دو پلوں کی کہانی، عملے کی گمشدگی اور درست گنتی

دو دوستوں نے انجنیئرنگ یونیورسٹی سے ایک ساتھ انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ انجنیئرنگ کرنے کے بعد عملی زندگی میں آئے تو ایک دوسرے کی خبر نہ رہی۔ ایک دوست کو مقدر امریکہ لے گیا اور دوسرا پاکستان میں ہی قسمت آزمانے لگا۔ دس پندرہ سال بعد کسی ذریعے سے دونوں کا دوبارہ رابطہ ہوا۔ امریکہ میں رہنے والے نے پاکستانی دوست کو اپنے ہاں بلایا اور والہانہ انداز سے اپنے دوست کو خوش آمدید کہا۔

وہ امریکہ میں کئی کنال کے گھر میں رہتا تھا۔ وسیع و عریض گیراج میں نئے ماڈل کی تین چار گاڑیاں کھڑی تھیں۔ کشادہ لان، سویمنگ پول اور بہت شاندار ڈرائنگ روم جس میں ہر چیز نہایت گراں بہا اور نفیس تھی۔ پاکستانی دوست یہ تزک و احتشام دیکھ کر بہت متاثر ہوا اور اپنے دوست سے اس قدر شاہانہ طرز زندگی کا راز پوچھا۔ اس پر امریکی دوست نے گھر کی کھڑی کھول کر سامنے ایک پل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پل دیکھ رہے ہو؟ پاکستانی دوست نے ہاں میں سر ہلایا۔ امریکی دوست نے کہا کہ اس پل کا دس فیصد بجٹ تمہارے دوست نے اپنی جیب میں ڈالا تھا، جس کے طفیل یہ ٹھاٹ باٹ میسر آئے۔

کچھ عرصے بعد پاکستانی دوست نے امریکی دوست کو اپنے ہاں مدعو کیا۔ امریکی دوست نے پاکستانی دوست کی شان و شوکت اور جاہ و جلال دیکھا تو دانتوں تلے انگلیاں دبا دیں۔ وہ کئی ایکڑ پر مشتمل ایک محل کا مالک تھا۔ گھر کیا تھا ایک چھوٹا شہر آباد کر رکھا تھا جس میں اور اس کے بیوی بچے شہزادوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے۔ امریکی دوست کا مکان اس شیش محل کے سامنے گویا ایک کٹیا ہی تھی۔ امریکی دوست نے پاکستانی دوست سے اس تزک و احتشام اور طنطنے کی وجہ پوچھی تو پاکستانی دوست نے گھر کی کھڑ کی کھول کر سامنے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سامنے بڑا سا پل نظر آ رہا ہے؟

امریکی دوست نے بہتیری کوشش کی مگر اسے تو وہاں کوئی پل دکھائی نہیں دیا۔ اس نے دوست سے کہا کہ مجھے تو یہاں کوئی پل نظر نہیں آ رہا ہے۔ اس پر پاکستانی دوست قہقہہ بار ہوا اور کہا کہ وہاں کوئی پل ہو گا تو تمہیں نظر آئے گا نا! یہ سن کر کر امریکی دوست نے حیرت سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ کیا مطلب، میں کچھ سمجھا نہیں۔ پاکستانی دوست نے کہا کہ یہاں جو پل بننا تھا اس کا سو فیصد بجٹ تمہارے دوست نے اپنی جیب میں ڈال دیا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مابدولت دولت کے دیوتا بن گئے اور پل غائب ہو گیا۔

پاکستانی الیکشن میں بھی اس سے قبل ووٹ غائب ہوتے تھے۔ بیلٹ باکس غائب ہوتے تھے۔ پھر کہیں کہیں ووٹرز اور بعد میں امیدوار غائب ہونے لگے۔ پھر پی ٹی آئی کے دور میں مزید ترقی ہوئی اور ووٹوں سے بھرے تھیلے اور پریذائڈنگ افسر اور فارم 45 بھی غائب ہونے لگے۔ لیکن ڈسکہ کے حالیہ الیکشن میں تو جدت و ندرت کی انتہا ہی ہو گئی۔ یہاں تو تئیس پریزائڈنگ افسران سمیت نا صرف عملہ لا پتہ ہو گیا بلکہ چیف سیکٹری، آئی جی، کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے علاوہ صوبے کی ساری پولیس بھی گم ہو گئی تھی۔

مسلم لیگ نون کے سادہ لوح اور سیاسی بصیرت سے عاری لوگ تو اسے تاریخی دھاندلی سے تعبیر کر رہے ہیں مگر انتخابی عملے کا ایک ہی وقت میں، ایک ہی انداز سے گم ہونا، پھر سب کے موبائل فون کا ایک ہی وقت میں بند ہونا اور پھر دس بارہ گھنٹے بعد ایک ہی وقت و انداز سے سب کا ڈرامائی انداز سے 90 فیصد ٹرن آوٴٹ کے ساتھ واپس آ کر ایک ہی بہانہ بنانا، یہ سب کرامات و کرشمات جادو کی چھڑی کے کمال اور بنی گالا کی روحانی قوتوں کی جادو گری کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا۔

کچھ لوگ اس ذرا سی بات کو بتنگڑ بنانے پر تلے بیٹھے ہیں مگر پاکستانی انتخابات کی تاریخ پر نظر رکھنے والے اہل کمال اور واقفان حال یہ بیان کر رہے ہیں کہ غیبی طاقتیں پولنگ عملے کو درست گنتی سکھانے کے لیے اٹھا کر لے گئی تھیں کیونکہ غیبی طاقتوں کے خیال میں عملہ گنتی میں بار بار فاش غلطیاں کر رہا تھا اور چونکہ عملے کا یہ عمل اس ہائبرڈ اور ایک پیج والی حکومت کی الٹی گنتی پر منتج ہو سکتا تھا اس لیے عملے کو صحیح گنتی سکھانا ضروری تھا۔ پھر سب نے دیکھا کہ جب عملہ درست گنتی سیکھ گیا تو اسے صبح چھ بجے چھوڑ دیا گیا۔ یوں بھی کسی نے پاکستانی الیکشن کے بارے میں یہ حکیمانہ بات کہہ رکھی ہے کہ یہاں ووٹ ڈالنے والے اہم نہیں ہوتے بلکہ ووٹ گننے والے کسی کی ہار جیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words