صرف چہروں کی تبدیلی کافی نہیں



ملک میں ایک نام نہاد جمہوریت تو موجود ہے لیکن بنیادی ستون جن پر اس عمارت کو کھڑا ہونا چاہیے تھا، دن بدن کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں قانون ساز ادارے اپاہج ہیں۔ نظام عدل متنازعہ ہے۔ نصابی علوم جو بچوں کی شعوری تربیت کے لئے ضروری ہے وہ یک طرفہ اور درباری ہے۔

اگر سچ نہ بتایا جائے تو ہماری نسلوں کی ذہنی نشوونما کیسے ہو گی۔ جب ووٹ پیسوں کے تھیلوں سے خریدے جائیں گے تو ایسے ضمیر فروش کیسے قوم کی نمائندگی کر سکتے ہیں؟

غریب عوام بے روزگاری، غربت اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔ معاشرے میں جرائم آئے روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ معصوم جانیں پولیس گردی کی وجہ سے چلی جاتی ہیں۔ لوگ لاپتا ہو رہے ہیں۔ بلوچ مائیں اور بہنیں سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے پیاروں کی تلاش میں بھٹکتی پھر رہی ہیں۔ ان کو سننے والا اور انصاف دلانے والا کوئی نہیں ہے۔

ہزارہ والوں کی نسل کشی رک نہیں رہی ہے لیکن ان کا قاتل لاپتا ہے۔ ہماری زبانوں پر خوف اور سوچوں پہ تالے ہیں۔ ہم آج تک بے حسی کی چادر اوڑھ کر اس کا پھل کاٹتے رہے ہیں۔

پی ڈی ایم کہتی ہے نظام کو تبدیل کرنا ہے ، اقتدار حاصل کر کے صرف چہروں کی تبدیلی سے نظام تبدیل نہیں ہو گا۔ پی ڈی ایم کے لائحہ عمل میں صرف اقتدار تک رسائی حاصل کرنا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس نظام میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کر کے ان کو ٹھیک کرنے کے لئے جدوجہد کرنا بھی شامل ہونا چاہیے۔

سوال یہ نہیں ہے کہ سینیٹ کا الیکشن خفیہ بیلٹ سے ہو یا اوپن بیلٹ سے بلکہ سوال یہ ہے کہ سینیٹ میں آنے والے ممبران کے چناؤ کے لئے کوئی مناسب اور شفاف طریقہ کار تو موجود ہونا چاہیے کیونکہ سینیٹ ایک ایسا ادارہ ہے جو ملک میں قانون سازی کرتا ہے۔ اس کی اہمیت زیادہ ہے۔ اس لئے پارٹیاں سینیٹ ممبران کے چناؤ کے لئے اپنے مفادات سے بالاتر ہو کر سوچیں اور سینیٹ کا ٹکٹ اپنے رشتہ داروں اور من پسند لوگوں کو دینے کی بجائے باصلاحیت، باکردار اور دانشور لوگوں کو دیں۔ جب اچھے لوگ سینیٹ میں آئیں گے تو جو بھی قانون سازی کرنی ہو گی یا فیصلے کرنے ہوں گے تو وہ بغیر کسی دباؤ کے اپنے ضمیر کے مطابق کر سکیں گے۔

Facebook Comments HS