تہذیب الاخلاق۔ ایک اور کوشش

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سر سید احمد خاں قوم کی اخلاقی تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ انہوں نے 1870 ؁ ء میں اس مقصد کے لیے ”تہذیب الاخلاق“ پرچے کا اجرا کیا۔ محترم بزرگوار کو اپنے اس مقصد کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا رہا۔ یقین جانیے آج کل یہی مشکلات اس بندہ ناچیز کو درپیش ہیں۔ بخدا اس بیان سے ہرگز یہ مقصود نہیں کہ جناب سر سید جیسی نابغۂ روزگار ہستی کی ہمسری کا دعویٰ کیا جائے۔ مقصد صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اس قوم کی تہذیب و اصلاح کے لیے جو صاحب دل بھی کوشش کرے گا اسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہمارے ہاں مشکل یہ ہے کہ یہاں کسی کو تہذیب سکھانے کا مطلب سرا سر اس کی دشمنی یا کم از کم ناراضی مول لینا ہے۔ اب کل کی ہی سن لیجیے! میں کچھ خریدنے کی غرض سے اپنے محلے کے کریانہ سٹور پر گیا۔ یہ ایک درمیانے درجے اور سائز کا لیکن کافی مصروف سٹور ہے۔ اس کے مالک نے باہر لکھوایا ہوا ہے۔ ”NO MASK NO SERVICE “ لیکن سٹور میں موجود ان صاحب کو دیکھا تو آثار و قرائن بتا رہے تھے کہ خود موصوف نے عمر بھر شاید ہی کبھی ماسک استعمال کیا ہو۔

اس پہ مستزاد یہ کہ یہ صاحب ہر دوسرے تیسرے گاہک کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر قہقہے لگا رہے تھے اور کئی ایک سے تو باقاعدہ معانقہ کرتے بھی نظر آئے۔ تھوڑی جگہ ملی تو میں نے عرض کیا، ”جناب! گاہکوں سے آپ کی محبت اور بے تکلفی اپنی جگہ۔ لیکن آج کل خوفناک وبا کے پیش نظر حالات فرق ہیں اور باہمی ربط و تعلق کے تقاضے کافی بدل گئے ہیں۔ لہذا اگر ہو سکے تو براہ کرم ایک تو ماسک استعمال نہ کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی فرما لیں اور دوسرے اگر کوئی بہت بڑی مجبوری درپیش نہیں ہے تو خطرناک وبا کی ایس او پی کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ عرصہ کے لیے یہ مصافحوں معانقوں کا سلسلہ قدرے کم فرما دیں“ ۔

اس پر یہ صاحب تھوڑے بگڑ کر بولے، ”تو گویا آپ بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا نام کی بیماری واقعی موجود ہے۔ کمال ہے! میں تو سمجھتا تھا کہ آپ ایک پڑھے لکھے انسان ہیں“ ۔ میں نے عرض کیا کہ پڑھا لکھا سمجھنے کی غلط فہمی پر مجھے آپ کے ساتھ ہمدردی ہے۔ لیکن یہ فرمائیے کہ اگر یہ سب جھوٹ ہے تو دنیا بھر کے قریب بیس لاکھ لوگ، جو مبینہ طور پر اس بیماری کا شکار ہوئے، آپ کے نزدیک ان کی اصل وجہ موت کیا تھی؟ جناب کے خیال میں کیا یہ سب لوگ محض وبا کی افواہ کو سچ ثابت کرنے کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ اس پر موصوف مزید بگڑ کر بولے کہ آپ یہ بحث چھوڑیں اور بتائیں کہ سٹور پر کیا لینے آئے ہیں۔

ہمارے ہاں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جس کسی کے بارے میں آپ پورے خلوص سے یہ سمجھتے ہوں کہ اسے تہذیب اور اخلاقی تربیت کی ضرورت ہے تو وہ آگے سے پورے یقین سے کہتا ہے کہ ان چیزوں کی آپ کو زیادہ ضرورت ہے۔ اور مخاطب کی طرف سے یہ جواب اتنے وثوق سے آتا ہے کہ بندہ ایک دفعہ تو خود بھی شک میں پڑ جاتا ہے کہ اصلاح کا اصل محتاج کون ہے۔ یقین جانیئے یہاں جس کسی کی سوچ قدرے ٹھیک کرنے کی کوشش کی ہے اس نے ہمارا مکمل دماغ ہی ٹھیک کر کے رکھ دیا ہے۔

جس کسی کو کوئی ایک اصلاحی سبق پڑھانے کا ارادہ ہی کیا تو اس نے ایسے اسباق کی باقاعدہ ایک کتاب ہمارے ہاتھ تھما دی ہے۔ اس حوالے سے کوئی بھی ہماری بات نہیں سمجھتا حتیٰ کہ اپنے آپ کو بھی سمجھا کے دیکھ لیا ہے۔ اور مزے کی بات ہے کہ اس ضمن میں ہمارے گھر والوں کی کیفیت بھی کسی طور استثنائی نہیں ہے۔ ظاہر ہے اہل خانہ کی تہذیبی اصلاح ہمیں باقی سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہے۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً ہم اس کے لیے مخلصانہ کوشش کرتے رہتے ہیں۔

گھر والے ایک عرصہ ہمیں سنا کیے لیکن عملدرآمد ندارد۔ چنانچہ ایک دن ہم نے تنگ آ کر کہا، ”بھئی! بہت ہو گیا! گھر میں خوش سلیقگی کہیں نظر نہیں آتی۔ آداب زندگی چنداں مفقود ہیں۔ بس! آپ لوگ اپنے آپ کو ٹھیک کر لیں۔ ورنہ ہمیں یہ گھر ہی چھوڑنا پڑے گا اور ہم کسی جنگل کا رخ کر جائیں گے۔“ ہمارے اس جذباتی بیان کا گھر والوں پر فوری طور پر اثر ہوا۔ اور تھوڑی دیر میں ہی ہم نے دیکھا کہ انہوں نے کمال احترام اور انتہائی سلیقے سے ہمارا مختصر سا سامان پیک کر کے بیرونی دروازے کے پاس رکھ دیا۔

یہی نہیں بلکہ چھوٹے صاحبزادے ہمارے پاس تشریف لائے اور انتہائی محبت سے کہنے لگے، ”بابا! جنگل میں راستے ناہموار ہوتے ہیں اس لیے آپ کے جوگر بھی سامان میں رکھ دیے ہیں۔“ دوسرے بچے نے بصد احترام پوچھا کہ ”گھر والی گاڑی پہ جانا پسند فرمائیں گے یا ’اوبر‘ منگوا دیں۔“ اب بتائیے کہ بھلا ایسی چاہت والی فیملی ہو تو بندہ گھر چھوڑ کر کیوں اور کیسے جائے۔ یقین جانیے! یہی ملنساری اور انداز محبت دیکھ کر ہر بار ہمارا دل پسیج سا جاتا ہے اور ہم کہیں جانے وانے کا ارادہ ملتوی کر دیتے ہیں۔

تہذیبی طور طریقوں کو بدلنے اور بہتر کرنے کے حوالے سے ہمارے ساتھ جڑے لوگوں کے عدم توازن پر ہمیں سخت مایوسی ہوتی ہے۔ یعنی ہم کسی کو بھی نہیں بدل سکے۔ حتیٰ کہ شرفو کو بھی نہیں۔ شرفو پچھلے پندرہ بیس سال سے ہمارا ملازم ہے۔ انتہائی قریبی اور بے تکلف ملازم۔ ایسا کہ کوئی ناواقف ہمیں ملنے آئے تو اسے بالکل اندازہ نہیں ہوتا کہ شرفو کو ہم نے ملازم رکھا ہوا ہے یا اس نے ہمیں۔ ( اور کئی دفعہ اس واہمے میں ہم خود بھی مبتلا ہو جاتے ہیں ) سو ہمیں ہمیشہ افسوس رہا کہ ہم شرفو کو بھی نہیں بدل سکے۔

اسی بنا پر کئی بار تنگ آ کر ہم نے اسے نکالنے کا فیصلہ کیا اور اسی طرح اس نے بھی ہمیں کئی بار چھوڑنے کا ارادہ کیا لیکن تھوڑی دیر بعد ہی ہمیں اپنے فیصلے اور اسے اپنے ارادے سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ یقیناً وہی ہے جو ایک پنجابی محاورے کے مصداق ہے کہ ہمیں کوئی اور ملتا نہیں اور اسے کوئی اور رکھتا نہیں۔ لیکن آج جب شرفو نے اوپر تلے دو تین کام بڑے زبردست طریقے سے کیے تو ہمیں بڑی حیرت ہوئی۔ ہم نے خوشی سے کہا، ”دیکھو! شرفو! ہم نے آپ کو کتنا بدل دیا ہے“ ۔ شرفو نے فٹ پلٹ کر کہا، ”صاحب جی! یہی تو میں آپ کے بارے میں سمجھتا ہوں۔“ ۔ شرفو کی اس گستاخی پر ہم نے ایک دفعہ پھر اسے نکالنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دیکھیے ہم اس پر عمل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply