نامعلوم افراد کی معلوم کہانی (ابن عاصی)۔



ابنِ عاصی فرماتے ہیں، اُنھیں لکھنے لکھانے کے سوا کوئی دوسرا شوق نہیں؛ گویا یہ بھی کوئی شوق ہے۔ اب تک اُن کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک \’\’مسائلِ ادب اور اہلِ نظر\’\’ علمی و ادبی افراد کے انٹرویو پر مبنی ہے؛ دوسرا مائکرو فِکشن کا مجموعہ \’\’نا معلوم افراد کی معلوم کہانی۔\’\’ بچوں کے ادب کے علاوہ طنز و مزاح سے شغف ہے۔ اِن دنوں وہ ایک ناول پر کام کر رہے ہیں۔ اُن کا دعوی ہے، کہ اُن کی سب سے بڑی خوبی، اُن کا غیر شادی شدہ ہونا ہے۔ و اللہ اعلم با لصواب! ملاحظہ ہو، اُن کے یہاں کیسی کاٹ ہے؛ کہ داد دیئے بنا چارہ نہیں۔

نامعلوم افراد کی معلوم کہانی
(تحریر: ابنِ عاصی)\"\"

مقامی تھانے کے ایس ایچ او نے چوک میں چاروں طرف بکھری ہوئی لاشوں کا معائنہ کرنے کے بعد وہاں جمع ہوئے افراد پر ایک نگاہ ڈالی اور قدرے بلند آواز میں پوچھا، \’\’تم میں سے کوئی اس واقعے کا عینی شاہد ہے؟\’\’
اگلی قطار میں کھڑے ایک بزرگ صورت آگے بڑھے اور کہا، \’\’جی ہاں! میں نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔\’\’
ایس ایچ او نے ان کو سر سے پاؤں تک گھورتے ہوئے طنزیہ اندازمیں پوچھا، \’\’بزرگو! آپ گواہی دینا پسند فرمائیں گے؟\’\’
سن رسیدہ شخص نے نہایت اعتماد سے جواب دیا، \’\’ہاں! کیوں نہیں! میں گواہی دوں گا۔\’\’
ایس ایچ او اُس کے لب و لہجے کا اعتماد دیکھ کر محتاط ہو کر بولا، \’\’جن موٹر سائیکل سواروں نے یہ گھناؤنی واردات کی ہے، کیا آپ اُن کو پہچان سکتے ہیں؟\’\’
\’\’پہچاننے کی کیا بات کرتے ہیں، آپ؟ میں تو سڑسٹھ سال سے اُن کو جانتا ہوں۔\’\’
ایس ایچ او نے چونک کر پوچھا، \’\’کون تھے وہ؟\’\’
\’\’نامعلوم افراد۔\’\’ انتہائی سنجیدگی سے جواب دیا گیا۔

Facebook Comments HS