وہ بھارت کو بیچ رہے ہیں
2014 میں ملک کے عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اچھے دن آئیں گے، کالا دھن لائیں گے، جس سے ملک کے ہر شہری کے اکاؤنٹ میں مفت میں پندرہ پندرہ لاکھ آ جائیں گے، وغیرہ وغیرہ لیکن سات سال گزرنے کے بعد یہ سب جھوٹا وعدہ اور جھوٹی لفاظی ثابت ہوئی، جھوٹ، دھوکہ بازی اور مکر و فریب میں پہلی پوزیشن یہ حکومت حاصل کر سکتی ہے، سات سال کے عرصے میں اب تک عوام کا کوئی بھلا تو نہیں ہوا لیکن ہر آنے والا دن بھارت کے شہریوں کے لئے بدسے بدتر ہوتا جا رہا ہے، یہ صورتحال کب اور کہاں جا کر تھمے گی اس کے بارے میں کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
آزادی کے ستر سال بعد اتنی سنگین صورتحال شاید پہلی مرتبہ پیش آ رہی ہے، ملک کی اتنی بدتر حالت اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی، آپ کو یاد ہو گا کہ مودی نے اقتدار میں آنے کے بعد یہ اعلان کیا تھا کہ ”جو 70 سال میں کبھی نہیں ہوا وہ میں کر کے دکھاؤں گا“ آج ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے یہ اسی اعلان کا نتیجہ ہے، آسمان چھوتی مہنگائی، ریکارڈ توڑتی بے روزگاری اور تباہ و برباد ہوتی ملک کی معیشت یہ سب اسی کا نتیجہ ہے، لیکن ان سب کے باوجود حکمراں طبقہ، ملکی عوام میں یہ جھوٹا بھرم پھیلا رہا ہے کہ ”ملک ترقی کر رہا ہے“ اور ”ہرسطح پر ترقی ہو رہی ہے“۔
ان دنوں ملک کو کئی محاذ پر چیلنجز کا سامنا ہے، ہماری سرحدیں غیرمحفوظ ہونے کے ساتھ بعض پڑوسی ممالک ہٹ دھرمی دکھانے میں مگن ہیں، اندورن ملک مسائل کا انبار ہے، تقریباً تین ماہ سے ملک کے کسان سڑکوں پر ہیں، اور اب کسانوں کے احتجاج میں شدت پیدا ہوتی جا رہی ہے، ایسے میں یہ مغرور حکومت جو طاقت کے نشے میں چور ہے، حالات کی سنگینی کو سمجھنے سے قاصر ہے۔
یکم فروری کو پارلیمنٹ میں ملک کا بجٹ پیش کیا گیا جس میں پوری توجہ کارپوریٹ طبقے پر دی گئی ہے گویا کارپوریٹ طبقے کے ہاتھوں ملک کو غلام بنانے کی پوری پلاننگ ہے، 2014 سے لے کر اب تک کی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو یہ صاف طور پر دکھائی دے گا کہ غریب عوام کے لئے اس حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے، نوٹ بندی، جی ایس ٹی، کورونا اور لاک ڈاؤن وغیرہ میں جتنا نقصان ہوا اور جن مشکلات و مصائب کا غریبوں اور مزدوروں کو سامنا کرنا پڑا، اس سے غریب عوام ابھی تک جوجھ رہی ہے، غریبوں اور مزدور طبقے کی پریشانیوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے، اس حکومت نے ایسی پالیسی اختیار کررکھی ہے جس سے غریب اور غریب ہو رہا ہے اور دولت مندوں کی دولت میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
یکم فروری کو وزیرخزانہ نے پارلیمنٹ میں 34 لاکھ کروڑ روپے کا مرکزی بجٹ پیش کیا، بجٹ پیش کرتے ہوئے نرملاسیتارمن نے کہا کہ ”سرکاری زیرانتظام بینکوں کے سرمایہ میں اضافہ کے لئے 20 ہزار کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، یہ ایسے بنک ہیں جو خراب قرضوں سے پریشان ہیں اور ترقی کے معاملے میں پچھڑے ہوئے ہیں، پبلک سیکٹر یونٹس کو پرائیویٹائزیشن کے ذریعے آمدنی کے حصول کا نشانہ ایک لاکھ پچھتر کروڑ روپے رکھا گیا ہے ، جس میں لائف انشورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) کی ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، سرکاری زیرانتظام کمپنیوں میں ایل آئی سی نمایاں ہے جسے آئندہ مالی سال میں فروخت کیا جائے گا“ اسی طرح آئی ڈی بی آئی کے علاوہ دو سرکاری سیکٹر کے بینکوں اور ایک جنرل انشورنس کمپنی کی نجکاری کی جائے گی، بی پی سی ایل، ایئرانڈیا، شپنگ کارپوریشن آف انڈیا، کنٹینر کارپوریشن آف انڈیا، آئی ڈی بی آئی بینک بی ای ایم ایل، پون ہنس، نیلانچل اسٹیل کارپوریشن کی لمیٹیڈ وغیرہ کی اسٹریٹیجک بحالی کا کام 2021 تک مکمل ہو گا ”۔ یہ ہے وزیر خزانہ کی پارلیمنٹ میں تقریر کا ایک حصہ، اب سوال یہ ہے کہ جب سب کچھ پرائیویٹ ہی ہو جائے گا تو پھر حکومت کس کام کے لئے ہے؟
ستر سال میں گزشتہ حکومتوں نے جو کام ملک کے لئے کیے اور معیشت کی تقویت کے لئے جو ادارے بنائے سب کو چن چن کر مودی حکومت بیچ رہی ہے، کیا یہی ملک کے اچھے دن ہیں؟ ایک مقامی اخبار نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ“ مودی حکومت ایسا لگتاہے کہ ہر شعبہ کو اپنے حاشیہ بردار سرمایہ داروں اورنجی کمپنیوں کو فروخت کرنے کا قطعی فیصلہ کر چکی ہے، جب سے اس حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے ، اس وقت سے سرکاری اداروں اور کمپنیوں کی فروخت کا سلسلہ چل پڑا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں تیزی آتی جا رہی ہے، پورے ملک میں نیٹ ورک رکھنے والے انتہائی مؤثر ادارے بی ایس این ایل کو ختم کر دیا گیا اور اس کی جگہ امبانی کے جیو نیٹ ورک کو فروغ دیا گیا۔ حیرت تو اس بات کا ہے کہ اس نیٹ ورک کے اشتہار میں خود ملک کے وزیراعظم کی تصویر کا استعمال کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کے ارادے اور منصوبے کس نوعیت کے ہیں اور کس طرح قومی اثاثہ جات کو تباہ و تاراج کیا جا رہا ہے۔
ہندوستان بھر میں زندگی کی رفتار کو برقرار رکھنے والی ٹرینوں کو بھی اب پرائیوٹ شعبہ کے حوالے کیا جا رہا ہے، ریلوے میں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑہا ملازمتیں ہیں، جہاں ملازمین شبانہ روز محنت کرتے ہیں، اس کے علاوہ بھی کروڑہا لوگ ہیں جو اس شعبہ سے مربوط تجارت اور کاروبار کے ذریعے اپنی روزی روٹی حاصل کرتے ہیں، اس کے باوجود بھارتی ریلویز کو نجی شعبہ کے حوالے کرنی کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں، بلکہ حوالگی کا آغاز بھی ہو چکا ہے، پہلے مخصوص روٹس پر پرائیوٹ ٹرین چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے اور جہاں ٹرینوں پر بھارتیہ ریل یا انڈین ریلویز تحریر کیاجاتا رہا ہے اب اس جگہ اڈانی ریل دکھائی دینے لگی ہے، ملک میں کئی ایئرپورٹس ایسے ہیں جنہیں انتہائی کم عرصے میں ایک کے بعد دیگرے اڈانی گروپ کو سونپ دیا گیا۔
ہر بار حکومت کی جانب سے کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرتے ہوئے قومی اثاثہ جات کو اپنے حاشیہ بردار کارپوریٹس کے سپرد کیا جا رہا ہے، سرکاری ملازمتوں کی تعداد کم سے کم کیا جا رہا ہے، ان کو رضاکارانہ سبکدوشی کے لئے بھی مجبور کیا جا رہا ہے، اس کی مثال بی ایس این ایل سے ملتی ہے، اس کے علاوہ نئی بھرتیاں بالکل روک دی گئی ہیں، ہر طرح سے کارپوریٹس کے سرکاری کمپنیوں میں اجارہ داری قائم کرنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ”
اس اخباری بیان سے آپ نے اندازہ لگا لیا ہو گا کہ آخر اس حکومت کے عزائم کیا ہیں؟ دو تین سال قبل مراد آباد کے ایک پروگرام میں وزیراعظم مودی نے کہا تھا کہ ”ارے زیادہ سے زیادہ یہ میرا کیا کر لیں گے میں تو فقیر آدمی ہوں جھولا اٹھا کر چل دوں گا جی“ کیا آپ کو لگتا ہے نہیں ہے کہ گجرات کا یہ بنیا ملک کو فروخت کر کے راہ فرار اختیار کر لے گا، لیکن پھر اس کے بعد کیا ہو گا یہ آپ نے سوچا؟ آخر ملک کو کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ کیا ملک کی عوام نے اسی دن کے لئے اس حکومت کو اقتدار کی باگ ڈور سونپی تھی؟
کیا اب بھی ہمیں بیدار ہونے کا وقت نہیں آیا؟ پٹرول ڈیزل اور گھریلو گیاس کی قیمتوں کے علاوہ دیگر اشیائے ضروریہ بھی غریب عوام کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں، حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرنے میں بری طرح ناکام ہو گئی ہے ایسے میں ملک کا کیا ہو گا؟ کبھی ہم نے یہ سوچا؟ اب نیتی آیوگ نے یہ اعلان کیا ہے کہ مزید سرکاری کمپنیوں کی فہرست تیار کی جا رہی ہے، جن میں سرمایہ نکاسی کی جائے گی، اس طرح اب مزید کمپنیوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا کام تیز ہوتا جا رہا ہے، وزیر خزانہ سیتارمن نے یکم فروری کو پیش کیے گئے بجٹ میں یہ واضح کیا تھا کہ حکومت سرمایہ نکاسی کے لئے سرگرمی سے کام کر رہی ہے، لیکن اتنی زیادہ پھرتی سے یہ کام ہو گا اور یہ فہرست تیار کی جائے گی یہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
جس طرح سے حکومت کی جانب سے سرکاری کمپنیوں کو فروخت کیا جا رہا ہے اس سے یہ اندیشے تقویت پاتے جا رہے ہیں کہ آئندہ چند برسوں میں ہندوستان بھر میں شاید ہی کوئی سرکاری ادارہ رہ جائے گا، اور تقریباً ہر شعبہ پر پرائیوٹ اجارہ داری کو مسلط کر دیا جائے گا، ایئر انڈیا کو بھی حکومت کی جانب سے پرائیوٹ شعبہ کے سپرد کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے اور جو اشارے مل رہے ہیں ،ان کے مطابق ٹاٹا گروپ نے اس میں دلچسپی دکھائی ہے اور حکومت کے ساتھ بہت جلد معاملت کو قطعیت دی جائے گی، ایئر پورٹ تو پہلے ہی سے اڈانی گروپ کو سونپے جا رہے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ مزید ایئر پورٹس بھی ہیں جنہیں نجی کمپنی کے حوالے کر دیا جائے گا۔
حکومت کئی شعبہ جات میں پرائیوٹ سرمایہ کاری کی حد میں اضافہ بھی کرتی جا رہی ہے، اور حد تو یہ ہے کہ راست بیرونی سرمایہ کاری کی حدوں میں بھی کچھ شعبوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ، پٹرول پمپوں پر اڈانی گروپ لکھا ہوا بھی نظر آ رہا ہے، اپوزیشن میں رہتے ہوئے بی جے پی نے دوسری حکومتوں کے جتنے فیصلے کی مخالفت کی تھی ، اب ان تمام فیصلوں پر پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔ اس سنگین صورتحال کے پیش نظر کسانوں کی جانب سے جو اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں اور جس کی وجہ سے کسانوں کا احتجاج تقریباً تین ماہ سے جاری ہے، اس کو تقویت مل رہی ہے۔ کسانوں کے خدشے کو بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا۔
قومی اثاثہ جات ، یہ ہندوستانیوں کی میراث نہیں لیکن ہر بھارتی کے لئے باعث فخر ضرور ہیں، اس لیے قومی اثاثہ جات کی تباہی کے ذریعے کسی مخصوص گروپ یا شعبہ کو فروغ دینے سے گریز کیا جانا چاہیے، بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈران نے اگر یہ کہا کہ یہ بجٹ ملک کو بیچنے کے لئے تیارکیا گیا ہے تو اس میں بہت حد تک سچائی معلوم ہوتی ہے، آنے والے دنوں میں بنگال سمیت کئی ریاستوں میں الیکشن ہونے والے ہیں عوام کو اس کا نوٹ لینا چاہیے اور ایک ایسی پارٹی جو اقتدار کے نشے میں چور ہے اس کو سبق سکھانے کے لئے تیار رہناچاہیے، بی جے پی کا صرف ایک ہی مقصد ہے وہ یہ ہے کہ ہر قیمت پر صرف لوگوں کو لوٹا جائے اور دولت جمع کیا جائے عام آدمی، کسان مزدور اگر کھانے کے لئے مر رہا ہے تو اس سے اس حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا، سوال یہ ہے کہ مرکز کی یہ سنگھی حکومت کیا ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ اور نقش قدم پر چل رہی ہے؟
ایسٹ انڈیا کمپنی والوں نے جس طرح بھارت کو کنگال کر دیا تھا ، کیا اسی طرح یہ حکومت پورے بھارت کو فروخت کر دے گی؟ جبکہ نریندر مودی نے تو کہا تھا کہ ”میں دیش نہیں بکنے دوں گا“ لیکن کہنے سے کیا ہوتا ہے سات سال میں جتنی باتیں انھوں نے کہی اس کا الٹا اب تک کر کے دکھایا، راہول گاندھی کا یہ کہنا بالکل غلط نہیں ہے کہ ملک میں سب کچھ ہم دو ہمارے دو کے لئے ہو رہا ہے، آئیے دیش کو گروی رکھنے اور فروخت کرنے سے بچانے کے لئے ہمیں اسی نعرے کے ساتھ میدان میں آنا ہو گا جونعرہ کچھ سال قبل مودی نے لگایا تھا کہ
سوگند مجھے اس مٹی کی میں دیش نہیں مٹنے دوں گا
میری دھرتی مجھ سے پوچھ رہی کب میرا قرض چکاؤ گے
میرا عنبر مجھ سے پوچھ رہا کب اپنا فرض نبھاؤ گے
وہ لوٹ رہے ہیں سپنوں کو میں چین سے کیسے سو جاؤں
وہ بیچ رہے ہیں بھارت کو خاموش میں کیسے ہو جاؤں
ہاں میں نے قسم اٹھائی ہے میں دیش نہیں بکنے دوں گا
وہ جتنے اندھیرے لائیں گے میں اتنے اجالے لاؤں گا
وہ جتنی رات بڑھائیں گے میں اتنے سورج اگاؤں گا
اس چھل فریب کی آندھی میں دیپ نہیں بجھنے دوں گا
میں اپنے دیش کی دھرتی پراب درد نہیں اگنے دوں گا
میں دیش نہیں جھکنے دوں گا میں دیش نہیں بکنے دوں گا
یہ وہ نعرہ ہے جو تقریباً چھ سال قبل مودی نے لگایا تھا اور سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ دیا تھا لیکن کیا ہوا آج کی صورتحال کیا ہے ، یہ آپ سے مخفی نہیں ہے، آج صرف وکاس مودی، شاہ اور اڈانی امبانی کے لئے ہی ہے ۔ غریبوں کا تو سات سال میں جتنا وناش ہوا شاید ستر سالوں میں اتنا نہیں ہوا، اس لیے آنکھیں کھولیے، جاگئیے اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔ کیا اس کے بعد بھی آپ کوچین کی نیند آ رہی ہے، کیا ہم یونہی سوتے رہیں گے؟ پھر ملک کو بچانے کی فکر کون کرے گا؟ ہمارے بزرگوں نے بڑی محنت اور قربانیوں کے ذریعے ملک کو آزاد کرایا تھا، کیا اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری نہیں ہے؟


