ندی کنارے: چیخوف کی ایک کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جن دنوں میں قصبے میں رہتا تھا اپنا زیادہ تر فارغ وقت کیاریوں کے چوکیدار، ساوک، کے ساتھ گزارنا میرا معمول تھا۔ قصبے سے ذرا باہر، ندی کے کنارے یہ کیاریاں کھاتے پیتے گھرانوں کو الاٹ ہوئی تھیں۔ ان میں وہ اپنے گھر کے استعمال کے لئے سبزیاں پھل وغیرہ اگاتے تھے۔

یہ میری پسندیدہ جگہ تھی۔ یہاں میں مچھلی کے شکار کے بہانے جاتا اور ڈور میں کانٹا لگا کر آرام سے ساوک سے باتیں کرتا رہتا۔ مجھ میں اور ساوک میں کوئی بات مشترک نہیں تھی۔ وہ پچیس سال کا خوش شکل، ٹھوس بدن نوجوان تھا۔

قصبے میں اس کی شہرت بری نہیں تھی۔ لیکن وہ پرلے درجے کا کاہل تھا۔ کام کاج کے بارے میں بالکل نکھٹو۔ اسے کسی کی نوکری سے دلچسپی نہیں تھی۔ ذہین بھی تھا اور تھوڑا بہت پڑھ لکھ بھی لیتا۔ لیکن نہ ہی ذہانت نے اور نہ پڑھائی لکھائی نے اس کا کچھ بگاڑا۔ اس کی ماں بھیک مانگ کر گزارا کرتی اور جب اسے بیکار رہنے پر لعن طعن سننی پڑتی تو وہ چند دن کے لئے کوئی نوکری کر لیتا لیکن اس پر ٹکتا نہیں تھا۔

ساوک ندی کے پار گاؤں میں رہتا تھا۔ گاؤں کے باقی لوگوں کی طرح اس کو بھی ایک چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا الاٹ ہوا تھا لیکن وہاں صرف جنگلی جڑی بوٹیاں ہی اگتیں۔ اس نے وہ زمین اپنی کاہلی کی وجہ سے کبھی کاشت نہیں کی۔ جب سال ہا سال کا ٹیکس اکٹھا ہو گیا تو اس پر ٹیکس چوری کا مقدمہ ہوا اور سزا کے طور پر اسے کیاریوں کی چوکیداری کی ذمہ داری سونپ دی گئی۔ ایسا کام ہمیشہ بوڑھے لوگوں کو دیا جاتا تھا۔ سب کا خیال تھا کہ ساوک چند ہی دن کے بعد تنگ آ کر ایسی نوکری چھوڑ دے گا جس میں نہ ہونے کے برابر تنخواہ ملتی اور سارا دن سوائے چڑیاں اڑانے کے اور کوئی مصروفیت نہ ہوتی۔

لیکن ساوک کو تو جیسے جنت مل گئی تھی۔ اس نے وہیں پر ایک ترپال ڈال کر چھوٹی سی کٹیا بنا لی تھی۔ اب اس نے اپنی ماں سے ملنے کے لئے ندی کے پار جانا بھی بہت کم کر دیا تھا۔ گاؤں کی عورتیں اکثر اس کے لئے کھانا پکا کر لے آتیں۔

میں گھاس پر ایک خالی بوری بچھا کر لیٹا ہوا ساوک سے باتیں کر رہا تھا۔ ہاتھ میں ایک کتاب پکڑی ہوئی تھی۔ اگرچہ ندی نظر نہیں آ رہی تھی لیکن اس کے کنارے پر اگے جھنڈ کے درختوں کی شاخیں ہلتی دکھائی دے رہی تھیں۔ ساوک کا کتا ایک سیاہ دھبے کی طرح ترپال سے لگا بیٹھا تھا۔ ندی سے پانی کے بہنے کی مدھم مدھم آواز آ رہی تھی۔

ساوک مجھ سے پرندوں کے بارے میں باتیں کرنے لگا۔
”آج بلبل نہیں چہک رہی؟“
میں نے مضمون میں دلچسپی دکھائی۔

ساوک نے اپنی خوابیدہ آنکھوں سے جھنڈ کی طرف دیکھا۔ اپنی گندی سی دفلی سے ایک سیٹی نکال کر دو تین مرتبہ بجائی۔ چند ہی لمحوں کے بعد جیسے اس کے جواب میں بلبل کے چہچہانے کی آواز آئی۔

”لو صاحب۔ آپ کو بلبل یاد آ رہی تھی۔ سنبھالیں اپنی بلبل کو۔“

پھر معذرت کے انداز میں اس نے کہا۔ ”حضور اگر مجھے پتہ ہوتا آپ آج آرہے ہیں تو میں اس عورت کو آنے سے منع کر دیتا۔“

”نہیں، نہیں، تم میری وجہ سے پریشان نہ ہو۔ میں تو ویسے بھی جھنڈ کے پار جا کر مچھلی کی ڈور دیکھنا چاہ رہا تھا۔“

”وہ مر تو نہ جاتی اگر آج گھر رہ جاتی۔ مجھے آپ سے باتیں کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ لیکن اس کی موجودگی میں تو کوئی ڈھنگ کی گفتگو نہیں ہو سکتی۔“

”کون؟ کیا دروسیہ پھر آ رہی ہے؟“
میں نے پوچھا۔
”نہیں، آج اگافیا آ رہی ہے۔“
ساوک نے جواب دیا۔

میں ذرا حیران ہوا۔ میں اگافیا کو جانتا تھا۔ وہ انیس یا بیس برس کی ہو گی۔ خاصی خوبصورت، بھرے بھرے جسم والی لڑکی تھی۔ اس کی شادی کوئی سال ڈیڑھ سال پہلے یاکوف سے ہوئی تھی جو ریلوے میں کانٹے والے کی حیثیت سے ملازم تھا۔ وہ قصبے کے سٹیشن سے ہر دوپہر میل گاڑی پکڑ کر بڑے جنکشن پر جاتا اور آدھی رات کے بعد اسی میل گاڑی سے واپس گھر لوٹتا۔

”ساوک، گاؤں کی عورتوں سے تمہارے ان تعلقات کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ تم مصیبت میں پھنس سکتے ہو۔“
مھے ساوک کی لا پروائی سے ہمیشہ خدشہ رہتا تھا۔

” یہ تو ہے۔ لیکن یہ عورتیں بھی تو باز نہیں آتیں۔ ایک نہ ایک بہانہ کر کے میرے پاس آ جاتی ہیں۔ میں نے خود بھی انہیں احتیاط کرنے کو کہا ہے لیکن انہیں کوئی پروا ہی نہیں۔“

سورج ڈھلنے کے قریب تھا۔ ساوک کا کالا کتا ہلکے سے غرایا۔ ندی سے کسی کے پانی میں چھپاکے مارنے کی آواز آئی۔ تھوڑی دیر بعد اگافیا ندی کے اتھلے پانی سے باہر نکل کر ہمارے سامنے آ کھڑی تھی۔ اس جھٹپٹے کے عالم میں بھی گیلے کپڑوں سے اس کی جوانی جھانک رہی تھی۔ مجھے ساوک کے ساتھ بیٹھا د یکھ کر وہ کچھ کھسیانی سی ہوئی اور کہنے لگی:

”صاحب یاکوف آپ کو سلام کہہ رہا تھا۔“
ساوک نے ایک زور دار قہقہہ لگایا۔

”بس کر، بہانے نہ بنا کہ تیرا یاکوف ہمارے صاحب کو پوچھ رہا تھا۔ صاحب کو سب پتہ ہے کہ تو یہاں کیوں آئی ہے۔ اب آ گئی ہے تو آرام سے بیٹھ ۔ لگتا ہے میلوں چل کر آئی ہے۔ لے یہ واڈکا۔ اس کے دو گھونٹ پی لے۔“

ساوک نے ایک گلاس میں واڈکا انڈیلتے ہوئے کہا۔
”مجھے کیا شرابن سمجھا ہے تو نے؟
”پی لے، تیرے کپڑے گیلے ہیں۔ اس سے ذرا گرمائی آئے گی۔ اور یہ گٹھری میں کیا لائی ہے؟“
” تیرے لئے مکھن کی روٹی اور آلو بنائے تھے۔“

اگافیا نے گلاس ہاتھوں میں تھام لیا۔ میری طرف دیکھ کر تھوڑا سا جھجکی۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ چسکیاں لے لے کر واڈکا پینے لگی۔ جب گلاس خالی ہو گیا تو اس نے ایک لمبی سی سانس لی۔ اب اس کے چہرے پر لالی واپس آ گئی تھی۔

