منیر فراز کے افسانے اور رومان بھری نظمیں



ادبی فن پارے کسی بھی حساس فرد کی طرح مجھے بھی کسی دوسرے جہان کی سیر کراتے ہیں۔ میں لکھنے والوں کی ممنون رہتی ہوں کہ وہ ہم جیسے قارئین کے لیے ایسی علمی ادبی اور شاعرانہ ضیافت کا اہتمام فرماتے رہتے ہیں جس سے عوام الناس کی میزبانی ہو جاتی ہے۔ سو شرف میزبانی کے آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے شکریہ کے الفاظ کہنے ضروری ہو جاتے ہیں کہ آخر خیال کے بہاؤ کو تحریک کی ضرورت رہتی ہے۔

”محبت کے چھپن بوسیدہ خطوط“ جناب منیر فراز صاحب کی وہ تحریر ہے، جو میں نے کچھ برس پہلے پڑھی مگر اس کے ادبی ذائقے کی تاثیر ابھی تک روح پر محسوس ہوتی ہے بلکہ یوں کہیے کہ اس کا اثر جاودانی ہے۔

ایسے افسانے کو فراموش کرنا آسان نہیں کیونکہ اس کا اثر کچھ ایسا ہی تھا جیسے کسی سانولی کے نینوں کا کجرا اس کے من موہن کو عمر بھر یاد رہتا ہے بھولتا نہیں۔

پچھلے دنوں محترم ادیب جناب منیر فراز صاحب کا افسانہ ”بیگم نادرہ کا کتا“ پڑھا تو گلستان سوسائٹی کے ایک گھر کے درو دیوار سے ایک روزن کشا ہوا، ایک پردہ ہٹا، ایک دریچہ وا ہوا اور قاری کے سامنے گویا ذہن کے پردۂ سیمیں پر واقعات کا ایک تسلسل فلم کی طرح چل نکلا۔

ایسے واقعات اور رویے جو ہم اکثر روزمرہ کی زندگی میں دیکھتے ہیں، انہیں دیکھ کر ہمارے جیسے کبھی تو رو دیتے ہیں، کبھی بے حسی کی سرد چادر ڈالے چپکے اور چھپ کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔

’ٹکی کی دنیا’ بھی ایسا ہی ایک افسانہ ہے جس میں ایک غریب بچے کے معصوم محسوسات بیان کیے گئے ہیں۔ کس طرح ایک دوسرے بچے نے اس کی اشک شوئی کی۔ اس میں چھپا پیغام بھی اپنا پن تھا۔ ایسے افسانے اس حادثے کی طرح ہوتے ہیں جس کے بارے میں شاعر کہتا ہے

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

اس طرز کے افسانے لکھنے والوں کو مشاہدے کی چاٹی میں غم کو بلونا پڑتا ہے ، نتیجتاً مکھن کے پیڑے کی بجائے ہتھیلی پر افسانہ آتا ہے، غم دوراں کی مے نوش جان کیے بنا وجود میں تخلیق کا رس نہیں ٹپکتا۔ تخلیق کار کو ظرف بڑھانا ہی پڑتا ہے۔ تب ہی الاؤ دہکتا ہے اور کبھی مدھم سی چاند کی چاندنی میں ڈھل جاتا ہے ، ایسے کردار اپنے پیدا ہونے سے پہلے فنکار کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور بات کرتے ہیں ان کی روح میں قیام کرتے ہیں ۔ اب یہ قیام کا عرصہ کتنے برسوں پر محیط ہو یا چند ماہ یا کچھ دنوں تک محدود ہو ، کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ درد کی سانجھ کو اپنے من میں اتارنے کے بعد ہی ایسے افسانے تخلیق کی صورت جلوہ گر ہوتے ہیں۔

جناب منیر فراز صاحب اعتراف کرتے ہیں کہ ”میں لکھتا ہوں کیونکہ میں دیکھتا ہوں“ ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات کہنے میں اتنی سہل ہے تو کیا کرنے میں بھی اتنی ہی آسان ہے؟

میرا جواب ہے کہ شاید نہیں!

جناب منیر فراز صاحب کے افسانوں کی بنت اور ان کو پیش کرنے کا ہنر خاصا محنت طلب کام رہا ہو گا کیونکہ وہ کہانی کو ہر اعتبار سے جانچتے اور پرکھتے ہیں اور اپنی فطری کاملیت پسندی کی عادت کی وجہ سے کہیں بھی کوئی کمی نہیں رہنے دیتے۔

آغاز سے انجام تک ماہرانہ ہاتھ کی گرفت رہتی ہے، نہ کوئی تند کھچی ہوتی ہے نہ تانی اوپر تلے ایسی نظر آتی ہے جو ڈھیلی ہو۔

موضوع اپنی جگہ اہم چنتے ہیں اور تمام کرداروں کو ان کی ضرورت کے مطابق بصری پردے پر ابھارتے ہیں، چاہے وہ کردارچھا بڑا صاحب کا ہو یا مائی پھتی پھتی کا ہو یا مودی کا۔ ان کے کرداروں پر ان کے نام بہت پھبتے ہیں۔

مودی اوسکر اور بیگم نادرہ کی یہ کہانی سبک رو ہے۔ انسانیت کے درد سے پر، معاشرتی ناانصافیوں کی کامیاب تصویر کشی پر مبنی شہ پارہ ہے۔

معاشی اونچ نیچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طبقات کی تقسیم سے ایسی غیر منصفانہ سوچیں رکھنے والے افراد کے رویوں کی کہانی ہے۔ استحصالی معاشروں کے المیے جنہیں ہر فرد محسوس کرتا ہے جو باشعور اور دردمند ہو مگر اپنے فگار جگر کو فن و فکر میں نہیں ڈھال سکتا کہ ہر دردمند آہ کو کھینچ کر افسانے کے قالب میں ڈھالنے کا ہنر نہیں جانتا۔

پس منظر میں سماجی نا انصافی، طبقاتی فرق سے پیدا ہونے والے الگ الگ انسانی رویوں کی کہانی ہے، جس میں محبت اور اپنے پن کے اوصاف کو نمایاں کیا گیا ہے۔ جیسے ایک کالے رومال پر تلے کے تار سے حاشیہ لگایا گیا ہو۔ مختصر یہ کہ یہ ایک دلگداز افسانہ ہے۔

جب ان کی نظموں سے میرا تعارف ہوا تو مجھے یاد آیا نظمیں مجھے تب سے اچھی لگتی ہیں جب میں نے ”عذرا کی گڑیا“ پڑھی تھی ’بلبل اور جگنو‘ اور ”پانچ چوہے کرنے چلے شکار“ چند ایک انگریزی نظمیں جنہیں میں تمام عمر نہیں بھولی ، وہ میری مٹھی میں بند ہیں، جیسے بچوں کی مٹھیوں میں کچھ ان کی پسندیدہ ٹافیاں ہوتی ہیں۔

جناب منیر فراز صاحب بڑی سہولت سے، نرالے ڈھنگ سے نظم کے مصرعے سے مصرعہ سجاتے ہیں اور کلام کا جادو جگاتے ہیں۔ ان کی نظموں کا مزاج اور ہیئت رواں اور سادہ اور توازن لیے ہوئے ہے۔ فطری انسانی احساس کی ترجمانی کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کوئی پاس بیٹھے کسی اپنے سے مخاطب ہو یا مکالمہ کرے۔ جیسے کوئی محبوبہ کو خط لکھے، کوئی عام سی گھریلو بات چپکے سے عام سے انداز میں کہہ دے۔ سرگوشی کرے، گویا خاموشی میں کلی چٹکے۔ رومان سے بھری نظمیں انسان کو عملی زندگی سے ہٹا کر جذبات کی روپہلی چاندنی میں لے جاتی ہیں جو انسان کا اصل ہے۔ جس پر دنیاوی حجابات کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ پڑھنے والا اپنے اس لطیف حصے کو کھوجتا ہے۔ ٹتولتا ہے یہ من کو گدگداتی ہیں۔

ان کی نظموں کا محور زندہ جذبۂ محبت ہے۔ وہ اس جیتے جاگتے احساس کو موضوع بنا کر لطافت سے اس کے نازک پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔ ان میں نغمگی بھی ہے ، نرمل کومل احساس بھی۔

میرے خیال میں اپنے ندرت احساس کو اس نہج پہ لانے کے لیے لکھنے والے کو بے پناہ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے، جو پڑھنے والوں کو تو مکمل لطف دیتی ہے مگر سیکھنے والوں کے لیے ایک نئی طرز اور نیا قاعدہ مقرر کرتی ہے۔

پڑھنے والوں کو محسوس ہوتا ہے اور پتہ چلتا ہے گویا ایسے بھی محبت نظم کی جا سکتی ہے۔

نظم ’لیکن‘ سے چند اشعار

تمہارے پیار کا جذبہ بجا سہی لیکن
ابھی تو کام ضروری بہت سے کرنے ہیں
اب تو مجھ کو بھلانے ہیں گزرے ماہ و سال
ابھی تو پچھلی محبت کے زخم بھرنے ہیں

قارئین! ابھی اسی کے سحر میں تھے کہ اوپر تلے ان کی نظمیں پیرہن بدل، کے سامنے آنے لگیں۔

تم مجھے ضروری ہو
تم مجھے ضروری ہو اور
کیا ہے سبب اداسی کا
تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں
کچھ مصرعے پیش خدمت ہیں
کئی دنوں سے ستایا نہیں سہیلی کو
کئی دنوں سے نہ پنکی کے بال، کھینچے ہیں۔

منیر فراز صاحب کی نظم معریٰ تم مجھے ضروری ہو ’سے چند مصرعے

جس طرح عبادت میں تخلیہ ضروری ہے
دل گداز منظر اور سرمگیں کاجل کو
کھیل کو تماشے کو
آنکھ کی ضرورت ہے
اس پر میں نے رائے ان الفاظ میں دی تھی
نظم میں غزل کی سی سبک روی
گل کٹوری، حسن بھری
حرف حرف ہیروں کی لڑی
جیسے کوئئی گلبدن
بدن چرائے بانکپن
چھپائے حجاب میں اپنا پن
کہہ رہی ہو ناز سے
تم مجھے ضروری ہو

منیر فرازصاحب نے جذبوں کو مجسم کیا ہے۔

محبت میں اندیشوں بھرے دل کا ذکر کرتے کہتے ہیں
”تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں“

اپنی محبت کے حضور محبت کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں
تم مجھے ضروری ہو جیسے
راستے کو راہی کی
جام کو صراحی کی
موتیے کے گجرے کو
مخملی کلائی کی

کیا ترنم ہے، استعارے میں نزاکت اور لطافت ہے۔ ایک سی مختصر بحر ہے۔

ان میں ایک سا توازن ہے جیسے کامنی اور موہنی سی کوئی نوخیز لڑکی پیرہن بدل بدل کے سامنے آ کھڑی ہو۔ کبھی دروازے سے جھانکتی ہوئی، کبھی آنے سے پہلے دل کی تیز دھڑکنوں کو روکتی ہوئی، سامنے آنے سے پہلے منیر فراز کو اپنی آمد کی اطلاع دیتی ہوئی۔

ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے خیال نے تنہائی کی پاکیزہ قبا، اوڑھی ہو اور بہت لمبے عرصے کے بعد ان کے دل میں جیتے جاگتے رومانوی احساسات نے کروٹ لے کر اپنی روح کو فن کا سہارا لے کر ایک کومل لڑکی کے روپ میں دیکھا ہو جو نظم میں ڈھل کر پردۂ شہود پر منکشف ہو گئی ہو۔ جو حروف کے دلکش رنگ اوڑھے حسین لباس پہن کے سامنے آ جاتی ہے مگر ہے وہی دلربا متوازن سی بانکپن لیے، سج دھج والی، کومل بدن، سرما کی دھوپ سے بچتی کرنیں لپیٹے۔

ان کی نظمیں ایسی ہیں جیسے موم بتی کے تن پر موتی جنہیں پرو کے نظم کے معانی کا حق ادا ہو جاتا ہے۔ آخر نظم کا مطلب موتی پرونا ہی تو ہے۔

منیر فراز صاحب کی نمائندہ نظم:

تم گزرنے والی ہو۔ جس میں اک لے ہے نغمگی ہے سر ہے رومان ہے۔
خوشگوار موسم ہو
صبح کی ہواؤں میں
شہر کی فضاؤں میں
اجنبی سی خوشبو ہو
ڈال ڈال پر بیٹھے
خوش نما پرندے جب
اپنے وقت سے پہلے
چہچہانے لگتے ہوں
شہر کے مغنی بھی
وصل اور مسرت کے
گیت گانے لگتے ہوں
سادہ لوح محلوں کے
بن سنورنے لگتے ہوں
عید بھی نہ ہو لیکن
عید ملنے لگتے ہوں
چوکھٹوں کی بیلوں پر
پھول کھلنے لگتے ہوں
خاکروب گلیوں کو
صاف کرنے لگتے ہوں
پھول کی دکانوں پر
بھیڑ لگنے لگتی ہو
اس طرح کا موسم ہو
تو میں یہ بھانپ لیتا ہوں
دل کی سر زمیں پر تم
پاؤں دھرنے والی ہو
شہر کی کسی راہ سے
تم گزرنے والی ہو
تم گزرنے والی ہو۔

Facebook Comments HS