اردو کا درد: آپ نے گھبرانا نہیں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک تحریر نظر سے گزری، جس کا عنوان تھا ’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے‘ ۔ عنوان کے عین مطابق اس میں اردو کی زبوں حالی کا رونا تھا اور اس بات کا شدید ملال بھی کہ اردو زبان بھی قدیم ہندی اور سنسکرت زبان کی طرح متروک ہوتی جا رہی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر اوقات اردو کی زبوں حالی کا نوحہ پڑھنے والے بھی اچھا بھلا بغض رکھنے کے باوجود انگریزی کا سہارا لینے پر مجبور نظر آتے ہیں۔ جیسے کہ اردو مذاکرہ منعقد کرنا ہو تو وہ ہمیشہ اردو کانفرنس ہی کہیں گے اور کانفرنس انگریزی کا لفظ ہے۔

اسی طرح انھیں آج تک اردو میڈیم کے متبادل لفظ نہیں ملا جسے وہ اپلائی کر سکیں۔ اعلیٰ عدلیہ جہاں سے اردو کو نافذ کرنے کا عدالتی حکم بھی آ چکا ہے، اسی کی عمارت پر جلی حروف سے انگریزی میں لکھا ہے ’سپریم کورٹ‘ ۔ جب بھی سرکاری طور پہ اردو کو نافذ کرنے کا ذکر ہو تو سب سے پہلے یہ کہا جاتا ہے کہ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں کر دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر سی ایس ایس کا امتحان اردو میں کر دیں تو کیا پورے ملک میں اردو نافذ ہو جائے گی؟

کیا لوگ انگریزی سے متأثر ہونا چھوڑ دیں گے؟ سی ایس ایس کا امتحان تو دور ہمارے تو یوٹیلٹی بلز اپنی زبان اردو میں نہیں ہو سکتے۔ اردو سے انس رکھنے والوں کی طرف سے اکثر شکوہ کیا جاتا ہے کہ ہم اردو کو چھوڑ کر انگریزی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، جبکہ انگریزی ہماری زبان ہے نہ انگریز ہمارا عزیز۔ شاید اسی لیے کچھ لوگوں نے انگریزی سے بیر باندھا ہوا ہے اور ان کا عزم ہے کہ اوروں کی طرح اس کو بھی خراب کر کے چھوڑنا ہے۔

زیادہ تر لوگوں نے انگریزی بولنے کو سٹیٹس سمبل سمجھ لیا ہے، کسی کے فرفر انگریزی بولنے کی وجہ سے اس کو مقام بھی خوب ملتا ہے اور عزت بھی اور بعض جگہوں پر تو تنخواہ بھی زیادہ ملتی ہے۔ اور کچھ لوگوں نے تو خود سے فرض کر لیا ہے کہ انگریزی بولنے سے دوسرے متأثر ہوتے ہیں، جو کہ جھوٹ بھی نہیں ہے۔ ہمارے بزرگ پوتے پوتیوں کی توجہ پانے کو انگریزی کے لفظ سیکھ لیتے ہیں۔ میرے جیسے جو پنجابی ٹھوکے بنا اردو نہیں بول سکتے (بھئی مجھے تو بنا پنجابی اردو مزہ ہی نہیں دیتی) ان پر لوگ ہنستے ہیں کہ اسے اردو نہیں آتی۔

لیکن جب لوگ اردو میں انگریزی کا تڑکا لگا لیں تو پھر ان پر فخر کیا جاتا ہے کہ کہ انگریزی بولتا ہے خوب پڑھا لکھا ہو گا۔ شاید اسی لیے جن بیچاروں کو انگریزی نہیں آتی وہ بھی بڑے شوق سے پورا زور لگا کر انگریزی بولنے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ چاہے اس زور آزمائی میں وہ انگریزی کی ٹانگیں توڑیں یا سر۔ لیکن انگریزی بولتے ضرور ہیں۔

ہمارے ادیب اور شاعر لوگ اردو کی ناقدری پر تو ہمیشہ شکوہ کناں نظر آتے ہیں لیکن جانے انہیں یہ احساس کیوں نہیں ہو سکا کہ ہم میں بہت ساروں نے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی کا جنازہ بھی نکالا ہوا ہے۔

لیکن مجال ہے انگریزی کی اس بے حرمتی پر کوئی انگریز افسردہ دکھائی دے جائے، شاید افسردہ ہونے کا کام بس اردو ادیبوں اور شاعروں کا ہے۔ میرے گھر میں نئی ملازمہ آئی ہے ، وہ اردو لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتی۔ یہاں تک کہ الف ب سے بھی واقفیت نہیں اسے۔ لیکن انگریزی بولنے کا عجیب خبط ہے اس کو، خدا جانے کہاں کہاں سے انگریزی کے لفظ سن سن کے یاد کر رکھے ہیں۔ وہ بروقت صحیح ترجمے کے ساتھ انگریزی لفظوں کی غلط ادائیگی کرتی ہے، لیکن انگریزی بولتی ضرور ہے۔

ہمیشہ کام خراب کرنے کے بعد کہتی ہے ’میڈم جی میرا مینڈ کم نئیں کردا، تے چلو فیر ہون سوری کر دوو مینوں (معاف کر دو مجھے ) ۔ ایک تو اس کے میڈم کہنے سے تنگ ہوں ، اوپر سے جب اس کے ساتھ‘ مینڈ ’ملا کر سوری کرتی ہے تو شدید غصے پہ پانی پھر جاتا ہے اور ہنسی روکنا مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ تو چلو ان پڑھ عورت کی بات ہے۔ لیکن کئی پڑھے لکھے افراد بھی ٹھیک انگریزی نہیں بول سکتے، لیکن اس کے باوجود انگریزی کا شوق رکھتے ہیں۔

انگریزی بولنے کے شوقین افراد صحیح اردو بول سکنے کے باوجود جب ٹی وی پہ آ کر خراب انگریزی بولتے ہیں اور اپنا مذاق بنواتے ہیں تو سمجھ نہیں آتا کہ ان کو کون سمجھائے۔ چلیں جن کو شوق ہے اپنا مذاق بنوانے کا ان کی تو خیر ہے لیکن جب کسی کی مجبوری مذاق بنا دی جائے تو پھر اس کا دکھ ہوتا ہے۔ کچھ ہی دن ہوئے جب ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس میں اسلام آباد کے ایک ہوٹل مینجر کا درست انگریزی نہ بولنے کی وجہ سے مذاق بنایا گیا تھا۔

ویڈیو دیکھ کر تشویش ہوئی کہ کس کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا جائے۔ کافی سوچ بچار کے بعد ہمدردی کا جذبہ خواتین کے حصے میں آیا کہ ایک تو بیشتر خواتین ہمدردی سمیٹ کر خوش ہوتی ہیں، دوسرا ان خواتین کی بیمار سوچ کی وجہ سے ان سے ہمدردی محسوس ہوئی کہ کسی کا انگریزی ٹھیک نہ بولنے کی وجہ سے اس کا مذاق بنانا اور پھر اس کلپ کو وائرل کرنا صحت مند ذہن کی نشانی تو ہرگز نہیں ہو سکی۔ ان فیشن ایبل خواتین کو یہ بات شاید سمجھ نہیں آئی کہ دوسرے کی تضحیک کرنے کے چکر میں وہ اپنا مذاق بنوا گئی ہیں۔

ایک تو انگریزی نہ آنا کوئی عیب نہیں ہے کہ یہ ہماری زبان نہیں ہے، دوسرا اس میں شرم والی کوئی بات نہیں کہ زیادہ تر یہاں ہر کوئی ایسی ہی ٹوٹی پھوٹی انگریزی بولتا ہے۔ شرم کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں اپنی قومی زبان ٹھیک سے نہیں آتی اور ہم دوسری زبان کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ کچھ ہی دن ہوئے جب عربی سے واقف ہونے کو اسلام سے جوڑ دیا گیا ہے کہ جو مسلمان عربی نہ جان سکے وہ برائے نام مسلمان ہے۔ تو اس حساب سے جنہیں اردو نہ آتی ہو وہ برائے نام پاکستانی ہونے چاہئیں کیونکہ  آخر اردو ہماری قومی زبان ہے۔

بات اتنی سی ہے کہ ہم انگریزی کے شوقین اردو میڈیم لوگ ہیں جو کسی صورت انگریزی سے ناتا نہیں توڑ سکتے۔ اور اگر ہم پوری اردو کے ساتھ ادھوری انگریزی بولنا چاہتے ہیں تو اس کو انا کا مسئلہ  بنانا چاہیے نہ عزت بے عزتی کا۔ اسے ایک عادت سمجھ کے قبول کر لینا چاہیے۔ کیونکہ جس حساب سے ہم لوگ اردو میں انگریزی لفظوں کا استعمال کرتے ہیں، دیگر زبانوں کے الفاظ کی طرح بہت جلد انگریزی کے الفاظ بھی اس کا حصہ بن جائیں گے اور اردو لشکری زبان ہونے کی وجہ سے انھیں بھی اپنے دامن میں سمیٹ لے گی۔ جس پر اردو سے محبت کرنے والوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ گھبرانا نہیں آپ نے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply