ہم اس مسئلے کو چند لمحوں کے لیے سادہ اور عام فہم انداز میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دنیا کے تمام انسان کچھ امور میں مکمل طور پر بے بس مجبور اور لاچار ہیں۔ مثلاً ہم کہاں پیدا ہوں گے۔ ہمارے ماں باپ کون ہوں گے۔ ہمیں کیسے رشتہ دار نصیب ہوں گے۔ ہمارا جسم ، ہماری آنکھیں ، ناک ، کان کیسے ہوں گے۔ ہم گورے یا کالے ہوں گے۔ ہم کب پیدا ہوں گے ، کب اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے اور کب کسی حادثے یا بیماری کا شکار ہو جائیں گے۔ اور اس طرح کی بے شمار چیزیں جنہیں کنٹرول کرنا ہماری اوقات سے باہر ہے۔
یہ سب کی سب چیزیں پہلے سے لکھ اور طے کر دی جا چکی ہیں اور ان معاملات میں ہم مکمل طور پر بے بس ہیں۔ یہ ہماری تقدیر کا ایک حصہ ہے جبکہ دوسرے حصہ میں ایسے امور ہیں جن میں ہمیں چیزوں کے نتائج سے آگاہ کر کے انتخاب کا مکمل اختیار دے دیا گیا ۔ ہم چاہیں تو فلاں کام کر لیں اور چاہیں تو رہنے دیں ، یہ ہماری صوابدید پر ہے اور یہی وہ انتخاب ہے جو آگے چل کر ہماری تقدیر یا ہمارا مقدر بن جاتا ہے۔
Read more