کشمیر، سیالکوٹ الیکشن اور مستقبل کی صورتحال

تحریک انصاف کشمیر کا الیکشن جیتنے کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ کا ضمنی الیکشن جیت چکی۔ حالیہ ان دو الیکشنوں میں کامیابی کے بعد حکمران جماعت حسب سابق دھاندلی جیسے الزامات کی ضد میں ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں نے ان دونوں جگہ پر ہونے والے الیکشن میں حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے جو کہ ایک معمولی بات ہے کیونکہ پاکستان کے ہر الیکشن میں ہارنے والا امیدوار جیتنے والے پر دھاندلی کے الزامات لگاتا ہے۔ جہاں تک کشمیر کے

Read more

کشمیر، سیالکوٹ الیکشن اور مستقبل کی صورتحال

تحریک انصاف کشمیر کا الیکشن جیتنے کے ساتھ ساتھ سیالکوٹ کا ضمنی الیکشن جیت چکی۔ حالیہ ان دو الیکشنوں میں کامیابی کے بعد حکمران جماعت حسب سابق دھاندلی جیسے الزامات کی ضد میں ہے۔ مخالف سیاسی جماعتوں نے ان دونوں جگہ پر ہونے والے الیکشن میں حکومت پر دھاندلی کا الزام لگایا ہے جو کہ ایک معمولی بات ہے کیونکہ پاکستان کے ہر الیکشن میں ہارنے والا امیدوار جیتنے والے پر دھاندلی کے الزامات لگاتا ہے۔ جہاں تک کشمیر کے الیکشن کی بات ہے تو اس کے بارے میں یہ بات عرف عام میں ہے کہ جس بھی پارٹی کی اسلام آباد میں حکومت ہے وہی مظفرآباد پر راج کرے گی تو وہاں شاید دھاندلی کے الزامات لگانا بظاہر مناسب نہیں لگتا لیکن اگر بعد میں کوئی جماعت یہ کہے کہ ہمیں اتنی نشستوں پر کامیابی کی یقین دھانی کرائی گئی تھی اور ایسا نہیں ہوا تو یہ بات کہیں نہ کہیں انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیتی ہے۔

Read more

سیاسی دنگل

الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا موجودہ سیاسی صورتحال کو کس طرح سے دیکھا جا رہا ہے۔ ؟ پاکستان کی اندرونی سیاست میں دھڑے بندیاں، پریشر گروپس کا بننا، سیاسی بلیک میلنگ، میل ملاقاتیں اور اس سے ملتی جلتی کچھ سرگرمیاں معمول کا حصہ رہی ہیں۔ اسی حوالے سے میڈیا ( الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل / سوشل ) پر تجزیے، تبصرے، مختلف قسم کی خبریں اور سازشی تھیوریاں بھی گردش کرتی رہتی ہیں۔ عوام کی ایک بڑی تعداد تو اب ان

Read more

داخلی انتشار و ریاست کا کردار

اس وقت ملک داخلی انتشار سے نکل چکا۔ لاہور میں پولیس کی کالعدم تحریک کے کارکنان پر فائرنگ کے واقعے کے بعد سارے ملک میں ایک ہیجان کی کیفیت رہی۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہونے والا ہے؟ لیکن اب حکومت اور کالعدم جماعت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو چکے جس کے بعد توقع یہ کی جا سکتی ہے کہ آئندہ ایک دو روز میں صورتحال نارمل ہو جائے گی۔ ان تمام تر حالات و واقعات کو

Read more

عمران خان کے سیاسی سپرمین جہانگیر ترین مشکل میں

ایک کہاوت ہے کہ ”‏سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا“ یعنی یہ بڑی بے رحم چیز ہے۔ یہ کہاوت آج تحریک انصاف اور جہانگیر ترین پر صادق آتی دکھائی دیتی ہے۔ جہانگیر ترین نے پاکستان تحریک انصاف کو ایوان اقتدار تک پہنچانے کے لئے سخت محنت کی۔ پارٹی کو مضبوط کرنے کے لئے شب و روز جدوجہد کرتے رہے۔ جب تحریک انصاف 2013 کا الیکشن ہار گئی، ترین ہی تھے جنہوں نے کپتان کو الیکشن جیتنے کی سائنسی تکنیک بتائی۔

جہانگیر ترین نے نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو میں یہ بات کچھ اس طرح سے کی کہ جب ہم 2013 کا الیکشن بری طرح ہار گئے۔میں عمران خان کے پاس گیا اور انہیں بتایا کہ اس الیکشن میں ہم نے ٹکٹ صحیح طریقے سے نہیں دیے تھے ، یعنی وہ لوگ جو الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں ہوں وہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔ اگر یہی پوزیشن رہی تو آپ کبھی بھی وزیراعظم نہیں بن سکیں گے۔

Read more

پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کا تلخ ماضی

یہ غالباً ستر کی دہائی کی بات ہے ، لاہور میں ایک الیکشن ہو رہا تھا ، جس پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی جناب ذوالفقار علی بھٹو حصہ لے رہے تھے۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے فرزند جناب جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال ان ( بھٹو ) کے مدمقابل تھے۔ میاں نواز شریف کے والد میاں شریف نے اس الیکشن میں اس وقت بھٹو کی بجائے فرزند اقبال جناب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو سپورٹ کیا۔ جسٹس (ر) جاوید اقبال یہ الیکشن ہار گئے اور بھٹو جیت گئے۔

Read more

کیا پی ڈی ایم دم توڑ چکی؟

عمران خان خوش قسمت ہیں جنہیں پی ڈی ایم کی صورت میں ایک ایسی اپوزیشن ملی جو آج تک یہ طے نہیں کر پائی کہ انہیں حکومت کو ٹف ٹائم کیسے دینا ہے؟ اپوزیشن میں شامل مختلف الخیال جماعتیں روز اول سے ہی ایک پیج پر نہ آ سکیں۔ پھر چاہے انتخابی دھاندلی کے خلاف چلائی جانے والی احتجاجی تحریک ہو، عوامی ایشوز پر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی بات ہو، چیئرمین سینیٹ کے خلاف عدم اعتماد کا معاملہ

Read more

جمہوریت کی فتح و شکست کی گردان

ضمنی الیکشن اور سینیٹ الیکشن میں مرکز کی نشست پر شکست کے بعد حکومت کو چیئرمین سینیٹ اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا چیلنج درپیش تھا۔ یہ معرکہ حکومتی جماعت سر کرنے میں کامیاب رہی۔ سینیٹ کی مرکز کی نشست جس نے سینیٹ الیکشن کو خاصا دلچسپ اور اہم بنا دیا تھا، اس پر حکومتی جماعت کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ حکومتی امیدوار عبدالحفیظ شیخ کو اس انتخابی معرکے میں قومی اسمبلی میں اکثریت ہونے کے باوجود

Read more

اعتماد کا ووٹ

حکومت نے جب مرکز کی سینیٹ کی نشست ہاری تو حکومت نے الیکشن کمیشن پر شفاف انتخابات نہ کرانے کا الزام عائد کیا تو ساتھ ہی کپتان خود میدان میں آئے، قوم سے خطاب کیا انہوں نے بھی الیکشن کمیشن پر سنگین الزامات عائد کیے جس کا الیکشن کمیشن کی طرف سے ردعمل بھی آیا۔ عرف عام میں ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلا ہے۔ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی کہ وہ ان الزامات پر نوٹس لیتا اور

Read more

سینیٹ الیکشن اور گیلانی صاحب کی کامیابی

بالآخر سینٹ الیکشن بھی ہو گئے۔ ویسے تو سینٹ الیکشن معمول کی ہی کارروائی سمجھی جاتی ہے لیکن اس بار سینٹ الیکشن نے اہمیت اختیار کی ہے اور اس کی وجہ حکومت کی طرف سے ان کے امیدوار عبدالحفیظ شیخ اور پی ڈی ایم / اپوزیشن کی طرف سے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے۔ یوسف رضا گیلانی چونکہ پی ڈی ایم / اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار تھے

Read more

ضمنی الیکشن: حکومت اور اپوزیشن کے لئے ٹیسٹ کیس

تحریک انصاف کی کو اقتدار میں دو سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا لیکن حکمران جماعت جو ماضی میں انتخابی دھاندلی کے خلاف جلسوں، دھرنوں اور احتجاجی مظاہروں میں نہ صرف شریک رہی بلکہ انتخابی اصلاحات کی سب بڑی دعویدار جماعت کے طور پر سامنے آئی، آج خود اپنے ہی دور حکومت میں انتخابی دھاندلی کا الزام عائد کر رہی ہے۔ ویسے تو ضمنی الیکشن عمومی طور پر حکومتی جماعت کا ہی الیکشن سمجھا جاتا ہے لیکن تحریک انصاف

Read more

تیاری نہیں تھی

تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے اس نے کچھ ایسے بلنڈر کیے جس کی وجہ سے انہیں خود میڈیا، اپوزیشن اور عوام کی طرف سے اچھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگر موجودہ صورتحال کی بات کریں تو حالیہ دنوں وزیراعظم جناب عمران خان صاحب نے اپنے وزراء کو ایک تقریب میں جو باتیں کیں کہ اقتدار میں آئے تو ہماری تیاری نہیں تھی، چیزیں ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھیں اور ہر آنے

Read more

ہم کب سیکھیں گے؟

ویسے تو پاکستان کی تاریخ بے شمار حادثات سے بھری پڑی ہے۔ کبھی کوئی دہشت گردی کا حملہ ہوا تو سیکڑوں معصوم لوگوں کی جان گئی تو کبھی کوئی طیارہ حادثہ۔ کبھی کسی ٹرین کے مسافر کسی حادثے کی لپیٹ میں آئے تو کبھی کسی نے سڑک پر کسی نہ کسی حادثے میں اپنے کسی عزیز کو کھو دیا۔ بچے، بوڑھے، جوان، مرد و عورتیں سب ہی جسمانی یا ذہنی طور پر اس قسم واقعات و حادثات کے اثرات سے

Read more

کیوں اور کیسے؟ وزیراعظم عمران خان کا نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو

جمہوری دور میں پاکستان کی تمام تر سیاسی حکومتوں کو سیاسی میدان میں اور میڈیا کے محاذ پر کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تحریک انصاف جب سے اقتدار میں آئی ہے تو تب سے لے کر آج تک سیاسی محاذ پر اسے اپوزیشن جبکہ دوسری جانب میڈیا کی وجہ سے خاصی تنقید کا سامنا رہا ہے یہاں تک کہ میڈیا میں وہ لوگ جو تحریک انصاف کے زبردست حامی سمجھے جاتے ہیں وہ بھی حکومتی پالیسیوں پر نالاں نظر آتی ہے۔ دوسری جانب حکومتی میڈیا ٹیم یا ترجمانوں کی فوج بھی تحریک انصاف حکومت کی کارکردگی اور حکومت کو درپیش چیلنجز کو صحیح طریقے سے عوام کے سامنے لانے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے تحریک انصاف کا ووٹر بھی اضطراب کا شکار ہے۔

ایسے میں جب حکومتی ٹیم حکومت کی پالیسیوں کو عوام کے سامنے لانے میں ناکام ہوئی تو وزیراعظم کو یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ آپ خود ٹی وی انٹرویوز کے ذریعے عوام کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کریں اسی وجہ سے وزیراعظم حالیہ کچھ دنوں سے ہی ٹی وی انٹرویوز میں اپنی حکومت کا دفاع کرتے نظر آ رہے ہیں۔ وزیراعظم سے ان انٹرویوز میں خاصے تند و تیز سوالات کیے گئے جن میں سے کئی ایک کا جواب تو انہوں نے دیا لیکن کچھ باتیں ایسی بھی تھیں جنہوں نے کچھ نئے سوالات کو جنم دیا۔

Read more

کیوں اور کیسے؟ کرونا، ہک واری فیر

وقت بدلا، حالات بدلے اور شاید زمانے کے انداز بھی بدلے۔ دنیا کو اس بار ایک نئے قسم کے چیلنج کا سامنا تھا اور یہ چیلنج کرونا وائرس کا تھا جس سے اب تک لاکھوں لوگ ہلاک ہو چکے ہیں، کئی لوگ ہسپتالوں میں یا گھروں میں زیر علاج ہیں جبکہ کئی لوگ کاروبار بند ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس کی وجہ ذہنی اذیت میں مبتلا

Read more