گھوڑوں سے الزام واپس لیا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


گھوڑے پیچارے بڑے معصوم ہیں ، ہم انسانوں کی خاطر تواضع بھی کرتے ہیں اور پھر ہماری ہی وجہ سے جگ ہنسائی کا نشانہ بھی بن رہے ہوتے ہیں۔ زمین کے بارے میں ایک جملہ آج کل بہت زیادہ بولا جا رہا کہ آب یہ رہنے کے قابل نہیں رہی۔ ایسے ایسے مظالم ہو رہے ہیں کہ انسان دیکھ کر سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ ذہن میں اٹھنے والے سوالات خود انسان کو شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سوالات جب ہم سے جواب مانگتے ہیں تو ہم جانوروں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ ایسا صرف اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ہم بہت سارے جملے خود بنا کر انہیں جانوروں سے منسوب کر دیتے ہیں اور گاہے بگاہے انسان یہ جملے اپنے لئے استعمال بھی کرتا ہے۔

آج گھوڑوں پر مجھے ترس کیوں آ رہا ہے؟ اس کے پیچھے چھپی وجہ بھی ”انسان“ ہے۔ انسان نے گھوڑوں پر بکنے کا الزام عائد کیا جو کسی حد تک درست بھی تھا۔ اب گھوڑے خود تو نہیں بکے تھے انہیں تو خریدا گیا تھا۔ خریدار بھی کوئی عام انسان نہیں عہد کے چنگیز خان کا مقابلہ کرنے والا علاؤالدین خوارزم شاہ تھا۔ اس نے چنگیز خان کو شکست دینے کے لئے طاقت نہیں حکمت عملی کا سہارا لیا چنانچہ اس نے شمالی چین سے لے کر سمرقند تک تمام گھوڑے خرید لیے۔

اس ٹیکنیک سے تاتاریوں کے لیے گھوڑوں کی شدید کمی ہو گئی اور سمرقند پہنچتے پہنچتے چنگیز کی فوج پیدل چل چل کر تھک چکی تھی۔ جس سے تاریخ میں پہلی بار چنگیز خان کو شکست ہوئی اور لفظ ”ہارس ٹریڈنگ“ دنیا میں پہلی بار بولا جانے لگا۔ یہ الفاظ خاص کر جنگ میں ایک حکمت عملی کا نام تھا جس کے بعد یہ بہت ساری جگہوں پر استعمال ہوا۔ پھر اس حکمت عملی نے سیاست میں قدم رکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے انسانوں کے قدم داغدار کرتی گئی۔

ہم انسانوں نے اپنے ہی اوپر اس جملے کا اطلاق تو کر دیا لیکن آب یہ اشرف المخلوقات اس حد تک آگے نکل چکے ہیں کہ یہ الزام گھوڑوں سے ہٹانا پڑے گا ، ورنہ یہ متوسط طبقے کے ساتھ نا انصافی ہے۔ گھوڑا عدالت میں پیش ہونے جا رہا ہے ، اس کا موقف یہ ہو گا کہ انسان نے تو کمال مہارت کے ساتھ چوری اور ڈکیتی کو ”ہارس ٹریڈنگ“ کا نام دے کر خود ایک طرف ہو گیا ہے۔ الزام ہم ہر آ گیا ہے کہ ہم بکتے ہیں اور چند پیسوں کے لئے کسی خاص شخص کے لئے دوڑ میں حصہ لیتے ہیں یا جنگ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

چند دن قبل ٹیکنالوجی کا کمال دیکھا جس میں انسانوں کے وہ دھوکے بے نقاب ہوئے جن کو دیکھ کر خود انسان شرم سے ڈوب رہا ہے۔ قدرت کو دھوکے میں ڈال کر ہمارے نمائندے پیسوں کی جھولیاں بھرتے ہوئے پکڑے گئے۔ حالانکہ قدرت کو کون دھوکے میں رکھ سکتا بھلا؟ لیکن ہمارے ان نمائندوں نے ایسا کرنے کی خوب کوشش کی لیکن وہ تو انگریزوں کی بنائی ایجاد نے ہمیں اعمال نامے ہمارے ہی سامنے دیکھا دیے۔

سینیٹ الیکشن دو ہزار اٹھارہ میں پیسوں کی خاطر عزت بیچتے ہوئے ہمارے نمائندے کس قدر ڈھٹائی سے آج کہہ رہے ہیں کہ وہ پیسے نہیں کتابیں تھیں۔ اور ان میں ایک ایسا بھی انسان موجود تھا جو دو سال پہلے اس معاملے پر حلف اٹھا چکا ہے لیکن قدرت نے بھی کیا بدلہ لیا، دنیا کا کیا دنیا کی خاطر دنیا میں ہی دکھا دیا ، لوگوں کے سامنے بے نقاب کر کے اس  انسان کو اور زیادہ ذلیل کر دیا لیکن وہ نہیں سیکھے گا۔

یہ لوگ ذہنی پسماندگی کا شکار ہمارے نمائندے ہی ہیں جن کی شکلیں ویسے تو بگڑ چکی ہیں بس ہمیں نظر نہیں آتیں۔ ہم بھی کیا عجیب قوم ہیں کہ ایک طرف چند سو کی کرپشن کرنے والی پولیس کو گالیاں نکالتے ہیں اور دوسری طرف اربوں کی کرپشن کرنے والوں کو نمائندہ بنا کر ہم ایوانوں میں بٹھا دیتے ہیں۔

اب وقت آ گیا کہ ہم ٹریڈنگ کا الزام گھوڑوں سے لے کر انسان عائد کر دیں۔ یہ ریس کے وہ کھلاڑی ہیں جو جیتنے کے لئے نہیں ہارنے کے لئے دوڑتے ہیں۔ صرف معمولی مالی منفعت کے لیے یہ لوگوں کی نظروں میں گرتے جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply