ہمارے تعلیمی نظام سے جڑے چند اہم سوالات

پنجاب کے ایک دیہاتی علاقے میں گورنمنٹ کے ہائی سکول میں پہلا پیریڈ شروع ہو چکا تھا ، غالباً دسویں جماعت کا کمرہ تھا۔ کلاس انچارج نے حاضری مکمل کی۔ طلبا کا رجسٹر حاضری ان کے سامنے تھا۔ جو بچے غیر حاضر تھے ، ان کے متعلقین کو فون کالز کا سلسلہ شروع ہوا۔

پہلے سٹوڈنٹ کو کال کی گئی تو اس کے دادا نے فون رسیو کیا اور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ آج اس سٹوڈنٹ کی دادی کا سالانہ ختم ہے ، اس لیے وہ آج نہیں آ سکا ، کل ضرور حاضر ہو جائے گا۔ جب کہا گیا کہ کوئی پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی تو فرمایا گیا کہ موبائل میں بیلنس نہیں تھا اور گھر کے کاموں میں مصروفیت کی وجہ سے درخواست بھی نہیں پہنچائی جا سکی۔

Read more

”کورونا“ نے اساتذہ کی سفید پوشی چھین لی

میرے ایک دوست ہیں جن کو پراپرٹی کے لین دین کا بہت شوق ہے۔ وہ اپنے آپ کو علاقے کا ”ملک ریاض“ سمجھتے ہیں۔ محنتی آدمی ہیں، زیرو لیول سے اوپر آئے ہیں۔ وہ بہت سی خوبیوں کے مالک ہیں۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اپنے دوستوں کو یاد رکھتے ہیں اور ان کی خوب قدر کرتے ہیں۔ میری خوش قسمتی سمجھیے اور ان کی اعلیٰ ظرفی کہ وہ مجھے اپنے چند مخلص دوستوں میں شمار کرتے

Read more

چلو، آگے بڑھو

اس کے والد عبداللطیف قریشی اپنے علاقے کے ایک مشہور موٹر مکینک تھے۔ اس کا تعلق سندھ کے علاقے لاڑکانہ سے ہے جو پیپلز پارٹی کے حوالے سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ ہر ماں، باپ اپنی اولاد کے لیے خواب دیکھتا ہے اور انھیں دنیا و آخرت میں کامیابیاں سمیٹتے اور عزت و شہرت کی بلندیوں پر فائز ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے والد کے خواب بھی کچھ اسی طرح کے تھے۔ اس کے والد کے پاس افسر اور بڑے لوگ جب گاڑیاں ٹھیک کروانے کے لیے آتے تھے تو ان کے دل میں حسرت پیدا ہوتی تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا بھی کوئی بڑا آدمی بنے۔ اپنی انہی خواہشات اور حسرتوں کی تکمیل کے لیے انھوں نے اپنے بیٹے کو کیڈٹ کالج لاڑکانہ میں داخل کروا دیا۔ 2010 میں اس نے ایف ایس سی کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور اسے بہترین طالب علم کا ایوارڈ دیا گیا۔

Read more