ساوک نے گٹھری کھولی اور بغیر کسی مزید اصرار کے بڑے بڑے لقمے بنا کر کھانا شروع کر دیا۔

اگرچہ اب اندھیرا چھا چکا تھا اور میں اگافیا کا چہرہ صاف طور پر نہیں دیکھ سکتا تھا، لیکن لگ رہا تھا جیسے اس کی نظریں ساوک کے چہرے پر مسلسل جمی ہوئی ہیں۔

میں کباب میں ہڈی نہیں بننا چاہتا تھا۔ سوچا یہاں سے چلوں۔ ندی کنارے جا کر مچھلی کی ڈور بھی دیکھ لوں گا اور کچھ چہل قدمی بھی ہو جائے گی۔

ابھی میں اٹھنے ہی لگا تھا کہ تاریکی میں درختوں کے جھنڈ سے ایک بلبل کے چہکنے کی آواز آئی۔ پہلے ایک کھنک دار سا سر۔ پھر چند لمحوں کی خاموشی۔ پھر دو تین سر ایسے جیسے گلا صاف کر رہی ہو۔ اور جب آواز صاف ہو گئی تو بلبل نے انتہائی سریلی آواز میں گانا شروع کر دیا۔

” ارے یہ تو کل والی بلبل ہے۔“
ساوک نے اچانک جوش میں آ کر کہا۔
”ایک منٹ۔ میں ابھی آیا۔“
یک لخت اٹھ کر وہ تاریک جھنڈ کی طرف روانہ ہو گیا۔ یہ سب کچھ اچانک، ایک دم سے ہوا۔
”ٹھہرو، ٹھہرو، کہاں بھاگے جا رہے ہو؟“
میں زور سے چلایا۔

ساوک نے مڑ کر میری اور اگافیا کی طرف دیکھا اور ہاتھ ایسے ہلایا جیسے کہہ رہا ہو کہ اتنی زور سے نہ بولو ورنہ بلبل اڑ جائے گی۔

ساوک بہت اچھا شکاری تھا۔ مچھلیوں کا اور پرندوں کا بھی۔ لیکن اس نے اپنی فطری کاہلی کی وجہ سے کبھی اس ہنر کو استعمال نہیں کیا۔ اور ویسے بھی کسی کام کو روایتی انداز میں کرنا اس کے لئے گناہ تھا۔ اس نے اپنے ہی طریقے ایجاد کیے ہوئے تھے۔ مچھلیاں سرکنڈے کی تیز نوک سے پکڑتا۔ پرندوں کو غلیل یا چھرے والی بندوق سے مارنے کی بجائے ہاتھ سے دبوچ لیتا۔

ساوک اندھیرے میں گم ہو گیا۔ اگافیا میرے ساتھ اکیلی رہ گئی تھی۔ وہ ہلکے سے کھنکاری۔ دو تین مرتبہ ہاتھ اپنے ماتھے پر پھیرا۔ لگ رہا تھا جیسے واڈکا تھوڑی تھوڑی چڑھ گئی ہو۔

جب خاموشی بہت ہی کھلنے لگی تو میں نے کچھ کہنے کے لئے پوچھا:
”تو اگافیا تم اور یاکوف کیسے ہو؟“
”شکر ہے خدا کا ہم ٹھیک ہیں۔ صاحب کسی کو بتائیے گا نہیں۔“
اس نے سرگوشی میں جواب دیا۔

”ٹھیک ہے۔ میں کسی کو بتاؤں گا نہیں۔ لیکن اگافیا یہ کھیل ہے بہت خطرناک۔ اگر یاکوف کو پتہ چل گیا تو تمھارے لئے بہت مسئلہ ہو جائے گا۔“

”اسے پتہ نہیں چلے گا۔“
”لیکن اگر پتہ چل جائے تو؟“

”نہیں صاحب، اسے پتہ نہیں چلے گا۔ وہ ابھی ریلوے لائن پر گیا ہوا ہے۔ اور آدھی رات پڑنے پر میل گاڑی سے واپس لوٹے گا۔ میں یہاں سے ٹرین کی سیٹی کی آواز سن سکتی ہوں۔ جتنی دیر میں وہ سٹیشن سے گاؤں پہنچے گا، میں اس سے کہیں پہلے گھر پر ہوں گی۔ نہیں، اسے پتہ نہیں چلے گا صاحب۔“

اگافیا نے پھر اضطرابی حالت میں ماتھے پر ہاتھ پھیرا اور درختوں کے جھنڈ کی اس سمت نظر جما دی جہاں اندھیرے نے ساوک کو نگل لیا تھا۔

بلبل نے کچھ دیر پہلے چہچہانا بند کر دیا تھا۔ لیکن ساوک واپس نہیں لوٹا تھا۔ اگافیا بے چینی سے اٹھی، دو قدم جھنڈ کی طرف بڑھی، لیکن پھر بیٹھ گئی۔

”کہاں مر گیا ہے ساوک۔ میں ساری رات تو نہیں ٹھہر سکتی۔ میل ٹرین بھی آنے والی ہے۔ میں چلی ہی جاؤں تو اچھا ہے۔“

”ساوک، سا ا واک، سا اا وا اک۔“
میں نام کو جتنا کھینچ سکتا تھا، کھینچ کر زور زور سے اسے آوازیں دے رہا تھا۔
”وہ کہاں جا سکتا ہے؟ بس میں چلتی ہوں۔“
اگافیا گھبرائی ہوئی آواز میں بظاہر مجھ سے، لیکن اصل میں خود سے باتیں کر رہی تھی۔

اسی گھبراہٹ میں ایک گھنٹہ گزر گیا۔ اور پھر دور سے ٹرین کی سیٹی کی ہلکی سی آواز آئی۔ ٹرین اپنے دن کے آخری سفر کے لئے روانہ ہو چکی تھی۔ اگافیا بے چینی میں کبھی اٹھ، کبھی بیٹھ رہی تھی۔ اب دور سے ٹرین کے پہیوں کی پٹری پر گڑگڑاہٹ بھی سنائی دینے لگی تھی۔ اگافیا کا اضطراب اور شدید ہو گیا تھا۔

گاڑی کا شور بلند ہوتا جا رہا تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ایک اور سیٹی کی آواز آئی۔ ڈھول کی طرح کی کھوکھلی گڑگڑاہٹ کا مطلب تھا کہ ٹرین اب ندی کے پل پر سے گزر رہی تھی۔

اور پھر خاموشی چھا گئی۔
”بس میں دو منٹ اور انتظار کروں گی۔“
لیکن اگافیا انتظار کرتی رہی۔ تقریباً مزید ایک گھنٹے کے بعد ساوک دبے پاؤں واپس لوٹا۔

” اسے کہتے ہیں قسمت۔ میں جیسے ہی اس درخت کے قریب پہنچا جہاں بلبل گا رہی تھی۔ وہ خاموش ہو گئی۔ میں انتظار کرتا رہا کہ جیسے ہی وہ دوبارہ گانا شروع کرے گی میں اس کو دبوچ لوں گا۔ لیکن اس کو تو سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ چہک کر ہی نہیں دی۔ لگتا ہے اس کی کچھ عمر باقی ہے۔ پھر میں نے سوچا بھاڑ میں جائے بلبل۔ اگافیا انتظار کر رہی ہے۔ سو میں واپس آ گیا۔“

سواک بے تکے پن سے گھاس پر لیٹنے لگا اور سہارا لینے کے لئے دونوں ہاتھوں سے کھڑی ہوئی اگافیا کی کمر تھام لی اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔

” تیرا منہ کیوں اترا ہوا ہے؟ کوئی مر گیا ہے کیا؟“

اپنی سادگی کے باوجود ساوک عورتوں کو گھٹیا سمجھتا، ان کو حقیر نظر سے دیکھتا، اور اکثر ان کے پیار اور محبت کے جذبات پر تضحیک سے ہنستا تھا۔

خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ شادی شدہ عورتیں اس پر کیوں مرتی تھیں۔ شاید اس کا سزا کے طور پر گاؤں میں اپنی جھونپڑی چھوڑ کر کیاریوں کی نگہبانی کرنا ان کی شفقت کی ایک بڑی وجہ ہو۔ یا لاپروائی اور حقارت آمیز رویے نے اسے ان عورتوں کے لئے پرکشش بنا دیا ہو۔ لیکن یہ بھی حقیقت یہ ہے کہ اس کے خد و خال میں دلفریب نرمی، اور آنکھوں ہمیشہ اپنائیت ہوتی تھی۔

”اچھا صاحب کو بتا تو میرے پاس کیوں آئی ہے؟“
ساوک ہنستے ہوئے کہہ رہا تھا۔
”یہ لے ایک گھونٹ واڈکا اور پی لے۔“

میں نے زیادہ دیر رکنا مناسب نہیں سمجھا اور ان دونوں کو چھوڑ کر کیاریوں کی طرف جانے لگا۔ اندھیرے میں سبزیوں کی قطاریں مسمار کی ہوئی قبروں کی طرح لگ رہی تھیں۔

”اور ٹرین؟“
میں نے سوچا۔
”ٹرین تو بہت دیر کی آ چکی ہے۔“

میں واپس مڑا۔ ساوک کچھ گنگنا رہا تھا۔ اگافیا اس کے گھٹنوں پر سر رکھے گنگناتے گیت میں اس کا ساتھ دے رہی تھی۔ وہ اپنے جذبات میں اس قدر مگن تھی کہ اسے میری موجودگی کا احساس تک نہیں ہوا۔

”اگافیا، ٹرین کو آئے ہوئے بہت دیر ہو گئی ہے۔“
ساوک نے میری بات آگے بڑھائی۔
”ہاں اگافیا اب تو واپس اپنے گھر جا۔ یہاں کیا کر رہی ہے؟ تجھے شرم نہیں آتی۔ بے حیا!“
اور یہ کہہ کر وہ زور سے ہنسا۔
اگافیا نے ساوک کے گھٹنوں سے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا۔
”تمھیں بہت پہلے چلے جانا چاہیے تھا۔ یاکوف بہت پریشان ہو گا۔“
میں نے فکر مند انداز میں اس سے کہا۔

وہ اٹھی۔ یوں لگا جیسے قدم بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن قدم اٹھ نہیں رہے۔ وہ شاید ایک شدید اندرونی کشمکش میں مبتلا تھی۔ جیسے اس کا ذہن تو اسے گھر واپس جانے کو کہہ رہا ہو لیکن اس کا دل ساوک کو چھوڑنے کو نہیں چاہ رہا تھا۔

کسی ان دیکھی قوت نے اس کے بڑھتے ہوئے قدم جکڑ لئے تھے۔ وہ ساوک کی طرف مڑی اور پھر سے وہیں فرش پر اس کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گئی۔

” پریشان ہو گا؟“
اس کی ہنسی کی آواز میں سانپ کے سانس کی سی پھنکار تھی۔
”وہ پریشان ہو گا؟“
اس نے سر جھٹک کر حقارت سے ہنستے ہوئے کہا اور ساوک کو اپنی باہوں میں لے لیا۔

اب میرا ان دونوں کے ساتھ ٹھہرنا بالکل مناسب نہیں تھا۔ میں درختوں کے جھنڈ کی جانب چل دیا اور وہاں سے ندی کنارے پر پہنچا جہاں صبح سے مچھلی کی ڈور ابھی تک اسی طرح لگی ہوئی تھی۔ میں ڈور پکڑ کر کافی دیر بیٹھا رہا۔ ندی کے پار ایک جھونپڑی سے چراغ کی روشنی دکھائی دے رہی تھی۔ پھر وہ چراغ بھی گل ہو گیا۔ اب مکمل اندھیرا چھا گیا تھا۔ ندی کا پانی دھیرے دھیرے بہہ رہا تھا۔ دھیمی ہوا میں ٹھنڈی آہوں کی سی خنکی محسوس ہو رہی تھی۔

چلتے چلتے میں ان پتھروں کے پاس پہنچا جہاں میں دن میں ٹیک لگا کر بیٹھا کرتا تھا۔
”اگافیا۔ آآگاآآفی ی یا“

ندی کے پار اندھیرے سے یاکوف کی دیوانگی، فریاد اور مایوسی بھری آواز آ رہی تھی۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ہوا کے دوش پر اگافیا کی ہنسی کی آواز بھی کانوں میں پڑتی۔ وہ ہر فکر سے آزاد، ہر ظالم حقیقت سے بے خبر، خوشیوں کے ایسے چند لمحے تلاش کر رہی تھی جو صبح آنے والی متوقع مصیبتوں کی کچھ دیر کے لئے تلافی کر سکیں۔

اور پھر خاموشی چھا گئی۔
اب تاروں کی روشنی ماند پڑنے لگی تھی۔ میں نہ جانے کب انہیں پتھروں کے درمیان بیٹھا سو گیا تھا۔
جب میری آنکھ کھلی تو ساوک میرے پاس بیٹھا ہلکے سے میرا کندھا ہلا رہا تھا۔
”تو ایسے مچھلیاں پکڑتے ہیں؟“
ساوک نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔
”اگافیا چلی گئی ہے کیا؟“
میں نے پوچھا۔
”وہ دیکھیے صاحب۔“
اس نے ندی کی طرف اشارہ کیا۔

اگافیا ندی کے بالکل درمیان پہنچ چکی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس نے اپنا سکرٹ پانی سے اوپر کیا ہوا تھا۔ وہ ایک تصویر کی طرح کچھ لمحوں کے لئے منجمد سی ہو گئی تھی۔

”پگلی کہیں کی۔ جب رات کو اسے واپس جانے کو کہا تھا اس وقت چلی گئی ہوتی تو اچھا تھا۔ اب گاؤں میں فساد ہو گا اور مجھے پھر جیل جانا پڑے گا۔“

اگافیا اب ندی پار کر کے دوسرے کنارے کے کھیتوں کی طرف جا رہی تھی جن کے بعد گاؤں کی جھونپڑیاں شروع ہو جاتیں۔ چلتے چلتے وہ اچانک رک گئی۔

” وہ دیکھیے صاحب۔ وہ جانا نہیں چاہ رہی۔ اس کا شوہر ایک گھنٹے سے اس کا انتظار کر رہا ہے۔“

ساوک نے یہ الفاظ اگرچہ ہنستے ہوئے کہے تھے لیکن جب میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو میرے جسم میں سردی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ یاکوف کھیتوں کے پار، جھونپڑی کے دروازے کے قریب کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ بالکل ساکت تھا۔ ایک ستون کی طرح۔ خدا جانے وہ کیا سوچ رہا تھا؟ کن الفاظ سے اپنی بیوی کا سامنا کرنے کی تیاری کر رہا تھا؟

اگافیا چلتے چلتے رک کر زمین پر بیٹھ گئی تھی۔ اس نے مڑ کر ہماری جانب دیکھا جیسے مدد طلب کر رہی ہو۔ میں نے ساوک سے کہا کہ وہ اتنے کھلے میں نہ بیٹھے کیونکہ ندی کے دوسرے کنارے سے یاکوف اسے دیکھ سکتا تھا۔

”اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا صاحب۔ یاکوف کو یقیناً پتہ ہے کہ وہ کس کے پاس سے آ رہی ہے۔ رات کے اندھیرے میں ندی پار کر کے کیاریوں میں کوئی عورت اکیلی گوبھیاں توڑنے نہیں آتی۔ اسے سب معلوم ہے صاحب۔“

میں نے ساوک کا چہرہ دیکھا۔ اس کی رنگت پیلی پڑ گئی تھی۔ اس کی رحم بھری نظریں اگافیا پر ایسے جمی ہوئی تھیں جیسے وہ کسی پرندے پر اذیت ہوتے دیکھ رہا ہو۔

ایک جھٹکے کے ساتھ اگافیا اٹھی۔ اب وہ ایک نئی عورت لگ رہی تھی۔

اس کا سر بلند تھا۔ سینہ تان کر جس استقامت سے اس نے اپنے شوہر کی جانب قدم اٹھائے ، اس سے احساس ہوتا تھا کہ اس نے فیصلہ کر لیا ہے۔ وہ جو بھی فیصلہ تھا اٹل تھا۔ اس میں ترمیم یا تنسیخ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس لا ابالی فیصلے کا کیا نتیجہ نکلے گا، اسے کوئی پروا نہیں تھی۔ آنکھوں میں ہمت کی چمک اور بغاوت کے شعلے لئے وہ اپنے شوہر کا اور زندگی کا مقابلہ کرنے کے لئے آگے بڑھی۔ یہ فیصلہ جو قیمت بھی مانگ رہا تھا وہ دینے کے لئے تیار تھی۔ جان کی قیمت بھی۔ یک طرفہ محبت کی ایک رات کے لئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply