’پہلے کسی نے سنا کہ الیکشن کمیشن کا پورا کا پورا عملہ ہی اغوا ہو گیا ہو‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مریم نواز

BBC

پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر نے سنیچر کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ضمنی انتخابات میں الیکشن کمیشن کے عملے کے اغوا اور مبینہ دھاندلی پر الیکشن کمیشن کی اس پریس ریلیز کو سراہا ہے جس میں کمیشن نے اپنے عملے کے لاپتہ ہونے اور 20 پولنگ سٹیشن کے نتائج میں ردوبدل کے امکانات کو تسلیم کیا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ انھیں خوشگوار حیرت ہوئی ہے کہ الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کے حلقہ 75 کے ضمنی انتخابات میں ہونے والی بدانتظامیوں اور مبینہ دھاندلی کے خلاف سٹینڈ لیا ہے۔

خیال رہے کہ ڈسکہ سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نون کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات اور ’23 لاپتہ پریزائیڈنگ افسران’ کے کئی گھنٹوں تک ‘غائب’ رہنے کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سنیچر کو جاری کیے گئے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ 20 پولنگ سٹیشنز کے نتائج پر شبہ ہے لہذا مکمل انکوائری کے بغیر غیر حتمی نیتجہ جاری کرنا ممکن نہیں ہے اور یہ معاملہ انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری لگتی ہے۔

ای سی پی کے مطابق این اے 75 کے نتائج اور پولنگ عملہ ‘لاپتہ’ ہونے کے معاملے پر چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ معاملے کی اطلاع ملتے ہی رات گئے مسلسل آئی جی پنجاب ،کمشنر گجرانوالہ اور ڈی سی گجرانوالہ سے رابطے کی کوشش کرتے رہے لیکن رابطہ نہ ہوا۔

یہ بھی پڑھیے

ضمنی انتخابات میں رشتہ دار ضروری ہیں یا مجبوری؟

ضمنی الیکشن: پی ٹی آئی، نواز لیگ کی چار چار نشستیں

سینیٹ انتخابات میں پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ

مریم نواز کے مطابق الیکشن کمیشن بھی چیخ پڑا کہ دھاندلی ہوئی ہے۔ کمیشن نے بتایا کہ ان کا اپنا عملہ بھی یرغمال بنا لیا گیا اور انتظامیہ بھی غائب تھی۔ انھوں نے کہا کہ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ پورے حلقے میں ری الیکشن ہوں۔

مریم نواز نے الیکشن کمیشن کے اصولی مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اب وہ ہونے والی مبینہ دھاندلی کے خلاف اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے اور ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لائے۔ انھوں نے کہا کسی اور کے لیے نہیں تو اس کے لیے ہی کمیشن کو اس مافیا کے خلاف کھڑے ہو جانا چائیے جو ان کی بے توقیری ہوئی ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ وہ اتوار کو خود ڈسکہ جائیں گی۔ ان کے مطابق ’میں ان کو اس وقت تک سکون کا سانس نہیں لینے دونگی جس وقت تک انصاف نہیں ہوتا۔ میں 2018 کی طرح انھیں پتلی گلی سے نہیں نکلنے دونگی، اب یہ میرا ایک دوسرا روپ دیکھیں گے۔‘

صرف ایک بیانیہ کامیاب ہوا، نیب، عمران اور دیگر کا بیانیہ مسترد

مریم نواز نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج سے نیب کا بیانیہ ریجیکٹ،، ’ووٹ چور‘ عمران کا بیانیہ ریجیکٹ، باقی سب کا بیانیہ بھی ریجیکٹ اور صرف ایک بیانیہ کامیاب ہوا ہے، پاکستان کے کونے کونے میں گیا ہے اور وہ بیانیہ ہے نواز شریف کا بیانیہ ووٹ کو عزت دو ہے۔

انھوں نے کہا کہ اب خلائی مخلوق کو اپنے ادارے کی عزت کے لیے سبق سیکھ لینا چائیے۔

مریم نواز نے کہا کل (جمعے کو) جو ڈسکہ میں ہوا یہی انھوں نے 2018 میں بھی کیا اور اسی طرح ہمارا ووٹ چھینا۔ مجھے خوشی ہے کہ یہ ’ایکسپوز‘ ہوئے ہیں۔ چاروں صوبے سے بیک وقت تاریخی شکست اور تاریخی رسوائی اور بدنامی پر مبارکباد قبول فرمائیں۔ پہلے آپ ’سیلیکٹ‘ ہو کر آئے تھے اب لوگوں نے آپ کو ’ریجکٹ‘ کر دیا ہے۔

پہلے یہ کہا کرتے تھے کہ ضمنی انتخابات تو ہمیشہ حکومت جیتتی ہے۔ ’عبرتناک انجام کی فل ڈریس ریہرسل عوام نے انھیں دکھا دی ہے۔‘ نواز شریف لندن میں بیٹھا ہوا ہے اور ہر پولنگ سٹیشن پر نام گونج رہا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ جمعے کے دن عوام نے ووٹ کی عزت کی جنگ لڑی۔ نہ صرف انھوں نے ووٹ دیا بلکہ اس پر پہرہ بھی دیا۔ مریم نواز نے کہا کہ انھوں (حکومت) نے سوچا کے رات کا وقت ہو گا جو چاہیں گے کر لیں گے۔

ان کے مطابق نوشہرہ اور ڈسکہ کے عوام 2018 میں ووٹ چوروں کا چہرہ پہچان چکے تھے اس لیے انھوں نے انھیں پکڑ لیا۔ مریم نواز نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ ’مگرمچھ کے منھ سے اپنی فتح یعنی تین سیٹیں چھین لائے۔‘

مریم نواز کے مطابق جب اداروں کو پتا چلا کہ ن لیگ کی جیت ہو رہی ہے تو پھر انھوں نے ڈسکہ اور وزیر آباد میں پولنگ کی رفتار کم کر دی، جس سے لوگوں کے پولنگ سٹیشن خاص طور پر خواتین کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’بند پولنگ سٹیشن پر حکومتی مشیر اور وزیر اندر بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جیو ٹی وی نے حکومتی مشیروں کو دکھایا جو پولنگ سٹیشن کے اندر موجود تھے۔‘

’رینجرز کی موجودگی میں ووٹ چوری پکڑی گئی‘

مریم نواز نے کہا کہ انھوں نے تھیلے چھین کر بھاگنے کی کوشش کی۔ ان کا وہ جو پریذائڈنگ آفیسر تھیلا لے کر پولیس کی گاڑی میں فرار ہو رہا تھا تو انھیں کارکنان نے پکڑ لیا اور وہ رینجرز کی موجودگی میں پکڑا جاتا ہے۔

مبینہ طور پر پکڑنے جانے والے افسر کی وڈیو دکھاتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ یہ دیکھو، وہ بیچارہ کسی سے نظریں بھی نہیں ملا رہا ہے اور کسی کو منھ نہیں دکھا رہا۔ ان کے مطابق سرکاری افسران بند سٹیشن پر ٹھپے لگاتے پکڑے گئے اور پھر رینجرز کی گاڑیوں میں فرار ہو گئے اگر یہ عوام کے ہاتھ لگتے تو ان کا برا حال ہوتا۔

مریم نواز نے کہا کہ سنہ 2018 میں پوری دنیا نے دیکھا کہ الیکشن چوری ہوئی مگر کیا کبھی کسی نے پہلے سنا کہ الیکشن کمیشن کا پورا کا پورا عملہ ہی چوری ہو گیا ہے۔

’ہمیں پتا چلا کہ 20 سے 22 پولنگ سٹیشن کے افسران کو ہی اغوا کر لیا۔‘

ان کے مطابق میڈیا پر خبریں چلیں کہ دھند کی وجہ سے الیکشن کمیشن کا عملہ وقت پر نہیں پہنچ سکا۔ پتا نہیں یہ دھند تھی کہ اندھا دھند تھا۔

ابھی تک کوئی نہیں جانتا کہ 14 گھنٹے تک الیکشن کمیشن کے ان پریزائیڈنگ افسران کو کہاں رکھا، کس نے رکھا اور ان سے کیا کرایا گیا؟ الیکشن کمیشن پوری رات ان کو فون کرتا رہا مگر ان کا فون بند تھا۔ ان کے مطابق الیکشن کمیشن بے بس و لاچار بنا ہوا تھا۔

مریم نواز کے مطابق یہ نہیں پتا کہ 14 گھنٹوں کے بعد یہ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ مگر ان 20 پولنگ سٹیشنوں میں ووٹ کاسٹنگ کا تناسب 85 فیصد سے اوپر چلا گیا جبکہ دیگر تمام سٹیشنوں پر یہ تناسب 30 سے 35 فیصد رہا۔ ’اگر یہ افسران 16 گھنٹے قید میں رہتے تو شاید یہ تناسب 200 فیصد سے بھی اوپر چلا جاتا۔‘

ڈسکہ میں کیا ہوا؟

مریم نواز نے اپنی پریس کانفرنس میں جمعے کو ڈسکہ میں پیش آنے والے واقعات پر بات کی۔ انھوں نے کہا کہ ایک سیٹ کی خاطر دو قیمتیں جانیں چلی گئیں۔

مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں (حکومت کو) پتا تھا کہ یہ ہاریں گے مگر انھیں یہ پتا نہیں تھا کہ اتنی بری طرح ہاریں گے۔ جب یہ صبح آئے تو پی ٹی آئی کے کیمپ خالی جبکہ نون لیگ کے کیمپ عوام سے بھرے ہوئے تھے۔

جب ووٹر اتنی بڑی تعداد میں باہر نکلے تو انھوں نے کھلے عام فائرنگ کی تاکہ لوگ ڈر جائیں۔ مریم نواز نے الزام عائد کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے ایم این اے ان لوگوں کے ساتھ کھڑے نظر آئے، جنھوں نے فائرنگ کی۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ایم این اے کے بھتیجے بھی اس فائرنگ میں شامل تھے، جس کے نتیجے میں دو لڑکوں کی موت واقع ہوگئی۔ ان کے مطابق انتظامیہ بھی ان کی، پولیس بھی ان کی اور آپ سوچ سکتے ہیں کہ اگر مسلم لیگ ن یا رانا ثنااللہ نے فائرنگ کی ہوتی تو انھوں نہ لاہور آ کر مجھے بھی گرفتار کرنا تھا۔

انھوں نے پریس کانفرنس کے دوران وہ وڈیو بھی دکھائی جہاں فائرنگ کی جا رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ وہاں حکمران جماعت کے ایک رکن قومی اسمبلی بھی کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17777 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp