ضمنی الیکشن: حکومت اور اپوزیشن کے لئے ٹیسٹ کیس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کی کو اقتدار میں دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا لیکن حکمران جماعت جو ماضی میں انتخابی دھاندلی کے خلاف جلسوں، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں میں نہ صرف شریک رہی بلکہ انتخابی اصلاحات کی سب بڑی دعویدار جماعت کے طور پر سامنے آئی، آج خود اپنے ہی دور حکومت میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے۔ ویسے تو ضمنی الیکشن عمومی طور پر حکومتی جماعت کا ہی الیکشن سمجھا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف اپنے ہی دور حکومت میں پی کے 63 میں ضمنی الیکشن نہ صرف ہار گئی بلکہ مخالفین پر انتخابی دھاندلی کا الزام بھی عائد کر دیا۔

ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں جو ہوا سب کے سامنے ہے۔ تحریک انصاف کو ضمنی الیکشن میں ماسوائے ایک آدھ نشست کے باقی تمام نشستوں پر ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ تحریک انصاف اگر حکمران جماعت ہونے کے باوجود مخالفین پر دھاندلی کا الزام عائد کرتی ہے تو یہ الزام از خود حکمران جماعت کے خلاف ایک چارج شیٹ ہے کیونکہ صوبے اور مرکز میں حکومت ان کی تھی، بیوروکریسی، الیکشن کمیشن و تمام تر سرکاری مشینری ان کے کنٹرول میں تھی اور اس سب کے باوجود شفاف الیکشن کا انعقاد یقینی نہیں بنایا جا سکا تو ذمہ دار اپوزیشن جماعت نہیں آپ خود ہیں کیونکہ یہ حکومت وقت کی ہی ذمہ داری تھی کہ وہ انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے اقدامات کرتی جو کہ وہ نہیں کر سکی۔

تحریک انصاف کی الیکشن میں ہار کا سبب صرف انتخابی دھاندلی ہی نہیں بلکہ امیدوار کی غلط سلیکشن و پارٹی کے اندرونی اختلافات بھی سمجھی جا رہی ہے اور یہ بھی کوئی اور نہیں تحریک انصاف کے لوگ ہی کہ رہے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اس کی ذمہ دار بھی تحریک انصاف خود ہے۔ اس معاملے کی تمام تر ذمہ داری پارٹی کی صوبائی و مرکزی قیادت پر عائد ہوتی ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونی اختلافات کو روکنے کی کوشش کرتی اور اس بات کا تعین کرتی کہ کون اس ٹکٹ کا اہل ہے؟

امیدوار کی سلیکشن یا پارٹی اختلافات اگرچہ پارٹی کا اندرونی معاملہ لیکن حکمران جماعت کو دھاندلی کے الزامات عائد کرنا زیب نہیں دیتا ، وہ بھی ایک ایسی جماعت جس نے انتخابی اصلاحات کے لئے احتجاج یا لانگ مارچ کیا ہو۔ اصل مسئلہ یہ ہیں کہ ہمارے ملک میں سیاسی جماعتیں اقتدار میں ہوتی ہیں تو یہ اداروں کو مضبوط کرنے اور ان میں اصلاحات لانے کو پس پشت ڈال دیتی ہیں۔ جوں ہی یہ اقتدار سے باہر ہوتی ہیں انہیں اداروں کی مضبوطی اور ان میں اصلاحات کی یاد ستانے لگتی ہے۔

تحریک انصاف نے نواز لیگ پر دھاندلی کے الزامات لگائے، دھرنا بھی دیا لیکن آج جب وہ جماعت خود اقتدار میں تو انتخابی عمل میں شفافیت لانے میں اب تک ناکام نظر آتی ہے جب کہ کل کی حکمران جماعت ( نون لیگ ) آج کی حکمران جماعت (تحریک انصاف ) پر انتخابی دھاندلی سے اقتدار میں آنے کا الزام لگاتی ہے۔ اگر یہ جماعتیں اس وقت مل کر انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے اقدامات کرتیں تو آج صورتحال اس سے یکسر مختلف ہوتی۔ دونوں جماعتیں آج ایک دوسرے پر الزامات نہ عائد کر رہی ہوتیں۔

ضمنی انتخابات حکومت و اپوزیشن دونوں کے لئے ٹیسٹ کیس ہیں ، اگر اس کے بعد بھی دونوں اطراف سے انتخابی عمل کو شفاف بنانے کے لئے سنجیدگی سے اقدامات نہیں کیے جاتے تو مستقبل قریب میں / آنے والے الیکشن میں ہمیں ایک بار بار ایسی صورتحال کاسامنا کرنا پڑے گا کہ دونوں فریقین ایک دوسرے پر دھاندلی کے الزامات عائد کریں گے اور کوئی بھی فریق انتخابی نتائج کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ ہو گا۔

ان انتخابات کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اگر نواز لیگ یہ سمجھتی ہے کہ اس سے ان کے بیانیے کی جیت ہوئی ہے یعنی ووٹ کو عزت ملی ہے تو ایسی کوئی بات نہیں جب سرے انتخابی عمل ہی متنازعہ ہے تو ووٹ اور ووٹر کو عزت کیسے مل سکتی ہے؟

تحریک انصاف کے لئے اپنی دور حکومت میں اس قسم کی شکست یہ ثابت کرتا ہے کہ تحریک انصاف کا ووٹر حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہے۔ عام آدمی غربت، بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے موجودہ حکومت کی پالیسیوں نالاں ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مہنگائی کم کرنے، غربت و بے روزگاری کے خاتمے کے لئے اقدامات کرے تاکہ عام آدمی کا معیار زندگی بہتر ہو سکے اور عوام کی سطح پر پائی جانے والی مایوسی کو کم کیا جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply