کی باتیں ہوتی رہیں۔ اب ان کا حکم موصول ہوا ہے کہ "ہم سب” پر شائع ہونے والی شمیم حنفی صاحب کی زیر نظر تحریر پھر سے شائع کی جائے۔ تعمیل کئے بغیر چارہ نہیں۔ اس تحریر کے ساتھ شمیم

Read more

صائمہ ملک: خواتین کے مسائل پر بلا جھجک اور کمال مہارت سے لکھنے والی مصنفہ

‎ ‎معروف لکھاری صائمہ ملک کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ (کچھ یادیں، کچھ باتیں ) حسن ترتیب کے اعتبار سے ڈراموں، کالموں اور افسانوں کا مجموعہ ہے۔ کتاب میں شامل تمام ڈرامے، کالم اور افسانے اگرچہ مختلف موضوعات پر ہیں، لیکن ان میں فکر و سوچ کا تسلسل موجود ہے، نیز ان کے کردار ہمارے معاشرے کی بھرپور عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ کتاب کی مصنفہ صائمہ ملک نے اپنی کتاب میں شامل ڈراموں، کالموں اور افسانوں

Read more

خالد حمید فاروقی کا ذکر خیر

28 جنوری 2017 کی ایک انتہائی سرد دن تھا اور صبح کے تقریباً چار بج رہے تھے جب ہم نے جرمنی سے بلجیم کے لئے سفر شروع کیا۔ ہماری منزل ”برسلز“ تھی۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بج رہے تھے جب ہم برسلز میں داخل ہوئے۔ برسلز یورپی یونین کا اور نیٹو کا ہیڈ کوارٹر ہے اور اس بارے بہت کچھ سن چکا تھا اور دیکھنے کی شدید خواہش تھی جو آج پوری ہو رہی ہے۔ شہر میں داخل ہوتے ہی بلند

Read more

ایوان سلمی اعوان میں دو دن

سلمی اعوان میری فیس بک فرینڈ ہیں۔ ان کی علمیت اور ادبی قد و قامت سے کون واقف نہیں۔ اگر ان کو اردو سفر ناموں کی بے تاج ملکہ کہا جائے تو کچھ غلط نہ ہو گا۔ وہ سیاحت کے ازلی عشق میں مبتلا ہیں۔ کہسار، دریا، سمندر اور اور دنیا کے ہر خطہ سے کشید تاریخ پہ مبنی کبھی سفر نامے تو کبھی تاریخی فکشن کو اس ماہرانہ انداز میں قلمبند کرتی ہیں کہ آپ حیران ہوجائیں۔ ان کے بلا کے مطالعہ اور مشاہدہ کی صلاحیت سے کون کافر ہے جو منکر ہو۔

وہ لوگ جو سلمی اعوان سے ذاتی طور پہ واقف ہیں انہیں اس کا بھی بخوبی اندازہ ہو گا کہ وہ لکھاری ہی نہیں پیدائشی ماں اور ایک صوفی منش انسان بھی ہیں جن کی پٹاری سے دوسروں کے لیے سوائے دعاؤں اور محبت کے کچھ نہیں۔ ظاہر ہے ایسے خالص انسان سے ازلی رشتہ جڑنا تو ہماری ضرورت ہی نہیں اعزاز بھی ہے۔

Read more

گزرے تھے ہم جہاں سے: صائمہ ملک کی کتاب آگ کا دریا ہے

میرا شمار لکھنے والوں میں تو نہیں ہے لیکن پڑھنے والوں میں ضرور ہوتا ہے۔ کچھ دن قبل میں نے صائمہ ملک صاحبہ کی کتاب ”گزرے تھے ہم جہاں سے“ کا مطالعہ کیا۔ جیسے جیسے میں وہ کتاب پڑھتا گیا ویسے ویسے ہی میرے ذہن میں صرف ایک سوال ابھرتا گیا کہ کیا یہ سوہنی کے دیس کی ایک خاتون کی لکھی کتاب ہے؟ وہ سوہنی کہ جسے غیرت کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔ وہ

Read more

پاکستان کے سنگین ترین معاشرتی جرائم رائٹ ونگ ہی نے کر رکھے ہیں: رعایت اللہ فاروقی

سرخیاں : اردو کالم تقریباً موت کے دروازے پر ہے سوشل میڈیا کا اسلوب مادر پدر آزاد ہے، جس کی وجہ سے یہ مستند نہیں بن سکتا نام ور صحافی اور کالم نگار، رعایت اللہ فاروقی سے خصوصی مکالمہ انٹرویو نگار: اقبال خورشید طویل صحافتی سفر نے تجربات سے لیس کیا، نظریات اظہار کی قوت بنے، اور مطالعے نے اسلوب کو جلا بخشی۔ رعایت اللہ فاروقی کا شمار اس عہد کے نمایاں کالم نگاروں میں ہوتا ہے۔ اخباری کالمز کا

Read more

میرا ادبی خواب جو شرمندہ تعبیر ہوا

مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ پچھلے چھ برسوں میں ’ہم سب‘ پر میرے چھ سو کالم چھپ چکے ہیں۔ اس کے لیے میں ’ہم سب‘ کے مدیروں ’قاریوں اور ناقدوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کیونکہ ان کی رفاقت اور معاونت کے بغیر یہ جوئے شیر لانا ناممکن تھا۔

اس خاص موقع پر پر میں آپ کو اپنے ایک ادبی خواب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں۔

میری زندگی کے بہت سے خواب جو شرمندہ تعبیر ہوئے ان میں سے ایک خواب ادبی محبت ناموں کا تھا۔ میرا خواب تھا کہ دو ادیب مل کر ایک کتاب لکھیں جو ادبی خطوط پر مشتمل ہو۔ وہ خواب کئی سالوں کے بعد اس وقت شرمندہ تعبیر ہوا جب میں نے رابعہ الربا کے ساتھ۔ کتاب

Read more

ناقابلِ اعتبار تاریخ کی الجھن

مجھے تھوڑی دیر کے لئے آپ سے بات کرنی ہے، کیا آپ میرے لئے تھوڑا سا وقت نکال پائیں گے کیونکہ میں اس وقت بہت اپ سیٹ ہوں اور مجھے نارمل ہونے کے لئے کسی ایسے انسان سے بات کرنے کی ضرورت ہے جو بہت متوازن شخصیت کا مالک ہو اور وہ آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ ” جی بیٹا“ ، چند ہی ساعتوں کے بعد جواب آ گیا اور دوسرا ٹیکسٹ یہ تھا۔ ”بیٹا آپ تو بہت مضبوط

Read more

سنہ 1997 میں سپریم کورٹ میں ہوئی ہنگامہ آرائی

استاذی وجاہت مسعود گاہے اس بات کا شکوہ کرتے ہیں کہ آج کا طالب علم جغرافیہ، تاریخ اور سیاسی حرکیات سے عدم واقفیت رکھتا ہے۔ میں نے بھی بطور طالب علم ان کی تحریروں اور تجزیوں سے یہی بات اخذ کی ہے کہ وقت موجود میں جو عدم برداشت اور نفرت آمیز سوچ بڑھی ہے اس کے پیچھے یہی امر کارفرما ہے نوجوان سیاسی ورکر کے پاس صرف مطلوبہ سچ اور جزوی معلومات ہیں۔ اب میں اصل مدعے کی طرف

Read more

”ادب، زندگی اور سیاست“: ایک تعارف

ڈاکٹر خاور نوازش بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان میں اس وقت ایسوسی ایٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔ گزشتہ کچھ عرصے میں انھوں نے محنت، ذہانت اور ترقی پسند نقطہ نظر کے باعث خاص پہچان حاصل کی ہے۔ تحقیق، تنقید، تنظیم اور تدریس ان کے خاص میدان عمل ہیں۔ ”ادب، زندگی اور سیاست“ ڈاکٹر خاور نوازش کی مرتبہ کتاب ہے جو مثال پبلشرز، فیصل آباد سے 2012 ء میں شایع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے ان مضامین کا انتخاب

Read more

ہم نے آج ہم سب کی شارٹ سٹوری رائٹنگ کی کی کلاس میں کیا سیکھا؟

ہم نے آج ہم سب کی شارٹ سٹوری رائٹنگ کی کی کلاس میں کیا سیکھا؟ ڈاکٹر لبنیٰ مرزا آج کی کلاس میں وجاہت مسعود صاحب نے ایک عمدہ لیکچر دیا۔ انہوں نے کہا کہ الفاظ ایک لکھاری کا اوزار ہیں جن سے وہ اپنا آرٹ تخلیق کرتا ہے اور اپنے قاری سے جڑتا ہے بالکل اسی طرح جیسے موسیقی کے سر ایک موسیقار کے لیے یا پینٹ اور برش ایک مصور کے لیے اور چھینی مجسمہ نگار کے لیے ہوتی

Read more

نیم صادق، نیم امین اور ثاقب نثار

دنیا بھر کے زیادہ تر سیاستدانوں سے ان کے عوام شاکی رہتے ہیں۔ مختلف قسم کے جھوٹ، وعدہ خلافیاں اور بے اعتدالیاں ان سے منسوب رہتی ہیں۔ تیسری دنیا کے ممالک کی اور زیادہ بدقسمتی ہے کہ یہاں یہ برائیاں عام ہیں۔ پاکستان اس معاملے میں یقیناً اس فہرست میں کہیں بہت اوپر آتا ہے۔ لیکن اسی ملک نے اپنے آئین کی دفعہ 62 کے تحت پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) کا رکن منتخب ہونے کے لئے صادق اور امین کی پخ

Read more

طاقت میں ”لاشریک“ کہلائے جانے کا کھیل اور بھوک سے مرتے عوام

جب پرائمری لیول کے اسٹوڈنٹ تھے تو اس وقت اسلامیات کی کتاب میں پڑھا کرتے تھے کہ ”خدا ازل سے ایک ہی ہے اگر کئی خدا ہوتے تو کائنات کا نظام انتشار کی نذر ہو جاتا، کیونکہ ہر خدا اپنی مرضی چاہتا، ایک سورج کو مشرق سے نکالنا چاہتا تو دوسرا مغرب سے نکالنے کی تمنا کرتا، اس طرح سے کائنات کا نظام نہ چل پاتا“ اس وقت تو خیر چھوٹے تھے یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں جو

Read more

احترام یا استحصال

اگر آپ عدنان کاکڑ اور وجاہت مسعود کے ساتھ اردو بلاگنگ کی کلاس نہیں لے رہے ہیں تو آپ بہت کچھ سیکھنے کا ایک نہایت اچھا موقع گنوا رہے ہیں۔ ہماری کلاس کے چند شاگردوں کا ایک دوسرے کے ساتھ گھر میں کام کرنے والی ماسیوں کے بارے میں تبادلۂ خیال ہوا جس پر آج کا مضمون مبنی ہے۔ آفتاب آپ لوگ خوش قسمت ہیں کہ جن کے پاس کام کرنے کے لیے ملازمین ہیں۔ ہم تو ایسے معاشرے میں

Read more