سماجی سرگرمیاں اور ہمارے رویے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ سال تقریباً مارچ کے وسط میں کورونا وائرس نے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور تمام قومی و بین الاقوامی سرگرمیوں کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ رہنے سہنے ، کھانے پینے، سیرو تفریح ، سماجی تعلقات حتٰی کہ سوچنے کے انداز میں بھی واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں۔

کہتے ہیں کہ وقت کے گزرتے پتہ نہیں چلتا لیکن گزشتہ سال بھر کا عرصہ بہت طویل محسوس ہوا،  اس میں کسی نہ کسی طرح کورونا کی ویکسین بھی ایجاد ہو گئی۔ کہتے ہیں ناں کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہے لہٰذا ویکسین بھی اسی کا نتیجہ ہے ، مزید یہ کہ اب ہمیں کورونا کے ساتھ ہی جینا اور مرنا ہے۔

لوگوں کا عام خیال یہ ہے کہ اب ویکسین آ گئی ہے تو ہمیں احتیاط کی ضرورت نہیں ہے تو وہ غلطی پر ہیں کیونکہ اس سے بچاؤ کے لئے ہمیشہ احتیاط برتنی پڑے گی۔ تاحال وقت ابھی ویکسی نیشن کی رجسٹریشن جاری ہے ، اس کے فائدے اور نقصانات کا تدراک کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہی ہو سکے گا۔

کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں تعلیمی سرگرمیوں کو بے انتہا نقصان پہنچا وہیں تمام آؤٹ ڈور سرگرمیاں معدوم ہو کر رہ گئیں ہیں۔ چھوٹے بچے گھروں میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں نہ کہیں سیروتفریح کے لئے جا سکتے ہیں نہ ہی کھیلنے کودنے باہر نکل سکتے ہیں۔ حتٰی کہ نوجوانوں کی بھی کھیلوں کی سرگرمیاں اس وبا کی نذر ہو گئیں ہیں ، اب چھوٹا بڑا ہر شخص موبائل اور آئی پیڈ ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھا ہے جس کے اپنے الگ نقصانات مرتب ہو رہے ہیں۔

کچھ عرصہ مکمل لاک ڈاؤن کے بعد اب اسکول ’کالج اور یونیورسٹیاں مرحلہ وار کھول دیے گئے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ دوسری سرگرمیاں یعنی شادی کی تقریبات، باہر کھانے پینے کے ریسٹورنٹس وغیرہ بھی کھول دیے گئے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ آج کل شادیوں کا سیزن بھی اپنے جوبن پر ہے۔ بازاروں اور شادی ہالوں کی رونق اور گہما گہمی دیکھ کر اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ وائرس کا کوئی نام و نشان ہے۔ اس سے ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم ایک نڈر قوم ہیں۔ دنیا پر اس وبا سے کیا آفت گزر گئی لیکن یہاں اکثریت کورونا وائرس کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک کسی پر خود یا اس کے کسی پیارے پر نہیں گزرتی تب تک ہم کسی بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ یہ ہماری سوچ کا المیہ ہے جو ہمارے رویوں پر حاوی ہے۔

اللہ تعالی نے ہمیں ایک سنہرا موقع عطا کیا ہے کہ ہم اپنے بڑھے ہوئے اخراجات کو کم کر سکتے ہیں اور شادی بیاہ کی بے جا تقریبات جو ہمارے اسلام کا حصہ نہیں بلکہ ہم نے غیر اسلامی رسم و رواج کو اپنایا ہوا ہے ، کو ختم کر کے سادگی سے نکاح کی رسم کو عام کر سکتے ہیں لیکن ہم اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھا رہے بلکہ اپنی جان اور دوسروں کی جان کو بھی مشکل میں ڈال کر تقریبات منعقد کر رہے ہیں اور ان میں شریک بھی ہو رہے ہیں۔

اکثریت کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ شادی کون سا روز روز ہونی ہے ، اس لئے دل کھول کر خرچ کیا جائے ، مہنگے سے مہنگا جوڑا ، تحائف اور سامان خریدا جائے ۔ اس کے علاوہ لوگوں کو دکھانے کے لئے اعلیٰ قسم کے ہال اور مارکی میں انتظامات کیے جائیں تاکہ ان کی امارت کے چرچے ہر طرف پھیلیں حالانکہ ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اسراف کی بجائے اسی پیسے سے نوبیاہتا جوڑا حج اور عمرہ کر کے اپنی زندگی کی شروعات اعلیٰ اور مقدس فریضہ کی ادائیگی سے کرے ۔

مزید یہ کہ جہیز پر خرچ کرنے کی بجائے وہی رقم لڑکی کو دی جائے یا وراثت میں جو اس کا حق ہے وہ دیا جائے جو اس کے کام آ سکے۔ اس کے علاوہ وہ پیسہ کسی یتیم اور لاوارث و غریب بچی کی شادی پر استعمال کر کے یا کسی لاچار و مجبور کی مدد کر کے جنت کمائی جائے۔ لیکن ہم ایسا سوچنا بھی معیوب سمجھتے ہیں۔

ہم فضول خرچی کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ آج کل فوٹو شوٹ بھی پروفیشنل لوگوں سے کروایا جاتا ہے جب تک شادی بیاہ کی تقاریب میں ڈرون نہ ہو مزہ دوبالا نہیں ہوتا۔

ہمیں اپنا پیسہ سوچ سمجھ کر استعمال کرنا چاہیے ، وقت اور حالات ایک سے نہیں رہتے اور ہم نے اپنے ہر عمل کا حساب دینا ہوتا ہے ، اس بات کو ذہن میں رکھ کر ہر اس کام سے بچنا چاہیے جو آگے جا کر ہماری پکڑ کا باعث بن سکیں۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جو خود تو احتیاط کرتے ہیں، باہر جانے آنے کا پرہیز کرتے ہیں تاکہ وائرس سے حتی الامکان بچ سکیں لیکن ان کے گھر مہمان ڈیرا ڈال لیتے ہیں اور وہ بھی ایسے مہمان جو شادی کی تقریبات میں پوری طرح شریک ہو کر آتے ہیں یا ان کو شادی وغیرہ کی تقاریب میں جانا ہوتا ہے اور سونے پر سہاگہ یہ کہ وہ لوگ کورونا وائرس پر نہ یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی کوئی احتیاطی تدابیر کرتے ہیں جس سے میزبانوں کو بھی مزید مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن کیا کریں ہمارے معاشرے میں مہمان تو اللہ کی رحمت تصور کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا اپنی جان کی قربانی مہمانوں کے صدقے دی جا سکتی ہے۔

اب وہ حالات پیدا ہو گئے ہیں کہ ہمیں بے جا آنے جانے سے گریز کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ ہماری وجہ سے کوئی تکلیف میں مبتلا نہ ہو۔ اگر ہم ایسی سوچ اپنا لیں تو ہمارے آدھے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔

ہمیں اس وقت اپنی سوچ اور رویے بدلنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی کسی بڑی مشکل سے بچ سکیں۔ بے جا خرچ کرنے سے بچیں۔ اللہ نے اگر کرم کیا ہے تو اس بخشے گئے رزق سے اس کی مخلوق کی مدد کریں تاکہ نوازنے والا راضی ہو سکے۔

اپنی صحت اور جان سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتا لہٰذا ماسک پہنیں ، بلا وجہ گھومنے پھرنے اور تقریبات میں جانے سے پرہیز کریں، ایس او پیز کا خیال رکھیں۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply