ٹرمپ نے کِم جانگ اُن کو ایئر فورس ون پر لفٹ دینے کی پیش کش کیسے کی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

North Korean leader Kim Jong-un and US President Donald Trump meet in Hanoi, Vietnam. Photo: February 2019

AFP via Getty Images

امریکہ کے سابقہ صدر ٹرمپ کی شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ملاقاتیں ان کی صدارت کے سب سے دلکش لمحات میں شامل تھیں۔

بی بی سی کی ایک نئی سیریز ’ٹرمپ ٹیکس آن دا ورلڈ‘ کی تیسری اور آخری قسط میں ہمیں یہ نئی تفصیلات ملیں ہیں کہ یہ سربراہی اجلاس کیسے منعقد ہوئے اور جب ان دونوں افراد کی ملاقات ہوئی تو انھوں نے اس دوران کمرے میں موجود لوگوں سے کیسے اور کیا بات کی۔ اس سیریز کے ڈائریکٹر ٹم اسٹرائیکر ہیں۔

جو کچھ انھوں نے دیکھا وہ انتہائی ماہر سفارت کاروں کو بھی دنگ کر گیا خاص کر تب جب ٹرمپ نے شمالی کوریا کے آمر کو گھر چھوڑنے کے لیے ایئر فورس ون میں لفٹ دینے کی پیش کس کی۔

ویتنام کے شہر ہنوئی میں، کم جونگ ان کے ساتھ ٹرمپ کا دوسرا سربراہی اجلاس منصوبہ بندی کے مطابق نہیں گیا اور جب شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں بات چیت کا سلسلہ آگے نہیں بڑھ سکا تو ٹرمپ اچانک پریس کو یہ کہتے ہوئے روانہ ہو گئے: ’کبھی کبھی آپ کو پیدل چلنا پڑتا ہے۔‘

لیکن جانے سے پہلے اس وقت کے امریکی صدر نے کم کو ایک حیرت انگیز پیش کش کی تھی۔

ٹرمپ کی قومی سلامتی کونسل کے ایشیا کے ماہر میتھیو پوٹینجر نے ہمیں بتایا: سابق صدر ٹرمپ نے کم کو ایئر فورس ون میں گھر تک لفٹ دینے کی پیش کش کی تھی۔ صدر کو معلوم تھا کہ کِم، بذریعہ چین کئی دنوں تک ٹرین میں سفر کرنے کے بعد ہنوئی پہنچے ہیں لہذا ٹرمپ نے کہا : ’اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو دو گھنٹے میں گھر چھوڑ سکتا ہوں۔ کم نے انکار کر دیا۔‘

’جان بوجھ کر کی گئی غلطی‘

ان دو افراد کے مابین غیر متوقع طور پر شروع ہونے والے تعلقات، جو سنگاپور میں شروع ہوئے، گھر تک لفٹ دینے کی پیش کش بہت سی حیرت انگیز باتوں میں سے ایک تھی۔ قومی سلامتی کے سابق مشیر جان بولٹن نے ہمیں بتایا: ’ٹرمپ کا خیال تھا کہ انھوں نے نیا دوست بنا لیا ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

سنگاپور میں ’ہاتھ ملانے‘ کے یاد گار لمحات

ٹرمپ نے کم جونگ اُن کے نام خط میں کیا لکھا؟

’کم سے ایمانداری سے لگی لپٹی رکھے بغیر بات ہوئی‘

یہاں ٹرمپ نے ایک اور ایسا اشارہ کیا جس نے ان کی اپنی ٹیم کو چونکا دیا، جب کم نے ان سے امریکہ اور جنوبی کوریا کے مابین مشترکہ فوجی مشقیں منسوخ کرنے کی درخواست کی تو ٹرمپ اس پر راضی ہوگئے۔

John Bolton

Getty Images

بولٹن نے بی بی سی کو بتایا: ’کم جونگ ان، جیسا کہ ماضی میں بھی وہ متعدد بار چکے تھے، انھوں نے جنوبی کوریا اور امریکی افواج کے مابین مشترکہ مشقوں کے بارے میں شکایت کی، جو جزیرہ نما کوریا پر لگ بھگ 60 سال سے جاری ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’جب ٹرمپ نے کہا ’میں ان جنگی کھیلوں (ٹرمپ نے ان کے لیے یہی الفاظ استعمال کیے) کو منسوخ کرنے جا رہا ہوں، ان کی ضرورت نہیں ہے، یہ مہنگی ہیں اور اس سے آپ کو خوشی ملے گی‘ میں یقین نہیں کر سکا۔‘

’امریکہ کے اس وقت کے سیکریٹری خارجہ، پومپیو، چیف آف اسٹاف کیلی اور میں وہاں ٹرمپ کے ساتھ ہی کمرے میں بیٹھے تھے اور ہم سے مشورہ نہیں کیا گیا۔ یہ صرف ٹرمپ کا اپنا خیال تھا۔ یہ ایک ناقابل معافی غلطی تھی، یہ ایک ایسی فیور تھی جس کے بدلے میں ہمیں کچھ نہیں ملا۔‘


ٹرمپ کا کم کو خفیہ پیغام

حقیقت یہ ہے کہ یہ ملاقات ہونا بھی بہت سوں کے لیے حیرت کی بات تھی۔

اس سے مہینوں پہلے ٹرمپ کم کو ’راکٹ مین‘ پکارتے تھے اور شمالی کوریا کو سخت الفاظ میں دھمکیاں دے رہے تھے۔

اقوام متحدہ کے اعلی عہدیدار جیف فیلٹمین بتاتے ہیں کہ بحران کے عروج پر انھوں نے ٹرمپ کی جانب سے کم کو ایک خفیہ پیغام پہنچایا جس میں ایک میٹنگ کی پیش کش کی گئی تھی۔

شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کے انڈر سکریٹری جنرل برائے سیاسی امور فیلٹ مین کو پیانگ یانگ آنے کی دعوت دی تھی۔ لیکن امریکی محکمہ خارجہ نے انھیں بتایا تھا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ان کا وہاں جانے کا خیال اچھا ہے۔ تاہم کچھ ہفتوں کے بعد اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گتیرس نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا۔

فیلٹ مین نے ہمیں بتایا: ’وہ موجود حالات کے متعلق اپنے نوٹس کا موازنہ کر رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے، کیا ممکن ہے، یہ کتنا خطرناک ہے، فوجی ردعمل کا کتنا امکان ہوگا اور اس طرح کے دیگر عوامل کا جائزہ لے رہے تھے۔ اس دوران سیکرٹری جنرل گتیرس نے صدر ٹرمپ سے کہا: ’جیف فیلٹ مین کو شمالی کوریا کی جانب سے پیانگ یانگ آنے اور پالیسی مکالمے کی رہنمائی کرنے کی یہ دعوت کچھ عجیب سی ہے۔‘

ٹرمپ نے ان کی طرف جھکتے ہوئے کہا ’جیف فیلٹ مین کو پیانگ یانگ جانا چاہیے اور جیف فیلٹ مین وہاں جا کر شمالی کوریا والوں کو بتائیں کہ میں کم جونگ ان کے ساتھ بیٹھنے کو تیار ہوں۔‘

پیانگ یانگ میں فیلٹ مین کی سرزنش

جب فیلٹ مین پیانگ یانگ گئے تو انھوں نے شمالی کوریا کو حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے ہمیں بتایا: ’ان کے مزاحمت کرنے والے دلائل کے جواب میں، میں نے جو اہم پیغام پہنچانے کی کوشش کی، وہ یہ تھا کہ جسے وہ مزاحمت کی حیثیت سے دیکھ رہے ہیں وہ اس جنگ کو بڑھکانے کا سبب بن سکتی ہے۔‘

اقوام متحدہ کے عہدیدار نے شمالی کوریا کے وزیر خارجہ سے نجی طور پر ٹرمپ کے خفیہ پیغام کو پہنچانے کے لیے ملاقات کا مطالبہ کیا۔

یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں: ’وزیر خارجہ کے یہ کہنے سے پہلے تھوڑی سی خاموشی تھی، کہ ’مجھے آپ پر یقین نہیں ہے، مجھے آپ پر کیوں یقین کرنا چاہیے‘ اور میں نے کہا: ’دیکھیں میں آپ سے یہ نہیں کہہ رہا کہ مجھ پر یقین کریں۔ میں جو بات آپ کو بتا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ اقوام متحدہ کو صدر ٹرمپ کی طرف سے ایک پیغام سونپا گیا تھا اور میں وہ پیغام لے کر آیا ہوں۔‘

انھوں نے ہمیں بتایا: ’میں اس خیال سے پیانگ یانگ گیا کہ جنگ ناگزیر ہے۔ میں انتہائی پریشانی کے عالم میں یہ سوچتے ہوئے پیانگ یانگ سے نکلا کہ ہمیں واقعی جنگ کا خطرہ لاحق ہے۔‘

Kim Jong Un and Donald Trump shake hands on 30 June 2019

API via Getty Images

ٹرمپ نے جنوبی کوریا کے سفیر کو دنگ کر دیا

کم نے ٹرمپ کے پیغام پر براہ راست کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ لیکن مہینوں بعد انھوں نے جنوبی کوریا کو بتایا کہ وہ امریکی صدر سے ملنے کے لیے تیار ہیں۔ جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر یہ خبر پہنچانے کے لیے وائٹ ہاؤس پہنچ گئے۔

اس وقت کے امریکی قومی سلامتی کے مشیر، ایچ آر میک ماسٹر نے اس ملاقات کے دوران ٹرمپ کے ’ہاں‘ کہنے والے لمحے کی وضاحت کی: ’سفیر چنگ اپنی کرسی سے گر پڑے کیونکہ ان کے خیال میں یہ اتنا آسانی سے نہیں ہونے والا تھا۔‘

وائٹ ہاؤس کے بہت سارے لوگوں کی طرح، میک ماسٹر کو بھی کم سے ملاقات کے بارے میں شدید تحفظات تھے لیکن خارجہ پالیسی کی طرح یہاں بھی ٹرمپ سب کچھ اپنے انداز سے کرنے جا رہے تھے۔

جیسا کہ میک ماسٹر کہتے ہیں: ’میں نے محسوس کیا کہ کم جونگ ان کو تھوڑا سا دباؤ محسوس کرنے دینا بہتر ہوگا۔ لیکن، یقیناً صدر اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17771 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp