ترکی میں پاشا

آج کل ہمارے ہاں کسی بھی ملک کا سفر نامہ لکھنے کے لیے دو بنیادی شرائط رائج ہیں۔ ایک تو آپ انٹر نیٹ کا بھر پور استعمال جانتے ہوں اور دوسری آپ کو لمبی چھوڑنے کا فن بخوبی آتا ہو۔ بس یہی دو بنیادی شرائط ہیں۔ ہاں! اس کے ساتھ اگر اُس ملک کا سفر بھی کر لیا جائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن بہرطور یہ کوئی ضروری شرط نہیں ہے۔ ویسے بھی انٹرنیٹ پر بیٹھ کر جس زبردست انداز سے کوئی سفرنامہ لکھا جا سکتا ہے وہ اس ملک میں جانے اور وہاں دھکے دھوڑے کھا کرلکھنے سے کہیں بہتر ہے۔ ۔ یعنی نہ ہینگ لگے نہ پھٹکڑی اور رنگ بھی چوکھا آئے۔

Read more

بکرے، انسان اور ان کے کان

قدرت کی تخلیقات یوں تو ہماری ناقص عقل سے باہر ہیں لیکن تھوڑاغور کریں تو بعض چیزوں کی شانِ تخلیق کسی قدر سمجھ آتی ہے۔ مثلاً ایک عرصہ تک ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتا تھا کہ بکروں کے کان اتنے لمبے کیوں ہوتے ہیں۔ لیکن اب ہمیں پتہ چل گیاہے کہ بکرے کے کان بنیادی…

Read more

حاجی شرف دین سے بعد از وفات ملاقات

شام کی سیر کے لیے محلے کے پارک میں گیا تو پارک کے ایک کونے میں پڑے بینچ پر بیٹھے حاجی شرف دین صاحب کو بیٹھا دیکھ کر میں ششدر رہ گیا۔ یہ کیا! حاجی شرف دین صاحب کا تو باقاعدہ انتقال ہو چکا تھا۔ کوئی چھ ماہ قبل یہ میرے سامنے اچھے بھلے فوت…

Read more

ایک عِطرناک بزرگ کا قصہ

مجھے آج وہ بزرگ صورت بابا جی یاد آرہے ہیں جو جامع مسجد میں نمازیوں کو عطّر لگایا کرتے تھے۔ یہ تذکرہ ہمارے سابقہ محلّے کا ہے جہاں ہم کرائے کے مکان میں رہائش پزیر تھے۔ اب سچ پوچھئے تو اس محلے کو چھوڑنے کا سبب بھی یہی نیک سیرت مردِ بزرگ ہی تھے۔ محلے…

Read more

آپ کے بچے نے کتنے نمبر لئے ہیں؟

آج کل امتحانات میں جس طرح بچوں کے نمبر آ رہے ہیں اس پر بطور والدین ہمیں خوشی کے ساتھ ساتھ شدید حیرت بھی ہو رہی ہے۔ وہ اس لیے کہ والدین اور آج کل کے بچوں کے نمبروں میں مشرقین کا فاصلہ ہے۔۔ یعنی حد ہو گئی کوئی سو دو سو نمبروں کا فرق…

Read more

تیشۂ نثر المعروف بہ ایذارسانی بزبان اردو

درویش کی تحریر پر بعض احباب کو مشکل پسندی اور تفیم میں دِقّت کا اعتراض ہے ۔ اس سلسلہ میں دو معروضات پیش خدمت ہیں ۔ پہلی یہ کہ خدا لگتی کہیے تو عرض ہے کہ ایک بار لکھنے کے بعد خود درویش کو بھی اپنی تحریر پڑھنے کے لیے کم و بیش اسی دقت…

Read more

بارے کچھ لبرل احباب کا بیان ہو جائے

کرپشن کے حوالے سے ایک بدنام محکمے کے دو ا فسران نماز جمعہ کے بعد ایک مسجد میں بیٹھے تھے ۔ اُن میں سے ایک افسر ہاتھ اُٹھائے بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ اور بہت گڑگڑا کر دعا مانگ رہا تھا ۔دوسرے افسر کی اُس پر نظر پڑی تو وہ گھبرا گیا ۔وہ فوراً…

Read more