سینیٹ انتخابات اور عدلیہ کا امتحان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آئین کے مطابق ایوان بالا سینیٹ کی نصف نشستیں ہر تین سال کے بعد خالی ہو جاتی ہے۔ ان نشستوں پر 6 سال کے لئے نئے سینیٹر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس سال 3 مارچ کو سینیٹ کی خالی ہونے والی نشستیں پر 52 خوش نصیب افراد ایوان بالا میں قدم رکھیں گے۔ یاد رہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کو سینیٹرز کے انتخابی کالج کا درجہ حاصل ہے۔

چونکہ ماضی میں بھی سینیٹ کے انتخاب کی شفافیت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ لیکن کسی جانب سے بھی اتنا ہنگامہ کھڑا نہیں کیا گیا۔ جتنا آج کل حکومت وقت نے کھڑا کر رکھا ہے۔ پچھلے سال چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے دوران جو ہارس ٹریڈنگ ہوئی تھی۔ اس پر حکومت نے مجرمانہ خاموشی اختیار کیے رکھی تھی اور صادق سنجرانی کی فتح پر جو خفیہ ہاتھوں کی مرہون منت تھی ، بڑے بھنگڑے ڈالے تھے۔ اس دفعہ حکمران جماعت نے خفیہ ووٹنگ کو اپنی انا کا مسئلہ بناتے ہوئے ہر اس آپشن کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اسے پوری طرح فائدہ حاصل ہو سکے۔

حکومت سینیٹ کے الیکشن کو شو آف ہینڈ کے ذریعے کراکر یہ باور کرنا چاہتی ہے کہ اسے ایک طرف الیکٹورل ریفارم کی بڑی فکر ہے۔ اور دوسری طرف وہ سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ ختم کرنے کی بھی متمنی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وزیراعظم نے جو ارب پتی امیدوار میدان میں اتارے ہوئے ہیں۔ ان کی نامزدگی سے تحریک انصاف کے بیشتر اراکین قومی و صوبائی اسمبلی غیر مطمئن دکھائی دیتے ہیں۔

وزیراعظم جو میرٹ پر پارٹی ٹکٹ دینے کی بات کیا کرتے تھے۔ انہوں نے سندھ سے کنسٹرکشن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے سیف ابڑو اور کوئٹہ سے عبدالقادر کو ٹکٹ جاری کر دیا۔ دونوں امیدوار تحریک انصاف میں نووارد سمجھے جاتے ہیں۔ گو کہ تحریک انصاف بلوچستان کے احتجاج کے بعد عبدالقادر سے ٹکٹ واپس لے لیا گیا تھا لیکن وہ ابھی تک آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ اسی طرح پشاور سے لیاقت ترکئی کو ٹکٹ سے نواز دیا گیا ہے۔ وہ بھی ایک متنازع امیدوار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح سندھ سے وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کی مخالفت میں بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

اسی لئے وزیراعظم کو اس بات کا شدید خطرہ ہے کہ ان کے ممبران اسمبلی تحریک انصاف کے امیدواروں کے بجائے کسی دوسری امیدوار کے حق میں ووٹ کاسٹ نہ کر دیں۔ لہٰذا ممکنہ ہزیمت سے بچنے کے لئے حکومت نے ایک طرف آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔ اور دوسری طرف صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ سے اس معاملے پر رائے بھی مانگ لی ہے۔

سپریم کورٹ میں جاری تاریخ کے اس اہم ترین ریفرنس کی اب تک کی سماعت سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ججز کسی نہ کسی طرح حکومت کی اشک شوئی کرنا چاہتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت سینیٹ کی خالی ہونے والی نشستیں خفیہ رائے دہی کے ذریعے ہی پر کی جا سکتی ہیں۔ اور پارلیمنٹ ہی وہ سپریم ادارہ ہے جو آئین کی کسی شق میں رد و بدل کر سکتا ہے۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے ججز دستور کے متعلقہ آرٹیکل جو صرف ایک لائن پر مشتمل ہے کی کیسے من مانی تشریح کرنے کے مجاز ہیں۔ اگر عدلیہ کی طرف سے نظریہ ضرورت کے تحت کوئی ایسا فیصلہ سامنے آتا ہے۔ جو آئین کے متصادم ہوا تو اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے چیف الیکشن کمشنر کو بھی معاملے کا کوئی ایسا حل تلاش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ جس کے ذریعے اراکین اسمبلی کے ووٹوں کی ضرورت کے مطابق چھان بین کی جا سکے۔

پچھلے دنوں 2018 کے سینیٹ الیکشن کے دوران بنائی گئی ایک وڈیو ریلیز کی گئی ہے۔ جس میں چند اراکین کے پی کے اسمبلی اپنے ووٹوں کے عوض رقم وصول کرتے دکھائی گئے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ایک حکمت عملی کے تحت اس وڈیو کو جاری کرایا ہے تاکہ سپریم کورٹ کے ججز کو متاثر کر کے اپنی مرضی کا فیصلہ کرایا جا سکے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے چیئرمین سینیٹ کے خلاف اپوزیشن کی پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد کے خلاف جو غیر جمہوری کردار ادا کیا تھا ، وہ اسے کیسے بھول سکتی ہے۔

جب اپوزیشن کے چودہ اراکین اسمبلی کی وفاداریاں جبر اور دباؤ سے تبدیل کرائی گئی تھیں۔ سپریم کورٹ کے ججز کو چارٹر آف ڈیموکریسی کی وہ شق تو یاد ہے۔ جس کے تحت پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے درمیان سینیٹ کے الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے کرانے پر اتفاق ہوا تھا۔ لیکن ان کی جانب سے جناب حاصل بزنجو مرحوم کی یقینی فتح کو شکست میں تبدیل کرائی گئی حکومتی کوششوں پر چشم پوشی باعث حیرت ہے۔

وزیراعظم اس دفعہ بڑی حد تک پرامید ہیں کہ ان کی پارٹی ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔ مبصرین کے مطابق یہ اسی صورت میں ممکن ہو گا، جب سینیٹ کے الیکشن شو آف ہینڈ کے ذریعے ہوں۔ دوسری صورت میں بازی پلٹ بھی سکتی ہے۔

اس الیکشن کی سب سے اہم بات سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کی انٹری ہے۔ وہ اسلام آباد سے سینیٹ کے امیدوار بن کر سامنے آئے ہیں۔ اگر گیلانی صاحب یہ نشست جیت جاتے ہیں تو عمران خان کی حکومت اور وزیراعظم کے عہدے کا قانونی جواز ختم ہو جاتا ہے اور انہیں اخلاقی طور پر اعتماد کا ووٹ لینے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔

انہی خطرات کے پیش نظر تحریک انصاف کی حکومت سینیٹ کی خالی ہونے والی نشستیں شو آف ہینڈ کے ذریعے پر کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ اسلام آباد سے سینیٹ کے حکومتی امیدوار ڈاکٹر حفیظ شیخ نے شکست سے بچنے کے لئے جہانگیر ترین سے بھی مدد مانگ لی ہے۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بڑے پرامید دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سینیٹ کے الیکشن خفیہ طریقے سے منعقد ہوں یا شو آف ہینڈ کے ذریعے، انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ان کی باڈی لینگویج سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنا ہوم ورک مکمل کر رکھا ہے۔ ایک معتبر صحافی نے ایک ٹاک شو میں گفتگو کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ جناب یوسف رضا گیلانی کو پیپلز پارٹی کی قیادت کی طرف سے بتا دیا گیا ہے کہ اگر خفیہ طریقے سے ووٹنگ ہوتی ہے تو وہ ایک ووٹ کی برتری سے جیت سکتے ہیں۔ انہوں نے اس رائے کا بھی اظہار کیا ہے کہ گیلانی صاحب چونکہ ایک وضع دار انسان ہیں اور ہر ایک کے ساتھ عزت سے پیش آتے ہیں، لہٰذا وہ اپنی اس خوبی کا فائدہ بھی اٹھائیں گے۔

سینیٹ کے الیکشن کے نتائج سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے گا کہ جناب آصف علی زرداری کی طرف سے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی تجویز کی کامیابی کے کتنے چانسز پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر حکومت اپنے ارادے میں کامیاب ہو جاتی ہے اور وہ سینیٹ میں اکثریتی جماعت بن کر سامنے آتی ہے تو یہ اپوزیشن اتحاد کے لئے ایک ٹیسٹ کیس بن سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply