سیاست میں ہوا کا بدلتا رخ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی ڈی ایم تحریک سینیٹ اور ضمنی انتخابات کی گرما گرمی میں کہیں دب کررہ گئی ہے، سیاست میں سینٹ کے ساتھ ضمنی انتخاب کا شور برپا ہے، عوام بھی مہنگائی بھول بھال کر ضمنی الیکشن میں ووٹ ڈالنے میں لگے ہیں، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں قومی اسمبلی اور صوبائی حلقوں کی دو دو نشستوں پر ضمنی انتخابات کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، این اے 45 کرم سے تحریک انصاف کے امیدوار نے جمعیت علماء اسلام کے امیدوار کو ہرا کر پارٹی کو قومی اسمبلی میں مزید ایک نشست دی ہے، جبکہ تحریک انصاف کی نوشہرہ سے پی کے 63 کی صوبائی نشست مسلم لیگ (ن) کے امیدوار اختیار ولی نے کامیابی حاصل کی ہے۔

سب سے زیادہ ہنگامہ این اے 75 سیالکوٹ اور پی پی 51 وزیر آباد کی نشستوں پر رہا، جہاں متعدد مقامات پر جھگڑوں اور فائرنگ کے واقعات میں دو افراد مارے گئے ہیں۔ اس بار ضمنی انتخابات دو جانیں لے کر اختتام پذیر ہوئے، مگر اپنے پیچھے الیکشن کمیشن کی اہلیت، پولیس اور انتظامیہ کی کارکردگی، سیاسی جماعتوں کی جمہوریت پسندی اور عوام کی سیاسی تربیت کے بارے میں سوالات بھی چھوڑ گئے ہیں، جہاں تک انتخابات کے نتائج کا تعلق ہے تو تحریک انصاف کے امیدوار کی شکست، حکومت کے خلاف ایک واضح تبدیلی کا اشارہ ہے، جو عوام میں مچل رہی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ تحریک انصاف حکومت تبدیلی کے نعرے کے ساتھ برسراقتدار آئی تھی، مگر اڑھائی سال گزرنے کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ تبدیلی لانے میں کامیاب نہیں رہی ہے، حکومت نے عوام کے مسائل کے تدارک کی بجائے اپوزیشن کی کرپشن دکھانے اور بتانے میں وقت برباد کیا ہے، حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج واضح کر رہے ہیں کہ صرف مخالفانہ پروپیگنڈے سے سیاسی جماعتیں ختم نہیں ہوتیں، انہیں ختم کرنے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ مقابل جماعت اپنی کارکردگی سے سابقہ حکمرانوں کی یاد عوام کے دلوں سے محو کر دے، لیکن یہاں بری معاشی کارکردگی کے باعث عوام کو پچھلے ادوار یاد آ رہے ہیں کہ جب انہیں ضروریات زندگی کی اشیاء ان کے وسائل میں رہ کر مل جاتی تھیں، ایک ہی بات کب تک ہر مسئلے کا جواب ہو سکتی ہے کہ کرپٹ قیادت کو این آر او نہیں دوں گا اور عوام صبر کریں، ملک میں خوشحالی آنے والی ہے۔

حکومت کی جانب سے زبانی کلامی عوام کو مطمئن کرنے کی حکمت عملی کو ضمنی انتخابات کے نتائج نے مسترد کر دیا ہے۔ اس کی بجائے اگر عوام کو معاشی ریلیف دیا جاتا، پولیس اور دفتری نظام کو بدلنے کے لیے اصلاحات کی ہوتیں، روزگار کے مواقع بڑھائے ہوتے تو عوام نے ان کے گن گانے تھے، اگر زمینی حالات عوام کی زندگی اجیرن کر رہے ہوں تو ادھر ادھر کی باتوں سے زیادہ دیر تک انہیں بہلایا نہیں جا سکتا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ضمنی انتخابات میں جہاں حکومت کی کارکردگی پر عوامی رد عمل آیا ہے، وہیں الیکشن کمیشن اور انتظامیہ کی کارکردگی کا بھی بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ سندھ کے انتخابات میں بھی تشدد کا عنصر دیکھا گیا اور پنجاب میں بھی اس کی خونریز شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ ڈسکہ میں ضمنی انتخاب دو معصوم جانیں لے گیا، پوری قوم نے دیکھا کہ کیسے شہر میں مسلح جتھے دندناتے پھر رہے تھے، بھرے بازاروں میں فائرنگ کرتے گزرنے کی وڈیوز سب نے دیکھی، مگر پولیس اور انتظامیہ کہیں نظر نہیں آئی، قانون شکنوں کو کسی نے نہیں پکڑا، پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر ہنگامے ہوتے رہے، ووٹوں کی گنتی کے وقت نظم و ضبط کا فقدان نظر آیا، 14 پولنگ اسٹیشنوں کا عملہ کئی گھنٹے غائب رہنے کی وجہ سے رزلٹ رکا رہا، ایسے انتظامات نہیں کیے گئے کہ رزلٹ بروقت ریٹرننگ افسر کے پاس پہنچے۔

اس ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن بیوروکریسی کے سامنے بے بسی کی تصویر بنا نظر آیا ہے، الیکشن کمیشن کا انتخابات کراتے ہوئے بے بسی دیکھ کر خیال جنم لیتا ہے کہ یہ عام انتخابات کیسے شفاف اور پرامن کرا پائے گا؟ حکومت جب تک ادارے فعال اور مضبوط نہیں بنائے گی، اس وقت تک ایسے واقعات اور نتائج آتے ہی رہیں گے۔

بلاشبہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ اپوزیشن کے لئے بھی ضمنی انتخابات کے نتائج میں اصلاح کا سبق ہے، تاہم حکومت اور اپوزیشن اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی بجائے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھرانے کو ہی ترجیح دیں گے۔ اپوزیشن کے حوصلے بلند ہونے کے ساتھ دم توڑتی حکومت مخالف تحریک میں جان بھی پڑ جائے گی، اس کی توقعات بھی بڑھ گئی ہوں گی کہ مارچ میں جو لانگ مارچ ہو گا، اس میں عوام بڑے جوش و خروش سے شریک ہوں گے۔

اپوزیشن کے پاس اب یہ دلیل بھی آ گئی ہے کہ عوام نے حکومت کے خلاف اپنا فیصلہ دے دیا ہے، حکومت کے پاس اب رہنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت اس شکست سے کیا سبق سیکھتی ہے، اسی ڈگر پر چلتی رہتی ہے کہ جس نے اسے یہ دن دکھائے یا پھر اپنی حکمت عملی تبدیل کر کے عوام کو معاشی ریلیف دینے کی راہ اختیار کرنے کے ساتھ اپوزیشن کی طرح انتخابات جیتنے کا ہنر بھی سیکھتی ہے۔

تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کو ضمنی انتخابات کے نتائج پر ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کرنا چاہیے اور اپنی غلطیوں سے سبق سیکھا جائے تو ملکی سیاست بہتری کے آثار پیدا ہو سکتے ہیں، لیکن ہٹ دھرمی اور غصے میں کیے گئے، فیصلے پچھتاوا بن جاتے ہیں۔

ضمنی انتخابات کے نتائج کو سامنے رکھتے ہوئے سینیٹ کے انتخابات کے حتمی نتائج کے بارے میں تو کچھ نہیں کہا جاسکتا، لیکن یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ان ضمنی الیکشن کے نتائج رائے عامہ کو جاننے اور اس کا رخ متعین کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے ۔

حکومت کی عوام میں مقبولیت میں کمی کی ایک بڑی وجہ مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پانے میں ناکامی بھی قرار دی جا رہی ہے جب کہ بجلی کی قیمتوں میں مسلسل تیسری بار اضافے سے ماہ فروری کے بل دیکھ عوام کی چیخیں نکل جائیں گے۔

موجودہ حالات کے تناظر میں حکومت کے لئے خود احتسابی کے عمل سے گزرنا دانش مندی ہو گی، اگر ایسا کچھ نہ ہوا تو پھر عوام دوبارہ اپوزیشن جماعتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، ملک میں سیاسی ہوا کا رخ بدلنے میں کتنی دیر لگتی ہے، یہ سب جانتے ہیں، لیکن یہ باتیں ذرا دیر سے ہی سمجھ میں آتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply