نکاح نامے کا خانہ نمبر اٹھارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نکاح خواں عام طور پر کسی سے پوچھے بغیر خود ہی نکاح نامے کے کچھ خانے خالی چھوڑ دیتے ہیں یا ان میں کاٹا (x) لگا دیتے ہیں۔

یہ وہ خانے ہیں جو ہماری بیٹی یا بہن کو مشکلات سے بچا سکتے ہیں۔

اگرچہ توقع اچھے ہی کی رکھنی چاہیے لیکن سب کچھ توقعات اور خواہشات کے مطابق نہیں ہوتا۔ خاصی تعداد میں شادیاں چل نہیں پاتیں اور پھر ایک دوسرے کو زیادہ سے زیادہ تنگ کیا جاتا ہے۔

جب یہ صاف ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، شوہر طلاق دینے سے انکار کرتا ہے، اس کے لئے حق مہر، بچے چھوڑنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ مقدمات فیملی کورٹ سے ہائی کورٹ تک فیصلہ ہوتے ہوتے بیوی بوڑھی ہو جاتی ہے۔ وہ نئی زندگی شروع نہیں کر پاتی، شوہر اس دوران دوسری شادی کر چکا ہوتا ہے۔ اس سے بھی بچے بڑے ہو چکے ہوتے ہیں۔

نکاح نامے کے خانہ نمبر 18 میں ”ہاں“ لکھ کر اس مصیبت سے بچا جا سکتا ہے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟

نکاح نامے کی شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں۔ 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔

مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر مؤجل کسی معینہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔ مہر مؤجل کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔ اس پر بھی جھگڑے طول پکڑتے ہیں۔

حق طلاق دینا تو کیا اس پر بات کرنا بھی نامناسب اور بد شگونی سمجھا جاتا ہے۔

اگر بیوی کے پاس حق طلاق نہ ہو تو اس کے پاس خلع یا تنسیخ نکاح یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہو جاتی ہے۔

لڑکی کے پاس حق طلاق ہونے کی صورت میں یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔

نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حق طلاق پر شرائط عائد کر سکتی ہے مثلاً شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔

نکاح نامے کا خانہ 20 مہر و نان نفقہ سے متعلق تیار کی گئی کسی دستاویز کی تفصیلات درج کرنے کے لئے ہے۔ مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدت تک بیوی کو ادا کی جائے۔

اگر نکاح نامے میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا گیا ہو تو ضروری نہیں کہ وہ اسے استعمال کرے مگر یہ حق اپنے پاس رکھے ضرور۔ پتہ نہیں مستقبل میں کیا ہو اور کب یہ حق استعمال کرنا پڑ جائے۔

جیسا کہ پہلے ذکر کیا، نکاح خواں کئی خانوں کو خود ہی قلم زد کر دیتے ہیں۔ جس کا انہیں کوئی حق ہے نہ اختیار۔ لیکن اب پنجاب حکومت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے کہ ایسا کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور ہر خانہ پر کرنا لازمی کر دیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply