آٹھ مارچ: بے حیائی کا عالمی دن



جوں جوں آٹھ مارچ کا دن قریب آتا جا رہا ہے، انتہائی اسلامی لوگ اور سچے پکے مسلمانوں نے اپنی چھریاں اور چاقو تیز کرنے شروع کر دیے ہیں، اور اپنی پوری قوت سے ان ”کافر“ اور ”بے حیا“ اور مغربی تہذیب کی پروردہ اور دلدادہ عورتوں کو مزہ چکھانے کے لئے صفیں سیدھی کر لی ہیں۔ مولویوں نے ان ملحد اور جہنمی عورتوں کو دوزخ کی وعیدیں سنانے کے لئے اور دشنام طرازی کے لئے منبر سے ایک سال کی پڑی ہوئی گرد صاف کر لی ہے۔ نیک اور پارسا لکھاریوں نے الفاظ کو سان پر چڑھا کر تیز کرنا شروع کر دیا ہے، خلیل الرحمن قمر جیسے ادیبوں اور مولوی طارق مسعود جیسے مولویوں کی طلب بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ ایسے لوگ ان پارساؤں کا ہراول دستہ ہیں۔

ان نیک لوگوں نے ہر اس عورت کو اپنا ، ”اپنے“ اسلام اور اپنے اسلامی معاشرے اور عظیم خاندانی اقدار کا دشمن سمجھ لیا ہے جو کہ کہتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں عورت پر ظلم ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک ہر وہ عورت بے حیا ہے، بے شرم ہے جو کہ ونی، سوارہ اور قرآن سے شادی جیسی شرمناک رسومات پر آواز اٹھاتی ہے۔ ہر وہ عورت گندی عورت ہے جو کہتی ہے میں تمہاری ماتحت نہیں بلکہ تمہارے جیسی انسان ہوں۔ اگر تم اشرف المخلوقات ہو تو میں بھی اشرف المخلوقات ہوں۔

ان کے نزدیک ہر وہ عورت حیاء باختہ ہے جو کہتی ہے کہ جیسے تمہارے جسم پر تمہارا حق ہے ویسے ہی میرے جسم پر میرا حق ہے۔ میرا جسم میرا ہے وہ تمہاری ملکیت نہیں ہے۔ میرا حق ہے کہ اپنی مرضی سے فیصلہ کر سکوں کہ حاملہ ہونا ہے یا نہیں۔ اور یہ بھی میرا اختیار ہے کہ اپنی جسمانی حالت کو مدنظر رکھ کر آزادنہ فیصلہ لے سکوں کہ نئی تخلیق کرنی ہے یا نہیں، نہ کہ بچے پیدا کرنے والی مشین بنا دی جاؤں۔

ان پکے جنتیوں اور حوروں کے متلاشیوں نے ہر اس زمینی عورت کو اپنا دشمن قرار دے دیا ہے جو کہ کہتی ہے کہ جیون ساتھی چننے، تعلیم اور روزگار حاصل کرنے کا حق جیسے تمہیں ہے ویسے ہی یہ حق مجھے بھی حاصل ہے۔ میں تمہاری جائیداد یا ملکیت نہیں ہوں۔

ان ”اچھے“ لوگوں نے اب ایک اور چالاکی کی ہے کہ عورتیں جو کچھ کہہ رہی ہیں بجائے اس پر تعمیری مباحثہ کرنے کے انہوں نے اس کو مغربی ایجنڈا، سرمایہ دارانہ نظام کا شاخسانہ، فیمینسٹ تحریک اور لبرل ازم کے ٹیگ لگا کر پھبتیاں کسنے اور طعن و تشنیع سے کام چلانا شروع کر دیا ہے اور ان سب الزامات کو فیمینزم اور اسلام مخالف ایجنڈا کہہ کر کوڑے کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے۔ اب ایک اور درفنطنی چھوڑی جا رہی ہے کہ اگر عورتیں (جہاں ان کو کچھ برابر کے مواقع ملے ہیں) مردوں سے تعلیم میں سکول کالجز میں آگے بڑھی ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکوں کی مردانگی کو دبایا جا رہا ہے۔

ہمارے معاشرے اور مغربی معاشرے میں تو ابھی زمین آسمان کا فرق ہے، ہمارے معاشرے میں تو عورت ابھی بنیادی حقوق ہی مانگتی نظر آ رہی ہے کہ مجھے پیدا ہونے اور جینے کا حق دو، مجھے تعلیم حاصل کرنے دو، مجھے میرے جسم پر اختیار دو، مجھے اپنی نام نہاد غیرت کی بھینٹ مت چڑھاؤ، مجھے چلغوزہ نہ سمجھو، مجھے لالی پاپ نہ خیال کرو۔ بس انسان سمجھو اپنے جیسا انسان۔

جسمانی طاقت کے بل بوتے پر جو برتری حاصل کی گئی تھی اور پھر اس برتری کو مختلف اساطیر، قصے کہانیوں، مذہبی تعبیرات اور روایات سے جو کمک بہم پہنچائی گئی تھی اس کا زمانہ لد گیا، کیونکہ آج کی عورت تعلیم حاصل کر رہی ہے اور سوال کرنا سیکھ گئی ہے اب اس کو ان قصے کہانیوں سے اور گھڑی ہوئی روایات سے مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا، نیز اب ٹیکنالوجی کا دور ہے جس میں ایک بٹن دبا کر زمین کے سینے میں گہرا ہل چلایا جا سکتا ہے، ایک بٹن دبا کر دشمن کے ہزاروں فوجی سیکنڈوں میں صفحہ ہستی سے مٹائے جا سکتے ہیں، اس لیے جسمانی طاقت کی اب ایسی کوئی خاص ضرورت باقی نہیں رہی۔اور مستقبل قریب میں تو شاید بالکل ہی غیر متعلق ہو جائے گی۔

پوری دنیا میں خواتین حکمران ہیں تو چند ہی، لیکن اس میں کیا دو رائے ہے کہ انہوں نے کامیاب طرز حکمرانی میں بہت سے مرد حکمرانوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے، کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ موقع ملنے پر عورتیں بہترین حکمران ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن یہ تو انہیں گھر کی حکمرانی کے قابل بھی نہیں سمجھتے۔

اب عورت کو اپنے جیسا انسان سمجھنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ، یہ بات نیک اور افضل البشر لوگوں کو جتنی جلدی سمجھ آ جائے اچھا ہے تاکہ سو جوتے کھانے سے بچ جائیں۔ نہیں تو سو جوتے بھی کھانے پڑیں گے اور سو پیاز بھی۔ لیکن پارساؤں کو کبھی وقت پر سمجھ آئی ہے جو اب آئے گی؟ وہ چاہے لاؤڈ اسپیکر ہو، تصویر کا معاملہ ہو یا موسیقی حرام ہونے کی بات ہو۔ لگتا ہے پھر ایک دفعہ سو جوتے بھی کھانے پڑیں گے اور سو پیاز بھی۔

تیس سال بعد لوگ پھبتیاں کس رہے ہوں گے کہ یہ وہی ہیں جو کہتے تھے کہ عورت ناقص العقل ہے اور مرد کی بوریت دور کرنے کے لئے پیدا کی گئی ہے، بالکل ایسے ہی جیسے اب لوگ مذاق اڑاتے ہیں کہ یہ وہی ہیں جو تصویر اور لاؤڈ اسپیکر کو حرام کہتے تھے اور اب ان کے بغیر ان کا کھانا بھی ہضم نہیں ہوتا۔

خیر آٹھ مارچ پھر آنے والا ہے اور کم بخت ہر سال آ جاتا ہے دل جلانے کے لئے اور پارساؤں کے سینے پر مونگ دلنے کے لئے۔

اس بار شاید نعرے پہلے سے بھی زیادہ چبھنے والے ہوں، براہ مہربانی تیاری کر لیں۔

Facebook Comments HS