ہمارے تعلیمی نظام سے جڑے چند اہم سوالات
پنجاب کے ایک دیہاتی علاقے میں گورنمنٹ کے ہائی سکول میں پہلا پیریڈ شروع ہو چکا تھا ، غالباً دسویں جماعت کا کمرہ تھا۔ کلاس انچارج نے حاضری مکمل کی۔ طلبا کا رجسٹر حاضری ان کے سامنے تھا۔ جو بچے غیر حاضر تھے ، ان کے متعلقین کو فون کالز کا سلسلہ شروع ہوا۔
پہلے سٹوڈنٹ کو کال کی گئی تو اس کے دادا نے فون رسیو کیا اور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج اس سٹوڈنٹ کی دادی کا سالانہ ختم ہے ، اس لیے وہ آج نہیں آ سکا ، کل ضرور حاضر ہو جائے گا۔ جب کہا گیا کہ کوئی پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی تو فرمایا گیا کہ موبائل میں بیلنس نہیں تھا اور گھر کے کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے درخواست بھی نہیں پہنچائی جا سکی۔
ٹیچر نے رجسٹر کو دیکھا اور اگلے غیر حاضر سٹوڈنٹ کا فون نمبر ملایا۔ اس کے والد نے فون کال رسیو کی۔ معلوم ہوا کہ وہ سٹوڈنٹ اپنے چچا کے ہاں ملنے کے لیے کراچی گیا ہوا ہے اور اسے آنے میں مزید دو دن لگ جائیں گے یعنی دو دن کی اس کی مزید رخصت!
اب اس سے اگلے سٹوڈنٹ کی باری تھی۔ یہ سٹوڈنٹ مسلسل ایک ہفتے سے غیر حاضر تھا تیسری بار کال کرنے پر فون اٹینڈ کیا گیا۔ ٹیچر صاحب تعارف کروانے لگے تو بتایا گیا کہ آپ کا نام موبائل کی سکرین پر نظر آ جاتا ہے۔
”استاد محترم! میرا بیٹا گائے کا دودھ نکال رہا ہے وہ فارغ ہوتا ہے تو میں اس سے آپ کی بات کرواتا ہوں۔ ہم نے اسے بہت سمجھایا ہے کہ پڑھ لو مگر وہ سکول نہیں آنا چاہتا۔ وہ کہتا ہے کہ کون سا اسے پڑھ لکھ کر نوکری مل جانی ہے؟ جب جانوروں کی ہی دیکھ بھال کرنی ہے تو ابھی سے ہی کیوں نہ کر لیں؟ ویسے بھی پڑھائی تو ہوتی نہیں ایک دن سکول جانا اور ایک دن چھٹی، ایسے تو بچے نہیں نہ پڑھ سکتے۔
ٹیچر نے تعلیم کی اہمیت سمجھانا چاہی تو جواب آیا کہ ہم غریب آدمی ہیں ، میں بوڑھا ہو گیا ہوں ، مال مویشیوں کے لیے چارہ نہ تو مجھ سے کاٹا جاتا ہے اور نہ ہی ڈالا جاتا ہے ۔ آپ خود ہی بتائیں میں کیا کروں ، اسے سکول بھیجوں تو میرے گھر کی (دیکھ بھال) کون کرے گا۔ آپ ایک کام کریں ، آپ اس کا نام ہی خارج کر دیں۔ وہ سکول نہیں آئے گا اب“
استاد صاحب نے فون بند کیا اور ہوم ورک دیکھنے میں مصروف ہو گیا مگر اسے آخری فون کال نے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔
وہ سوچ رہا تھا کہ کیا جو لوگ ہمارے ملک میں تعلیم کے حوالے سے پالیسیز تیار کرتے ہیں ، وہ اس طرح کے مسائل سے آگاہ بھی ہیں بھی یا نہیں؟ کیا نصاب تشکیل دینے والے جانتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے بچے پڑھ رہے ہیں ، وہ معاشرے میں کارآمد بھی ہے کہ نہیں اور اگر ہے بھی تو کس حد تک؟
کیا تعلیم کی اہمیت اجاگر کرنے میں سول سوسائٹی اور عوام نے کیا اپنے حصے کا کردار ادا کیا ہے؟ مانا کہ تعلیم کا مقصد محض نوکری کا حصول نہیں ہے مگر یہ غلط تأثر کیونکر پیدا ہوا ہے اور اسے زائل کرنے کے لیے کیا کوئی حکمت عملی وضع کی گئی ہے؟ ہمارا تعلیمی نظام ملک میں بے روزگاری پیدا کر رہا ہے یا روزگار کے مواقع فراہم کرتا ہے؟
یہ اور اس طرح کے کئی اور بنیادی سوالات ہیں جن پر بحث ہونا ضروری ہے تاکہ ہماری آنے والی نسلوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔


