سوشل میڈیائی صحافت اور آزادیٔ اظہار کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوات پریس کلب میں صحافتی کنونشن میں مہمان خصوصی کے طور پر ایم این اے ڈاکٹر حیدر صاحب نے صحافتی اخلاقیات پر جتنی سیر حاصل گفتگو کی اس سے یوں لگا کہ ایم این اے صاحب پروفیشنلی ڈاکٹر نہیں، بلکہ صحافت کے استاد رہ چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آزادیٔ صحافت پر قدغن کی مثال ریاست کے ایک مضبوط ستون کو تباہ کرنے جیسی ہے، لیکن جس طرح سے ڈیجیٹل صحافت نے ترقی کی ہے اور آسانیاں پیدا کی ہیں، اسی تناسب سے صحافتی اخلاقیات کی دھجیاں بھی بکھر کر رہ گئی ہیں۔

پہلے جب کسی سیاست دان یا اہم شخصیت کا انٹرویو کیا جاتا یا  کسی تقریب کو کور کرنا مقصود ہوتا تو ایڈیٹر ان چیف کی نگرانی میں پوری کیمرہ ٹیم، شو کے میزبان اسائنمنٹ کی مکمل تیاری کے ساتھ انٹرویو لینے یا تقریب کو کور کرنے جاتے تھے۔ جس میں اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاست اور نظام کی ساکھ کے لئے نقصان دہ چیزیں حذف کر کے صرف وہ مواد لوگوں تک پہنچایا جاتا تھا، جس سے نہ صرف ریاست کی بلکہ خود اس صحافتی ادارے کی ساکھ بحال رہتی تھی۔

اب صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ ملک کا ہر وہ شہری صحافی بن بیٹھا ہے، جس کے پاس سمارٹ فون اور انٹرنیٹ ہے۔ بغیر کسی اجازت کے، بغیر صحافت کی شدبد کو جانے بس انٹرنیٹ آن کر کے براہ راست نشریات چلا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں منفی اور نفرت انگیز رجحانات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔

ایسے میں اگر ریاست اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے اس طرح کی نقصان دہ چیزوں کو محدود رکھنے کی کوشش کرتی ہے تو ”آزادی صحافت“ کا رونا دھونا شروع ہو جاتا ہے۔ پھر اپوزیشن جماعتیں بھی اس طرح کے اہم فیصلوں کو محض سیاسی فوائد کی خاطر مسترد کر دیتی ہیں اور ان سب کی مدد کے سبب ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلانے والے بے لگام گھوڑے کی طرح نکل پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب کی تمام باتوں سے حرف بہ حرف متفق ہوں۔

اب آپ ہی بتا دیجیے کہ ایڈیٹر اِن چیف نہ سب ایڈیٹر، نہ نیوز ایڈیٹر کا کوئی کردار بچا ہے ، اپنی مرضی کے مواد کو نشر کرنا اور اپنے ذاتی عناد کی خاطر سوشل میڈیائی صحافت آزادیٔ اظہار رائے گردانی جائے یا اسے صحافت کے اصولوں کی پامالی اور ریاست کے چوتھے ستون کی مسماری سمجھا جائے؟

کیا صحافتی تنظیموں اور میڈیا ہاؤسز کو ساتھ بٹھا کر سوشل میڈیا کا کوئی ایسا ایکٹ لانا ناگزیر نہیں جو صحافت اور آزادی رائے کو مزید نقصان سے بچائے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply