جو سچ کہوں پس ِ دیوار جھوٹ بولتے ہیں (غزل ۔۔۔ عمران عامی)۔


جدید اردو غزل کے حوالے سے ادبی دنیا میں عمران عامی کا نام تعارف کا محتاج نہیں۔ ملک کے موقر ادبی جرائد میں اشاعت اور مختلف ادبی تنظیموں کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کے باعث ادبی حلقوں میں معروف ہیں۔ کہیں واشگاف انداز میں انسانی رویوں کی کجی پر احتجاج کرتے اور کہیں بین السطور معاشرتی مسائل پر طنز کرتے، عمران عامی کی ایک خوبصورت غزل پیشِ خدمت ہے۔

جو سچ کہوں پس ِ دیوار جھوٹ بولتے ہیں
مرے خلاف مرے یار جھوٹ بولتے ہیں

ملی ہے جب سے انہیں بولنے کی آزادی
تمام شہر کے اخبار جھوٹ بولتے ہیں

میں مر چکا ہوں مجھے کیوں یقیں نہيں آتا
تو کیا یہ میرے عزادار جھوٹ بولتے ہیں

یہ شہر ِ عشق بہت جلد اُجڑنے والا ہے
دُکان دار و خریدار جھوٹ بولتے ہیں

مری کہانی محبت سے ہو گئی محروم
میں کیا کروں، مرے کردار جھوٹ بولتے ہیں

بتا رہی ہے یہ تقریب ِ منبر و محراب
کہ متقی و ریاکار جھوٹ بولتے ہیں

میں سوچتا ہوں کہ دم لیں تو میں انھیں ٹوکوں
مگر یہ لوگ لگاتار جھوٹ بولتے ہیں

ہمارے شہر میں عامی منافقت ہے بہت
مکین کیا در و دیوار جھوٹ بولتے ہیں

\"\"

Facebook Comments HS