ایف اے ٹی ایف کا اجلاس شروع، پاکستان سے متعلق فیصلہ 25 فروری کو ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے تدارک کی نگرانی کرنے والے ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس فرانس کے دارالحکومت پیرس میں شروع ہو گیا ہے جس میں پاکستان کے لیے تجویز کردہ ایکشن پلان پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔

عالمی تنظیم کے 22 سے 25 فروری تک جاری رہنے والے اجلاس میں پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان کے حکام پرامید ہیں کہ اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں اسے گرے لسٹ سے نکال دیا جائے گا۔

تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سیاست کی ضروریات کے تحت پاکستان کی قابلِ قدر کارگردگی کے باوجود پابندی کی فہرست میں برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

پاکستان کے مالیاتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین پر مشتمل وفد وفاقی وزیر حماد اظہر کہ سربراہی میں ویڈیو لنک کے ذریعے ایف اے ٹی ایف اجلاس کو اپنے اقدامات سے آگاہ کرے گا۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عملدرآمد کی کارکردگی اطمینان بخش ہے اور اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پرامید ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان حفیظ چوہدری کہتے ہیں کہ وہ پر امید ہیں کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان کے اقدامات کو سراہے گا۔

دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف تسلیم کر چکا ہے کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات پر پہلے سے عملدرآمد مکمل کررکھا ہے جبکہ بقیہ چھ نکات پر قابلِ قدر پیش رفت ہو چکی ہے جسے تنظیم کے ممبران کی جانب سے سراہا جارہا ہے۔

حفیظ چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف کے حصول پر مبنی اپنی عملدرآمد رپورٹ عالمی ادارے کو بھجوا دی تھی جس پر پیر سے شروع ہونے والے اجلاس میں جائزہ لیا جانا ہے۔

سابق وزیر خزانہ اشفاق حسن کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان نے اپنے مالیاتی نظام میں بہتری اور اصلاحات کے بہت سے اقدامات کیے ہیں اور اس کی کارگردگی متاثر کن ہے۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنے کا کوئی جواز باقی نہیں ہے البتہ اگر اسے نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھا جاتا ہے تو یہ عالمی سیاست کی ضرورت کے تحت ہوگا۔

وہ کہتے ہیں کہ وزارتِ خارجہ نے اہم ممالک سے سیاسی بنیاد پر بات چیت کی ہوگی تاکہ اس کے نگرانی کی فہرست سے نکلنے کی راہ ہموار ہوسکے۔

اشفاق حسن کہتے ہیں کہ عالمی اسٹیبلشمنٹ چاہتی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے قرضہ پروگرام کا حصہ رہے اور انہیں یہ خدشہ ہے کہ وائٹ لسٹ ہونے پر اسلام آباد آئی ایم ایف کو قبل از وقت خیر آباد کہہ سکتا ہے۔

گزشتہ ماہ ایف اے ٹی ایف جوائنٹ گروپ کے ورچوئل یعنی آن لائن اجلاس میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ فروری 2021 تک ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے۔

پیرس میں مقیم سینئر پاکستانی صحافی یونس خان کہتے ہیں کہ ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپ کے اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیوری منقسم ہے اور یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بہترین صورتِ حال میں بھی پاکستان کو جون تک نگرانی کی فہرست میں برقرار رکھا جائے گا۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکام مثبت نتیجے کے لیے کافی پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم سفارتی سطح پر یہ کوششیں ناکافی دیکھائی دیتی ہیں۔

یونس خان کہتے ہیں ایف اے ٹی ایف کی فیصلہ سازی میں عالمی سیاست اثر انداز ہوتی ہے اور پاکستان فیصلہ سازی میں کردار رکھنے والے ممالک کے سامنے اپنا مؤقف مؤثر انداز میں نہیں رکھ سکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس جہاں ایف اے ٹی ایف کا ہیڈکوارٹر واقع ہے اس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کافی نچلے درجے پر جاچکے ہیں جو کہ اسلام آباد کی گرے لسٹ سے نکلنے کی خواہش کی راہ میں رکاوٹ ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات جن میں امریکی صحافی ڈینئل پرل کے مقدمے میں عمر شیخ کی رہائی اور نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کو تحریکِ طالبان کے سابق ترجمان کی ٹوئٹر پر دھمکی پاکستان کے اقدامات پر سوالات کا جواز مہیا کریں گے۔

ایف اے ٹی ایف کے اجلاسوں کو باقاعدگی سے دیکھنے والے یونس خان کہتے ہیں اگر گرے لسٹ میں شامل ممالک کو دیکھا جائے تو یہ زیادہ تر کمزور ملک ہیں جبکہ منی لانڈرنگ کے حوالے سے زیادہ شکایات کے حامل سنگاپور، متحدہ عرب امارات، سوئٹزرلینڈ نگرانی کی فہرست میں نہیں ہیں۔

ایف اے ٹی ایف کے صدر اجلاس کے حتمی فیصلے کا اعلان ورچوئل اجلاس کے اختتام پر 25 فروری کو کریں گے۔

یار رہے کہ پاکستان کو جون 2018 میں ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں 27 نکاتی ایکشن پلان تجویز کیا گیا تھا۔

پاکستان نے یقین دہانی کروائی تھی کہ وہ تنظیم کے تجویز کردہ نکات کی روشنی میں ضروری قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے لیے ایک مؤثر نظام تیار کر لے گا۔

گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے 27 سفارشات میں سے صرف 21 پر عمل کیا ہے۔

تنظیم نے آئندہ اجلاس تک زیر نگرانی یعنی ‘گرے لسٹ’ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو فروری 2021 تک تمام سفارشات پر عمل کرنے کا وقت دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1265 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply