ایک کارخانہ ہزار لنگر خانوں سے بہتر ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا ہر وقت آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے اور آپ کے ساتھ رہتا ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ موبائل اب عادت کی طرح بن چکا ہے ، جیسے ہی بندہ ذرا فارغ ہوتا ہے ہاتھ فٹ سے موبائل کی طرف چلا جاتا ہے اور گوگل، وٹس ایپ ، انسٹاگرام اور ٹویٹر وغیرہ کو سرچ کرنا شروع کرتا ہے۔

آج اتوار کی چھٹی کی وجہ سے کچھ فراغت ملی تو فیس بک پر سرچ کے دوران ایک پوسٹ پر نگاہ رک گئی۔ ایک پوسٹ اور دو تصویریں لیکن ساتھ ساتھ ہوتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے معنی کے لحاظ سے ان دونوں میں بعد المشرقین تھیں۔

پوسٹ کے اوپری حصے کی تصویر ایک کارخانے کی تھی اور کارخانہ برابر چلتا ہوا دکھایا گیا تھا اور کارخانہ مصنوعات سے لدھا پھندا ہوا تھا اور کارخانے کے مزدور اور دیگر ملازمین کام میں مصروف عمل دکھائی دے رہے تھے، جبکہ تصویر کے نیچے والے حصے میں بھی لوگ مصروف عمل تھے لیکن کسی کام کاج میں نہیں بلکہ دسترخوان پر کھانا تناول فرما رہے تھے اور ساتھ میں لکھا ہوا تھا، ایک کارخانہ ہزار لنگر خانوں سے بہتر ہے۔

یہ پوسٹ اور تحریر پڑھنے کے بعد میرے مشاہدے میں آنے والے متعدد دسترخوان اور کھانا کھلانے والے گشتی کارکن نظروں کے سامنے آ گئے۔ خواہ وہ سیلانی دسترخوان ہو، چھیپا دسترخوان ہو، ایدھی دسترخوان، حسینی دسترخوان ہو یا دیگر دسترخوان یا خیراتی ادارے ہو۔ چونکہ میں کراچی میں رہتا ہوں تو میں کراچی کے حوالے سے بات کروں گا۔ یہ دسترخوان یا لنگر خانے کراچی میں ہر دوسرے تیسرے چوک یا چورنگی پر آباد ہیں اور شہر کی دیگر جگہوں اور گلیوں میں ان لنگرخانوں کی موجودگی اس کے علاوہ ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ مختلف ہوٹلوں میں ان مفت کھانے والوں یا غریب سائلین کی اکثریت سے موجودگی الگ ہے ، جہاں دیگر مخیر حضرات ان ہوٹل کے مالکان کو ان مستحقین کے ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کی ادائیگیاں چپکے سے کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں صدقہ، خیرات خود کو اور اپنے پیارے مرحومین کو بخشوانے اور بلائیں دور کرنے کے لیے خاص طور پر غریب غرباء کو کھانا کھلانے اور مدرسہ و مسجد میں دینے کے رواج یا طریقہ کار کو افضل اور پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے ہاں اس طرح کے پیسے سکول، کالج، یونیورسٹی یا دیگر کارآمد جگہوں ہر نہیں لگائے جاتے ہیں اور نہ ایسے افراد کو دیے جاتے ہیں جو غریب اور تنگدست ہوتے ہوئے اچھے ہنرمند اور اہل کسب ہوتے ہیں ، جو پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایسی جگہوں پر کام کاج کے وقت کھانا کھانے یا ناشتہ کرنے کو آتے ہیں۔

اگر یہ مخیر حضرات ایسے لوگوں کی مدد کریں تو یہ دیرپا اور کارآمد طریقہ ہو گا جس سے صرف ایک شخص کی نہیں بلکہ اس کے خاندان کے ساتھ ساتھ پورے معاشرے کی خدمت اور اصلاح ہو گی۔

میرے خیال سے جتنا پیسہ ان لنگر خانوں، ان کی جگہوں اور ورکروں پر خرچ ہوتا ہے ، ان پیسوں سے ان لوگوں کے لئے جو وہاں تین وقت کھانے کے لئے آتے ہیں ، روزگار کے لئے چھوٹے چھوٹے سمال کاٹج انڈسٹری کے طرز پر یونٹس بنائے جا سکتے ہیں۔ جن سے لنگر خانوں کے بجائے عادی اور پروفیشنل مفت خوروں کے بجائے کارآمد اور پروفیشنل ورکرز اور ماہرین پیدا ہوسکتے ہیں ، جو نہ صرف اپنے اور اپنے خاندان کے لئے مفید ہوں گے بلکہ ملک کے سماجی اور اقتصادی امور میں بھی اپنا حصہ ملاتے جائیں گے۔

مزید یہ کہ وہ مخیر حضرات کا راستہ نہیں تکیں گے اور دوسروں کے دسترخوان پر سوالی بن کر جھکے ہوئے سر سے کھانا نہیں کھائیں گے بلکہ اپنے گھر میں اپنے بچوں کے ساتھ اونچے سر اور اونچی نظروں سے لقمۂ حلال اپنی شکم تک پہنچائیں گے اور اس کھانے میں کوئی عار اور شرمندگی بھی لنگر کے کھانے کی طرح محسوس نہیں کریں گے، ورنہ کھاتا تو منہ ہی ہے لیکن شرم آنکھیں محسوس کرتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply