دیس میں دھند کا راج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دھند کا راج قائم ہو جائے تو حد نگاہ بسا اوقات صفر بھی ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں امور زندگی رک جاتے ہیں۔ راہ چلتے مسافروں کو روک دیا جاتا ہے کہ کہیں کسی حادثے کا شکار نہ ہو جائیں اور جنہوں نے سفر پر نکلنا ہو ان کے لیے راستے بند کر دیے جاتے ہیں۔ دھند کے راج میں کچھ دیر کو سہی مگر سورج کی حیثیت بھی بے معنی ہو جاتی ہے جدید سائنس کے پاس بھی اس کا کوئی حل نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ دھند خودبخود ختم ہو جائے۔ کوئی حیلہ کوئی کوشش مددگار ثابت نہیں ہوتی۔ زندگی معمول پر لانے کے لیے دھند کے خاتمے کا انتظار کیا جاتا ہے۔

بدنصیبی نہیں تو اور کیا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں سے بطور قوم دھند میں سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ملک پر جب بھی غیر جمہوری ڈاکٹرائن کی دھند کا راج قائم ہوا تو حد نگاہ صفر ہو گئی اور معاشی، سماجی، ثقافتی ترقی کا سفر رک گیا۔ اور جب بھی عوامی رائے پر مشتمل ہوا چلی تو دھند کے بادل چھٹنے لگے اور رکا ہوا سفر پھر سے شروع ہو گیا۔

بحیثیت قوم ہم دھند کے اسیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ کبھی چلتے ہیں تو کبھی رکتے ہیں اور کبھی رک رک کر چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ کون سا شعبۂ زندگی ایسا ہے جس پر دھند کا راج نہیں ہے۔ قومی معاشی پالیسیوں سے لے کر روزمرہ کے معاشی معاملات تک ہر شے دھند کی لپیٹ میں ہے۔ اتنی گہری دھند کہ سات دہائیوں سے سفر جاری ہے مگر عام انسان کی معاشی خوشحالی کی منزل کا راستہ نہیں مل رہا۔ سماجی ترقی کی راہ بھی نہیں مل رہی۔

اب تو عالم یہ ہے کہ حد نگاہ صفر ہو چکی ہے۔ سفر رک گیا ہے سب کچھ موجود ہے اور سامنے ہے مگر نظر نہیں آ رہا۔ ایسی حالت میں شاہ کا فرمان ہے کہ ترقی کا سفر جاری ہے ، معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں ، معیشت سنبھل رہی ہے۔ جبکہ عام آدمی کی دہائی ہے کہ پیٹ بھرنے کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں ہے۔ قومی ترقی کیا ہو گی ، ایسی دھند میں تو ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا، اب تو انفرادی سفر بھی رک گیا ہے۔

معیشت کا رونا اپنی جگہ سیاسی نظام بھی تو ایک مدت سے دھند کی لپیٹ میں ہے۔ ڈسکہ کی دھند حقیقت نہیں بلکہ دلیل ہے اس حقیقت کی ، جو اب تک ہم سے چھپائی گئی۔ اور یہی حقیقت ہے کہ ہر بار انتخابات دھند کی نظر ہوئے۔ ڈسکہ کے پریزائیڈنگ آفیسرز کا دھند میں بھٹکنا پہلی بار نہیں ہے۔ پورا انتخابی عمل ہی ایک مدت سے راہ بھٹک چکا ہے۔ جب تک ذاتی پسند ناپسند کی دھند کے بادل نہیں چھٹیں گے تب تک حالات ٹھیک نہیں ہونے اور نہ ہی کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔

ویسے بھی تبدیلی کا نعرہ ضمنی انتخابات کی پے در پے شکست سے اپنے انجام کو پہنچ گیا ہے۔ بدترین کارکردگی سے تبدیلی کے سفر کو ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ واضح شکست اور متنازعہ فتوحات نے حکومت پر سوالیہ نشان لگا دیے ہیں۔ تبدیلی کا بیانیہ پٹ رہا ہے۔ 2018 کے عام انتخابات سے چھائی ہوئی دھند کچھ دیر کو ہلکی کیا ہوئی ہر چیز کی حقیقت واضح طور پر نظر آنے لگ گئی ہے۔

حالات یہی رہے تو سینیٹ انتخابات کے نتائج بھی مختلف نہیں ہوں گے۔ یہ تبدیلی نہیں تو اور کیا ہے کہ حکمران جماعت کو اسلام آباد کی ایک نشست پر وخت پڑ گیا ہے اور اگر حکومتی امیدوار حفیظ شیخ ہار جاتے ہیں تو بلا شک و شبہ اپوزیشن وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ لینے کہہ سکتی ہے اور اس مطالبے کے بعد کیا ہو گا ، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سابق وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی کی جیت حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتی ہے۔

بالفرض حکومت اگر سینیٹ الیکشن میں سرخرو ہو بھی جاتی ہے تو بھی جون میں پیش ہونے والا بجٹ حکومت کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ شنید ہے کہ آنے والے بجٹ میں ٹیکسز کی بھرمار کے علاوہ مختلف اشیا پر سبسڈی کے خاتمے سمیت مختلف قومی اداروں کی نجکاری کی پالیسی حکومتی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

مطلب یہ کہ ہر آنے والا دن حکومت کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔ عوامی دباؤ بڑھتا جائے گا اور اپوزیشن اس صورتحال کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔

اس سب کے باوجود بنیادی سوال اب بھی یہی بنتا ہے کہ حکومت برسر اقتدار رہ جائے یا پھر نئے انتخابات ہوں اور نئی حکومت تشکیل پائے کیا عام آدمی کے حالات بہتر ہو جائیں گے۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا فی الوقت برسر اقتدار اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے پاس جواب نہیں ہے۔ 115 ارب ڈالر کے قرضوں میں پھنسی ہوئی ملکی معیشت کے پاس عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے کیا ہے؟

اگر حکومت اور اپوزیشن عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوتی ہیں تو پھر یہ سب ہنگامہ کس بات کا ہے؟ اس قدر شور کیوں ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی؟ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ پاکستان کی سیاسی اشرافیہ مل بیٹھ کر عام آدمی کی بہتری کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل تشکیل دے، بے روزگاروں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے اور بے قابو مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے؟

اب بھی وقت ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتیں اور مقتدر حلقے مل بیٹھ کر عوام کی بہتری کے لیے کوئی لائحہ عمل تشکیل دیں۔ عالمی مالیاتی اداروں کے چنگل سے نکلنے کی تدبیر کریں۔ ایک مدت سے چھائی ہوئی مایوسی کی دھند کے خاتمے کے لیے امید کی کوئی شمع روشن کریں تاکہ یہ دھند کچھ کم ہو کوئی راستہ دکھائی دے، کوئی امید بندھے اور آگے کا سفر شروع ہو سکے۔

کوئی کب تک ایک ہی جگہ رک سکتا ہے۔ ضروری ہے کہ راستہ تلاش کریں اگر مایوسی میں گھری عوام نے فیصلے اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے خود سے کوئی راستہ تلاش کر کے سفر شروع کر دیا تو پھر خاطر جمع رکھیں وہ ڈیرے بھی اپنی پسند کی منزل پر ڈالے گی۔ ایک ایسی منزل جہاں عوام کے لیے تو بہتر مستقبل ہو گا مگر اشرافیہ کے لیے شاید وہاں کوئی مستقبل نہ ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply