پروفیسر سلیمی صاحب بڑے شاندار انسان تھے۔ وہ ہمارے انگلش کے پروفیسر تھے۔ ہماری کلاس میں تشریف لاتے اور ان کا لیکچر شروع ہوتا تو حسب معمول کلاس کے اکثر طلبا پورے انہماک اور مکمل سکون کے ساتھ سو جاتے۔ پروفیسر صاحب کے لیکچر کے دوران طلبا کا سونا ایک روٹین تھی جس میں لڑکوں کی خواہش کے علاوہ پروفیسر صاحب کی مرضی بھی شامل تھی۔ لڑکے سو رہے ہوتے تو پروفیسر صاحب کا لیکچر اپنے عروج پہ ہوتا۔ کلاس جاگ رہی ہوتی تو دونوں طرف مایوسی ہوتی۔ پروفیسر صاحب کا ردم ٹوٹ جاتا اور وہ اٹکنا شروع ہو جاتے۔
کچھ لوگوں کو نیند میں بولنے کی عادت ہوتی ہے لیکن پروفیسر سلیمی صاحب وہ انسان تھے جنہیں دوسروں کی نیند میں بولنے کی عادت تھی۔ سلیمی صاحب کی ہمیشہ یہی خواہش رہتی کہ وہ لیکچر دیں تو سامنے توجہ سے سننے والا کوئی نہ ہو یعنی، ”کچھ نہ ’سنے‘ خدا کرے کوئی“ ۔ وہ دنیا کے ہر موضوع پہ بات کر سکتے تھے سوائے اپنے مضمون کے۔ لیکن حیرت کی بات تھی کہ پروفیسر سلیمی صاحب کے مضمون میں طلبا ہمیشہ اچھے نمبر لیتے شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ طلبا کو پہلے دن سے یقین ہوتا تھا کہ اس مضمون میں جو کچھ کرنا ہے انہوں نے خود ہی کرنا ہے لہذا اس میں وہ خوب محنت کرتے اور پاس ہو جاتے۔
Read more