تیشۂ نثر

درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفہیم میں دقت پر اعتراض ہے۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیشِ خدمت ہیں۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقّت کا سامنا رہتا ہے جس کا اظہار قارئینِ محترم کرتے رہتے ہیں اور کئی دفعہ انتہائی کوشش کے باوجود خود یہ طالب علم اپنی تحریر کا مطالعہ

Read more

تھائی لینڈ میں لینڈنگ

ناصر محمود ملک بنکاک کے کوئی پونے چار سٹار ہوٹل میں ایک رات گزارنے کے بعد اگلی صبح ہوٹل کے ریسٹورنٹ میں ناشتے کے دوران ہمارے ساتھ بیٹھے ایک مردم بیزار انڈین نے یہ افواہ اڑائی کہ یہاں بعض ہوٹلوں کے کمروں میں خفیہ کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ یقین جانیئے ایک دفعہ تو جیسے جان ہی نکل گئی۔ اگرچہ ہوٹل میں رہتے ہوئے ہماری کوئی مصروفیت ایسی نہ تھی جسے کسی طور بھی قابل اعتراض کہا جا سکتا ہو۔ بلکہ

Read more

غالبؔ اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا کے یقیناً کئی فائدے بھی ہوں گے لیکن ہمیں اس پر کبھی کبھی بہت افسوس ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے ہماری کئی رومانوی روایات زمین بوس ہو گئی ہیں۔ یعنی کیا زمانہ تھا جب عشاق محبوب کی ایک جھلک دیکھنے، اس سے سے ملاقات کرنے اور اس سے ہم کلام ہونے کے لیے سارا سارا دن کوچہ یاراں کے چکر لگاتے رہتے تھے۔ یار لوگ ہمیں بتاتے ہیں کہ اوائل جوانی میں مشکل ترین کام محبوبہ

Read more

طریقہ ہائے سفارش

ہمارے ہاں سفارش کی سینکڑوں قسمیں ہیں بے شمار انداز ہیں۔ کچھ لوگ سفارش کروانے کے اس قدر عادی ہوتے ہیں کہ اپنے گھر سے باہر جانے کے لیے بھی کوئی سفارش ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں حالانکہ بعض اوقات اس کی ضرورت نہیں بھی ہوتی۔ سفارش ایسے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ ”بندہ ڈھونڈ لیا ہے“ ان کا تکیہ کلام ہوتا ہے۔ ہر ادارے ہر محکمے کے ’بندے‘ انہوں نے ڈھونڈ رکھے ہوتے ہیں۔ سفارش کے بغیر کسی کام

Read more

فن دھوکا دہی

صاحب! عرصہ ہوا ہم نے کسی سے متاثر ہو نے کا سلسلہ موقوف کر رکھا ہے لیکن عمر بھر یہ خاکسار جن دو چار لوگوں سے متاثر ہوا ان میں سر فہرست وہ باکمال لوگ ہیں جنہوں نے ہمارے ہاں فراڈ کو بطور پیشہ اپنا رکھا ہے۔ مجھے ان مہربانوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جن کا اوڑھنا بچھونا فراڈ ہے۔ وطن عزیز میں جس سطح کا کوالٹی فراڈ تخلیق ہو رہا ہے وہ شاید ہی دنیا کے

Read more

ادب، کامیابی اور بیگمات

پچھلے دنوں کچھ معروف ادیبوں اور شاعروں کے سوانح حیات پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ان خود نوشتوں سے جہاں ان عظیم ہستیوں کے شب و روز اور خوبیوں خامیوں سے کسی قدر آگاہی ہوئی وہیں ان حضرات کے بیچ ایک قدر مشترک بھی نظر آئی اور وہ یہ کہ ان میں سے اکثر و بیشتر کے اپنی بیگمات کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں رہے۔ ان ادبی مشاہیر کی اپنی بیگمات کے ساتھ اکثر و بیشتر ان بن رہی اور ان

Read more

نقاد حضرات سے معذرت

میرا ایک قریبی دوست جو ہمارے ساتھ دیرینہ تعلق ہونے کے باوجود بھی ادبی شوق کا حامل ہے وہ ادب میں تحقیق و تنقید کا سخت ناقد ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ادبی تخلیق سے شغف رکھنے والے کسی شریف آدمی کو اگر ادبی تحقیق کا کام سونپ دیا جائے تو یہ قریب قریب ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی نیورو فزیشن کو گائنی کی ذمہ داریاں دے دیں۔ اس مماثلت میں، اس کے بقول، نیورو فزیشن پھر بھی تھوڑے

Read more

غالب اور بادہ شبانہ کی سرمستیاں

کچھ غالبؔ شناس ڈاکٹر حضرات کا کہنا ہے کہ مرزا غالبؔ اگر شراب کے اس قدر رسیا نہ ہوتے تو بہت ممکن تھا کہ وہ چند سال اور زندہ رہتے۔ دوسری طرف محبان غالبؔ اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ استاد اگر ’دختر رز‘ کو منہ نہ لگاتے تو شاید ایسی لازوال شاعری کبھی نہ کر پاتے۔ اور ایسی صورت میں وہ چند سال اور تو کیا بھلے سو سال بھی زندہ رہتے تو ہمارے کس کام کے تھے۔

Read more

کوئی مفلسی سی مفلسی ہے

آج کل جگہ جگہ غربت اور تنگ دستی کے مناظر دیکھ کر بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ کوڑے دانوں سے اپنا رزق تلاش کرتے بچے، ریڑھیوں پر دو چار سو روپے کا گلا سڑا پھل بیچتے سردی سے ٹھٹھرتے بابے۔ اور دوسری طرف ہر ٹریفک سگنل پر خیرات مانگنے والوں کا ایک ہجوم بے کراں نظر جنہوں نے اصل مستحقین کی پہچان ہی ختم کر دی ہے۔ پھر اس حوالے سے ایک اور بڑی تلخ بات جو سامنے آئی ہے وہ

Read more

اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے ایک کوشش

ایک بات ہمیں کافی دیر میں سمجھ آئی ہے کہ زندگی میں جو فیصلہ بھی ہم نے کافی سوچ بچار اور مکمل غور و خوض سے کیا ہے اس پہ ہم ضرور پچھتائے ہیں۔ اور ہماری زندگی میں ایسے فیصلوں کی تعداد، خیر سے، ”نمک میں آٹے“ کے برابر ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی اور طرح سے فیصلہ کرنے کا انجام کوئی زیادہ مختلف ہوتا ہے۔ عمر عزیز میں قریب ہر فیصلے کے بعد ہی یہ فیصلہ

Read more

استاد محترم اور طابی کمہار کی مرغی

لاہور سے دور ایک چھوٹے سے قصبے کے بیچوں بیچ میں گاڑی چلاتے ہوئے جا رہا تھا۔ میں یہاں کسی کام سے آیا تھا۔ شہر میں ٹریفک کا رش تھا۔ اچانک میری نظر میرے آگے جاتے چنگ چی کی پچھلی سیٹ پر پڑی۔ سیٹ پر تین لوگ بیٹھے ہوئے تھے مجھے درمیان میں بیٹھے صاحب کا چہرہ قدرے جانا پہچانا سا لگا۔ یہ صاحب عمر رسیدہ تھے سفید داڑھی اور چہرے پہ بڑھاپے کے واضح آثار۔ انہوں نے موٹے شیشوں

Read more

ایک موٹیویشنل سپیکر کے صاحبزادے سے ملاقات

موٹیویشنل سپیکر کا نام اب اتنا عام ہو گیا ہے کہ اس شعبے سے منسلک بعض معروف لوگوں کا اب اگر اس نام سے تعارف کروائیں تو وہ اسے اچھا خیال نہیں کرتے بلکہ وہ اپنا تعارف کئی اور بڑے عجیب سے مگر دلفریب ناموں سے کرواتے ہیں۔ مثلاً وہ پسند کرتے ہیں کہ ان کا تعارف بطور ’لائف کوچ‘ ، ’سپرچوئل ہیلر‘ ، ’لائف ٹرینر‘ وغیرہ کے طور پہ کروایا جائے۔ اس تخصیص کا خیال نہ رکھا جائے تو

Read more

اے باد بیابانی! مجھ کو بھی عنایت ہو

باکو ہواؤں کا شہر ہے۔ اسے باکو کہتے بھی اسی وجہ سے ہیں۔ وہیں سے سنا کہ یہ اصل میں ”باد کو“ تھا۔ ”باد“ یعنی ہوا اور ”کو“ یعنی شہر۔ یہ بعد میں بگڑتے ہوئے باکو ہو گیا۔ باکو میں چلنے والی یہ مست ہوا آپ کو شہر بھر میں ہر جگہ برابر محسوس ہوتی ہے۔ دن کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی لمحہ ایسا نہیں کہ آپ اپنے ہوٹل یا گھر سے باہر نکلیں اور یہ ہوا آپ کا استقبال

Read more

باتیں پطرس بخاری کی!

پروفیسر احمد شاہ بخاری (پطرس ) محض ساٹھ سال کی عمر میں دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن اس نسبتاً مختصر عرصہ حیات میں وہ ایسی غیر معمولی اور قابل قدر خدمات انجام دے گئے جنہیں جان کر حیرت گم ہو جاتی ہے۔ وہ جس طرف سے بھی گزرے اپنے انمٹ نقش اپنے پیچھے چھوڑتے گئے۔ جہاں بھی گئے کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے گئے۔ پطرس محفل کے آدمی تھے۔ ہر محفل پہ چھا جانا ان کا شوق بھی تھا اور

Read more

باکو، حسن و جمال اور پروفیسر خوشحال

باکو، آذربائیجان میں ہوٹلوں کی درجہ بندی بھی خوب دیکھی۔ کئی دیگر معاملات کی طرح یہاں ہوٹلز کی درجہ بندی بھی انہوں نے خود ہی وضع کی ہوئی ہے۔ یہاں کسی ہوٹل میں آٹھ نو کمرے ہوں تو اسے یہ لوگ تھری سٹار ہوٹل کہتے ہیں۔ ان کا تھری سٹار ہوٹل عموماً ایک ہی فلور پہ مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن ہوٹلز کی یہ تعریف ان کے مرکزی سیاحتی علاقے یعنی ’نظامی سٹریٹ‘ کے آس پاس ہی لاگو ہوتی ہے۔ میرا

Read more

آذربائیجان۔ پرستان

کچھ دن پہلے میرا آذربائیجان جانے کا پروگرام بنا۔ روانگی سے قبل میں نے اپنے کچھ احباب سے اس بارے میں مشورہ کرنا بہتر سمجھا۔ اس دوران میں نے ایک چیز نوٹ کی کہ آذربائیجان جانے کے پروگرام کے بارے میں میں نے جس بھی صاحب نظر شخص کو بتایا اس کے چہرے پہ پہلے تو عجیب شرارتی سی مسکراہٹ آئی اور پھر اس نے یہ ضرور پوچھا کہ، ”جناب خیر تو ہے! آپ جیسے بھلے آدمی کا وہاں کیا

Read more

Its mean

” Its mean“ ، یہ جملہ میں تقریباً روزانہ ہی سنتا ہوں۔ کئی لوگوں سے۔ اور یہ میں نے بہت عام سے لوگوں سے بھی سنا ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے اور کئی بڑے بڑے افسران سے بھی سنا ہے۔ اس جملے کا کہنے والا کہنا چاہتا ہے کہ، ”اس کا مطلب ہے“ ۔ اس طرح انگریزی کے درجنوں اور الفاظ اور جملے ہیں جو اکثر غلط بولے جاتے ہیں لیکن حیرت اس وقت ہوتی ہے جب یہ غلط

Read more

پطرس، احباب اور لاہور

پطرس بخاری 1917 ء میں لاہور آئے اور پھر لاہور کے ہو کر رہ گئے۔ اس کے بعد یہ جہاں بھی گئے لاہور ان میں سے نہیں نکل سکا۔ پطرس کے جگری یار امتیاز علی تاج لکھتے ہیں کہ پطرس اٹھارہ انیس سال کے تھے جب وہ پشاور سے لاہور آئے اور اس کی ان سے ملاقات ہوئی۔ پھر اگلے اٹھارہ انیس سال کا کوئی دن ایسا نہ تھا کہ جب پطرس لاہور میں ہوں اور ان دونوں نے سہ

Read more

”میزباں“ کیسے کیسے

میں سمر قند سے بذریعہ بلٹ ٹرین واپس تاشقند آ رہا تھا۔ ان دونوں تاریخی شہروں کا فاصلہ قریب لاہور سے اسلام آباد جتنا ہے۔ ازبکستان کی سیر کے دوران صرف اس بلٹ ٹرین پر ہی، جسے وہاں ’افراسیاب‘ کہتے ہیں، سفر کا موقع مل جائے تو بندے کے پیسے پورے ہو جاتے ہیں۔ یہ جدید سہولتوں سے آراستہ ایک شاندار ٹرین تھی اور اس کا سفر بڑا آرام دہ اور پرلطف تھا۔ ٹرین پر میرے ساتھ والی سیٹ پر

Read more

ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی

اگلے دن استاد غالب ؔکا یہ شعر یاد آیا تو دل میں کئی خیالات ابھرے : ہر بوالہوس نے حسن پرستی شعار کی اب آبروئے شیوہ اہل نظر گئی استاد اپنے اس شعر میں گلہ کر رہے ہیں کہ اب کاروبار شوق کم ظرف اور بد ذوق لوگوں کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ چنانچہ حس جمال اور ذوق سلیم رکھنے والے نفیس طبع لوگوں کی قدروقیمت کم ہوتی جا رہی ہے۔ مرزا کے اس شعر سے معلوم ہوتا ہے

Read more

ہم نفسانِ خوش گزراں کی بات۔۔۔۔

آپ پوری دنیا گھوم لیں، پنج اور ست ستارہ ہو ٹلوں کی میزبانی سے لُطف اندوز ہو لیں۔ میلوں ٹھیلوں کی رونقیں دیکھ لیں حتیٰ کہ قریبی عزیزوں کے ساتھ وقت بتا لیں لیکن میرا خیال ہے جو مزا آپ کو دوستوں کی محفلوں میں آ تا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں آسکتا۔ یار لوگ جانتے ہیں کہ جب احباب کی منڈلی سجتی ہے تو کیسا سرور اور سرشاری کا عالم ہوتا ہے۔ صحبتیں طول کھینچتی ہیں، شامیں راتوں

Read more

ایسے استاد اب کہاں

پروفیسر جمالیؔ صاحب کا لیکچر شروع ہوتا اور حسب معمول کلاس کے اکثر طلباء پورے انہماک اور مکمل خلوص کے ساتھ سو جاتے۔ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے دوران طلباء کا سونا ایک روٹین تھی جس میں لڑکوں کی خواہش کے علاوہ پروفیسر صاحب کی مرضی بھی شامل تھی۔ لڑکے سو رہے ہوتے تو پروفیسر صاحب کا لیکچر اپنے عروج پہ ہوتا۔ کلاس جاگ رہی ہوتی تو دونوں طرف مایوسی ہوتی۔ پروفیسر صاحب کا ردھم ٹوٹ جاتا اور ان کی

Read more

جعلی مرید

مجھے چند ایسے مہربانوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا رہتا ہے جو بات بات پہ جناب واصف علی واصفؔ، بابا اشفاق احمد اور اس طرح کے دیگر صوفی بابوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ یہ ہر موقع پر ان لوگوں کی زندگیوں سے مثالیں اور حوالے دیتے رہتے ہیں۔ اور ان اقوال اور مثالوں کے زور پر یہ لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ہر دوسری بات کا آغاز اس طرح کریں گے کہ، ”بابا جی

Read more

گوشے میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے

استاد غالبؔ کی بات دوسری ہے کہ ان کے لیے قفس بھی ایک آرام دہ جگہ تھی ظاہر ہے یہ انداز فکر ہر کسی کا نہیں ہو سکتا۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ آرام، سکون اور خوشی کشید کرنے کے لیے ہمیں شاید کوئی بہت زیادہ سہولتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ آپ نے اگر نسبتاً ایک آسان طرز زندگی اختیار کیا ہوا ہے اور فرصت کے دو چار لمحات میسر ہیں تو آپ یہ سب حاصل کر سکتے ہیں۔

Read more

’رپھڑی‘

شوکت خاں عرف شوکے کی دوستی اصل میں شیر کی سواری ہے اور یہ شیر تو میں نے محاورتاً لکھ دیا ورنہ یہاں دیگر جنگلی جانور از قسم بھیڑیا، ریچھ وغیرہ بھی آسانی سے استعمال ہو سکتے ہیں بلکہ شاید زیادہ بہتر انداز میں مفہوم واضح کر سکتے ہیں۔ شوکے کا شمار ان ہستیوں میں ہوتا ہے جنہیں اپنی عزت کا خیال ہوتا ہے اور نہ دوسروں کی۔ دھول دھپا اور لڑائی مار کٹائی اس کا واحد پسندیدہ مشغلہ ہے

Read more

بحث یا لڑائی؟

احباب کے لیے چھوٹی سی دعوت کا اہتمام تھا۔ کھانا تیار تھا۔ سب احباب موجود تھے بس ایک صاحب کا انتظار تھا یہ صاحب سائیکالوجی کے پروفیسر ہیں۔ پروفیسر صاحب میرے ہاں پہلی بار تشریف لا رہے تھے اسی لیے میں نے احباب سے انتظار کی درخواست کی تھی لیکن اب مزید روکنے کی گنجائش نہیں تھی۔ کھانا لگایا تو پروفیسر صاحب بھی پہنچ گئے۔ شومئی قسمت ہم نے تاخیر کی وجہ پوچھ لی پروفیسر صاحب تو گویا پھٹ پڑے۔ کہنے لگے، ”شہر بھر میں سڑکیں ادھڑی پڑی ہیں۔

Read more

جنگ کو ایک موقع دیجئے

چاچا سلامت بڑا بھلا مانس سا انسان ہے۔ بہت صلح جو اور شریف۔ لیکن اگلے دن پتہ چلا کہ وہ ہر جگہ عالمی جنگ لگنے کی خواہش کا اظہار کر رہا ہے۔ پچھلے ہفتے گاؤں جانا ہوا تو چاچے سلامت سے تفصیلی بات ہوئی۔ میں نے چھوٹتے ہی اس کی عالمی جنگ کے متعلق ہولناک خواہش کی وجہ جاننے کی کوشش کی۔ چاچا کہنے لگا، ”برخوردار! یہ سچ ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ آج کل میں عالمی جنگ شروع

Read more

بزم آرائیاں

آپ پوری دنیا گھوم لیں، پنج اور ست ستارہ ہو ٹلوں کی میزبانی سے لطف اندوز ہو لیں۔ میلوں ٹھیلوں کی رونقیں دیکھ لیں حتیٰ کہ قریبی عزیزوں کے ساتھ وقت بتا لیں لیکن میرا خیال ہے جو مزا آپ کو دوستوں کی محفلوں میں آ تا ہے وہ کسی اور جگہ نہیں آ سکتا۔ یار لوگ جانتے ہیں کہ جب احباب کی منڈلی سجتی ہے تو کیسا سرور اور سرشاری کا عالم ہوتا ہے۔ صحبتیں طول کھینچتی ہیں، شامیں

Read more

قابل رشک یا عبرتناک

ہمارے ایک انکل ہیں فضلی صاحب، رشتے میں دور پار کے اور تعلق میں بہت قریبی۔ یہ ہمارے محلے دار بھی ہیں۔ انکل فضلی بیک وقت ایک قابل رشک اور اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ ریٹائرڈ سرکاری افسر ہیں۔ ایک بڑے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کا فارم ہاؤس ٹائپ بڑا سا بنگلہ ہے جہاں یہ اپنی چھوٹی سی فیملی کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ اعلیٰ برینڈ کی دو تین نئی گاڑیاں ہیں۔ بظاہر ہر آسائش ان کے

Read more

عقد ثانی

صاحب! عرصہ پہلے ہم نے کسی دکھیا فلاسفر کا یہ قول پڑھا تھا کہ انسان کے لیے بہترین چیز تو یہ ہے کہ وہ شادی نہ کرے لیکن اگر بدقسمتی سے اس کی شادی ہو جائے تو اس کے لیے اگلی بہترین چیز یہ ہے کہ وہ فوری طور پر علیحدگی اختیار کر لے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ مرد حضرات (شادی شدہ) کی ایک قابل ذکر تعداد اسی خیال کی حامی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ خوف فساد

Read more

تحقیقی سفرنامہ اور بیگم کا ساتھ

ہمارے ہاں کسی بھی ملک کا سفر نامہ لکھنے کے لیے دو بنیادی شرطیں رائج ہیں۔ ایک تو آپ کو انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال آتا ہو اور دوسری آپ داستان گوئی کے ماہر ہوں۔ بس یہی دو ضروری شرائط ہیں۔ اس کے ساتھ اگر اس ملک کا سفر بھی کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہرطور یہ کوئی بنیادی شرط نہیں ہے۔ سفرنامہ نگاری کے حوالے سے جناب طاہر انوار پاشا صاحب نے البتہ

Read more

میرا سٹڈی روم

ہر شریف آدمی کو ہر جگہ ایک پناہ گاہ کی تلاش ہوتی ہے بے شک وہ اپنے گھر میں ہی کیوں نہ ہو۔ غالباً اسی غرض سے اس ناچیز نے اپنے گھر میں ایک سٹڈی روم بنوایا اور یقین کیجیے کہ ”زیست کا مزا پایا“ ۔ جب سے سٹڈی روم بنا ہے میری خواہش ہوتی ہے کہ میرا زیادہ وقت اسی میں گزرے اور سچ پوچھیے تو گھر والوں کی بھی کم و بیش یہی خواہش ہوتی ہے۔ سٹڈی روم

Read more

خاکہ زنی : اک ضرب ظریفانہ

پھر کچھ کتابیں ایسی ہیں جو اپنے سائز اور حجم کی بنا پر مطالعے کے علاوہ دیگر کارہائے خیر کے لیے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ مثلاً جب سے قاسمی صاحب کی ”کالم تمام“ اور شیرازی صاحب کی ”بابو نگر“ میرے سرہانے دھری ہیں میں اپنے آپ کو محفوظ سا سمجھنے لگا ہوں۔ یقین جانیئے! اب کوئی پریشانی تو کیا، گھر کے شرارتی بچے اور بیگم بھی قدرے فاصلے پر رہتے ہیں۔ اب ان کتابوں میں جناب اشفاق احمد ورک کی ”خاکہ زنی“ کا اضافہ ہو گیا ہے جس کا سائز اگرچہ اتنا بڑا نہیں لیکن رائٹر ایک دبنگ جاٹ ہونے کی وجہ سے اس کا پڑھنے والا اپنے اندر ایک عجیب دبدبہ محسوس کرتا ہے چنانچہ ”خاکہ زنی“ کے آنے کے بعد میرا حفاظتی حصار اور بھی مضبوط ہو گیا ہے۔

Read more

بکرے، انسان اور ان کے کان

قدرت کی تخلیقات یوں تو ہماری ناقص عقل سے باہر ہیں لیکن تھوڑا غور کریں تو بعض چیزوں کی شان تخلیق کسی قدر سمجھ آتی ہے۔ مثلاً ایک عرصہ تک ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا تھا کہ بکروں کے کان اتنے لمبے کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں پتہ چل گیا ہے کہ بکرے کے کان بنیادی طور پر اسے پکڑنے اور قابو کرنے کے کام آتے ہیں۔ اس عظیم تفہیم کی وجہ یہ ہے کہ ایک مدت سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ بکروں کو پکڑنا ہو، انہیں چہل قدمی کروانا مقصود ہو یا انہیں ان کی مرضی کے خلاف ایک جگہ سے دوسری جگہ گھسیٹ کر لے جانا ہو، ان تمام مقاصد کے لیے انتہائی کارآمد اور مفید ذریعہ بکرے کے کان ہوتے ہیں۔

Read more

غالبؔ اور میں

میں نویں دسویں میں ہوں گا جب مجھے غالب ؔ سے عشق ہوا۔ اسی دوران دو ایک عشق اور بھی ہوئے لیکن انجام کے حوالے سے وہ اتنے خوشگوار نہیں رہے کہ انہیں اب تک یاد رکھا جائے۔ البتہ غالبؔ سے عشق تب سے لے کر اب تک روز بروز بڑھتا چلا گیا۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ غالبؔ ہمیں سمجھ بھی آتا تھا۔ استاد غالب ؔ ہمیں، الحمدللہ، نہ تب سمجھ آتا تھا نہ اب آتا ہے۔ میرے

Read more

اک ہمدم دیرینہ سے ملاقات

کالج ہوسٹل میں داخلہ لئے مجھے تیسرا دن تھا۔ یہ سردیوں کے آغاز کی بات ہے! شام کے دھندلکے میں ہوسٹل کینٹین کے لان میں بیٹھا میں دودھ جلیبی سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ یہ یہاں کی مشہور سوغات تھی اور میں روزانہ اس سے مستفید ہو رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ میرے پاس ہی ایک صاحب منٹوؔ کے سے انداز میں کرسی پر آلتی پالتی مارے کافی دیر سے خاموش بیٹھے تھے۔ پورے جسم پر دھنسے کی

Read more

بابا بہشتی

قدرت کے کاموں میں کوئی دخیل نہیں ہو سکتا اور نہ کسی کی بعد والی زندگی کے بارے کوئی حتمی بات ہی کہی جا سکتی ہے تاہم اس بات پر ہمارا پورا گاؤں۔ ”ایک پیج“ پر تھا کہ مرحوم بابا نادر، حال مشہور۔ ”بابا بہشتی“ ، بعد از مرگ ناگہانی ( مسرت سامانی ) کہیں بھی تشریف لے گئے ہوں، لیکن جنت میں نہیں گئے ہوں گے۔ یہ واحد نکتہ تھا جس پر پورا گاؤں سو فیصد متفق تھا۔ بابا

Read more

ایک ایئرکنڈیشنر مکینک سے ملاقات

آج کل کسی معقول اے سی مکینک سے کامیاب رابطہ کرنا گویا کسی بہت بڑے سرکاری افسر سے رابطے کے مترادف ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں مشکل اور گمبھیر تر۔ ہو سکتا ہے وہ سرکاری افسر خود بھی کسی ایسے مکینک کی تلاش میں ہو۔ کسی زمانے میں یار لوگ ارباب اختیار سے رہ و رسم بڑھانے کو مفید اور بہتر سمجھتے تھے لیکن اب کسی کارپینٹر، الیکٹریشن، پلمبر، درزی اور اے سی مکینک وغیرہ سے ذاتی تعلق رکھنا نسبتاً زیادہ ضروری ہے۔ میرے خیال میں ان احباب سے تعلق ہونے سے زندگی میں احساس تحفظ بڑھ جاتا ہے اور یہ قدرے پر سہولت لگنے لگتی ہے۔ اس حوالے سے دیکھا جائے تو ارباب اختیار سے صاحب سلامت عملی لحاظ سے شاید اس قدر مفید نہیں ہوتی۔

Read more

پھرتے ہیں ”شیر خوار“ کوئی پوچھتا نہیں

چاچا نجام دین ( نظام دین ) ہمارے بچپن کے دنوں میں ریڈیو پاکستان کا ایک بہت منفرد اور انتہائی ہر دلعزیز کردار تھا۔ ان دنوں ہمارے دیہاتی وسیب کا شاید ہی کوئی چوپال، کوئی ڈیرہ ایسا ہو جہاں نجام دین کے تذکرے نہ ہوتے ہوں۔ کوئی بیٹھک ایسی نہ تھی جہاں اسے کووٹ نہ کیا جاتا ہو۔ نجام دین ہر ”پریاں“ کا پرس اور ہر گھر کا فرد تھا۔ سر شام چوپالیں، منڈلیاں سج جاتیں۔ ایک بڑے سائز کا ریڈیو درمیان میں رکھ دیا جاتا۔

چاچے نجام دین کا پروگرام شروع ہوتا تو بس چاچے کی آواز آ رہی ہوتی یا پھر سامعین کے قہقہوں کی آواز۔ نجام دین کی آ واز میں بلا کا رچاؤ اور بڑی خوش کن گمبھیرتا تھی۔ بھاری بھرکم مگر دل موہ لینے والا لہجہ۔ ان دنوں ابھی ٹیلیویژن کا چلن اتنا عام نہیں تھا اور دیہات میں تو اس کی رسائی بالکل نہیں تھی۔ لہذا دیہاتی بھائیوں کے لئے واحد انٹرٹینمنٹ چاچا جی کا پروگرام ہی تھا اور وہ اس بارے میں خاصے خوش قسمت واقع ہوئے تھے۔

Read more

آزادؔ کی ”آب حیات“ اور آج کا قاری

اگلے دن محمد حسین آزادؔ کی شہرہ آفاق کتاب ”آب حیات“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ سچ پوچھیں تو انتہائی شاندار اور اذیت ناک تجربہ رہا۔ ہمارا خیال ہے کہ ”آب حیات“ لکھنے کے بعد جناب آزاد ؔ بھی اسے دوبارہ پڑھتے تو وہ شاید اردو لغت کی مدد کے بغیر خود بھی نہ پڑھ سکتے۔ ایسے میں دوران مطالعہ ہمارا حال کیا ہوا ہوگا مت پوچھیے۔ تقریباً ہر سطر میں دو تین بار لغت کی مدد لینی پڑی۔ ہمیں دو

Read more

علاج بالسزا

مائی سلطانہ ہمارے بچپن کا ایک ڈراؤنا خواب ہے۔ ان دنوں گاؤں میں بچوں کو جنوں، بھوتوں، چڑیلوں کی بجائے مائی سلطانہ سے ڈرایا جاتا تھا۔ اور ہمیں یقین ہے کہ اگر آس پاس واقعی ہی کہیں جن بھوت وغیرہ رہتے بھی ہوں گے تو وہ بھی اپنے بچوں کو مائی سلطانہ سے ہی ڈراتے ہوں گے۔ کردار ہی ایسا تھا۔

مائی سلطانہ بنیادی طور پر ایک ماہر امراض چشم تھی۔ ان دنوں موسم گرما قدرے طویل ہوتا تھا اور اس موسم میں بچوں کی آنکھیں خراب ہونا ایک معمول تھا۔ آنکھ میں خارش ہوتی، پھر سرخی آتی اور کچھ ہی دیر میں آنکھ پھول کر کپا ہوجاتی۔ لو جی! آشوب چشم شروع اور ساتھ ہی مائی سلطانہ کا کردار بھی شروع۔ مائی اسی مرض کی ماہر تھی۔ آنکھ میں ہلکی سی سرخی آتے ہی مائی سلطانہ کو یاد کیا جاتا اور یہ گویا بچے کے لیے موت کا پیغام ہوتا۔

Read more

ان سے ملیے بڑے سلیقے کے لوگ ہیں

بزمیؔ صاحب سے ہمارے تعلق کو برسوں بیت گئے لیکن آج تک بزمیؔ صاحب ہماری سمجھ میں آئے ہیں اور نہ ان کے ساتھ ہمارے تعلق کی وجہ۔ کوئی شوق، کوئی دلچسپی، کوئی پسند مشترک نہیں، پھر بھی روزانہ گھنٹوں ملاقات رہتی ہے۔ دفتر میں اور بھی ’۔ کولیگز‘ ہیں لیکن ہمارے ساتھ ان کا التفات زیادہ ہے۔ صبح صبح ہی دفتری امور نمٹانے کے بعد وہ ہمارے پاس تشریف لے آتے ہیں۔ معمول یہ ہے کہ ہمارے کمرے میں

Read more

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

اڑھائی تین دہائیاں پہلے تک گاؤں کی زندگی ابھی کافی حد تک فطرت کے قریب تھی۔ مادیت اور تصنع کے عفریت سے ابھی دیہی علاقے قدرے محفوظ تھے۔ مسابقت کے لیے بے ہنگم دوڑ نے یہ علاقے اپنی لپیٹ میں نہیں لیے تھے۔ مشینوں اور مصنوعات نے ابھی ان لوگوں کا سکون غارت نہیں کیا تھا۔ محنت مشقت کی محدود کمائی۔ روکھی سوکھی روٹی اور پر سکون زندگی ان لوگوں کا اثاثہ تھا۔

Read more

زعم مطالعہ

ذاتی طور پر مجھے ان لوگوں پر حیرت ہوتی ہے جو زندگی بھر کوئی کتاب نہیں پڑھتے اور مطالعے وغیرہ سے دور رہتے ہیں۔ لیکن ان لوگوں پر تو باقاعدہ غصہ آتا ہے جو بے تحاشا پڑھتے ہیں لیکن ذہنی طور پر ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں۔ ایسے حضرات میں آج کل البتہ ایک خوبی ضرور دیکھنے کو ملتی ہے اور وہ ہے مطالعے کا غرور اور گھمنڈ! مطالعے کے یقیناً کئی فائدے ہو سکتے ہیں لیکن فی زمانہ

Read more

اب وہ پولیس نہیں رہی

مرشدی جناب مشتاق یوسفیؔ صاحب نے ایک جگہ اپنے ایک عزیز دوست، جو کہ اسلام آباد میں کسی بڑے منصب پر فائز تھے، کے حوالے سے ایک قصہ لکھا ہے۔ لکھتے ہیں :

”میرے وہ عزیز دوست پریزیڈنٹ ہاؤس میں ایک پر ہجوم تقریب کے بعد مائیک پر اعلان کروا رہے تھے کہ غلام نبی ڈرائیور گاڑی لے آئے۔ چار دفعہ متواتر اعلان کے باوجود غلام نبی ڈرائیور نہیں آیا تو ہمارے دوست نے پانچویں بار ذرا وضاحت کرتے ہوئے اعلان کیا کہ غلام نبی جو کہ پندرہ سال سے مالی کا کام کرتا رہا ہے اور پچھلے ڈیڑھ ماہ سے ڈرائیوری کر رہا ہے، گاڑی لے آئے۔ اعلان ہوتے ہی سابق مالی غلام نبی نے کار پورچ میں لا کے کھڑی کر دی۔“

Read more

حسن اور حسن واردات

خاتون کی شکل و صورت مناسب تھی۔ عمر یہی کوئی چوبیس پچیس رہی ہو گی۔ تعلیم غالباً میٹرک ویٹرک ہوگی لیکن جو بات اس میں بڑی خاص تھی وہ یہ تھی کہ وہ اپنی اداؤں سے غضب ڈھاتی تھی۔ حسن کی دولت اسے جس قدر بھی میسر تھی وہ اس کا بلا کا استعمال جانتی تھی۔ ایک روز وہ ایک نوجوان بزنس مین نوید خان کے آفس میں آئی۔ یہ آفس بالائی منزل پر واقع تھا اور نچلے فلور میں

Read more

وقت کی پابندی کے نقصانات

ہمارے ایک دور پار کے انکل ہیں۔ یہ خوفناک حد تک وقت کے پابند انسان ہیں۔ ایسی پابندی کہ الامان۔ ان صاحب نے عمر بھر صرف وقت کی پابندی ہی کی ہے اور اس کے علاوہ کچھ نہیں کر سکے۔ اب ان کی یہ عادت اس قدر راسخ ہو چکی ہے کہ ان کے ساتھ اور آس پاس رہنے والوں کو اس بنا پر شدید کوفت ہوتی ہے۔ چنانچہ اسی بنا پر ان کی پہلی بیوی انہیں اور دوسری نے دنیا چھوڑنا پسند فرمایا۔ اور موصوف سے رہ و رسم رکھنے والے جانتے ہیں کہ وہ دونوں اس وقت جہاں بھی ہوں گی نسبتاً زیادہ پرسکون اور خوش ہوں گی۔ یہ صاحب کسی شادی وادی کی تقریب یا کسی دوسرے فنکشن میں بتائے گئے وقت سے پانچ دس منٹ پہلے پہنچ جاتے ہیں اور اس وقت چونکہ خود میزبان بھی نہیں آئے ہوتے لہذا عموماً انہیں ہی میز کرسیاں لگانے کی نگرانی وغیرہ کرنی پڑتی ہے۔ اتنا پہلے پہنچنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب تک بارات وغیرہ پہنچتی ہے یہ صاحب کہیں بیٹھے بیٹھے اونگھ رہے ہوتے ہیں اور جب تک کھانا کھلتا ہے یہ میزبان سے لڑ بھڑ کر واپس آ چکے ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ وقت کے قریب اور انسانوں سے دور ہو رہے ہیں۔ ”اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں“ ۔

Read more

تہذیب الاخلاق۔ ایک اور کوشش

سر سید احمد خاں قوم کی اخلاقی تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ انہوں نے 1870 ؁ ء میں اس مقصد کے لیے ”تہذیب الاخلاق“ پرچے کا اجرا کیا۔ محترم بزرگوار کو اپنے اس مقصد کے لیے بے پناہ مشکلات کا سامنا رہا۔ یقین جانیے آج کل یہی مشکلات اس بندہ ناچیز کو درپیش ہیں۔ بخدا اس بیان سے ہرگز یہ مقصود نہیں کہ جناب سر سید جیسی نابغۂ روزگار ہستی کی ہمسری کا دعویٰ کیا جائے۔ مقصد صرف یہ عرض کرنا ہے کہ اس قوم کی تہذیب و اصلاح کے لیے جو صاحب دل بھی کوشش کرے گا اسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ہمارے ہاں مشکل یہ ہے کہ یہاں کسی کو تہذیب سکھانے کا مطلب سرا سر اس کی دشمنی یا کم از کم ناراضی مول لینا ہے۔ اب کل کی ہی سن لیجیے! میں کچھ خریدنے کی غرض سے اپنے محلے کے کریانہ سٹور پر گیا۔ یہ ایک درمیانے درجے اور سائز کا لیکن کافی مصروف سٹور ہے۔ اس کے مالک نے باہر لکھوایا ہوا ہے۔ ”NO MASK NO SERVICE “ لیکن سٹور میں موجود ان صاحب کو دیکھا تو آثار و قرائن بتا رہے تھے کہ خود موصوف نے عمر بھر شاید ہی کبھی ماسک استعمال کیا ہو۔

Read more

انداز سفارش

ہمارے ہاں سفارش کی سینکڑوں قسمیں ہیں۔ بے شمار انداز ہیں۔ کچھ لوگ سفارش کروانے کے اس قدر عادی ہوتے ہیں کہ اپنے گھر سے باہر جانے کے لیے بھی کوئی سفارش ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں حالانکہ بعض اوقات اس کی ضرورت نہیں بھی ہوتی۔ سفارش ایسے لوگوں کا اوڑھنا بچھونا ہوتی ہے۔ ”بندہ ڈھونڈ لیا ہے“ ان کا تکیہ کلام ہوتا ہے۔ ہر ادارے ہر محکمے کے ’بندے‘ انہوں نے ڈھونڈ رکھے ہوتے ہیں۔ سفارش کے بغیر کسی کام کا ہونا ان کے تصور سے باہر ہوتا ہے۔

کبھی زندگی میں ان کا کوئی کام سفارش کے بغیر ہو جائے تو انہیں یقین نہیں آتا۔ وہ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ ضرور کوئی بڑا چکر ہو گا۔ ایسے میں ان کی کیفیت ”ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں“ والی ہوتی ہے۔ ایسی پریشان کن صورت حال میں وہ کوئی اور بھی بڑی سفارش ڈھونڈتے ہیں جو انہیں یہ تسلی کرواتی ہے کہ ان کا کام واقعی ہو گیا ہے۔ اس تسلی کے بعد وہ مطمئن تو ہو جاتے ہیں لیکن انہیں اطمینان کا وہ درجہ نصیب نہیں ہو تا جو سفارش کی صورت میں کام ہونے پر ہو سکتا تھا۔

Read more

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

دوستی سرمائے کی مانند ہوتی ہے۔ اچھی دوستی بنتے بنتے بنتی ہے۔ دوستی بھی ایک طرح سے آپ کی انویسٹمنٹ ہوتی ہے۔ سو!انویسٹمنٹ کو لمحوں میں اجاڑ دینا عقل مندی نہیں ہے۔ سمجھ دار لوگ یہ تعلق بنانے اور خاص طور پر اسے نبھانے میں ہمیشہ احتیاط اور معاملہ فہمی سے کام لیتے ہیں۔ دوستوں کے بیچ بے تکے مذاق سے دوستی کمزور ہوتی ہے اور کبھی کبھار ختم بھی ہو جاتی ہے۔ مجھے اس بات کا اندازہ اور تلخ تجربہ کافی پہلے سے ہو گیا تھا۔

کالج لائف کے اوائل کی بات ہے! میرا ایک دوست شیراز ہوا کرتا تھا۔ شیراز میں کئی خوبیاں تھیں۔ وہ بہت ہی شریف النفس، کم گو اور نسبتاً کم آمیز سا لڑکا تھا لیکن اس سے بھی بڑھ کر اس کی کشادہ دلی، مہمان نوازی اور خاص طور پر ہمیشہ دوستوں کے کام آنے کی عادت مجھے بہت بھاتی تھی۔ مجھے ہلکے پھلکے مذاق کی عادت تھی۔ شیراز اس ٹائپ کا مذاق برداشت کرتا رہتا تھا۔ پھر انہی دنوں ایک اور لڑکے ٹیپو کے ساتھ ہماری دوستی ہوئی۔

Read more

قاسم علی شاہ۔ ایک مجسم جذبہ

تعلیم و تربیت کے حوالے سے معروف سائنس دان آئن سٹائن نے بہت خوبصورت بات کی تھی کہ تعلیم کا مقصد معلومات کا حصول نہیں بلکہ ایسی ذہنی تربیت حاصل کرنا ہے جو انسان میں سوچنے کی صلاحیت پیدا کرے۔ قاسم علی شاہ صاحب بنیادی طور پر ایک معلم اور تربیت کار ہیں اور ایک ایسے معلم جو نا صرف تعلیم کے اس مطلوبہ مقصد کو سمجھتے ہیں بلکہ اس کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی گفتگو

Read more

ناکام لوگوں کی سات عادات

امریکی دانشور سٹیفن کووی کی کتاب ”موثر ترین لوگوں کی سات عادات“ بھی ایک مناسب اور کسی قدر مفید کتاب ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ ڈاکٹر کووی اگر غیر موثر یا ناکام لوگوں کی عادات پر کتاب لکھتے تو بہتر ہوتا۔ اس کی وجہ ہے کہ خیر سے دنیا میں موجود انسانوں کی ایک کثیر تعداد اسی درجہ بندی میں ہی آتی ہے۔ لہذا کتابی موضوع کے لیے یہی لوگ نسبتاً زیادہ مستحق تھے۔ ادھر ہمارا حال باقی دنیا سے بھی گیا گزرا ہے۔ ہمارے ہاں ناکام حضرات کی تعداد ”نمک میں آٹے“ کے برابر ہے۔ مجھے پچھلے کچھ عرصہ سے ایسے حضرات کو ذرا قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ ذیل میں ایسے لوگوں کی سات عادات کا تذکرہ ہے۔

Read more

اماں نوراں کی شاگرد اور الوداعی بوسہ

صبح سویر کا عمل تھا۔ فری دوسری مرتبہ اس کنویں کے کنارے آئی تھی۔ اس دفعہ اس کا ارادہ تھا کہ کنویں پر پہنچتے ہی اس میں چھلانگ لگا دے گی لیکن وہاں پہنچ کر وہ دوبارہ ہچکچاہٹ کا شکار ہو گئی۔ بات یہ نہیں تھی کہ اس کو موت کا خوف لاحق تھا اصل ڈر یہ تھا کہ وہ کہیں زندہ نہ بچ جائے۔ وہ جلد از جلد اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتی تھی اور اس کے لیے کئی

Read more

پروفیسر سلیمی صاحب

پروفیسر سلیمی صاحب بڑے شاندار انسان تھے۔ وہ ہمارے انگلش کے پروفیسر تھے۔ ہماری کلاس میں تشریف لاتے اور ان کا لیکچر شروع ہوتا تو حسب معمول کلاس کے اکثر طلبا پورے انہماک اور مکمل سکون کے ساتھ سو جاتے۔ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے دوران طلبا کا سونا ایک روٹین تھی جس میں لڑکوں کی خواہش کے علاوہ پروفیسر صاحب کی مرضی بھی شامل تھی۔ لڑکے سو رہے ہوتے تو پروفیسر صاحب کا لیکچر اپنے عروج پہ ہوتا۔ کلاس جاگ رہی ہوتی تو دونوں طرف مایوسی ہوتی۔ پروفیسر صاحب کا ردم ٹوٹ جاتا اور وہ اٹکنا شروع ہو جاتے۔

کچھ لوگوں کو نیند میں بولنے کی عادت ہوتی ہے لیکن پروفیسر سلیمی صاحب وہ انسان تھے جنہیں دوسروں کی نیند میں بولنے کی عادت تھی۔ سلیمی صاحب کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی کہ وہ لیکچر دیں تو سامنے توجہ سے سننے والا کوئی نہ ہو یعنی، ”کچھ نہ ’سنے‘ خدا کرے کوئی“ ۔ وہ دنیا کے ہر موضوع پہ بات کر سکتے تھے سوائے اپنے مضمون کے۔ لیکن حیرت کی بات تھی کہ پروفیسر سلیمی صاحب کے مضمون میں طلبا ہمیشہ اچھے نمبر لیتے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ طلبا کو پہلے دن سے یقین ہوتا تھا کہ اس مضمون میں جو کچھ کرنا ہے انہوں نے خود ہی کرنا ہے لہذا اس میں وہ خوب محنت کرتے اور پاس ہو جاتے۔

Read more

خواتین ڈرائیورز اور حقوق مرداں

خواتین ڈرائیورز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ آسمانی ستاروں کی طرح ہوتی ہیں کہ ہم تو انہیں دیکھ سکتے ہیں لیکن وہ ہمیں نہیں دیکھ سکتیں۔ ذاتی طور پر میں خواتین کی ڈرائیونگ سے بے حد متاثر بلکہ متاثرہ ہوں۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے میں خواتین کی بے پناہ صلاحیتوں سے بخوبی و ”مضروبی“ واقف ہوں۔ سڑک پر گاڑی چلانے کے حوالے سے ان قابل احترام خواتین کے ساتھ سرراہ اتنی بار مڈبھیڑ ہو چکی ہے کہ

Read more

بکروں کی آخری خواہش

قدرت کی تخلیقات یوں تو ہماری ناقص عقل سے باہر ہیں لیکن تھوڑا غور کریں تو بعض چیزوں کی شان تخلیق کسی قدر سمجھ آتی ہے۔ مثلاً ایک عرصہ تک ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا تھا کہ بکروں کے کان اتنے لمبے کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں پتہ چل گیاہے کہ بکرے کے کان بنیادی طور پر اسے پکڑنے اور قابو کرنے کے کام آتے ہیں۔ اس عظیم تفہیم کی وجہ یہ ہے کہ ایک مدت سے ہم دیکھ

Read more

”خودنمائی“ کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

ذاتی طور پر ہم نے بہت پہلے تسلیم کر لیا تھا کہ سعادت حسن منٹو ہم سے بڑے افسانہ نگار ہیں۔ اس اعتراف کی ایک وجہ یقیناً حقیقت پسندی بھی رہی ہوگی لیکن اس کی دوسری اور زیادہ بڑی وجہ یہ تھی کہ اگرچہ اس خاکسار اور جناب منٹو کا بھرپور ادبی موازنہ ہو سکتا ہے لیکن ہم نے اس حوالے سے ایک پیچیدہ اور طویل بحث سے طبعاً اجتناب برتنے کی ہی کوشش کی ہے دوسری طرف ان معاملات کے بارے میں خوف فساد خلق بھی ہمارے پیش نظر رہتا ہے بخدا ہم نہیں چاہتے کہ ہماری وجہ سے کوئی ادبی مسئلہ کھڑا ہو۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اب ہما شما اپنے تئیں اپنے کسی ادبی مقام کی دھونس جماتے ہوئے ہمارے بالمقابل کھڑا ہو جائے۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ عاجزی اور رواداری کا غلط مطلب نکال لیا جاتا ہے۔ کم از کم ہمارے ساتھ تو اکثر یہی ہوتا ہے۔

Read more

پلیز! سبسکرائب کریں۔ لائیک کریں

مشاہدے میں آیا ہے کہ فی زمانہ دانشوری نسبتاً آسان اور بہتر شغل ہے۔ باقی تقریباً ہر کام کے لیے بہر طور کسی نہ کسی حد تک عقل و فہم کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذاتی طور پر ہمیں دانشوری کا شوق ہے اور نہ اس کی اہلیت۔ چنانچہ اس میدان کی طرف کبھی جھانکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ بلکہ کبھی کوئی ایسا جملہ سرزد ہو بھی جائے جس پر دانشوری کا گماں گزرتا ہو تو جھٹ بقول شخصے کہہ کر اسے کسی نامعلوم کے سر تھوپ دیتے ہیں کہ مبادا اس کا ’الزام‘ ہمارے سر نہ لگ جائے۔

Read more

ماں کے بعد

انسان کی زندگی کا سب سے تکلیف دہ منظر، میرے نزدیک، اپنی مرحومہ والدہ کی وہ الوداعی زیارت ہے جو اس عزیز از جان ہستی کو لحد میں اتارنے سے ذرا پہلے کی جائے، کیا قیامت خیز لمحہ ہوتا ہے اور کیسا غمناک منظر۔ نہ نظر ہٹتی ہے، نہ دیکھا جاتا ہے۔ میرے اوپر یہ قیامت ابھی چند دن پہلے ہی گزری ہے اور زندگی نچوڑ کر لے گئی ہے۔ یوں لگ رہا ہے جیسے کسی ویران اور خوفناک جزیرے میں ہوں اور ساحل پہ کھڑی اکیلی کشتی موجوں کی نظر ہو گئی ہے۔ یا جیسے کسی تپتے جلتے صحرا میں میرے سر پے کھڑا ٹھنڈی چھاؤں والا تنہا درخت یکلخت ٹوٹ کر گر پڑا ہے۔ اب مجسم غم ہوں، یوں کہ سانس بھی چل رہی ہے، زندگی بھی نہیں ہے۔ اندر ہی اندر بہت کچھ ٹوٹ گیا ہے، سب کچھ ڈھے جا رہا ہے، مسلسل کچھ گرے جا رہا ہے :

Read more

” الف کو گناہ سے بچائیں“ کے بارے میں الف کے تحفظات

ہمارے ایک یار عزیز اور معروف کالم نگار نے اپنے کالم ”الف کو گناہ سے بچائیں“ میں الف کو درپیش مسائل کا تذکرہ کیا ہے۔ میرے یہ دوست بلاشبہ بڑے باکمال کالم نگار ہیں۔ ایک زمانہ اُن کے اندازِ تحریر اور شگفتہ بیانی کا قتیل ہے۔ وہ جس طرح سلگتے سماجی مسائل کو بڑے ہلکے پھلکے لیکن نہایت مدلّل انداز سے زیرِ بحث لاتے ہیں وہ بے حد قابلِ تحسین ہے۔ متذکرہ بالا کالم میں الف کے بارے میں اُن

Read more

حاجی بینا کی احتیاط اور سیدو مزارع کی چھینک

حاجی بینا صاحب میرے محلے دار اور قریبی دوست ہیں۔ حاجی صاحب نے انتہائی نفیس اور بے حد محتاط شخصیت پائی ہے۔ یہ کرونا وائرس منحوس تو ابھی آیا ہے حاجی صاحب نے اس کی تیاری پچھلے کوئی بیس سال سے کر رکھی ہے۔ یہ مصافحہ معانقہ سے پرہیز، لوگوں سے دو چار گز کے فاصلے پر ملاقات کرنا، اور سارا دن ہاتھ دھوتے رہنا۔ جو بھی احتیاطیں آج کل بتائی جا رہی ہیں یہ سب تو قبلہ حاجی صاحب

Read more

ورزش اور اُس کے مسائل

زندگی میں ڈسپلن بڑا ضروری ہے لیکن ڈسپلن ایک خاص حد سے بڑھ جائے تو پھر زندگی اُس کے نیچے کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔ ورزش اور واک وغیرہ کر نا ایک زبردست عمل ہے لیکن کچھ لوگوں کے حواس پر واک اس طرح سوار ہوجاتی ہے کہ انہیں کسی اور بیماری کی ضرورت نہیں رہتی۔ اُن کی گفتگو کا آدھا حصہ واک کے فوائد گنوانے میں صرف ہوتا ہے اور باقی آدھا حصہ واک نہ کرنے کے نقصانات

Read more

فکری تجاوزات

من حیث القوم ہمارا کمال یہ ہے کہ ہم تقریباً ہر کام کر سکتے ہیں سوائے اُس کام کے جو ہمیں کرنے کے لیے باقاعدہ سونپا گیا ہو۔ ہمارے ہاں یہ پرانا المیہ ہے کہ جن لوگوں کو بولنا چاہیے وہ خاموش ہیں اور جن کو چپ رہنا چاہیے انہوں نے منہ کے ساتھ سپیکر باندھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں تقریباً ہر سبزی فروش اور ہر ٹیکسی ڈرائیور ناصرف امور مملکت سمجھنے کا دعویٰ رکھتا ہے بلکہ وہ کھلے عام

Read more

ترکی میں پاشا

آج کل ہمارے ہاں کسی بھی ملک کا سفر نامہ لکھنے کے لیے دو بنیادی شرائط رائج ہیں۔ ایک تو آپ انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال جانتے ہوں اور دوسری آپ کو لمبی چھوڑنے کا فن بخوبی آتا ہو۔ بس یہی دو بنیادی شرائط ہیں۔ ہاں! اس کے ساتھ اگر اُس ملک کا سفر بھی کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہرطور یہ کوئی ضروری شرط نہیں ہے۔ ویسے بھی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر جس زبردست انداز سے کوئی سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے وہ اس ملک میں جانے اور وہاں دھکے دھوڑے کھا کرلکھنے سے کہیں بہتر ہے۔ ۔ یعنی نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

Read more

بکرے، انسان اور ان کے کان

قدرت کی تخلیقات یوں تو ہماری ناقص عقل سے باہر ہیں لیکن تھوڑاغور کریں تو بعض چیزوں کی شانِ تخلیق کسی قدر سمجھ آتی ہے۔ مثلاً ایک عرصہ تک ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا تھا کہ بکروں کے کان اتنے لمبے کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں پتہ چل گیاہے کہ بکرے کے کان بنیادی طور پر اسے پکڑنے اور قابو کرنے کے کام آتے ہیں۔ اس عظیم تفہیم کی وجہ یہ ہے کہ ایک مدت سے ہم دیکھ رہے

Read more

حاجی شرف دین سے بعد از وفات ملاقات

شام کی سیر کے لیے محلے کے پارک میں گیا تو پارک کے ایک کونے میں پڑے بینچ پر بیٹھے حاجی شرف دین صاحب کو بیٹھا دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ یہ کیا! حاجی شرف دین صاحب کا تو باقاعدہ انتقال ہو چکا تھا۔ کوئی چھ ماہ قبل یہ میرے سامنے اچھے بھلے فوت ہوئے تھے اور آج یہ ادھرپارک میں موجود ہیں مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ مجھے ہکّا بکّا دیکھ کر حاجی صاحب نے

Read more

ایک عِطرناک بزرگ کا قصہ

مجھے آج وہ بزرگ صورت بابا جی یاد آرہے ہیں جو جامع مسجد میں نمازیوں کو عطّر لگایا کرتے تھے۔ یہ تذکرہ ہمارے سابقہ محلّے کا ہے جہاں ہم کرائے کے مکان میں رہائش پزیر تھے۔ اب سچ پوچھئے تو اس محلے کو چھوڑنے کا سبب بھی یہی نیک سیرت مردِ بزرگ ہی تھے۔ محلے کے بیچ میں جامع مسجد واقع تھی جہاں ہم جمعہ پڑھنے کے لئے حاضر ہوتے۔ یہ بزرگ بڑی باقاعدگی سے وہاں تشریف لاتے۔ ان کے

Read more

آپ کے بچے نے کتنے نمبر لئے ہیں؟

آج کل امتحانات میں جس طرح بچوں کے نمبر آ رہے ہیں اس پر بطور والدین ہمیں خوشی کے ساتھ ساتھ شدید حیرت بھی ہو رہی ہے۔ وہ اس لیے کہ والدین اور آج کل کے بچوں کے نمبروں میں مشرقین کا فاصلہ ہے۔۔ یعنی حد ہو گئی کوئی سو دو سو نمبروں کا فرق ہو تو سمجھ آتا ہے غضب خدا کا یہاں تو پانچ پانچ سو نمبروں کا فرق آ رہا ہے۔ اور بخدا اپنے زمانے میں ہم

Read more

تیشۂ نثر المعروف بہ ایذارسانی بزبان اردو

درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفیم میں دِقّت کا اعتراض ہے ۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیش خدمت ہیں ۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقت کا سامنا رہتا ہے جس کا اظہار قارئینِ محترم کرتے رہتے ہیں۔ اور کئی دفعہ انتہائی کوشش کے باوجود خود یہ طالبِ علم بھی اپنی

Read more

بارے کچھ لبرل احباب کا بیان ہو جائے

کرپشن کے حوالے سے ایک بدنام محکمے کے دو ا فسران نماز جمعہ کے بعد ایک مسجد میں بیٹھے تھے ۔ اُن میں سے ایک افسر ہاتھ اُٹھائے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ اور بہت گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا ۔دوسرے افسر کی اُس پر نظر پڑی تو وہ گھبرا گیا ۔وہ فوراً اس کے پاس گیا اور اسے خبردار کرتے ہوئے کہنے لگا ، ’’ میاں ! دُعا میں خشوع و خضوع اپنی جگہ بڑی اچھی چیز

Read more